نیٹو حملے کا نتیجہ سنگین ہو سکتا ہے، مزید ردعمل کا فیصلہ قیادت کرے گی، اطہر عباس

Posted: 29/11/2011 in Afghanistan & India, All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

آئی ایس پی آر کے سربراہ نے ایک ٹیکسٹ میسیج میں پاک فوج کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز پر حملے کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ حملہ آور بہانے بازی کر رہے ہیں۔پاکستان نے فوجیوں کی شہادت پر نیٹو کا اظہار افسوس ناکافی قرار دے دیا۔ پاک فوج کے ترجمان کہتے ہیں حملے کا نتیجہ سنگین ہو سکتا ہے۔ مزید ردعمل کے لئے قیادت فیصلہ کرے گی۔ پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے ایک ٹیکسٹ میسیج میں پاک فوج کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز پر حملے کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ حملہ آور بہانے بازی کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے سوال کیا کہ اگر نیٹو حملے سے پہلے پاکستان کی جانب سے کوئی کارروائی ہوئی تھی تو نیٹو یا افغان فورسز کا کیا نقصان ہوا۔؟ مغربی ذرائع ابلاغ افغان حکام کے حوالے سے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ افغان فورسز نے پاکستان کی جانب سے حملے کے بعد نیٹو کی مدد طلب کی تھی۔ کابل میں افغان حکام کا خیال ہے کہ افغان فورسز پر فائرنگ مزاحمت کاروں کی جانب سے نہیں بلکہ پاکستانی پوسٹ سے ہوئی تھی۔ اسے کہتے ہیں التا چور کوتوال کو ڈانٹے۔
دیگر ذرائع کے مطابق برطانوی خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ گزشتہ تین برس میں نیٹو کے آٹھ حملوں میں افسروں سمیت بہتّر پاکستانی فوجی شہید اور ڈھائی سو سے زیادہ جوان زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ نیٹو کی جانب سے افسوس کے اظہار کو ناکافی سمجھتے ہیں کیونکہ اس قسم کی کارروائی ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہم نہیں سمجھتے کہ یہ بات کسی صورت قابلِ قبول ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید ردعمل کا فیصلہ ہماری قیادت کرے گی۔

Comments are closed.