پاکستان کوعراق،افغانستان یا لیبیا نہ سمجھا جائے، الطاف حسین

Posted: 29/11/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

لندن: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پاکستان کی سرحدوں پر امریکن اور نیٹو فورسز کے بلااشتعال حملے اور حملے میں پاکستانی سیکوریٹی فورسز کے اہلکاروں کے شہید و زخمی ہونے کے واقعہ کی  مذمت کرتے ہوئے قوم سے اپیل کی کہ سیکوریٹی فورسز پر بلااشتعال حملے کے خلاف یوم یکجہتی و استحکام پاکستان منایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار الطاف حسین نے  وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان سے گفتگو میں کیا۔ رابطہ کمیٹی کے ارکان نے متفقہ طور پر مہمند ایجنسی میں امریکن اور نیٹو فورسز کی جانب سے پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں پر حملے کو قومی سلامتی و خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس عمل کے خلاف قومی یکجہتی کے مظاہرے کا فیصلہ کیا۔ الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایم کیو ایم کے تمام کارکنان وعوام پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں پر حملے کے خلاف  پیر کو اپنے اپنے گھروں، دفاتر اور دیگر مقامات سے پارٹی پرچم اتار لیں اور پاکستان کی سلامتی و خود مختاری، قومی غیرت و حمیت اور عزت و وقار کی خاطر ہر جگہ صرف پاکستانی پرچم لہرا کر قومی یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کریں۔ الطاف حسین نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور پوری قوم سے اپیل کی کہ وہ بھی یوم یکجہتی و استحکام پاکستان منائیں۔ اپنی اپنی جماعتوں کے پرچم اتار کر اپنے گھروں، دکانوں، دفاتر، محلوں اور بازاروں میں صرف پاکستانی پرچم لہرا کر پوری دنیا پر واضح کر دیں کہ سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے سیاسی و نظریاتی اختلافات کے باوجود پاکستان کی سلامتی و بقاء اور عزت و وقار کیلئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ امریکہ پاکستان کوعراق،افغانستان یا لیبیا یا دیگر ممالک کی طرح نہ سمجھے۔ پاکستانی قوم، وطن عزیز کی سلامتی و خود مختاری پر حملے کو ہرگز قبول نہیں کرے گی اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کر کے ثابت کر دے گی کہ پاکستانی قوم وطن عزیز کی سلامتی، عزت و وقار اور خود داری کیلئے مسلح افواج اور قومی سلامتی کے دیگر اداروں کے شانہ بشانہ ہے اور دامے، درمے قدمے سخنے ان کا عملی ساتھ دے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے الطاف حسین کے جذبات و احساسات کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی وبقاء، خود مختاری اور قومی وقار کیلئے آپ کے جذبات قابل تعریف ہیں جس پر میں آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ الطاف حسین نے جواب میں کہا کہ پاکستان کی حفاظت کیلئے مسلح افواج تنہا نہیں بلکہ پوری قوم ان کے شانہ بشانہ ہے اور قومی سلامتی کیلئے وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ الطاف حسین نے کہا کہ میں اور میری جماعت کے ایک ایک کارکن کی خدمات اور جدوجہد قومی سلامتی وبقاء اور یکجہتی کیلئے حاضر ہے۔ ہم پاکستان کی بقاء و سلامتی کو اپنے پارٹی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ قومی سلامتی کی خاطر ایم کیو ایم دس مرتبہ قربان ہوجائے اور پاکستان قائم رہے تو ہم اسے اپنی جدوجہد اور قربانی کا ثمر سمجھیں گے۔

Comments are closed.