Archive for 29/11/2011

واشنگٹن: پاکستانی چوکیوں پر حملے کے بعد نیٹو سپلائی لائن کٹ گئی۔ پاکستان کی طرف سے مزید ممکنہ اقدامات پر امریکی دفاعی حکام سخت پریشان ہیں جبکہ امریکہ نے نیٹو حملے کی تحقیقات کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی حکام جلد ایک اعلی عہدیدار کو تحقیقات کی ذمہ داریاں سونپیں گے۔ وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونیوالی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شدید  ردعمل اورنیٹو فورسزکی سپلائی لائن کی بندش پر امریکی حکام خاصے پریشان ہوگئے ہیں اورحکومتی ایوانوں میں اس حوالے سے غوروفکر شروع ہوگیا ہے۔ امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کی سپلائی لائن کی بندش ایک سنگین مسئلہ ہے اور آنیوالے دنوں میں اس کی شدت میں اور بھی اضافہ ہونیکا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان سے نیٹو سپلائی بند ہونے پر پینٹاگون افغانستان میں موجود افواج کو رسد کی فراہمی کیلئے وسط ایشیائی ریاستوں کے روٹ استعمال کریگا۔ زیادہ تر سپلائی وہیں سے کی جائے گی۔ امریکی دفاعی حکام کیمطابق اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوگا اگر پاکستان نے فضائی پابندی لگاتے ہوئے امریکا اور اتحادی ممالک کو ائیرکوریڈور کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ امریکی دفاعی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد فورسز کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑیگا۔ دوسری جانب پینٹاگون حکام نے مسئلے سے نمٹنے کیلئے ممکنہ اقدامات پر سوچ و بچار بھی شروع کر دی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے پاکستان کو ملنے والی امداد روک کر پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ دریں اثناء امریکا نے پاکستان میں نیٹو کے فضائی حملے کی تحقیقات کا فیصلہ کر لیا، تحقیقات کیلئے جلد اعلیٰ افسر تعینات کیا جائے گا۔ امریکی اخبار کے مطابق پاکستان کی جانب سے نیٹو کی سپلائی لائن بند کئے جانے اور شمسی ایئر بیس خالی کرنے کے اعلان کے بعد امریکا نے نیٹو کے فضائی حملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی اخبار نے دفاعی حکام کے ذرائع سے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل جیمز میٹیس  تحقیقاتی افسر تعینات کر سکتے ہیں۔ تحقیقات کا مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملے کے احکامات کس نے اور کیوں صادر کئے۔

Advertisements

اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں نیٹو حملوں میں پاک فوج کے افسران سمیت بہتر فوجی جوان شہید ہوچکے ہیں۔ نیٹو حملے کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ پاکستان کے سرحدی علاقے میں نیٹو کے حالیہ حملے میں پاکستان کے چوبیس فوجی جوان شہید ہوئے جس پر پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں نیٹو افواج پاکستانی سرحدوں پر سات سے آٹھ حملے کرچکی ہیں جس میں فوج کے افسران سمیت بہتر فوجی جوان شہید اور ڈھائی سو زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ تعزیت اور افسوس سے کام نہیں چلے گا کیونکہ ایسی کاروائیاں ماضی میں بھی ہوچکی ہیں۔ قیادت فیصلہ کرئے گی کہ اس معاملے پر ہمارا مزید ردعمل کیا ہوگا۔ واضح رہے کہ نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے جمعہ اور ہفتے کی درمیابی شب مہمند ایجنسی میں پاکستان کی دو سرحدی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس میں دو فوجی افسران سمیت چوبیس سکیورٹی اہلکار شہید اور تیرہ زخمی ہوگئے تھے۔

چین نے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو افواج کے سرحد پار حملے میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر اسے شددید دکھ اور تشویش ہے۔ پیر کو وزارت خارجہ کے ترجمان ہونگ لی نے ایک بیان میں اس حملے کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیئے اور اس واقعہ کی مفصل تحقیقات کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے نمٹنے میں احتیاط برتی جائے۔ پاکستان نے نیٹو کے حملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس پیش رفت سے افغانستان میں جاری جنگ کو سمٹنے کی امریکہ کی کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ نیٹو نے اس حملے کو ایک غیر ارادی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے نیٹو کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ اتحادی افواج نے سرحد پار سے ان پر ہونے والی فائرنگ کے جواب میں یہ کارروائی کی تھی۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ چین نیٹو حملے کو پاکستان کی سالمیت پر حملہ تصور کرتا ہے اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔

واشنگٹن: امریکی فوج کے سابق جنرل بیری مکے فری نے کہا ہے کہ نیٹو حملے پر پاکستان سے معافی مانگی جائے۔ سپلائی بند رہی تو افغانستان آپریشن براہ راست متاثر ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی جنرل بیری مکے فری نے کہا کہ نیٹو فضائی حدود کی خلاف ورزی کی غلطی تسلیم کرے اور اس واقعہ پر پاکستان سے معافی مانگے۔ افغان آپریشن کی کامیابی کیلئے پاکستان کا تعاون لازمی ہے۔ پاکستان نے نیٹو کی سپلائی مستقل طور پر بند رکھی تو نوے روز میں نیٹو کا سامان ختم ہوجائے گا۔ جس سے افغان آپریشن جاری رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔ سپلائی کے بغیر ڈیڑھ لاکھ نیٹو فوجیوں کا گزارہ مشکل ہوجائے گا۔ جنرل بیری نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو منانے کیلئے اگر اسے معاوضہ بھی ادا کرنا پڑے تو دینا چاہئے مگر پاکستان سے نیٹو کی سپلائی ہر صورت بحال ہونی چاہئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایک اہم اتحادی ہے اگر امریکی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اس اہم اتحادی کو ناراض کر کے افغان جنگ میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہوگی۔

لندن: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پاکستان کی سرحدوں پر امریکن اور نیٹو فورسز کے بلااشتعال حملے اور حملے میں پاکستانی سیکوریٹی فورسز کے اہلکاروں کے شہید و زخمی ہونے کے واقعہ کی  مذمت کرتے ہوئے قوم سے اپیل کی کہ سیکوریٹی فورسز پر بلااشتعال حملے کے خلاف یوم یکجہتی و استحکام پاکستان منایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار الطاف حسین نے  وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان سے گفتگو میں کیا۔ رابطہ کمیٹی کے ارکان نے متفقہ طور پر مہمند ایجنسی میں امریکن اور نیٹو فورسز کی جانب سے پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں پر حملے کو قومی سلامتی و خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس عمل کے خلاف قومی یکجہتی کے مظاہرے کا فیصلہ کیا۔ الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایم کیو ایم کے تمام کارکنان وعوام پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں پر حملے کے خلاف  پیر کو اپنے اپنے گھروں، دفاتر اور دیگر مقامات سے پارٹی پرچم اتار لیں اور پاکستان کی سلامتی و خود مختاری، قومی غیرت و حمیت اور عزت و وقار کی خاطر ہر جگہ صرف پاکستانی پرچم لہرا کر قومی یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کریں۔ الطاف حسین نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور پوری قوم سے اپیل کی کہ وہ بھی یوم یکجہتی و استحکام پاکستان منائیں۔ اپنی اپنی جماعتوں کے پرچم اتار کر اپنے گھروں، دکانوں، دفاتر، محلوں اور بازاروں میں صرف پاکستانی پرچم لہرا کر پوری دنیا پر واضح کر دیں کہ سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے سیاسی و نظریاتی اختلافات کے باوجود پاکستان کی سلامتی و بقاء اور عزت و وقار کیلئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ امریکہ پاکستان کوعراق،افغانستان یا لیبیا یا دیگر ممالک کی طرح نہ سمجھے۔ پاکستانی قوم، وطن عزیز کی سلامتی و خود مختاری پر حملے کو ہرگز قبول نہیں کرے گی اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کر کے ثابت کر دے گی کہ پاکستانی قوم وطن عزیز کی سلامتی، عزت و وقار اور خود داری کیلئے مسلح افواج اور قومی سلامتی کے دیگر اداروں کے شانہ بشانہ ہے اور دامے، درمے قدمے سخنے ان کا عملی ساتھ دے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے الطاف حسین کے جذبات و احساسات کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی وبقاء، خود مختاری اور قومی وقار کیلئے آپ کے جذبات قابل تعریف ہیں جس پر میں آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ الطاف حسین نے جواب میں کہا کہ پاکستان کی حفاظت کیلئے مسلح افواج تنہا نہیں بلکہ پوری قوم ان کے شانہ بشانہ ہے اور قومی سلامتی کیلئے وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ الطاف حسین نے کہا کہ میں اور میری جماعت کے ایک ایک کارکن کی خدمات اور جدوجہد قومی سلامتی وبقاء اور یکجہتی کیلئے حاضر ہے۔ ہم پاکستان کی بقاء و سلامتی کو اپنے پارٹی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ قومی سلامتی کی خاطر ایم کیو ایم دس مرتبہ قربان ہوجائے اور پاکستان قائم رہے تو ہم اسے اپنی جدوجہد اور قربانی کا ثمر سمجھیں گے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے سینئر مشیر اشرف غنی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان فوجی تنازعہ کی طرف جاسکتے ہیں۔  امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں اشرف غنی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں شدت پسندی پھیلا رہا ہے اور اس میں مدد فراہم کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ہمسائیہ ملک نے غالباً ستمبر میں برہان الدین ربانی پر خود کش حملہ کرنے والے شخص کی مددکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے بات کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو اس میں سے ایک چیزکا انتخاب کرنا ہوگا کہ آیا وہ افغانستان کے ساتھ تنازعہ کو تیسری نسل تک لے جانا چاہتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برہان الدین ربانی کے قتل نے قوم کو بیرونی مداخلت کیخلاف یکجا کردیا ہے اور ہم نے اپنی تاریخ سے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہم کسی بھی بیرونی مداخلت کرنے والے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔

واشنگٹن: ایک اعلیٰ امریکی سینیٹر نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اس کو دی جانے والی امداد کا انحصار امریکہ سے تعاون پر ہے۔ پاکستان یہ مت بھولے کہ امداد اسی صورت ملے گی جب وہ ہمارے سا تھ تعاون کرے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ری پبلکن سینیٹر جان کیل نے امریکی ٹی وی فاکس نیوز کے سنڈے ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بہت زیادہ سفارتکاری کو واقع ہونا ہے۔ ہفتہ کو ہونیوالے فضائی حملوں سے دونوں مشکل اتحادیوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید سرد مہری آگئی ہے۔ اسلام آباد پاکستان کے ہمسایہ ملک میں امریکہ کے فوجی آپریشن میں تاحال اہم شراکت دار ہے۔ امریکہ جس کا خشکی میں گرے افغانستان میں جہاں ایک لاکھ تیس ہزار غیر ملکی افواج کی ترسیل کیلئے پاکستان پر انحصار ہے۔ اس اتحاد کو بچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں نااہلیت وکرپشن اور پاکستان کے کچھ حصوں میں پیچیدگیوں  سے سفارتی دلدل سے نکلنے میں درپیش مشکلات کے باعث خطے میں امن کے قیام کیلئے کوشاں امریکی فوجی درمیان میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

لندن: برطانوی اخبار گارڈین نے افغانستان میں موجود مغربی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی فوجیوں چوکیوں پر ہفتے کی صبح کیا جانے والا حملہ نیٹو نے اپنے دفاع میں کیا تھا۔ برطانوی اخبار نے کابل میں موجود مغربی حکام کے حوالے سے مزید کہا کہ افغانستان کے پہاڑی صوبے کنٹر میں امریکی و اتحادی فوج جو کہ گشت پر موجود تھی اس پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس کے جواب میں کارروائی کی گئی۔ مغربی اہلکار کے مطابق حملہ نیٹو کی زمینی فوج کی کال پر کیا گیا تھا جس میں بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا۔ اخبار نے مغربی حکام کے حوالے سے مزید کہا کہ کارروائی میں ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں نے بھی حصہ لیا۔

دو امریکی سینیٹروں نے اپنی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ریپبلیکن سینیٹر جون کیل اور ڈیموکریٹ ڈِک ڈربن کی جانب سے تجویز پاکستان کی جانب سے نیٹو کا سپلائی روٹ بند کرنے اور شمسی ایئربیس خالی کرنے کے مطالبے کا ردِ عمل ہے۔ پاکستان نے یہ اقدامات نیٹو کے مبینہ حملے میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت پر کیے ہیں۔ جون کیل نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے امریکی امداد القاعدہ کے خلاف لڑائی میں تعاون سے منسلک ہونی چاہیے۔ اُدھر جرمنی نے پاکستان کو پیش کش کی ہے کہ وہ ہفتے کے حملے میں زخمی فوجیوں کو طبی امداد فراہم کر سکتا ہے۔

پاکستان نے آج ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی وہ فضائی کارروائی پاکستان کی جانب سے کسی اشتعال انگیزی کا نتیجہ تھی، جس میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس سے پہلے تین افغان اہلکاروں اور ایک مغربی عہدیدار کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ متعلقہ پاکستانی چوکی سے نیٹو اور افغان فورسز پر فائرنگ کی گئی تھی اور یہ کہ یہ فضائی کارروائی جواب میں کی گئی تھی۔ دریں اثناء افغانستان میں نیٹو فورسز کو ایندھن فراہم کرنے والی بڑی پاکستانی ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اس فضائی حملے کے خلاف احتجاج کے طور پر نیٹو کو ایندھن کی فراہمی جلد بحال نہیں کی جائے گی۔ تازہ تفصیلات کے مطابق پاکستانی کمانڈروں کی جانب سے اتحادی افواج کو حملہ روکنے کی درخواست کے باوجود نیٹو کا یہ حملہ لگ بھگ دو گھنٹے تک جاری رہا۔

پاکستانی فوج نے کابل حکومت کی طرف سے ایسے دعوؤں کی بھی تردید کی ہے کہ پاکستانی چیک پوسٹ کی جانب سے نیٹو اور افغان فوج پر پہلے فائرنگ کی گئی، جو نیٹو حملے کی وجہ بنی۔ اس حملے میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق دو مختلف چیک پوسٹوں پر پاکستانی فوجی کسی اشتعال انگیزی کے بغیر نیٹو حملے کا نشانہ بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو حملہ قریب دو گھنٹے تک جاری رہا اور اس دوران مقامی کمانڈروں نے نیٹو کمانڈرز کے ساتھ رابطہ کرکے بار بار حملہ روکنے کو کہا، مگر اس کے باوجود یہ حملہ جاری رہا۔ پاکستانی فوجی ترجمان نے اس موقع پر افغانستان کے اس دعوے کی بھی نفی کی کہ افغان اور نیٹو کے فوجیوں پر پہلے فائرنگ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نیٹو اور افغانستان کی طرف سے اس واقعے کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے محض عذر تراشی ہے۔ عباس کا کہنا تھا کہ اگر فائرنگ ہوتی تو اس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوتا۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے ہفتے کو ہونے والے اس واقعے میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی پوری تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔ اتحادی فوج کی طرف سےابھی اس واقعے کے بارے میں باقاعدہ طور پر بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم ایک افغان اہلکار نے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، دعویٰ کیا تھا کہ افغان اور نیٹو کی مشترکہ افواج پر پاکستانی چیک پوسٹوں کی طرف سے فائرنگ کی گئی تھی، جس کے جواب میں فضائی مدد طلب کی گئی۔ امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے علاوہ برطانوی اخبار ‘گارڈیئن‘ نے مختلف حوالوں سے بتایا تھا کہ بھی اسی نوعیت کی ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں افغان حکومت کے تین عہدیداروں اور ایک مغربی عہدیدار کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان عہدیداروں کے مطابق نیٹو کی فضائی مدد اس لیے طلب کی گئی تھی تاکہ بین الاقوامی افواج کو طالبان کے حملوں سے بچایا جا سکے۔ مغربی عہدیدار کے مطابق یہ فائرنگ پاکستان کے فوجی ٹھکانے سے کی گئی تھی۔ ان عہدیداروں کا کہنا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ فائرنگ طالبان کی جانب سے نہیں بلکہ پاکستانی فوج کی جانب سے کی گئی تھی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق حملوں کا نشانہ بننے والی وولکانو اور گولڈن نامی دونوں چیک پوسٹیں مہمند ایجسنی کے علاقے میں  افغان  بارڈر سے قریب 300 میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چیک پوسٹوں کی درست لوکیشن نیٹو افواج کو فراہم کی جا چکی ہے۔ مزید یہ کہ اس علاقے کو حال میں شدت پسندوں سے پاک کیا جا  چکا ہے۔

امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاک افغان سرحد پر نیٹو کی فضائی کارروائی پاکستانی افواج کی جانب سے افغان اور نیٹو فورسز پر کی گئی فائرنگ کا رد عمل تھا۔ پاکستان نے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے دعوے کی تردید کی ہے۔ ہفتے کے روز نیٹو کی مبینہ فضائی کارروائی میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان کی جانب سے اس واقعے پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور اسلام آباد نے نیٹو کی رسد روکنے کے علاوہ نیٹو کے زیر استعمال پاکستان کے شمسی ایئر بیس کو خالی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق وہ اس واقعے کے بعد امریکہ اور نیٹو کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کی پالیسی پر نظر ثانی کر رہی ہے۔ادھر برطانوی اخبار ’گارڈیئن‘ نے بھی اسی نوعیت کی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں افغان حکومت کے تین عہدیداروں اور ایک مغربی عہدیدار کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان عہدیداروں کے مطابق نیٹو کی فضائی مدد اس لیے طلب کی گئی تھی تاکہ بین الاقوامی افواج کو طالبان کے حملوں سے بچایا جا سکے۔ ایک افغان عہدیدار کا کہنا ہے، ’’افغان افواج کے ٹھکانوں پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد انہوں نے نیٹو فضائیہ کی مدد طلب کی۔‘‘مغربی عہدیدار کے مطابق یہ فائرنگ پاکستان کے فوجی ٹھکانے سے کی گئی تھی۔ ان عہدیداروں کا کہنا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ فائرنگ طالبان کی جانب سے نہیں بلکہ پاکستانی فوج کی جانب سے کی گئی تھی۔دوسری جانب دو امریکی سینیٹروں نے اپنی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ریپبلیکن سینیٹر جون کیل اور ڈیموکریٹ ڈِک ڈربن کی جانب سے تجویز پاکستان کی جانب سے نیٹو کا سپلائی روٹ بند کرنے اور شمسی ایئربیس خالی کرنے کے مطالبے کا ردِ عمل ہے۔ جون کیل نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے امریکی امداد القاعدہ کے خلاف لڑائی میں تعاون سے منسلک ہونی چاہیے۔ اُدھر جرمنی نے پاکستان کو پیش کش کی ہے کہ وہ ہفتے کے حملے میں زخمی فوجیوں کو طبی امداد فراہم کر سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو نمائش چورنگی پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد حساس اداروں نے خبردار کیا ہے کہ محرم الحرام کے دوران گذری کے علاقے ڈیفنس فیز 4، ڈیفنس فیز 6 اور دیگر پوش علاقوں میں واقع امام بارگاہوں میں دہشتگردوں کی جانب سے حملوں کا خدشہ ہے۔حساس اداروں کی جانب سے نمائش چورنگی واقعے کے بعد محرم الحرام کے دوران شہر کے پوش علاقوں میں قائم امام بارگاہوں پر دہشتگرد حملوں کے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس اداروں نے حکومت سندھ کو اطلاع دی ہے کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ محرم الحرام کے دوران دہشتگردوں کے جانب سے شہر کے پوش علاقے ڈیفنس میں قائم امام بارگاہوں پر حملے کا خطرہ ہے، اس مقصد کے لیے دہشتگرد خودکش حملے یا بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ویو دھماکے کے بعد بھی ڈیفنس اور سی ویو کے اطراف مشکوک افراد کی نقل و حرکت کو مانیٹر کیا گیا تھا جو مختلف اوقات میں مختلف گاڑیوں میں دکھائی دیئے ہیں۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو نمائش چورنگی پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد حساس اداروں نے خبردار کیا ہے کہ محرم الحرام کے دوران گذری کے علاقے ڈیفنس فیز 4، ڈیفنس فیز 6 اور دیگر پوش علاقوں میں واقع امام بارگاہوں میں دہشتگردوں کی جانب سے حملوں کا خدشہ ہے، لہذا ان علاقوں میں سکیورٹی کے اقدامات کیے جائیں اور امام بارگاہوں کے اطراف سخت خفاظتی انتظامات کیے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں سخت سکیورٹی اقدامات دہشتگردوں کا نشانہ ممکنہ طور پر شہر کے دیگر مقامات پر منعقد ہونے والی مجالس ہو سکتی ہیں۔  واضح رہے کہ گذشتہ سال بھی دہشتگردوں نے دس محرم کے مرکزی جلوس کے بجائے چہلم امام حسین ع کے موقع پر مرکزی جلوس میں آنے والے عزاداران کی بس کو نشانہ بنایا تھا اور بعد ازاں ہلاک و زخمی افراد کو جناح اسپتال لانے کے بعد جناح اسپتال میں بھی بم دھماکہ کیا تھا۔

جعفریہ الائنس کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث دہشتگردوں اور ان کی کالعدم جماعت پر سخت پابندی عائد کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوس ناک واقعات رونما نہ ہو سکیں۔پولیس اور رینجرز فلیگ مارچ کے بجائے سکیورٹی کے عملی اقدامات کرے، دو شیعہ نوجوانوں کی کالعدم دہشتگرد سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہادت حکومت سندھ کے منہ پر طمانچہ ہے، کالعدم دہشتگرد گروہ کی سرپرستی کرنے والے ریاستی عناصر کو بے نقاب کر کے دہشتگردوں کے ساتھ سر عام پھانسی دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ، سابق سینیٹر علامہ عباس کمیلی، مولانا حسین مسعودی، علامہ باقر زیدی، علامہ نثار قلندری، علامہ فرقان حیدر عابدی، علامہ جعفر رضا نقوی اور دیگر نے نمائش چورنگی پر کالعدم دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی کھلے عام دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کیا۔   جعفریہ الائنس پاکستان کے مرکزی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کو بار ہا مطلع کئے جانے کے باوجود بھی کالعدم دہشتگرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے خلاف کاروائی نہ کرنا حیرت انگیز بات ہے، ان کا کہنا تھا کہ کالعدم دہشتگرد گروہ سپاہ صحابہ پر باقاعدہ پابندی عائد کی جائے نہ کہ جلسے جلوسوں کی اجازت دی جائے، انہوں نے کہا کہ یکم محرم الحرام کے دن ہی کالعدم دہشتگرد تنظیم کے دہشتگروں نے سرعام فائرنگ کرتے ہوئے جس طرح دو معصوم شیعہ نوجوانوں کو شہید کر دیا، جو حکومت سندھ اور سکیورٹی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔  رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نمائش چورنگی پر رونما ہونے والے خونی واقعہ میں ملوث کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کو فی الفور اور سرعام پھانسی دی جائے، جو ملک بھر میں امریکی ایماء پر دہشت گردی کا کھیل کھیل کر ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان دہشتگردوں کے آقاؤں نے پاک افواج پر حملہ کر کے درجنوں فوجی جوانوں کو شہید کر دیا ہے جبکہ ان زرخرید دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں امریکا، اسرائیل، برطانیہ اور بھارت کی ایماء پر یکم محرم کے روز دہشتگردی کا گھناؤنا کھیل کھیل کر ملک میں انارکی پھیلانے اور عدم استحکام کا شکار کرنے کی ناپاک سازش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے، جسے ملت جعفریہ کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔  رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث دہشت گردوں اور ان کی کالعدم جماعت پر سخت پابندی عائد کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوس ناک واقعات رونما نہ ہو سکیں، انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ ملت جعفریہ کے صبر کے پیمانہ کو نہ آزمایا جائے اور کالعدم دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کی جائے، بصورت دیگر احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

تشیع جنازہ سے قبل مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طالب جوہری نے کہا کہ کہ یہ شیعہ قوم کے شہید جوانوں کے جنازے ہیں، اتنی ہی شان سے نکلنے چاہیئں کہ جو اس کا اصل حق ہے۔سانحہ نمائش چورنگی کے ایک شہید بوتراب اسکاؤٹس سے تعلق رکھنے والے زین علی کی نماز جنازہ مسجد و امام بارگاہ خیر العمل انچولی میں ادا کی گئی، جبکہ تدفین وادی حسین قبرستان میں کی گئی۔ جبکہ دوسرے شہید سید اظہر علی کی میت ان کے آبائی علاقے چکوال روانہ کر دی گئی ہے۔ تشیع جنازہ سے قبل مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طالب جوہری نے کہا کہ کہ یہ شیعہ قوم کے شہید جوانوں کے جنازے ہیں، اتنی ہی شان سے نکلنے چاہیئں کہ جو اس کا اصل حق ہے، تفصیلات کے مطابق نماز جنازہ مولانا غلام علی وزیری کی اقتداء میں ادا کی گئی، اس موقع پر مولانا شہنشاہ نقوی، مولانا حسن ظفر نقوی، مولانا مرزا یوسف، محمد مہدی و دیگر رہنماؤں کے علاوہ ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بعداز نماز جنازہ میت کو جلوس کی شکل میں شاہراہ پاکستان لایا گیا، جہاں مظاہرین نے روڈ بلاک کر دی اور دھرنا دیا، اس موقع پر مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ واقعہ میں ملوث عناصر کے خلاف فی الفور کارروائی کی جائے۔ دھرنے کی بعد میت کو وادی حسین قبرستان لے جایا گیا، جہاں شہید کو آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔  واضح رہے کہ نمائش چورنگی کے نزدیک واقع نشتر پارک میں محرم الحرام اور ایام عزاء کی پہلی مجلس کے دوران کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں نے اسکاؤٹس کے کیمپ پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زین علی اور سید اظہر رضا شہید جبکہ تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔ شہید ہونے والے زین علی کا تعلق بوتراب اسکاؤٹس جبکہ سید اظہر رضا کا پاک حیدری اسکاؤٹس سے ہے، جو کہ مجلس عزاء کے دوران سکیورٹی انتظامات پر معمور تھے۔

سیکریٹری اطلاعات صوبہ پنجاب نے کہا ہے کہ ملت جعفریہ نے جنازے اٹھانے کے باوجود حسب روایت صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ محرم الحرام کو فرقہ وارانہ فسادات کی نذر کر کے حسینیت کے حقیقی پیغام سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی پس پردہ سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔شیعہ علماء کونسل صوبہ پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات سید اظہار نقوی نے کہا ہے کہ ماہ محرم الحرام کے آغاز پر کراچی میں ہونے والی شرپسندی، دہشتگردی اور شیعہ نوجوانوں کا بے دریغ قتل، خطرے کی علامت ہے، یہ خطرہ عشرہ محرم پرامن انداز میں گذرنے کے یقین کو پامال کر سکتا ہے۔ اس وقت جب پوری دنیا کے مسلمان بالعموم اور پاکستان کے مسلمان بالخصوص نواسہ رسول حضرت امام حسین ع کے تذکرہ شہادت میں مشغول و مصروف ہیں ایسے وقت میں حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آنکھوں کے سامنے کراچی جیسے عالمی شہر میں فرقہ وارانہ ریلیاں نکالنا، تعصب اور نفرت ابھارنا، پھر بالآخر دن دیہاڑے سفاکانہ طریقے سے تین نوجوانوں کا قتل ملک میں جنونیوں کے قبضے کا واضح اعلان کرتا ہے۔  سید اظہار نقوی نے کہا کہ ملت جعفریہ نے جنازے اٹھانے کے باوجود حسب روایت صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ محرم الحرام کو فرقہ وارانہ فسادات کی نذر کر کے حسینیت کے حقیقی پیغام سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی پس پردہ سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔ لیکن وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت قانون اور امن کے نفاذ کے ذمہ ادارے بھی نہ صرف دانستہ خاموشی اور غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں بلکہ فرقہ پرستوں اور محرم کا امن تباہ کرنے کے درپے شرپسندوں کی درپردہ حمایت اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، ان حالات میں عوام کیا توقعات رکھ سکتے ہیں۔؟؟  سید اظہار نقوی نے کہا ہے کہ مرکزی سطح کے علاوہ صوبوں میں بھی محرم کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں، اسی حوالے سے شیعہ علماء کونسل صوبہ پنجاب کی طرف سے بھی صوبائی صدر علامہ سید عبدالجلیل نقوی نے صوبائی محرم کمیٹی کا اعلان کر دیا ہے جس کے سربراہ چوہدری فدا حسین گھلوی ہیں جبکہ ممبران میں مولانا عظمت علی، سید ثناءالحق ترمذی ایڈووکیٹ، سردار کاظم علی خان حیدری، مہر قیصر عباس دادوآنہ، سید شبیر حسین نقوی، سید آصف علی زیدی، مولانا سبطین حیدر سبزواری، سید اظہر حسین بخاری، مولانا عارف حسین واحدی، مولانا اشفاق حسین وحیدی، سید محمد رضا شاہ، مولانا مظہر عباس علوی، حاجی سید غلام رضا شاہ، سید ساجد حسین نقوی، بشارت عباس قریشی، سید مہدی حسین نقوی، سید ندیم حیدر نقوی ایڈووکیٹ، شیخ منظور حسین، سید نسیم عباس بخاری شامل ہیں۔    ان ممبران کے علاوہ پنجاب کے تمام اضلاع میں شیعہ علماء کونسل کے ضلعی صدور اپنے اپنے علاقوں میں محرم الحرام اور عزاداری سیدالشہداء ع میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے، درپیش مسائل حل کرنے اور انتظامیہ سے روابط کے لیے اپنی خدمات انجام دیں گے۔ تمام ماتمی انجمنوں، ماتمی دستوں، بانیان مجالس، لائسنسداران اور عزاداروں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ محرم الحرام کے ساتھ مربوط کسی بھی مسئلے میں شیعہ علماء کونسل کی صوبائی محرم کمیٹی یا ضلعی کمییٹیوں سے رجوع کریں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک کالعدم جماعت کو کس بنیاد پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، عوامی اور مذہبی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن پولیس افسران نے کالعدم جماعت کو ریلی کی اجازت دی ہے ان کا پتہ چلایا جائے کہ ان کے اس کالعدم جماعت سے کیا تعلقات ہیں۔کراچی کے علاقہ نمائش چورنگی پر فرقہ ورانہ تصادم پولیس کی غلط حکمت عملی کے باعث پیش آیا۔ پولیس نے کالعدم سپاہ صحابہ کو نمائش چورنگی سے ریگل چوک تک مدح صحابہ ریلی نکالنے کی اجازت دی، اس دوران ایم اے جناح روڈ پر لگی ہوئی شیعہ انجمنوں کی سبیلوں پر سیکورٹی نہیں لگائی گئی جس کے نتیجے میں کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے کارکنوں نے نمائش چورنگی میں شیعہ انجمنوں کے کارکنوں کے ساتھ ہتھاپائی کی جو بعد میں مسلح تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق محرم الحرام کا چاند نظر آنے کے بعد ہر سال شیعہ انجمنوں کی جانب سے نمائش چورنگی پر پانی کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں جس کی پولیس سے باقاعدہ اجازت لی جاتی ہے، یہ سبیلیں 10 محرم تک لگائی جاتی ہیں اور ان کی سیکورٹی پر پولیس کو ہی مامور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسکاؤٹس تنظیمیں بھی وہاں موجود ہوتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ کی جانب سے بھی یکم محرم الحرام کو مدح صحابہ ریلی نکالی جاتی ہے، اس ریلی کیلئے نمائش چورنگی سے ریگل چوک تک اجازت دی گئی۔ پولیس کے اس غلط فیصلے سے نمائش چورنگی پر تصادم ہوا۔  ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ متعلقہ حکام کو چاہئے تھا کہ اگر وہ کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے رہنماؤں کو ریلی کی اجازت دے رہے تھے تو شیعہ انجمنوں کی سبیلوں کو ریلی کے دوران عارضی طور پر بند کرا دیتے لیکن پولیس کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے نمائش پر دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا۔ دوسری جانب عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک کالعدم جماعت کو کس بنیاد پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، عوامی اور مذہبی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن پولیس افسران نے کالعدم جماعت کو ریلی کی اجازت دی ہے ان کا پتہ چلایا جائے کہ ان کے اس کالعدم جماعت سے کیا تعلقات ہیں جن کی بنیاد پر بغیر سوچے سمجھے انہیں ریلی نکالنے کی اجازت دیدی گئی

میڈیا سے گفتگو میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کا دوست نہیں ہے وہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کے در پے ہے، پاکستان کو ذلیل و رسوا کر کے پاکستان کو کمبوڈیا بنانا چاہتا ہے۔ممتاز عسکری تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے نیٹو فورسز کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کا دوست نہیں ہے وہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کے در پے ہے، پاکستان کو ذلیل و رسوا کر کے پاکستان کو کمبوڈیا بنانا چاہتا ہے، مگر پاکستانی فوج اور عوام پاکستان کو کمبوڈیا نہیں بننے دیں گے۔ حکمران اور عوام صرف نیٹو سپلائی بند کر دیں، امریکہ چند دنوں میں سیدھا ہو جائے گا۔ میڈیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے حمید گل نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لئے بہانے تلاش کر رہا ہے، اسے کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے۔ بھارت کو تجارت کے لئے پسندیدہ ملک قرار دینے کے فیصلے کو سردست معطل کر کے واہگہ بارڈر بند کر دینا ہو گا۔ اسی طرح ملک کے دانشوروں کو ”امن کی آشا“ کی رٹ چھوڑنی پڑے گی۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ نے ایک ٹیکسٹ میسیج میں پاک فوج کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز پر حملے کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ حملہ آور بہانے بازی کر رہے ہیں۔پاکستان نے فوجیوں کی شہادت پر نیٹو کا اظہار افسوس ناکافی قرار دے دیا۔ پاک فوج کے ترجمان کہتے ہیں حملے کا نتیجہ سنگین ہو سکتا ہے۔ مزید ردعمل کے لئے قیادت فیصلہ کرے گی۔ پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے ایک ٹیکسٹ میسیج میں پاک فوج کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز پر حملے کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ حملہ آور بہانے بازی کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے سوال کیا کہ اگر نیٹو حملے سے پہلے پاکستان کی جانب سے کوئی کارروائی ہوئی تھی تو نیٹو یا افغان فورسز کا کیا نقصان ہوا۔؟ مغربی ذرائع ابلاغ افغان حکام کے حوالے سے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ افغان فورسز نے پاکستان کی جانب سے حملے کے بعد نیٹو کی مدد طلب کی تھی۔ کابل میں افغان حکام کا خیال ہے کہ افغان فورسز پر فائرنگ مزاحمت کاروں کی جانب سے نہیں بلکہ پاکستانی پوسٹ سے ہوئی تھی۔ اسے کہتے ہیں التا چور کوتوال کو ڈانٹے۔
دیگر ذرائع کے مطابق برطانوی خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ گزشتہ تین برس میں نیٹو کے آٹھ حملوں میں افسروں سمیت بہتّر پاکستانی فوجی شہید اور ڈھائی سو سے زیادہ جوان زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ نیٹو کی جانب سے افسوس کے اظہار کو ناکافی سمجھتے ہیں کیونکہ اس قسم کی کارروائی ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہم نہیں سمجھتے کہ یہ بات کسی صورت قابلِ قبول ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید ردعمل کا فیصلہ ہماری قیادت کرے گی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ سے تعلقات مساوات کی بنیاد پر ہونگے، ہم امریکہ کے محتاج نہیں علاقائی صورتحال کی وجہ سے امریکہ ہمارا محتاج ضرور ہے، امریکہ سے تصادم نہیں چاہتے لیکن اپنی سر زمین پر جارحانہ اقدام کو برادشت نہیں کیا جائیگا، پاکستان کی حاکمیت اعلی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔حکومت پاکستان نے نیٹو حملہ پر معذرت کو امریکی قیادت کی معذرت سے مشروط اور امریکہ کو دی گئی مراعات پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق امریکہ سے تعلقات خودمختاری اور مساوات کی بنیاد پر ہونے چاہئے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ کے محتاج نہیں لیکن علاقائی صورتحال کی وجہ سے امریکہ ہمارا محتاج ضرور ہے، جب کہ افغانستان پر فوج کشی کا اتنا نقصان امریکہ کا نہیں،جتنا پاکستان کا ہوا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ سے تصادم نہیں چاہتے لیکن اپنی سر زمین پر کوئی جارحانہ اقدام کو برادشت نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حاکمیت اعلی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور نیٹو واقعہ حاکمیت اعلی کی خلاف ورزی تھا جس کو کسی طور بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ نیٹو فورسزکی حملوں میں 24 فوجی افسر اور اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں اور حکومت پر عوامی وسیاسی حلقوں کا شدید دباؤ تھا کہ امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی کی جائے جس کے بعد حکومت نے فیصلہ کن اقدام کرنے کا عزم کیا ہے۔

محرم الحرام کے دوران خوف و ہراس اور کرفیو کی کیفیت پیدا نہ کی جائے۔ سنگینوں کے سائے تلے مراسم عزاداری کا انعقاد انتہائی ناروا ہے، اس سے دہشتگردوں اور فتنہ پرست گروہوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، جس سے وہ قانون کے راستے میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ لہذا مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ ان مراسم کا انعقاد حکومت کی ذمہ داری ہے۔عالم انسانیت بالعموم اور عالم اسلام بالخصو ص ماہ محرم کے طلوع ہوتے ہی اپنے اپنے انداز سے نواسہ رسول خدا ص اور ان کے آل و اصحاب کی طرف سے دین خدا، اسلام، شریعت محمدی اور حق کی حفاظت کے لئے دی گئی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ظلم سے نفرت اور مظلوم سے محبت رکھنے والے طبقات سید الشہداء کی یاد مناتے ہیں اور بلا تخصیص مذہب و مسلک حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی والہانہ وابستگی اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔قیام پاکستان سے قبل برصغیر میں اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں تمام شہری بلاتفریق مذہب و مسلک و فرقہ، محرم الحرام میں مجالس و محافل عزاداری مکمل جوش و جذبے، عقیدت اور اتحاد و وحدت کے ذریعے منا رہے ہیں اور دنیا کو بتا رہے ہیں کہ چودہ سو سال قبل ریگزار کربلا میں 72 جانثار، حق پرست، دیندار اور وفا شعار اور متقی اصحاب کے ساتھ امام عالی مقام نے جام شہادت نوش کر کے رہتی دنیا تک حق اور باطل میں حد فاصل قائم کرنے کے لئے دائمی اور ابدی کسوٹی فراہم کر دی اور ثابت کر دیا کہ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے صحرائے کربلا کا سفر اپنی ذات اور مفاد کے لئے نہیں بلکہ خدا کے دین اور الہی نظام کو بندگان خدا پر نافذ کرانے کے لئے ہے۔ ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھنے اور مظلوم کو اس کے حق کی فراہمی کے لئے اسلام کی شکل بگاڑنے کی مذموم سازش ناکام بنا کر عالم انسانیت کے سامنے حقیقی اور نبوی اسلام کا تعارف کرانے کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ یہ معرکہ صرف چند نوجوانوں، بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی معیت میں سر کر لیا، جسے بڑی معرکتہ الارا جنگوں سے نہیں جیتا جا سکتا تھا۔
محرم الحرام جہاں ہمیں واقعہ کربلا کی خونیں داستاں کی یاد دلاتا ہے، وہاں حضرت امام حسین علیہ السلام کے اعلٰی مشن، ہدف اور مقصد کی ترویج کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے اور عالم انسانیت کے محروم و مظلوم طبقات کے لئے امید کی کرنیں بکھیرتا ہے۔ امام حسین ع نے اس وقت اسلام کو درپیش سنگین خطرات سے امت کو آگاہ کیا اور اپنی عظیم قربانی پیش کر کے ہمیں حسینی بن کر اپنے وقت کی صہیونی اور استعماری سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا سلیقہ عطا کیا۔ ان تمام تر حقائق کے باوجود ایک تلخ حقیقت کا اظہار ضروری ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی ایسا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے جس سے یہ تاثر ابھارنے کی کوشش ہوتی ہے کہ عشرہ محرم سے ملک میں ایک ہنگامی حالت کا نفاذ ہو جائے گا، کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ جائے گا اور عوام کی عمومی سرگرمیوں پر پہرہ لگا دیا جائے گا۔ حکومتی اور انتظامی ادارے اپنے غیر سنجیدہ اقدامات سے ماحول کو اس طرح کشیدہ کر دیتے ہیں کہ مشن امام حسین ع اور مقصد عزاداری کی نفی واضح نظر آتی ہے۔ اس سرکاری خودساختہ ماحول نے صورتحال یہاں تک پہنچا دی ہے کہ کل تک جو مسلمان باہمی رواداری، اتحاد بین المسلمین، وحدت و یکجہتی اور امن و آشتی کے ذریعے اپنی مذہبی و شہری آزادیاں استعمال کر رہے تھے، آج وہ باہم تلخی اور تصادم کا شکار ہوئے نظر آتے ہیں، حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس سرکاری جال میں پاکستانی مسلمانوں کی غالب اکثریت نہیں بلکہ مٹھی بھر شرپسند عناصر ہی آئے ہیں، جو ہر سال محرم کے ماحول کو تلخ بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک میں مسالک اور مکاتب کی باہمی جنگ اور تصادم موجود ہے۔ 
اس ماحول کے پس پشت مسلمانوں میں تفریق ڈالنے والی ان قوتوں کا ہاتھ بھی ہے جو مسلمانوں میں سے ہی چند ضمیر فروشوں کو خرید کر پہلے تقریری و تحریری مہم کے ذریعے اپنے منفی مقاصد حاصل کرتی رہیں، لیکن جب تمام مسالک اور مکاتب کے علمائے کرام اور انصاف پسند عوام نے باہمی اتحاد کے ذریعے اس مہم کو ناکام بنایا تو انہوں نے اپنا انداز تبدیل کرتے ہوئے اپنے آلہ کاروں کے ہاتھوں میں اسلحہ تھما دیا اور مقتدر قوتوں کو ان کا سرپرست بنا دیا، جس کے بعد صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بے دریغ خون بہانے کو باعث سعادت اور ذریعہ نجات سمجھنے لگا اس دیوانگی میں وہ اس قدر آگے بڑھے کہ خدا کے گھر (مساجد) اور نبی ع کی آل سے منسوب متبرک مقام (امام بارگاہوں) میں بوڑھوں، بچوں، جوانوں اور عورتوں کو قتل کر کے نہ صرف ان مقامات کا تقدس پامال کیا بلکہ اپنے لئے جہنم میں دائمی ٹھکانا بنا لیا۔ جدید دور میں خودکش حملوں کا طریقہ اختیار کر کے دہشتگردوں نے ایک ہی وقت میں سینکڑوں لوگوں کا خون بہانے کا گھناؤنا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔محرم کے ماحول میں تلخی و کشیدگی اور پاکستان کی فرقہ وارانہ فضا کی آلودگی بھی در اصل سرکاری اداروں کی غفلت اور مقتدر حلقوں کی مخصوص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ان پالیسیوں کے سبب ہی ملک میں مذہبی، لسانی، فرقہ وارانہ، علاقائی فسادات ہوتے رہے ہیں۔ گو کہ پاکستان میں بننے والے مذہبی اتحادوں بالخصوص ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل نے ملک میں مذہبی فضا کو سازگار بنانے اور باہمی کشیدگی ختم کرنے کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں، لیکن طاقت کا سرچشمہ تو ہمیشہ حکومتیں اور سرکاری و انتظامی ادارے رہے ہیں، لہذا مذکورہ مذہبی اتحاد فقط عوامی سطح پر ماحول بہتر بناتے رہے۔
ملک کی عمومی مذہبی فضا کو بہتر رکھنے بالخصوص ایام عزاداری کے دوران حالات کو سازگار بنانے اور کشیدگی سے بچنے کے لئے حکومت کے ساتھ عوام، علمائے کرام، مذہبی جماعتوں، امن کمیٹیوں، مشائخ عظام، طلبہ تنظیموں، رفاعی تنظیموں اور محب وطن سیاسی حلقوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ذیل میں چند تجاویز تحریر کی جا رہی ہیں جن سے محرم الحرام کی تقریبات کو شایان شان طریقے سے منعقد کیا جا سکتا ہے اور حکومت کی سہولت و رہنمائی اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ 

(1) پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو اپنی مذہبی، سیاسی، معاشرتی، ثقافتی، شخصی، ذاتی اور اجتماعی سرگرمیوں کی واضح اجازت دیتا ہے۔ لہذا اس اجازت کا تقاضا ہے کہ عزاداری کے لئے لائسنس، پرمٹ کی شرط ختم کی جائے اور بغیر کسی سرکاری پابندی کے عزاداری کے پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔
(2) علمائے کرام، ذاکرین عظام مختلف مکاتب فکر کے درمیان رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ نیز عوام کو ایک دوسرے کے عقائد و نظریات، رسوم و عبادات کا احترام کرنے پر آمادہ کریں۔
(3) ذاکرین اور خطباء اپنی تقاریر اور خطابات میں حضرت امام حسین ع کے قیام اور یزیدی عزائم کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کے فروغ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیں۔
(4) حکومت کو چاہیے کہ اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں اور مقامی امن کمیٹیوں میں امن و اتحاد کے فروغ کے لئے کوشاں موثر افراد اور شخصیات کو شامل کرے۔ حکومت مرکزی اور صوبائی سطح پر موجود اتحاد بین المسلمین بورڈز اور کمیٹیوں میں عوام کے حقیقی نمائندہ افراد کو شامل کرے، کیونکہ گذشتہ کئی سالوں سے ان کمیٹیوں میں سرکاری پسندیدگی کو ملحوظ رکھا جاتا ہے میرٹ کو نہیں، اس وجہ سے تاحال امن وامان اور فرقہ واریت کی فضا بہتر نہیں ہو سکی۔
(5) مختلف مکاتب فکر کی طرف سے مختلف سطح پر وحدت کانفرنسوں کا انعقاد موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
(6) جلوس ہائے عزاداری، مجالس امام حسین ع اور وحدت کانفرنسوں میں تمام مسالک کے علمائے کرام، مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات اور انتظامیہ کے افراد کو شریک ہونا چاہیے۔
(7) حکومت عوام الناس اور مختلف مکاتب فکر کے افراد کو دیگر مکاتب فکر کے شہریوں کے شہری، مذہبی اور آئینی حقوق تسلیم کرنے کا پابند بنانے، کیونکہ اگر وہ دوسروں کی شہری آزادیوں کا احترام کریں گے تو اپنی شہری آزادیوں کو صحیح اور آزادانہ طریقے سے استعمال کر سکیں گے۔ 
(8) جو لوگ اور گروہ کسی مسلک و مکتب کے مذہبی، قانونی اور شہری آزادیوں اور حقوق کا احترام نہیں کرتے اور رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں حکومت ایسے عناصر سے بخوبی آگاہ ہے حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کا سخت محاسبہ کرے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دے، کیونکہ قانون کا نفاذ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔
(9) محرم الحرام کے دوران خوف و ہراس اور کرفیو کی کیفیت پیدا نہ کی جائے۔ سنگینوں کے سائے تلے مراسم عزاداری کا انعقاد انتہائی ناروا ہے، اس سے دہشتگردوں اور فتنہ پرست گروہوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، جس سے وہ قانون کے راستے میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ لہذا مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ ان مراسم کا انعقاد حکومت کی ذمہ داری ہے۔
(10) لاؤڈ سپیکر کسی بھی مشن اور نظریے کا نشری ذریعہ ہیں، سارا سال لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہر قسم کے مذہبی، سیاسی اور ثقافتی پروگراموں میں بلادریغ اور بغیر رکاوٹ ہوتا ہے۔ لیکن محرم الحرام کی آمد پر لاؤد سپیکر پر بے جا پابندیاں لگا دی جاتی ہیں، لہذا مجالس عزاء اور جلوس ہائے عزاداری میں لاؤڈ سپیکر پر بے جا پابندیاں ختم کی جائیں، البتہ بانیاں مجالس اور ذاکرین و خطباء اس امر کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ وہ سپیکر کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اشتعال انگیز تقاریر نہ کریں۔
(11) الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی ان ایام میں اپنا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے،لہذا ٹی وی، ریڈیو، پرائیویٹ چینلز، روزناموں، ہفت روزوں اور ماہناموں کی طرف سے جاری اور نشر کئے جانے والے پروگراموں، تقاریر، دستاویزی فلموں اور مضامین میں ایسے افراد کو بالکل فراموش کریں، جو ایک دوسرے کی دل آزاری کرتے ہیں اور مذہبی فضا میں کشیدگی پیدا کرتے ہیں۔ اخبارات ایسی تحریروں کو بالکل جگہ نہ دیں جن میں مذہبی اور مسلکی اختلافات اور فرقہ وارانہ فسادات پر اکسانے والا مواد موجود ہو۔ بلکہ ایسے افراد سے استفادہ کریں جو غیر متنازعہ، مثبت سوچ و فکر کے حامل اور اتحاد و وحدت کو فروغ دینے کے علمبردار ہوں۔
(12) دہشت گردی کے متوقع واقعات و خطرات سے نمٹنے کے لئے عوام کو انتظامیہ سے بھرپور تعاون کے ساتھ ساتھ خود بھی دفاع کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
(13) خواتین کی آمد و رفت کے راستوں پر جلوس اور مجالس کی انتظامیہ خاص نظر رکھے ان کی حفاظت کے لئے خاص اہتمام کرے اور مشکوک سرگرمیوں کی چیکنگ کرے۔
(14) جلوس و مجالس کے بہتر انتظامات اور وحدت کے عملی نمونے کے لئے شیعہ سنی نوجوانوں پر مشتمل انتظامی و حفاظتی دستے تشکیل دیئے جائیں۔
(15) مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مشائخ عظام، ذاکرین اور خطباء ایک دوسرے کی مساجد اور امام بارگاہوں میں ایک دوسرے کے پروگراموں میں زور و شور سے شرکت کریں اور عوام کو اپنی عملی وحدت کے ذریعے مثبت اور تعمیری پیغام دیں۔
یقیناً ان تجاویز سے حالات کو پرامن، صورتحال کو خوشگوار اور وحدت کو فروغ دیا جا سکتا ہے، لیکن امن کے مستقل قیام، دہشتگردی کے مکمل سدباب اور اخوت کے لازوال ماحول کے لئے سب سے بہتر اسلحہ ’’اتحاد بین المسلمین‘‘ اور سرکاری اداروں کی طرف سے ’’توازن کی یک طرفہ پالیسیوں ‘‘ کا خاتمہ ہے…..تحریر:سید اظہار نقوی