پاکستان کے راستے نیٹو افواج کو سپلائی مستقل طور پر بند کی جائے، پروفیسر ابراہیم خان

Posted: 27/11/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

المرکز اسلامی پشاور سے جاری کئے گئے ایک بیان میں جماعت اسلامی کے پی کے امیر کا کہنا تھا کہ نیٹو افواج اور اُن کے جنگی طیاروں کے طرف سے پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر سنیٹیر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے پاک افغان بارڈر کے قریب پاکستان چیک پوسٹ پر نیٹو طیاروں کے حملے اور دو درجن سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کے شہید یا زخمی ہونے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی آزادی اور خود مختاری پر حملہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے راستے نیٹو افواج کو سپلائی مستقل طور پر بند کی جائے۔ ہفتہ کے روز المرکز اسلامی پشاور سے جاری کئے گئے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ نیٹو افواج اور اُن کے جنگی طیاروں کے طرف سے پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حکمرانوں اور فوج کو حالیہ واقعہ کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ اُنہوں نے کہا پاکستان فوج اور حکمران ہمت اور جذبے سے کام لیں اور ملکی سرحدات کی جرأت اور بہادری سے مقابلہ کریں تو پوری قوم اُن کی پشت پر ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم امریکہ سے جنگ نہیں چاہتے۔ لیکن اگر امریکہ نے پاکستان پر جنگ ٹھونسنے کی جسارت کی تو پوری قوم ملکی سرحدات کی حفاظت کے لئے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہو گی۔

Comments are closed.