اہلسنّت و الجماعت کے خلاف کریک ڈاون کا حکم ،ریلی بغیر اجازت نکالی

Posted: 30/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

میڈیا سے گفتگو میں وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ ریلی کا اجازت نامہ نہیں تھا اور اس سلسلے میں ہم نے تحقیقات کیلئے آئی جی سندھ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ٹیم میں آئی جی سندھ کے علاوہ دو سینئر پولیس افسران اور 2 علماء شامل ہونگے۔سندھ کے وزیر داخلہ منظور حسین وسان نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاون کے احکامات دیدیئے ہیں، کالعدم تنظیم کی ریلی بغیر اجازت نکلی تھی، نمائش چورنگی پر فائرنگ کے واقعہ میں 2 افراد کی ہلاکت اور ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی جبکہ پولیس نے ایک مدرسہ پر کارروائی کرتے ہوئے 4 مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا ہے، واقعہ میں جاں بحق ہونے والے دونوں اسکاوٹس کی نماز جناز ہ ادا کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو نمائش چورنگی کے دورے اور بعد ازاں نجی ٹی وی کے صحافی احسان کوہاٹی کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں منظور وسان نے کہا کہ اہلسنت والجماعت نے بغیر اجازت ریلی نکالی تھی اور وہ گزشتہ 12 برس سے یکم محرم الحرام کو ریلی نکالتے ہیں۔ نمائش چورنگی فائرنگ کے واقعے کے بعد 50 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کا انتظار ہے، ان کی مدعیت میں حراست میں لئے گئے افراد پر انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے جائیں گے، کراچی میں 12 محرم الحرام تک اسلحہ ساتھ لے کر چلنے کے اجازت نامے منسوخ کر دیئے گئے ہیں، خلاف ورزی پر کارروائی ہو گی جبکہ نمائش چورنگی کے واقعات کی تفتیش کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی تحویل میں لے لی ہیں۔ صوبائی وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ کراچی میں امن کیخلاف کام کرنے والی تنظیوں کیخلاف کریک ڈاون کا اعلان کرتا ہوں۔ 10 محرم تک ہر دن اہم ہے، پولیس اور رینجرز کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ ایک سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی سکیورٹی بڑھانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ صدر زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر کو بھی سکیورٹی خطرات ہیں۔ انھوں نے اس موقع پر اسکاوٹس کے جاں بحق ہونے والوں کیلئے فی کس پانچ 5 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان بھی کیا اور ان کے خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اسپتال کے باہر میڈیا سے بات چیت میں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ صحافی احسان کوہاٹی کی بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں اور اس کی ہمت کو داد دیتا ہوں، حکومت صحافیوں کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور ہم احسان کوہاٹی کے علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ ان کی مالی مدد بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریلی کا اجازت نامہ نہیں تھا اور اس سلسلے میں ہم نے تحقیقات کیلئے آئی جی سندھ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ٹیم میں آئی جی سندھ کے علاوہ دو سینئر پولیس افسران اور 2 علماء شامل ہونگے اور ریلی کے حوالے سے اگر پولیس یا امن و امان کی بحالی کے ادارے کا کوئی افسر ملوث ہوا تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات کی تمام سازشوں کو مل جل کر ناکام بنایا ہے اور اب بھی ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں اتوار کو ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جان بحق ہونے والے 2 اسکاوٹس سید اظہر حسین اور سید زین العابدین کی نماز جنازہ انچولی امام بارگاہ میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ کے بعد شرکاء نے شارع پاکستان پر دھرنا دیا، اظہر حسین کی تدفین وادی حسین قبرستان میں کر دی گئی جبکہ سید زین العابدین کی میت پیر کی صبح ان کے آبائی گاوں چکوال روانہ کی گئی۔ دوسری جانب آئی جی سندھ نے کراچی میں 2 افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کیلئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔ ایڈیشنل آئی جی غلام شبیر شیخ نے بتایا کہ واقعہ کے بعد مظاہرین کی نشاندہی پر 50 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لیے گئے افراد میں فائرنگ کے ملزم بھی شامل ہیں۔ آئی جی سندھ نے گرفتار ملزموں سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نمائش چورنگی پر نصب کیمروں کی مدد سے اصل حقائق جاننے کی کوشش کی جائے گی۔ سانحہ کے بعد کراچی میں تمام مساجد اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ نمائش چورنگی واقعہ کے بعد پولیس نے رات بھر شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب پولیس نے ناگن چورنگی کے قریب واقع مدرسے میں چھاپہ مار کر راشد ولد عبدالغفور ندیم اور سعود ولد عبدالغفور ندیم سمیت 4 افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے مدرسے کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لیا اور مدرسے کے گیٹ پر لگے تالے توڑ دیئے اور تلاشی شروع کر دی

Comments are closed.