تعلقات میں مشکلات آتی رہتی ہیں، نیٹو حملوں کی تحقیقات امریکی سنٹرل کمانڈ کرے گی، وائٹ ہاؤس

Posted: 30/11/2011 in All News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جارج لٹل نے واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حملے کی تحقیقات کیلئے ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے، جس کی سربراہی امریکی سنٹرل کمانڈ کرے گی۔ جارج لٹل کے مطابق تحقیقات کی درخواست ایساف کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کی ہے۔وائٹ ہاؤس نے نیٹو حملے کو سنجیدہ معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سنٹرل کمانڈ تحقیقات کرے گی جبکہ امریکی محکمہ دفاع نے دعوی کیا ہے کہ شمسی ایئربیس پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں۔ پینٹاگون کے مطابق لیون پنیٹا نے پاکستانی حکام سے رابطہ نہیں کیا جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر دفاع پاکستانی ہم منصب سے رابطہ کر چکے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جارج لٹل نے واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حملے کی تحقیقات کیلئے ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے، جس کی سربراہی امریکی سنٹرل کمانڈ کرے گی۔ جارج لٹل کے مطابق تحقیقات کی درخواست ایساف کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کی ابتدائی تحقیقات کی رپورٹ آج مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کی جا سکتی ہیں، لیکن ابھی تک اس پر گفتگو نہیں ہوئی۔ جارج لٹل نے کہا کہ شمسی ایئربیس خالی کرنے کے مطالبہ سے آگاہ ہیں، تاہم اس وقت وہاں کوئی امریکی فوجی موجود نہیں۔ امریکی افواج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈمپسی اور جنرل ایلن نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ فون پر گفتگو کی ہے، تاہم امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کسی پاکستانی کے ساتھ رابطہ نہیں کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایساف اور سینٹ کام حملے کی الگ الگ تحقیقات کریں گے۔ بون کانفرنس میں شرکت پر پاکستان کی نظرثانی کو سمجھ سکتے ہیں، تاہم کانفرنس میں شرکت اسلام آباد کے مفاد میں ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما حملے میں پاکستانی فوجیوں کی شہادت کو بڑا سانحہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ دیگر ذرائع کے مطابق ترجمان وائٹ ہاؤس نے پاکستانی چوکی پر نیٹو حملے میں پاکستانیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نیٹو کی جانب سے حملے کے حوالے سے جاری کئے جانیوالے بیان میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل کمانڈ نیٹو حملے کی تحقیقات کریگی۔ ترجمان وائٹ ہاؤس جے کارنی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے نیٹو حملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور نیٹو حملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کیساتھ تعلقات میں مشکلات آتی رہتی ہیں، تاہم سینئر اہلکار پاکستانی حکام سے رابطے میں رہتے ہیں اور اس معاملے میں بھی مسلسل پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں۔

Comments are closed.