فوجیوں کی ہلاکت افسوسناک اور غیر ارادی ہے، راسموسن

Posted: 28/11/2011 in Afghanistan & India, All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں نیٹو کے فضائی حملے کے نتیجے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کو افسوسناک اور غیر ارادی قرار دیتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔اتوار کے روز پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو لکھے گئے ایک خط میں راسموسن نے کہا کہ نیٹو حملہ غیر ارادی تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور نیٹو کا تعاون اہم ہے اور جس طرح نیٹو یا کسی افغان سپاہی کی ہلاکت قابل قبول نہیں اسی طرح کسی پاکستانی فوجی کی ہلاکت بھی ناقابل قبول ہے۔افغانستان میں نیٹو فورسز کے ایک ترجمان بریگیڈیر جنرل کارسٹن جیکبسن نے ایک روز قبل کہا تھا کہ افغان اور اتحادی افواج کا پاکستانی سرحد کے قریب عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری تھا اور انہیں عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی مدد طلب کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ان فضائی حملوں میں پاکستانی فوج کی ہلاکتیں ہوئیں۔ بریگیڈیر جنرل کارسٹن جیکبسن کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی مکمل اور جامع تحقیقات کی جا رہی ہیں۔بعض پاکستانی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیٹو کو حملہ کرنے سے قبل معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہ ان کن اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ڈیفنس اینڈ سٹریٹجک ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر رفعت حسین کا کہنا ہے، ’’یہ چیک پوسٹ بڑے عرصے سے وہاں پر موجود ہے اور ہمارے جو فوجی شہید ہوئے ہیں ان کی تعداد بڑی زیادہ ہے، تو یہ ایسا نہیں کہ کوئی مبہم قسم کی پوسٹ تھی۔ ان کو (نیٹو) پتا تھا کہ وہاں پر کون سے لوگ موجود ہیں۔ جس طرح ہمیں علم ہے کہ ان کی طرف سرحد پر کتنی چوکیاں ہیں۔ اسی طرح انہیں بھی معلوم ہے کہ ہماری جانب کتنی چوکیاں قائم ہیں۔ اس لیے حادثاتی یا غیر ارادی حملے کی بات کو خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘پاکستان نےاپنے قبائلی علاقے پر افغان سرزمین سے نیٹو حملے پر حکومت افغانستان سے سخت احتجاج کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق افغان حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل میں افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان نیٹو حملے کے بعد مختلف طریقوں سے جس ردعمل کا اظہار کر رہا ہے اس کا اصل مقصد امریکہ کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ پاکستانی خودمختاری کا احترام کرے۔ دفاعی تجزیہ نگار ایئر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر کا کہنا ہے، ’’نیٹو حملے پر افغانستان کے ساتھ احتجاج کرنے کا بالکل کوئی فائدہ نہیں چونکہ وہ لوگ تو یہ نہیں کروا رہے۔ ان کی سرزمین ضرور استعمال ہوئی لیکن وہ اس وجہ سے کہ ہمارے ہاں پالیسی کا فقدان ہے تو اس کا میرے خیال میں امریکیوں پر کوئی زیادہ اثر نہیں ہوگا۔‘‘ادھر پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ سے ٹیلی فون پر الگ الگ رابطہ کیا۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق حنا ربانی کھر نے دونوں رہنماؤں کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ ہیلری کلنٹن اور ولیم ہیگ نے پاکستانی فوجی اہلکاروں کی جانوں کے ضیاع پر پاکستان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوگلو نے بھی اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ ترکی نیٹو کا رکن ہونے کی حیثیت سے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے کہے گا۔گزشتہ شب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے جو اہم فیصلے کیے ان میں امریکہ کو پاکستانی شہر جیکب آباد میں قائم شمسی ایئر بیس خالی کرنے کے لیے پندرہ دن کا وقت دیا گیا ہے۔ دفاعی کمیٹی نے افغانستان میں نیٹو افواج کی سپلائی لائن فوری طور پر بند کرنے اور امریکہ، نیٹو اور ایساف کے ساتھ مختلف منصوبوں، سرگرمیوں میں تعاون کے حوالے سے بھی نظرثانی کا اعلان کیا ہے۔علاوہ ازیں پاکستانی دفتر خارجہ نے اتوار کی شام ایک بیان میں کہا ہے کہ اگلے ماہ افغانستان سے متعلق جرمنی کے شہر بون میں ہونیوالی کانفرنس میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

Comments are closed.