ریاست کی ذمہ داری ہے ہر شہری کو اجازت دے کہ وہ شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرے، ساجد نقوی

Posted: 28/11/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

مرکزی محرم الحرام کمیٹی کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے حقوق اور آزادیوں کا لحاظ رکھیں۔سربراہ شیعہ علماء کونسل علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ نواسہ رسول ص حضرت امام حسین علیہ السلام نے صحرائے کربلا میں اپنے اصحاب و انصار سمیت شہادت کے درجے پر فائز ہو کر اسلام اور انسانیت کی بقاء کا انتظام فرما دیا۔ آپ کی جدوجہد اور مشن کا مرکزی نکتہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور دین محمدی ص کو یزیدی فکر، یزیدی اقدامات اور یزیدی نظام سے محفوظ رکھنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا کے سفر کے دوران متعدد خطبات میں آپ ؑ نے اپنے قیام کے مقاصد اور اپنے سفر کی وجوہات کا تفصیل سے تذکرہ فرمایا تاکہ دنیائے انسانیت اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ امام عالی مقام ع اپنی ذاتی خواہشات یا خاندانی و گروہی مفادات کے لئے برسرپیکار ہیں بلکہ دین اسلام، شریعت محمدی، انسانی اقدار اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل اور پرعزم ہیں۔ اور اپنے موقف و نظریے میں اس قدر راسخ ہیں کہ تمام دنیاوی مشکلات حتی کہ شہادت بھی قبول کرنے کے لئے آمادہ و تیار ہیں۔ مرکزی محرم الحرام کمیٹی کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ امام حسین ع کے اعلی مقاصد اور پاکیزہ اہداف کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات صراحت کے ساتھ واضح ہو جاتی ہے کہ آپ کی جدوجہد فقط اسلام یا مسلمین کے لئے نہیں بلکہ بلاتفریق مذہب و مسلک پوری انسانیت کے لئے تھی اور آپ ؑ کی شہادت کے بعد ظاہر ہونے والے اثرات اور حالات سے یہ بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ آپ نے پوری انسانیت کو اپنے کردار، سیرت اور عمل کے ذریعے نہ صرف متاثر کیا بلکہ اپنی پیروی پر مجبور کیا یہی وجہ ہے کہ آج زمانہ آپ کو محسن انسانیت کے نام سے یاد کرتا ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اگرچہ ماہ محرم الحرام ہمیں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی شہادت کے ساتھ ساتھ ان کے مشن اور جدوجہد کی طرف متوجہ کرتا ہے اور عزاداری سید الشہداء واقعات کربلا کے ذکر اور شہدائے کربلا کی یاد کو تازہ کرنے اور ان کی جدوجہد کو تازہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ قیام پاکستان سے ہمارے ہاں عزاداری سید الشہداء کا سلسلہ جاری ہے لیکن گذشتہ کئی سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی ملک میں سنسنی خیزی پیدا کر دی جاتی ہے۔ ایام عزا میں کرفیو کا عالم پیدا کر دیا جاتا ہے،  سنگینوں کے سائے تلے عزاداری کے پروگراموں کا انعقاد ہوتا ہے۔ ایسا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے کہ عزاداری اور محرم ایک خوف، جنگ اور بدامنی کی علامت بنا دیا گیا ہے اس طرح سرکاری سطح پر محرم کے تقدس کی پامالی ہوتی ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ہر شہری کو اجازت دیں وہ شہدائے کربلا کے حضور خراج عقیدت پیش کر سکے۔ عوام کو ان کے ساتھ شہری، آئینی اور مذہبی حقوق کی آزادی ہو تاکہ وہ یکسوئی اور آزادی کے ساتھ پورے جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ مراسم عزاء انجام دے سکیں۔ جس طرح مراسم عزا کے انعقاد کے دوران حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے حقوق اور آزادیوں کا لحاظ رکھیں اسی طرح عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مراسم عزا کے انعقاد کے لئے حکومت اور مذکورہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں، مکمل طور پر اتحاد و وحدت کی فضا قائم ہو اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ اور اسلامی معاشرے کے قیام کی جدوجہد آسان ہو۔

Comments are closed.