برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی، ایرانی پارلیمان میں بل منظور

Posted: 28/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Survey / Research / Science News, USA & Europe

ایرانی پارلیمان میں برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کو کم ترین سطح پر لے جانے کے لیے ایک قانونی مسودے کو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث برطانیہ کی طرف سے حال ہی میں عائد کی گئی نئی پابندیوں کے بعد ایرانی پارلیمان نے اس قانونی بل کو منظور کیا ہے۔ ایرانی ریڈیو کے مطابق اتوار کو ہوئی ووٹنگ میں اس مسودے کے حق میں 87 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ اس مسودے کو قانونی شکل ملنے سے قبل ایران کی شورائی نگہبان کی طرف سے اس کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمان کے 179ممبران نے اس مسودے کے حق میں ووٹ ڈالا، گیارہ غیر حاضر رہے جبکہ چار نے اس کی مخالفت کی۔ جن چار ممبران نے اس بل کی مخالفت کی، ان کا مؤقف تھا کہ برطانیہ کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات سخت نہیں ہیں۔اگر یہ قانون ایران کی گارڈین کونسل یعنی شورائی نگہبان سے منظور کر لیا جاتا ہے تو اس کے تحت ایران میں تعینات برطانوی سفیر کو بے دخل کر دیا جائے گا اور دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کم ترین درجے پر پہنچ جائیں گے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی پارلیمان کے اسپیکر علی لاریجانی کے حوالے سے بتایا، ’ایران کا قانون ساز ادارہ برطانیہ کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا بغور مشاہدہ کر رہا ہے۔ ایرانی پارلیمان کی طرف سے یہ نیا قدم ابھی صرف ایک شروعات ہے‘۔ایرانی ریڈیو پر براہ راست نشر کی جانے والی پارلیمانی کارروائی کے دوران ممبران نے برطانیہ کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ادھر برطانوی وزارت خارجہ نے ایران کی طرف سے سفارتی تعلقات میں کمی کے عمل کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث تہران حکومت اور مغربی ممالک کے مابین تعلقات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ مغربی ممالک کو خدشات لاحق ہیں کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام سے جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ تہران حکومت ایسے الزامات کو ہمیشہ ہی مسترد کرتی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

 

Comments are closed.