امریکی مبصر:امریکہ کو نکال باہر کرنے میں آیت اللہ سیستانی کا کردار

Posted: 30/11/2011 in All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Survey / Research / Science News, USA & Europe

امریکی مبصرین نے اعتراف کیا ہے کہ آیت اللہ العظمی سیدعلی سیستانی نے اپنے مؤثر کردار کے ذریعے امریکیوں کوعراق سے انخلاء پر مجبور کیا۔انھوں نے لکھا ہے کہ آیت اللہ سیستانی کے اصرار اور تاکید کی وجہ سے امریکیوں کو عراق سے نکلنا پڑا تا کہ عراقی اپنے ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں۔ امریکی تجزیہ نگار ٹونی کارون (Tony Karon) نے روزنامہ دی نیشنل (The National) کے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی نے اس بات پر بہت تاکید کی کہ امریکیوں کو عراق سے جانا چاہئے.عراقی اپنامستقبل اپنے ہاتھ میں لیں .اپنی جمہوریت خودچلائیں چاہئے اور امریکیوں کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ انھوں نے لکھا ہے: عراق کے پہلے فوجی امریکی حکمران “پال بریمر” (Paul Brimer) نے چند سال پہلے تجویز پیش کی تھی کہ امریکہ چندعراقی شخصیات کو چن کر عراق کی حکومت سونپ دے۔ بریمر نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ عراق کا آئین لکھ لے! لیکن آیت اللہ سیستانی نے امریکی حکام کے ساتھ ملاقات سے انکار کردیا کیونکہ انہیں اس بات کی فکر تھی کہ کہیں یہ ملاقات امریکیوں کو عراق پر قبضے کا جواز ہی فراہم نہ کردے چنانچہ انھوں نے نجف میں ایک فتوی جاری کیا اور اس میں بریمر کے منصوبے کی مخالفت کردی اور حکومت کے مسئلے کو بنیادی طور پر قابل حل قرار دیا اور اصرار کیا کہ عراقی خود ہی حکومت کی ترکیب و تشکیل کے لئے افراد کا انتخاب کریں اور ایسی حکومت تشکیل دیں جس کو نیا آئیں لکھنے کی ذمہ داری سنبھالنی تھی۔ کارون لکھتے ہيں: مطلق العنان بریمر کی خواہش تھی کہ عوام اور سیاستدان آیت اللہ سیستانی کے موقف کی مخالفت کردیں لیکن سنہ 2003 کے آخر میں لاکھوں عراقیوں نے ان کی حمایت میں جلسوں جلوسوں کا انعقاد کرکے واضح کردیا کہ حتی بریمر کے چنے ہوئے افراد کو بھی انتخابات کے انعقاد کے عوامی مطالبے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے چنانچہ بریمر نے پسپائی اختیار کی۔ اس امریکی تجزیہ نگار نے کہا: پال بریمر کے منصوبے کا مفہوم یہ تھا کہ عراقی عوام جمہوریت کے لئے آمادگی نہيں رکھتے لیکن آیت اللہ سیستانی نے یہ بات امریکیوں کو لوٹا دی اور یہ سوال اٹھایا کہ “کیا امریکہ جمہوری انتخابات کے نتائج قبول کرنے کی آمادگی رکھتا ہے؟ انھوں نے اپنے مضمون میں مزید لکھا: بش نے سنہ 2008 میں عراق کے ساتھ ميثاق سلامتی منعقد کرنے کے لئے اپنی کوششوں کا آغاز کیا۔ وہ عراقیوں سے مطالبہ کررہے تھے کہ عراق میں پچاس امریکی فوجی اڈوں کے قیام کی حمایت کریں لیکن 31 دسمبر 2011 کی تاریخ امریکیوں کے مکمل انخلاء کی تاریخ قرار پائی اور عراق میں دائمی فوجی اڈوں کے قیام کی مخالفت کی گئی اور عراقیوں نے عراق میں اس تاریخ کے بعد کسی بھی قسم کی بیرونی فوج کے قیام کی مخالفت کردی

Comments are closed.