پاکستان کا امریکہ سے 15 روز میں شمسی ائربیس خالی کرانے اور نیٹو سپلائی بند کرنے کا فیصلہ

Posted: 27/11/2011 in Afghanistan & India, All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے نیٹو کے حملوں کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں اس قسم کی کارروائیوں کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔ امریکہ، نیٹو اور ایساف سے ہر قسم کے سفارتی، سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس تعلقات پر نظرثانی کی جائے گی۔  وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، وزیردفاع، وزیرخارجہ، وزیر خزانہ، وزیرداخلہ، وزیر اطلاعات و نشریات اور سینئر وزیر پرویز الہی سمیت اراکین کمیٹی نے شرکت کی۔ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد میڈیا کو جاری کئے گئے اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ملک کی خودمختاری، آزادی اور سرحدوں کی ہر قیمت پر تحفظ کریں گے، وزیر اعظم گیلانی پاکستان کے امریکہ، نیٹو اور ایساف کے ساتھ آئندہ تعاون کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔ کمیٹی نے پاکستانی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کے اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس اور اُن کے اہل خانہ سے ہمدردی اور تعزیت کی۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ واقعہ پر اقوام متحدہ اور نیٹو سے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چودہ مئی دو ہزار گیارہ کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی قرارداد کے مطابق نیٹو اور ایساف کی لاجسٹک سپلائی لائن فوری طور پر بند کی جائے گی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، نیٹو اور ایساف سے ہر قسم کے سفارتی، سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس تعلقات پر نظرثانی کی جائے گی۔ پاکستان شدید ترین الفاظ میں اس بیہمانہ حملے کی مذمت کرتا ہے اور یہ ناصرف عالمی قوانین بلکہ نیٹو اور ایساف کے افغانستان میں مینڈیٹ کی بھی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور نیٹو ایساف کو اس کی ریڈ لائن سے واضح طور پر آگاہ کردیا ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ایوان وزیراعظم اسلام آباد میں ہوا۔ جس میں پاکستانی سکیورٹی فورس کی چوکی پر نیٹو حملے سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا، اجلاس میں نیٹو اور ایساف کے حملے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے پاکستان کی آزادی، سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ نیٹو اور ایساف نے حملہ کرکے اپنے مینڈٹ سے تجاوز کیا ہے۔ پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملہ ناقابل قبول ہے۔ دفاعی کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پندرہ دن کے اندر امریکہ سے شمسی ائربیس خالی کروائی جائے گی۔ اس کے علاوہ نیٹو اور ایساف کی سپلائی رسد فوری بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نیٹو، ایساف اور امریکہ کے ساتھ تعاون کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔ اجلاس میں امریکہ، نیٹو اور ایساف کے ساتھ سیاسی، فوجی، سفارتی اور انٹیلیجنس تعاون پر نظر ثانی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، وزیر دفاع احمد مختار، وزیر داخلہ رحمان ملک اور وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ ، سینئر وزیر پرویز الہٰی، وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان اور سیکریٹری کابینہ ڈویژن نرگس سیٹھی نے شرکت کی، چئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں، چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آصف سندیلہ اور ائیرچیف مارشل راؤ قمر سلیمان بھی اجلاس میں موجود تھے۔

Comments are closed.