پاک ایران گیس پائپ لائن اچھا آئیڈیا نہیں، امریکی سفیر کی ڈکٹیشن

Posted: 27/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل کیانی نے بعض امریکی اہلکاروں کی پاکستان میں موجودگی پر اعتراض کیا تھا، ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اہلکاروں کو واپس امریکا بلا لیا گیا تھا۔ کیمرون منٹر نے اعتراف کیا کہ ماضی میں امریکا نے افغانستان سمیت بعض معاملات میں عجلت میں پالیسیاں تبدیل کیں، جن سے نقصان اٹھانا پڑا۔امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن اچھا آئیڈیا نہیں، ترکمانستان سے گیس پائپ لائن کا منصوبہ بہتر رہے گا، جنرل شجاع پاشا اور عمران خان سے کئی مرتبہ ملاقات ہوئی، تاہم وہ دونوں سے کبھی ایک ساتھ نہیں ملے۔ لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ امریکا نے میمو اور حسین حقانی کے استعفے کو امریکا نے سنجیدگی سے لیا ہے، میمو ایشو پر معاونت کی ضرورت پڑی تو امریکا اس کے لئے تیار ہے۔ کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل کیانی نے بعض امریکی اہلکاروں کی پاکستان میں موجودگی پر اعتراض کیا تھا، ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اہلکاروں کو واپس امریکا بلا لیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل شجاع پاشا اور عمران خان سے کئی مرتبہ ملاقات ہوئی، تاہم وہ دونوں سے کبھی ایک ساتھ نہیں ملے۔ کیمرون منٹر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہیں، پاکستان سے سول اور فوجی تعلقات مضبوط کرنا چاہتے ہیں، پاکستان مستحکم ہو گا تو امریکا مضبوط ہو گا۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن اچھا آئیڈیا نہیں، ترکمانستان سے گیس پائپ لائن کا منصوبہ بہتر رہے گا۔ دیگر ذرائع کے مطابق امریکی سفیر نے کہا ہے کہ وہ سیاسی اور عسکری قیادت سے الگ الگ ملاقات کرتے ہیں۔ حسین حقانی کے معاملہ پر فیصلہ پاکستان نے کرنا ہے۔ وہ لاہور میں لمز کے طلبہ سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ کیمرون منٹر نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے سیاستدانوں اور فوجی افسروں سے کبھی مشترکہ ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ حسین حقانی کے معاملے اور شیری رحمان کی امریکا میں سفارت کیلئے نامزدگی پر فیصلے پاکستان نے کرنے ہیں۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امریکا اور چین سے بہترین تعلقات ہیں، ایسے ہی تعلقات خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی ہونے چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں کیمرون منٹر نے اعتراف کیا کہ ماضی میں امریکا نے افغانستان سمیت بعض معاملات میں عجلت میں پالیسیاں تبدیل کیں، جن سے نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک ایران کے بجائے ترکمانستان گیس منصوبے بہترین ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ فوجیوں، مزاروں اور شہریوں پر حملے کرنے والوں کے خلاف دونوں ممالک کی جنگ مشترکہ ہے۔ امریکا پاک افغان سہ فریقی مزاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

Comments are closed.