نیٹو ہیلی کاپٹرز کی بلا اشتعال بمباری، 2 افسروں سمیت 28 اہلکار شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

Posted: 27/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

آئی ایس پی آر نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب نیٹو ہیلی کاپٹرز نے بلا اشتعال فائرنگ کی۔ شہید ہونے والوں‌ میں میجر مجاہد اور کیپٹن عثمان بھی شامل ہیں۔مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقے بائیزئی میں سرحدی پوسٹ پر نیٹو ہیلی کاپٹرز کی بمباری کے نتیجے میں 28 سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔ آئی ایس پی آر نے نیٹو ہیلی کاپٹرز کی بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی چیک پوسٹ پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی۔ مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز غلنئی سے 55 کلو میٹر شمال مغرب کی جانب بائیزئی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی سرحدی پوسٹ سلالہ پر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب دو نیٹو طیاروں نے بمباری کر دی، جس کے نتیجے میں 28 سکیورٹی اہلکار شہید اور 15 زخمی ہو گئے۔ حملے کی اطلاع پر پاک فوج کے ہیلی کاپٹر لاشوں اور زخمیوں کو لینے علاقے میں پہنچ گئے ۔ دوسری طرف آئی ایس پی آر نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب نیٹو ہیلی کاپٹرز نے بلا اشتعال فائرنگ کی۔ شہید ہونے والوں‌ میں میجر مجاہد اور کیپٹن عثمان بھی شامل ہیں۔ ادھر امریکا میں‌ پاکستانی سفارتخانے نے واشنگٹن میں امریکی دفتر خارجہ سے پاکستانی اہلکاروں‌ کی شہادت پر شدید احتجاج کیا ہے دیگر ذرائع کے مطابق افغانستان میں تعینات نیٹو اور ایساف فورسز کی پاک افغان بارڈر پر پاکستانی چیک پوسٹ پر فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 28 ہو گئی ہے جبکہ بارہ سے زیادہ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاک افغان بارڈر پر مہمند ایجنسی کی تحصیل بائیزئی کے علاقے سلالا میں ایساف اور نیٹو فورسز کے ہیلی کاپٹروں نے علی الصبح پاکستانی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق اس واقعہ میں پاک فوج کے ایک میجر اور ایک کیپٹن سمیت اٹھائیس سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔ یہ چیک پوسٹیں دور افتادہ پہاڑی علاقے میں دہشت گردوں کی آمد و رفت روکنے کیلئے قائم کی گئی ہیں، جہاں سے اطلاعات آنے میں وقت لگ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس علاقے میں تازہ نفری اور امدادی ٹیمیں پہنچ چکی ہیں جو اپنا کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اس واقعہ پر اعلٰی ترین سطح پر امریکہ سے احتجاج کیا گیا ہے۔

Comments are closed.