نیٹو پاکستان سے معافی مانگے، سابق امریکی جنرل

Posted: 29/11/2011 in All News, Pakistan & Kashmir, Russia & Central Asia, USA & Europe

واشنگٹن: امریکی فوج کے سابق جنرل بیری مکے فری نے کہا ہے کہ نیٹو حملے پر پاکستان سے معافی مانگی جائے۔ سپلائی بند رہی تو افغانستان آپریشن براہ راست متاثر ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی جنرل بیری مکے فری نے کہا کہ نیٹو فضائی حدود کی خلاف ورزی کی غلطی تسلیم کرے اور اس واقعہ پر پاکستان سے معافی مانگے۔ افغان آپریشن کی کامیابی کیلئے پاکستان کا تعاون لازمی ہے۔ پاکستان نے نیٹو کی سپلائی مستقل طور پر بند رکھی تو نوے روز میں نیٹو کا سامان ختم ہوجائے گا۔ جس سے افغان آپریشن جاری رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔ سپلائی کے بغیر ڈیڑھ لاکھ نیٹو فوجیوں کا گزارہ مشکل ہوجائے گا۔ جنرل بیری نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو منانے کیلئے اگر اسے معاوضہ بھی ادا کرنا پڑے تو دینا چاہئے مگر پاکستان سے نیٹو کی سپلائی ہر صورت بحال ہونی چاہئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایک اہم اتحادی ہے اگر امریکی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اس اہم اتحادی کو ناراض کر کے افغان جنگ میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہوگی۔

Comments are closed.