نیٹو کے بلااشتعال حملے پر پاکستان کا امریکا سے شدید احتجاج، نیٹو کی سپلائی روک دی

Posted: 27/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

سرحدی چیک پوسٹ نیٹو کے بلااشتعال حملے کے بعد امریکا میں پاکستانی ناظم الامور عفت گردیزی نے امریکی دفتر خارجہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے احتجاج کو فوری طور پر امریکی حکومت تک پہنچایا جائے۔ نیٹو ہیلی کاپٹرز کی سرحدی چیک پوسٹ پر بلااشتعال فائرنگ پر پاکستان نے امریکا سے شدید احتجاج کیا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستان کی ناظم الامور عفت گردیزی نے وزارت خارجہ حکام کو جگا کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ عفت گردیزی نے وزارت خارجہ کے حکام سے کہا کہ پاکستان کے احتجاج کو بلاتاخیر امریکی حکومت تک پہنچایا جائے۔ واضح رہے کہ گذشتہ شب مہمند ایجنسی کے علاقے بائی زئی میں واقع ایک سرحدی چیک پوسٹ پر نیٹو کے ہیلی کاپٹرز کی بلا اشتعال فائرنگ سے 2افسران سمیت 28 اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔  ادھر پاکستان نے چیک پوسٹ پر حملے میں 28 اہلکاروں کی شہادت پر احتجاجاً نیٹو کی افغانستان کے لیے سپلائی معطل کر دی ہے۔ نیٹو کے حملے کے بعد مہمند ایجنسی کے لوگوں میں شدید اشتعال پھیل گیا جبکہ دوسری جانب خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ نے احتجاجاً طورخم کے راستے نیٹو کی سپلائی بند کر دی۔ خیبر ایجنسی کے علاقے تختہ بیگ اور بھگیاڑی سے 50 نیٹو کنٹینروں کو واپس بھجوا دیا گیا، اس راستے سے روزانہ تقریباً 200 نیٹو کنٹینر افغانستان جاتے ہیں۔  قبل ازیں مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقے بائیزئی میں سرحدی پوسٹ پر نیٹو ہیلی کاپٹرز کی بمباری کے نتیجے میں 28 سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز غلنئی سے 55 کلو میٹر شمال مغرب کی جانب بائیزئی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی سرحدی پوسٹ سلالہ پر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب دو نیٹو طیاروں نے بمباری کر دی جس کے نتیجے میں 28 سکیورٹی اہلکار شہید اور7 زخمی ہو گئے۔ حملے کی اطلاع پر پاک فوج کے ہیلی کاپٹر لاشوں اور زخمیوں کو لینے علاقے میں پہنچ گئے۔ ادھر امریکا میں‌ پاکستانی سفارتخانے نے واشنگٹن میں امریکی دفتر خارجہ سے پاکستانی اہلکاروں‌کی شہادت پر شدید احتجاج کیا ہے۔

Comments are closed.