Archive for 28/11/2011

قائد انقلاب اسلامی ایران نے خطے میں رونما ہونے والی اسلامی تحریکوں کو مستقل اور ترقی کی جانب گامزن قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ اقوام کی بیداری امریکی پٹھووں کی سرنگونی کا باعث بنے گی۔فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج صبح بسیج فورس کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں رونما ہونے والی اسلامی تحریکیں ہمیشہ باقی رہیں گی اور ترقی کی جانب گامزن ہوں گی، اقوام کی مسلسل بیداری سے استکبار کے پٹھو یکے بعد دیگرے سرنگون ہو کر رہیں گے اور اسلام کی طاقت اور شان و شوکت میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ قائد انقلاب اسلامی ایران نے مغربی پروپیگنڈہ مشینری کی جانب سے ایران پر خطے میں رونما ہونے والی تحریکوں کی پشت پردہ حمایت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو ایسے اقدامات کی ضرورت نہیں کیونکہ اسلامی نظام کی بقاء، استقامت اور سچائی بذات خود دنیا کی اقوام کی رہنمائی اور الہام بخشی کیلئے کافی ہے۔ انہوں نے مغربی طاقتوں کی جانب سے خطے میں رونما ہونے والے انقلابات کو کچلنے یا منحرف کرنے کی کوششوں کو ناکام قرار دیا اور کہا کہ اسلامی بیداری کی لہر جو فی الحال عرب ممالک میں رونما ہوئی ہے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور امریکہ اور یورپ میں دیکھی جانے والی تحریکیں بھی ان عظیم سیاسی تبدیلیوں کی علامت ہیں جنہیں دنیا آنے والے دنوں میں مشاہدہ کرے گی۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ملکی سربراہوں اور اقوام کو ڈرانے دھمکانے اور مرعوب کرنے کو عالمی استکباری اور جاہ طلب قوتوں کا پرانا ہتھکنڈہ قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ ایران نے مستکبر قوتوں کے رعب اور وحشت کا پردہ چاک کر کے دنیا کی اقوام کو یہ پیغام دیا ہے کہ عالمی طاقتوں کا رعب اور دبدبہ صرف ظاہری اور کھوکھلا ہے جسے توڑا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی طاقتیں اسلامی جمہوریہ ایران پر شدید غصے کا شکار ہیں۔ ولی امر مسلمین جہان حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خطے میں رونما ہونے والی اسلامی بیداری کی تحریکوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو افراد ایران کے اسلامی انقلاب سے اچھی طرح واقف تھے گذشت تیس سال سے ایسی بابرکت تحریکوں کے جنم لینے کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی استکباری قوتیں بھی گذشتہ تیس سالوں سے ایران کے اسلامی انقلاب سے متاثر ہو کر اسلامی بیداری کی تحریکوں کے جنم لینے سے شدید خوفزدہ تھے۔ انہوں نے تاکید کی کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران عالمی اقوام کی بیداری کا حقیقی مرکز بن چکا ہے اور اسی واقعیت نے دشمن کو شدید غضبناک کر رکھا ہے۔

Advertisements

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما نے سانحہ نمائش چورنگی پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور کہا کہ حسینی جوانوں نے آج ایک مرتبہ پھر کربلا کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے نسل یزید کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا ہے۔سانحہ نمائش چورنگی میں ملوث دہشتگردوں کو سزا نہ ملنے تک محرم الحرام کی مجالس عزاء کل سے ایم اے جناح روڈ پر کی جائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا شہنشاہ حسین نقوی نے یکم محرم الحرام کی مرکزی مجلس عزاء سے نشتر پارک میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا شہنشاہ حسین نقوی نے آج نشتر پارک میں مرکزی مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے سانحہ نمائش چورنگی میں ملوث دہشتگردوں کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جب تک کالعدم تنظیم کے دہشتگرد کہ جنہوں نے نمائش چورنگی پر فائرنگ کر کے دو معصوم نوجوان اسکاؤٹس کو شہید کیا ہے، سرعام پھانسی نہیں دی جاتی، آئندہ کی مجالس نشتر پارک میں نہیں بلکہ ایم اے جناح روڈ پر ہوں گی اور احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ مولانا شہنشاہ حسین نقوی نے سانحہ نمائش چورنگی پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور کہا کہ حسینی جوانوں نے آج ایک مرتبہ پھر کربلا کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے نسل یزید کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صیہونی ایجنٹ چاہتے تھے کہ شہر کراچی کے امن کو خراب کریں، لیکن وہ بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غم حسین علیہ السلام کل بھی نہ رکا تھا اور آج بھی کسی میں اتنا دم نہیں کہ وہ اسے روک سکے، اگر دہشت گردوں کو سزا نہیں دی گئی تو کل سے ایم اے جناح روڈ پر مجلس عزا کا انعقاد کیا جائے گا۔

مرکزی محرم الحرام کمیٹی کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے حقوق اور آزادیوں کا لحاظ رکھیں۔سربراہ شیعہ علماء کونسل علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ نواسہ رسول ص حضرت امام حسین علیہ السلام نے صحرائے کربلا میں اپنے اصحاب و انصار سمیت شہادت کے درجے پر فائز ہو کر اسلام اور انسانیت کی بقاء کا انتظام فرما دیا۔ آپ کی جدوجہد اور مشن کا مرکزی نکتہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور دین محمدی ص کو یزیدی فکر، یزیدی اقدامات اور یزیدی نظام سے محفوظ رکھنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا کے سفر کے دوران متعدد خطبات میں آپ ؑ نے اپنے قیام کے مقاصد اور اپنے سفر کی وجوہات کا تفصیل سے تذکرہ فرمایا تاکہ دنیائے انسانیت اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ امام عالی مقام ع اپنی ذاتی خواہشات یا خاندانی و گروہی مفادات کے لئے برسرپیکار ہیں بلکہ دین اسلام، شریعت محمدی، انسانی اقدار اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل اور پرعزم ہیں۔ اور اپنے موقف و نظریے میں اس قدر راسخ ہیں کہ تمام دنیاوی مشکلات حتی کہ شہادت بھی قبول کرنے کے لئے آمادہ و تیار ہیں۔ مرکزی محرم الحرام کمیٹی کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ امام حسین ع کے اعلی مقاصد اور پاکیزہ اہداف کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات صراحت کے ساتھ واضح ہو جاتی ہے کہ آپ کی جدوجہد فقط اسلام یا مسلمین کے لئے نہیں بلکہ بلاتفریق مذہب و مسلک پوری انسانیت کے لئے تھی اور آپ ؑ کی شہادت کے بعد ظاہر ہونے والے اثرات اور حالات سے یہ بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ آپ نے پوری انسانیت کو اپنے کردار، سیرت اور عمل کے ذریعے نہ صرف متاثر کیا بلکہ اپنی پیروی پر مجبور کیا یہی وجہ ہے کہ آج زمانہ آپ کو محسن انسانیت کے نام سے یاد کرتا ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اگرچہ ماہ محرم الحرام ہمیں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی شہادت کے ساتھ ساتھ ان کے مشن اور جدوجہد کی طرف متوجہ کرتا ہے اور عزاداری سید الشہداء واقعات کربلا کے ذکر اور شہدائے کربلا کی یاد کو تازہ کرنے اور ان کی جدوجہد کو تازہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ قیام پاکستان سے ہمارے ہاں عزاداری سید الشہداء کا سلسلہ جاری ہے لیکن گذشتہ کئی سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی ملک میں سنسنی خیزی پیدا کر دی جاتی ہے۔ ایام عزا میں کرفیو کا عالم پیدا کر دیا جاتا ہے،  سنگینوں کے سائے تلے عزاداری کے پروگراموں کا انعقاد ہوتا ہے۔ ایسا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے کہ عزاداری اور محرم ایک خوف، جنگ اور بدامنی کی علامت بنا دیا گیا ہے اس طرح سرکاری سطح پر محرم کے تقدس کی پامالی ہوتی ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ہر شہری کو اجازت دیں وہ شہدائے کربلا کے حضور خراج عقیدت پیش کر سکے۔ عوام کو ان کے ساتھ شہری، آئینی اور مذہبی حقوق کی آزادی ہو تاکہ وہ یکسوئی اور آزادی کے ساتھ پورے جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ مراسم عزاء انجام دے سکیں۔ جس طرح مراسم عزا کے انعقاد کے دوران حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے حقوق اور آزادیوں کا لحاظ رکھیں اسی طرح عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مراسم عزا کے انعقاد کے لئے حکومت اور مذکورہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں، مکمل طور پر اتحاد و وحدت کی فضا قائم ہو اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ اور اسلامی معاشرے کے قیام کی جدوجہد آسان ہو۔

نمائش چورنگی پر احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ترجمان نے تمام شیعہ ملی و قومی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ اپنے عارضی اختلافات کو ختم کر کے متحد ہو جائیں اور آئندہ کی حکمت عملی میں اپنا کردار ادا کریں۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان اور معروف عالم دین مولانا حسن ظفر نقوی نے ملت جعفریہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے معمولی اختلافات کو ختم کر کے متحد ہو جائیں اور دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لئے سینہ سپر ہوں اور کل اہم لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار علامہ حسن ظفر نقوی نے نمائش چورنگی پر موجود مشتعل مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ واضح رہے کہ آج سہہ پہر کو کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے سر عام فائرنگ کر دو نوجوان اسکاؤٹس کو شہید اور تین کو زخمی کر دیا تھا۔ مولانا حسن ظفر نقوی نے نمائش چورنگی پر پہنچ کر عزاداران سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے پر ہجوم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کو فی الفور سزا نہ دی گئی تو کل سے ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دیا جائے گا۔ اس واقعہ کے بعد مولانا حسن ظفر نقوی نے تمام ملی و قومی تنظیموں کا ایک اہم اجلاس طلب کر لیا ہے، تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا مشترکہ طور پر اعلان کیا جا سکے۔ مولانا حسن ظفر نقوی نے تمام شیعہ ملی و قومی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ اپنے عارضی اختلافات کو ختم کر کے متحد ہو جائیں اور آئندہ کی حکمت عملی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے نمائش چورنگی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کو سزا ملنے تک زبردست احتجاجی تحریک جاری رکھیں گے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یکم محرم کے روز عزاداروں کو ایک ایسے وقت میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ جب امریکی دہشت گرد فورسز نے پاک افواج کے جوانوں کو شہید کیا، یہ واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔کالعدم گروہوں کے دہشت گردوں کا عزاداران امام حسین علیہ السلام پر حملہ ملک میں امن و امان کو تاراج کرنے کی گھناؤنی سازش ہے، عزاداران امام حسین علیہ السلام صبر و تحمل سے تمام ناپاک سازشوں کو ناکام بنادیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کراچی میں نمائشن چورنگی پر دہشتگردوں کی سر عام فائرنگ سے شہید ہونے والے دو نوجوانوں کی المناک اور مظلومانہ شہادت کے موقع پر دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کیا۔ علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ یکم محرم کے روز عزاداروں کو ایک ایسے وقت میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ جب امریکی دہشت گرد فورسز نے پاک افواج کے جوانوں کو شہید کیا، یہ واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عزاداران امام حسین علیہ السلام پر حملہ کرنے والے امریکی دوست ہیں جو کہ ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں اور ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں تاہم عزاداران امام حسین علیہ السلام دہشت گرودں کے ناپاک عزائم کو خون میں نہا کر بھی خاک میں ملا دیں گے مگر مملکت خداداد پاکستان پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کراچی میں نمائش چورنگی پر ہونے والے حملہ میں ملوث کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کو کھلے عام پھانسی دی جائے اور ان کے سرپرست ریاستی عناصر کو بھی بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یزیدیت اور اس کے پیروکار چودہ سو سال سے ناکام اور ذلیل و خوار رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ناکام اور ذلیل و خوار ہی رہیں گے جبکہ عزاداران امام حسین علیہ السلام اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بھی عزاداری سید الشہداء اور مملکت کا تحفظ کرنے کے لئے تیار ہیں۔

آئی ایس او لاہور ڈویژن کے صدر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کا واقعہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے امن خراب کرنے کی سازش ہے، حکومت ملزمان کیخلاف کارروائی کرے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔آئی ایس او پاکستان لاہور ڈویژن کی جانب سے کراچی میں سکاؤٹ کیمپ پرفائرنگ کے واقعہ میں دوسکاؤٹس کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں طلباء نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے حکومتی بے حسی کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ڈویژنل صدرآئی ایس اولاہور ناصر عباس نے کہا کہ یہ واقعہ کالعدم تنظیموں کی امن کی صورتحال خراب کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ان شرپسند عناصر کے خلاف مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور یہ قابل مذمت عمل ہے۔ہم حکومت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ ان شرپسند عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے بصورت دیگر احتجاجی دائر کار وسیع کیا جائیگا۔

کراچی کے علاقے نمائش چورنگی پر ڈیوٹی پر موجود رینجرز نے کالعدم دہشت گرد گروہوں سپا ہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے تین ناصبی دہشت گردوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے ،تینوں ناصبی دہشت گردوں نے نمائش چورنگی پر عزاداران امام حسین علیہ السلام پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجہ میں دو شیعہ نوجوان شہید اور تین زخمی ہوئے تھے۔ عینی شاہدین نے  بتایا ہے کہ نمائش چورنگی پر عزاداران سید الشہداء امام حسین علیہ السلام پر فائرنگ کرنے والے تین ناصبی وہابی دہشت گردوں کو رینجرز حکام نے گرفتار کر لیا ہے اور انہیں محفوظ مقام پر پہنچایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب عزادارن سید الشہداء امام حسین علیہ السلام شدید غم و غصہ کے عالم میں پولیس اور رینجرز کو محصور کئے ہوئے ہیں کہ آخر یہ سانحہ کیوں پیش آیا ہے؟ ناصبی دہشتگرد عزاداروں پر حملہ کرنے کے بعد مسجد ختم تحفظ نبوت میں پناہ لینے پہنچ گئے تھے جو کہ کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی دہشت گردوں کی سب سے بڑی اور محفوظ پناہ گاہ ہے تاہم سڑک پر موجود دیگر عزاداران امام حسین علیہ السلام نے تینوں ناصبی دہشت گردوں کی نشاندہی کرتے ہوئے گرفتاری کا مطالبہ کیا جس پر رینجرز حکام نے تین ناصبی وہابی دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ دوسری جانب رینجرز اور پولیس اہلکار کوشش کر رہے ہیں کہ تینوں ناصبی دہشت گردوں کو محفوظ جگہ لے جایا جائے تاہم عزاداران امام حسین علیہ السلام کا بڑا مجمع پولیس اور رینجرز کو اجازت نہیں دے رہا کہ ناصبی وہابی دہشت گردوں کو لے جایا جائے۔

وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کا سختی سے نوٹس لے لیا ہے اور متعلقہ افسران کو کارروائی کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جلد سے جلد کی جائے اور ملزمان کی گرفتاری کو ممکن بنایا جائے۔کراچی کے علاقے نمائش چورنگی میں واقع نشتر پارک میں ہونے والی مرکزی مجلس عزاء کے دوران کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے پاک حیدری اور بوتراب اسکاؤٹس کے دو اسکاؤٹس کو شہید کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کا سختی سے نوٹس لے لیا ہے اور متعلقہ افسران کو کارروائی کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جلد سے جلد کی جائے اور ملزمان کی گرفتاری کو ممکن بنایا جائے۔ ذرائع کے مطابق اتوار کی شام نمائش چورنگی کے نزدیک واقع نشتر پارک میں محرم الحرام اور ایام عزاء کی پہلی مجلس کے دوران دہشت گردوں نے اسکاؤٹس کے کیمپ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں زین علی اور اسد کو شہید جبکہ تین شدید زخمی ہوگئے۔ شہید ہونے والے ایک نوجوان کا تعلق بوتراب اسکاؤٹس جبکہ دوسرے کا پاک حیدری اسکاؤٹس سے ہے جو کہ مجلس عزاء کے دوران سیکوریٹی انتظامات پر معمور تھے۔ واضح رہے کہ اس واقعہ سے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے سیکوریٹی کے انتظامات کے دعووں کی قلعی بھی کھل گئی ہے کہ کس طرح دہشت گرد کھلے عام مجلس عزاء پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے اور پولیس انتظامیہ تماشائی بنی رہی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے آج یوم فاروق اعظم کے موقع پر ریلی نکالی تھی، جس کے خاتمہ پر واپس جاتے ہوئے عزاداران امام حسین علیہ السلام پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجہ میں دو اسکاؤٹس شہید اور تین زخمی ہوئے۔ واقعہ کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں بشمول انچولی سوسائٹی، گلشن اقبال، گلستان جوہر، ملیر، لانڈھی، ناظم آباد اور رضویہ سمیت کئی علاقوں میں اسکاؤٹس کی شہادت کے خلاف زبردست احتجاج جاری ہے، جبکہ شہر بھر کے متعدد علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسکاؤٹس کی شہادت پر پورے شہر میں سوگ کی فضا ہے، جبکہ عزاداران سید الشہداء امام حسین علیہ السلام میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جاتی ہے، شہر کے متعدد مقامات پر مشتعل افراد نے مارکیٹوں کو بند کروا دیا ہے جبکہ سڑکوں پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

سعودی شہزادوں نے اس ملک کا سرمایہ لوٹ کر اپنے لئے عیش وعشرت کی زندگی فراہم کر رکھی ہے۔ فارس نیوزایجنسی کی رپورٹ کےمطابق ایسےعالم میں کہ جب آل سعود کی جانب سے پیش کئے جانے والے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس دولت مند ملک کے بیس فیصد عوام خط افلاس سے نیچے زندگی گذار رہے ہيں، اس ملک کےشہزادے عوام کی دولت اپنی عیاشی میں اڑا رہے ہيں۔ رپورٹ کےمطابق سعودی عرب کی فوج کےسابق کمانڈر اور متوفی ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز کے بڑے بیٹے خالد بن عبدالعزیز جنہوں نے ریاض کےمغرب میں واقع القویعہ کے علاقےميں ایک ایسا فارم ہاؤس بنایا جس کے اطراف ستر ہزار پیڑ لگائے گئے ہيں ۔اس فارم ہاؤس میں طرح طرح کے پھل دار درخت ، چڑیاگھر، ایئرپورٹ ، کلب ، میوزيم ، اورمتعدد محل بنائےگئے ہيں جنہیں سعودی شہزادہ سیروتفریح کے لئے استعمال کرتا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سیاسی شعبے کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نےکہا ہے کہ اسلامی جمہوری نظام ایک عالمی طاقت میں تبدیل ہو رہا ہے اور کوئی بھی اس پر حملےکی جرات نہیں کرسکتا۔ ارنا کی رپورٹ کےمطابق جنرل یداللہ جوانی نے آج ایک کانفرنس میں کہاکہ گذشتہ مہینوں میں ایران کےخلاف دشمن کی دھمکیوں کی اصلی وجہ ماضی کی نسبت ایران کی پوزیشن مضبوط ہونا ہے۔ یداللہ جوانی نےکہا کہ آج اسلامی جمہوری نظام ایسےراستے پرچل رہا ہے جس نے دشمن کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور یہ دشمنوں کے لئے، جوماضی میں اسلامی جمہوری نظام کو غیرمستحکم کرنا چاہتے تھے خوش آئند نہيں ہے۔ جنرل یداللہ جوانی نے ایرانی ماہرین کی صلاحیتوں پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ آج ایران ایک ایٹمی ملک میں تبدیل ہو چکا ہے اور یہاں علمی سائنسی ترقی دنیا میں اس شعبے میں ہونے والی ترقی کےمقابلےمیں تیرہ گنا زیادہ ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب کےسیاسی شعبےکے سربراہ نے کہاکہ مغربی ممالک دس سال پہلےکہتے تھےکہ ایران کے پاس ایک سینٹری فیوج بھی نہيں ہوناچاہئے لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس اس وقت ہزاروں سینٹری فیوجز موجود ہيں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے برطانیہ کی معاندانہ پالیسی کے پیش نظرتہران سے برطانوی سفیر کو اخراج کرنے کا حکم دیا ہے پارلیمنٹ نے ایرانی وزارت خارجہ کو پابند بنایا ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر برطانیہ کے سفیر کو ایران سے نکال دے۔رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے برطانیہ کی معاندانہ پالیسی کے پیش نظرتہران سے برطانوی سفیر کو اخراج کرنے کا حکم دیا ہے پارلیمنٹ نے ایرانی وزارت خارجہ کو تاکید کی ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر برطانیہ کے سفیر کو ایران سے نکال دے۔ پارلیمنٹ کے نمائندوں نے بھاری اکثریت سے برطانوی سفیر کر نکالنے کی قرارداد منظور کی ہے پارلیمنٹ میں موجود 196 نمائندوں میں 171 نمائندوں نے قرارداد کے حق میں 3 نمائندوں نےمخالفت اور 7 نمائندوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس قرارداد کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ دو ہفتوں کے دوران برطانوی سفیر کو ایران سے اخراج کرنے کا پابند ہے۔ پارلیمنٹ نے برطانیہ کے ساتھ روابط کو تنزل کرنے کی قرارداد بھی منظور کی ہے پارلیمنٹ نے برطانوی حکومت کو متنبہ کیا ہے ایران کی کارروائی کا یہاں اختتام نہیں بلکہ برطانیہ کی سازشوں کے خلاف ایران برطانیہ کے ساتھ مکمل طور پر سیاسی اور اقتصادی رابطہ منقطع کرسکتا ہے۔

ایرانی پارلیمان میں برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کو کم ترین سطح پر لے جانے کے لیے ایک قانونی مسودے کو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث برطانیہ کی طرف سے حال ہی میں عائد کی گئی نئی پابندیوں کے بعد ایرانی پارلیمان نے اس قانونی بل کو منظور کیا ہے۔ ایرانی ریڈیو کے مطابق اتوار کو ہوئی ووٹنگ میں اس مسودے کے حق میں 87 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ اس مسودے کو قانونی شکل ملنے سے قبل ایران کی شورائی نگہبان کی طرف سے اس کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمان کے 179ممبران نے اس مسودے کے حق میں ووٹ ڈالا، گیارہ غیر حاضر رہے جبکہ چار نے اس کی مخالفت کی۔ جن چار ممبران نے اس بل کی مخالفت کی، ان کا مؤقف تھا کہ برطانیہ کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات سخت نہیں ہیں۔اگر یہ قانون ایران کی گارڈین کونسل یعنی شورائی نگہبان سے منظور کر لیا جاتا ہے تو اس کے تحت ایران میں تعینات برطانوی سفیر کو بے دخل کر دیا جائے گا اور دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کم ترین درجے پر پہنچ جائیں گے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی پارلیمان کے اسپیکر علی لاریجانی کے حوالے سے بتایا، ’ایران کا قانون ساز ادارہ برطانیہ کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا بغور مشاہدہ کر رہا ہے۔ ایرانی پارلیمان کی طرف سے یہ نیا قدم ابھی صرف ایک شروعات ہے‘۔ایرانی ریڈیو پر براہ راست نشر کی جانے والی پارلیمانی کارروائی کے دوران ممبران نے برطانیہ کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ادھر برطانوی وزارت خارجہ نے ایران کی طرف سے سفارتی تعلقات میں کمی کے عمل کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث تہران حکومت اور مغربی ممالک کے مابین تعلقات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ مغربی ممالک کو خدشات لاحق ہیں کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام سے جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ تہران حکومت ایسے الزامات کو ہمیشہ ہی مسترد کرتی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

 

عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے شام کے خلاف عرب لیگ کی سازشوں اورکوششوں کو عرب لیگ کے اصولوں کےخلاف قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق شام کیخلاف اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرےگا۔الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے شام کے خلاف عرب لیگ کی سازشوں اورکوششوں کو عرب لیگ کے اصولوں کےخلاف قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق شام کیخلاف اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرےگا  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراقی وزیر خارجہ نے کہا کہ شام نے بڑے پیمانے پر عراقی مہاجرین کو پناہ دی ہے اس لیے تجارتی اور قریبی تعلقات کے باعث شام کیخلاف اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ شام کیخلاف پابندی عائد کرنا ممکن نہیں ہم اس سلسلے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ عرب لیگ کی جانب سے شام کو الٹی میٹم کا وقت جمعہ کو گزر چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام کے خلاف عرب لیگ کی کوششیں بیہودہ اور بے فائدہ ہیں انھوں نے کہا کہ شام کا لیبیا کے ساتھ موازنہ کرنا حماقت ہے۔

امریکہ نے داخلی مظاہروں کی حمایت کے بہانے شام پر مغرب کے بڑھتے ہوئےدباؤ کو جاری رکھتے ہوئے اپنا ایک ایٹمی طیارہ بردار بیڑا شام کے ساحلوں کے قریب لنگرانداز کر دیاہے۔ الشرق الاوسط نیوزایجنسی کی رپورٹ کےمطابق مصرکی جہازرانی کے ادارے کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ کا یوایس ایس جارج بش بحری بیڑا جمعرات کےدن کچھ جنگی بحری جہازوں کے ہمراہ نہرسوئز کو عبور کر کے شام کےساحلوں کے قریب لنگرانداز ہوا ہے ۔ اس جنگی بیڑے میں اڑتالیس جنگی طیاروں سمیت ستر طیاروں اور میزائلوں کی گنجائش ہے ۔ درایں اثنا روس اورچین نے شام کےخلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقے میں امریکہ کی عسکریت پسندی کا مقابلہ کریں گے۔

عرب لیگ میں شام کی رکنیت کوم معطل اور اس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پرمبنی اچانک اور جلدبازی میں کئے گئے فیصلے کے خلاف شامی عوام اور بعض دیگر عرب ملکوں کی طرف سے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اس فیصلے کو جو سعودی عرب اور قطر کے دباؤ میں کیا گيا اور جس پر امریکا اور اسرائیل کو سب سے زیادہ خوشی ہے غیر قانونی اور غیراصولی قراردیا جارہا ہے چنانچہ اس فیصلے کے بعد شام کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عوام نے بڑے بڑے مظاہرے کرکے عرب لیگ کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور شام کے صدر بشار اسد کے لئے اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ اس فیصلے کے مخالف عرب ملکوں اور حلقوں کا کہنا ہےکہ عرب ملکوں نے اپنے یہاں اسرائيلی سفارتخانے کو بند کرنے کے بجائے اب خود میں آپس میں جھگڑنا شروع کردیا ہے اور انہیں اپنے آس پاس ميں جو خطرات لاحق ہيں ان پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہيں گذشتہ سنیچر کو عرب ليگ نے سعودی عرب کی سربراہی میں اپنے ایک متنازعہ فیصلے کے تحت جس کا خلیج فارس کے عرب ملکوں نے بھی ساتھ دیا شام کی رکنیت معطل کردی اور دمشق سے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا مبصرین کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کا یہ اجلاس اور پھر شام کے خلاف کیا جانےوالا فیصلہ اسی ڈرامے کا حصہ ہے جو امریکا اور مغرب نے شام کے سلسلے میں تیار کررکھا ہے اور اس ڈرامے پرعلاقے کی امریکا اور مغرب نواز حکومتيں کام کررہی ہيں اسی لئے عرب لیگ میں شام کے مندوب یوسف احمد نے کہا کہ عرب لیگ کا یہ فیصلہ امریکا اور مغرب کی ایماء پر کیا گیا ہے ۔اس میں شک نہيں کہ مغرب کی اس وقت پوری کوشش ہے کہ وہ شام کو عرب ملکوں سے کاٹ کر رکھ دے کیونکہ شام علاقے میں ان چند ایک ملکوں میں شامل ہے جو صہیونی حکومت کا سخت ترین مخالف اور فلسطین کے مظلوم عوام کا حامی ہے اسی لئے عرب ليگ کے اس فیصلے پر امریکا اور اسرائیل کو سب سے زیادہ خوشی ہوئی ہے عرب لیگ کے اس فیصلے کے بعد اب مغرب کی کوشش ہے کہ وہ شام کے معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جاکر دمشق پر پابندیاں عائد کرے ۔ اب جبکہ مغرب کو لیبیا پر حملے سے فرصت مل گئی ہے تو اس کی کوشش ہے کہ وہ شام پر دباؤ ڈالے اور اگر ممکن ہو تو نیٹو کے ذریعے کاروائي بھی کرے اور اس کے لئے عرب ليگ نے اپنے زعم میں نیٹو اور مغرب کے لئے راستہ بھی ہموار کردیا ہے مگر شاید عرب ليگ کو اپنے ہی اس طرح کے اقدامات کے انجام کی خبر نہيں ہے کہ اس سے علاقے کے امن و استحکام کو کتنا نقصان پہنچے گا ۔ ان تمام باتوں کے باوجود شام نے عرب ملکوں کے ایک ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جیسے بھی اس بحران سے نکلا جائے جو بعض عرب ملکوں کی تفرقہ انگيزپالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے کیونکہ شام کے حکام کے ساتھ ساتھ علاقے کے بیشتر مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ اگر علاقےمیں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو خشک و تر سب ایک ساتھ جل کر راکھ ہوجائيں گے اور پورا علاقہ امریکا اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی خطرناک جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آجائے گا اور پھر جنگ کا یہ شعلہ صرف شام کی حدود تک محدود نہيں رہے گا جیسا کہ حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ جنگ کا دائرہ پورے علاقے تک پھیل جائے گا اور علاقے کاکوئي بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا اس لئے بہتریہی ہوگا کہ عرب ممالک خاص طورپر وہ حکومتيں جو امریکا اور اسرائیل کی مکمل تابع فرمان ہيں ہوش کے ناخن لیں اور اس سے زیادہ امریکا اور اسرائیل کو آگ لگانے کا موقع نہ دیں۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے شامی حکومت کی طرف سے مظاہرین پر کیے جانے والے خونی کریک ڈاؤن کے خلاف دمشق حکومت پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ دمشق حکومت نے ان پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ’دھوکہ‘ قرار دیا ہے۔ قاہرہ میں عرب لیگ کے ایک ہنگامی اجلاس میں عرب نمائندہ ممالک کی تنظیم نے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے ووٹنگ کی۔ بعد ازاں قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ حماد بن جاسم الثانی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اقتصادی پابندیوں کے مسودے کی متفقہ طور پر توثیق کی ہے۔ قطری وزیر خارجہ نے بتایا کہ بائیس رکن ممالک میں سے انیس نے شامی حکومت کے خلاف پابندیوں کی حمایت کی جبکہ عراق نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور لبنان نے اس عمل سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردارکیا ہےکہ اگر شام میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے عرب لیگ کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو وہاں عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے بیرونی مداخلت کے راستے کھل جائیں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران قطری وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ شامی حکومت عرب لیگ کی طرف سے پیش کیے گئے روڈ میپ کو تسلیم کر لے گی، جس سے وہاں جاری سیاسی بحران کا خاتمہ ممکن ہو جائےگا۔ان پابندیوں کے عائد کرنے سے قبل عرب لیگ نے دمشق حکومت سے کہا تھا کہ وہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے لیگ کے معائنہ کاروں کو شام جانے کی اجازت دے۔ اس کے لیے عرب لیگ نے جمعہ کی دوپہر تک کی ڈیڈ لائن دی تھی تاہم شامی صدر بشار الاسد نے اس ڈیڈ لائن کو نظر انداز کر دیا تھا۔ عرب لیگ کے وزرائے خزانہ نے گزشتہ روز یعنی ہفتہ کو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے اہم اہلکاروں کے خلاف پابندیوں کا ایک مسودہ تیار کیا تھا، ان پابندیوں میں شام کے لیے جانے والی پروازوں کی معطلی، شامی حکومت کے اثاثوں کو منجمد کرنا اور شام کے مرکزی بینک کے ساتھ لین دین روک دینے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ ان پابندیوں سے شامی عوام کو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ایسے اقدامات تجویز نہیں کیے گئے، جن سے وہ متاثر ہو سکیں۔ دریں اثناء شام میں جاری سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اتوار کو مزید بیس افراد ہلاک ہوگئے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے بقول صدر بشار الاسد کی حکومت مظاہرین کو چن چن کر نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ شام میں جمہوریت نواز کارکنان اقوام متحدہ سے پہلے ہی مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ شامی عوام کی حفاظت کے لیے وہاں ’نوفلائی زون‘ قائم کر دے۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق شام میں گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری خونی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کم ازکم ساڑھے تین ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

شمالی یمن میں شیعہ مسلمانوں نے سعودی وہابی ناصبی گروہ کے ایک مدرسہ پر حملہ کر کے بیس افراد کو ہلاک کر دیا۔ قبائلی ذرائع کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں 70 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ دارالہدایت نامی اس مدرسے میں یمن کے علاوہ دیگر ممالک کے افراد بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ابھی تک اس حملے کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا کے مغربی علاقے ارہاب میں یمنی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں حکومت مخالف قبیلے کے 80افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے مغربی علاقے ارہاب میں یمنی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں حکومت مخالف قبیلے کے 80افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یمنی جنگی  طیارے اور آرٹلری گزشتہ 48گھنٹوں سے ملک کے مغربی علاقے ارہاب میں حکومت مخالف انقلابیوں پر مسلسل بمباری کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں اب تک 80قبائلی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ یمن میں مظاہرین کو کچلنے میں امریکہ اور سعودی عرب اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے پانچ جمہوریت پسند کارکنوں کو قید کی سزا سنائی ہے۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے پانچ جمہوریت پسند کارکنوں کو قید کی سزا سنائی ہے۔ امریکہ نواز عرب ممالک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ایک نامور بلاگر احمد منصور کو تین برس جبکہ چار دیگر افراد کو دو دو برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے عرب امارات کے اس  اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امارات مخالفین کو کچلنے کے لئے نت نئے حربے استعمال کررہی ہے۔متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے ایک بلاگر اور جمہوریت کے لیے سرگرم چار کارکنان کو ریاست کے رہنماؤں کے خلاف توہین آمیز مواد کی اشاعت کے جرم میں سزائیں سنا دی ہیں۔ احمد منصور نامی بلاگر اور دیگر چار افراد پر الزام تھا کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے ریاستی رہنماؤں کی توہین کرنے کے مرتکب ہوئے۔  ان کے پاس اپیل کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے اس مقدمے کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے سزاؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ اور اسرائیلی نواز خلیجی ممالک میں ڈکٹیٹر شب قائم ہے اور ان ممالک میں جمہوریت کا کہیں کوئی نام و نشنان نہیں ہے۔امریکہ کی جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں متضاد اور دوگانہ پالیسی یہاں سے  واضح ہوجاتی ہے۔


اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان کاظم جلالی نے کہا ہے کہ مصری فوج بھی مستقبل میں عوام کے سامنےگھٹنےٹیک دےگی۔ کاظم جلالی نے مہرنیوزایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے مصر کی تازہ ترین صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر میں امریکہ اور مغرب پہلے یہ خیال کرتے تھے کہ صرف ایک شخص کو ہٹانا پڑے گا یعنی عملی طور پر صرف حسنی مبارک کو ہٹا کر اقتدار فوج کےحوالے کرنا پڑےگا۔ کاظم جلالی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ملت مصر یہ محسوس کرتی ہے کہ موجودہ صورت حال حسنی مبارک کے زمانے سےمختلف نہيں ہے، کہاکہ مصر کی موجودہ صورت حال سے پتہ چلتاہے کہ مصر کے عوام میدان میں ہیں اور حالات پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہيں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ مصری عوام کا انقلاب آگے کی جانب بڑھ رہا ہے،کہا کہ اس ملک کی قوم نےثابت کر دیا ہے کہ وہ میدان میں ڈٹی رہے گی ۔

مصر کی فوجی کونسل کے سربراہ جنرل حسین طنطاوی نے مصر کے صدارتی انتخاب کے ممکنہ امیدواروں محمد البرادعی اور عمرو موسی کے ساتھ مصر کے حالات پر خصوصی ملاقات کی ہے طنطاوی کو مصری عوام کی سخت نفرت کا سامناہے۔جرمن خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصر کی فوجی کونسل کے سربراہ جنرل حسین طنطاوی نے مصر کے صدارتی انتخاب کے ممکنہ امیدواروں محمد البرادعی اور عمرو موسی کے ساتھ مصر کے حالات پر خصوصی ملاقات کی ہے۔طنطاوی کو مصری عوام کی سخت نفرت کا سامنا ہے برادعی نے کل رات  مصرکے انقلابی جوانوں اور 6 اپریل تحریک کے نمائندوں سے  مصر کی سیاسی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا مصری جوانوں نے اس ملاقات میں جنرل طنطاوی کے نامزد وزیر اعظم کمال الجنزوری کی واضح الفاظ میں مخالفت کی مصر کے صدارتی انتخاب کے امید وار محمد البرادی نے کہا ہے کہ اگر انہیں ملک کی عبوری حکومت میں وزیر اعظم کے عہدے کی پیشکش کی جاتی ہے تو وہ صدارتی عہدے کی دوڑ سے باہر نکلنے کو تیار ہیں۔ مصر پر فوجی حاکمیت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین البرادی کی حمایت کرتے ہیں اور انہوں نے فوجی کونسل کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے لیے کمال الجنزوری کی نامزدگی مسترد کردی ہے کیونکہ وہ سابق صدر حسنی مبارک کے ماتحت کام کر چکے ہیں۔ مصر میں عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مذہبی رہنماوں کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کو ہی سارے فیصلے کرنے ہیں تو ہمارے حکمران کس مرض کی دوا ہیں، جو امریکہ کی طرف سے ہرزہ سرائی پر زبان بند رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔امریکی سفیر کے اس بیان پر کہ ایران سے گیس لینے کا فیصلہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، کے حوالے سے ملک کی مذہبی جماعتوں کے مرکزی قائدین نے اس امریکی ڈکٹیشن پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری پر کھلا وار قرار دیا ہے۔شیعہ علما کونس کے مولانا ساجد نقوی صاحب، جعفریہ الائنس پاکستان کے صدر علامہ عباس کمیلی، مجلس وحدت مسلمین کے مولاناراجہ ناصر،  جماعت اسلامی کے امیر منور حسن، جماعتہ الدعوة کے حافظ عبدالرحمن مکی، تنظیم اسلامی پاکستان کے امیر عاکف سعید اور جمعیت علمائے پاکستان کے قاری زوار بہادر نے نوائے وقت اور دیگر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو سارے فیصلے کرنے ہیں تو ہمارے حکمران کس مرض کی دوا ہیں، جو امریکہ کی طرف سے ہرزہ سرائی پر زبان بند رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ہماری قسمت اور پالیسیوں کے فیصلے انہوں نے ہی کرنے ہیں تو حکمران براہ راست سارے اختیارات بھی عملی طور پر انہیں دیدیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان قابل مذمت ہے۔ امریکہ کو اب مزید شہ مل گئی ہے۔ وہ ہمارے مفاد اور باقی دنیا کے ساتھ ہمارے معاملات پر بھی اب ہمیں ڈکٹیٹ کرنے لگا ہے اور ہمارے حکمران معلوم نہیں کس خوف سے خاموش ہیں۔

آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر کا کہنا ہے کہ امریکہ کی نسبت چین اور ایران پاکستان کے لئے زیادہ سازگار ہیں، چین اور ایران سے ہمارے فطری اور دیرینہ برابری کی بنیاد پر تعلقات ہیں جب کہ امریکہ ہمیں غلام سے بھی بدتر حیثیت دیتا ہےامامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر برادر سید علی رحمن شاہ نے مہمند ایجنسی میں نیٹو ہیلی کاپٹرز کے حملے کی شدید لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی سرزمین پر امریکی دہشت گردی ناقابل برداشت ہے، امریکا کا پاکستانی سرزمین پر حملہ پاکستانی سلامتی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے موثر اقدامات نہ کئے تو حکومت کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا ہو گا۔ سید رحمن شاہ نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی اتحاد سے فوری علیحدگی کا اعلان کر دینا چاہیے، کیوں کہ پاکستان اس سے قبل بھی ملنے والے کئی مواقع ضائع کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم متحد ہے اور متحد قوم کی قوت کا ادراک کرتے ہوئے پاکستانی حکمران امریکہ کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیں اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اتحاد کر کے ایک بلاک تشکیل دیں جس میں ترکی، چین اور ایران کو شامل کر کے امریکہ کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی نسبت چین اور ایران پاکستان کے لئے زیادہ سازگار ہیں، چین اور ایران سے ہمارے فطری اور دیرینہ برابری کی بنیاد پر تعلقات ہیں جب کہ امریکہ ہمیں غلام سے بھی بدتر حیثیت دیتا ہے۔ رحمن شاہ نے کہا کہ زمینی حقائق واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ پاکستان کو دوست نہیں ہو سکتا، لہذا حکومت پاکستان فوری طور پر فیصلہ کرئے اور امریکہ کو افغانستان و پاکستان سے فوری نکل جانے کا کہہ دے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز ائیر بیس خالی کرنا اور نیٹو سپلائی روکنا اچھا عمل ہے پوری قوم اس کی تائید کرتی ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں نیٹو کے فضائی حملے کے نتیجے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کو افسوسناک اور غیر ارادی قرار دیتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔اتوار کے روز پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو لکھے گئے ایک خط میں راسموسن نے کہا کہ نیٹو حملہ غیر ارادی تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور نیٹو کا تعاون اہم ہے اور جس طرح نیٹو یا کسی افغان سپاہی کی ہلاکت قابل قبول نہیں اسی طرح کسی پاکستانی فوجی کی ہلاکت بھی ناقابل قبول ہے۔افغانستان میں نیٹو فورسز کے ایک ترجمان بریگیڈیر جنرل کارسٹن جیکبسن نے ایک روز قبل کہا تھا کہ افغان اور اتحادی افواج کا پاکستانی سرحد کے قریب عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری تھا اور انہیں عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی مدد طلب کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ان فضائی حملوں میں پاکستانی فوج کی ہلاکتیں ہوئیں۔ بریگیڈیر جنرل کارسٹن جیکبسن کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی مکمل اور جامع تحقیقات کی جا رہی ہیں۔بعض پاکستانی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیٹو کو حملہ کرنے سے قبل معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہ ان کن اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ڈیفنس اینڈ سٹریٹجک ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر رفعت حسین کا کہنا ہے، ’’یہ چیک پوسٹ بڑے عرصے سے وہاں پر موجود ہے اور ہمارے جو فوجی شہید ہوئے ہیں ان کی تعداد بڑی زیادہ ہے، تو یہ ایسا نہیں کہ کوئی مبہم قسم کی پوسٹ تھی۔ ان کو (نیٹو) پتا تھا کہ وہاں پر کون سے لوگ موجود ہیں۔ جس طرح ہمیں علم ہے کہ ان کی طرف سرحد پر کتنی چوکیاں ہیں۔ اسی طرح انہیں بھی معلوم ہے کہ ہماری جانب کتنی چوکیاں قائم ہیں۔ اس لیے حادثاتی یا غیر ارادی حملے کی بات کو خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘پاکستان نےاپنے قبائلی علاقے پر افغان سرزمین سے نیٹو حملے پر حکومت افغانستان سے سخت احتجاج کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق افغان حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل میں افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان نیٹو حملے کے بعد مختلف طریقوں سے جس ردعمل کا اظہار کر رہا ہے اس کا اصل مقصد امریکہ کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ پاکستانی خودمختاری کا احترام کرے۔ دفاعی تجزیہ نگار ایئر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر کا کہنا ہے، ’’نیٹو حملے پر افغانستان کے ساتھ احتجاج کرنے کا بالکل کوئی فائدہ نہیں چونکہ وہ لوگ تو یہ نہیں کروا رہے۔ ان کی سرزمین ضرور استعمال ہوئی لیکن وہ اس وجہ سے کہ ہمارے ہاں پالیسی کا فقدان ہے تو اس کا میرے خیال میں امریکیوں پر کوئی زیادہ اثر نہیں ہوگا۔‘‘ادھر پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ سے ٹیلی فون پر الگ الگ رابطہ کیا۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق حنا ربانی کھر نے دونوں رہنماؤں کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ ہیلری کلنٹن اور ولیم ہیگ نے پاکستانی فوجی اہلکاروں کی جانوں کے ضیاع پر پاکستان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوگلو نے بھی اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ ترکی نیٹو کا رکن ہونے کی حیثیت سے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے کہے گا۔گزشتہ شب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے جو اہم فیصلے کیے ان میں امریکہ کو پاکستانی شہر جیکب آباد میں قائم شمسی ایئر بیس خالی کرنے کے لیے پندرہ دن کا وقت دیا گیا ہے۔ دفاعی کمیٹی نے افغانستان میں نیٹو افواج کی سپلائی لائن فوری طور پر بند کرنے اور امریکہ، نیٹو اور ایساف کے ساتھ مختلف منصوبوں، سرگرمیوں میں تعاون کے حوالے سے بھی نظرثانی کا اعلان کیا ہے۔علاوہ ازیں پاکستانی دفتر خارجہ نے اتوار کی شام ایک بیان میں کہا ہے کہ اگلے ماہ افغانستان سے متعلق جرمنی کے شہر بون میں ہونیوالی کانفرنس میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔