نیٹو حملے کا منہ توڑ جواب دے کر امریکی اتحاد سے نکل آنا چاہیے،شیعہ مذہبی وسیاسی رہنماؤں کا ردعمل

Posted: 27/11/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News, USA & Europe

رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکمران اگر نیٹو فورسز کی دہشت گردی کی محض مذمت کی بجائے اس کا منہ توڑ جواب دیں تو نیٹو افواج کبھی حملوں کی جرأت نہ کریں، یہ حملہ پاکستان کی خودمختاری پر حملہ اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے نیٹو فورسز کی طرف سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سالمیت و خودمختاری پر حملہ اور کھلی دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت زبانی نوٹس کے روایتی عمل سے آگے بڑھ کر پاکستان کی خود مختاری کا دفاع کرے اور نیٹو فورسز کی جانب سے سرحدوں کی پامالی اور بے گناہ فوجی شہید کرنے کا منہ توڑ جواب دے اگر اب بھی پاکستانی حکومت نے ڈرون اور نیٹو فورسز حملے روکنے کیلئے عملی اقدامات نہ کئے تو یہ امریکی غلامی کا بدترین ثبوت ہو گا۔ پارلیمنٹ اور اے پی سی کی مشترکہ قراردادوں پر عمل نہ کرنا افسوسناک ہے۔ جامعہ المنتظر کے پرنسپل علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی، مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی، آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر سید رحمن شاہ، امیر جماعۃ الدعوۃ حافظ محمد سعید، حافظ عبدالرحمن مکی، جمعیت علماء اسلام(س) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی، مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما مولانا محمد شفیع جوش، تحریک آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین حافظ سیف اللہ منصور، تحریک آزادی جموں کشمیر کے سیکرٹری جنرل حافظ خالد ولید و دیگر نے نیٹو فورسز کے حملوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو فورسز کے حملوں پر محض زبانی مذمت اور احتجاج کافی نہیں حکمران نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلہ میں قائم اتحاد سے باہر نکل آئیں اور نیٹو کی سپلائی لائن مستقل طور پر منقطع کی جائے، امریکہ آئے دن پاکستان میں ڈرون حملے اور بمباری کر کے بے گناہ پاکستانی عوام اور فوجیوں کو شہید کر رہا ہے لیکن حکمرانوں کی طرف سے پاکستانی حدود میں کی جانے والی بدترین دہشت گردی کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا جس پر پوری پاکستانی قوم میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ مذہبی وسیاسی جماعتیں متحد ہو کر حکمرانوں پر دباؤ بڑھائیں کہ وہ امریکی غلامی سے نکل کر ملکی سرحدوں کے دفاع کا فریضہ سرانجام دیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ نیٹو نے پہلے بھی کئی بار پاکستان کی سرحدوں کو پامال کیا ہے لیکن پاکستان کی جانب سے رسمی احتجاج سے زیادہ کبھی عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے نیٹو فورسز کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں، امریکہ اور نیٹو افغانستان میں اپنی شکست کے بعد اب اپنے اتحادی پاکستان پر ہی حملہ آور ہو رہے ہیں، امریکیوں کی دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔ جمعیت علماء اسلام (س)کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی، مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما مولانا محمد شفیع جوش، تحریک آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین حافظ سیف اللہ منصور و دیگر نے کہا کہ امریکہ کے گن گانے والے حکمرانوں کے لیے یہ سانحہ ایک طمانچے کی حیثیت رکھتا ہے جس سے اب ان کی آنکھیں کھل جانی چاہیں اور ڈالروں کے بجائے پاکستان کی سالمیت کے بارے میں سوچنا چاہیے، حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ چند دن نیٹو کی سپلائی روکنے اور پھر معاف کر دینے والی سیاست کے بجائے ان لوگوں کی بھر پور حمایت اور مدد کا اعلان کر دے جو نیٹو و امریکہ کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ پوری قوم حکومت کے اس اعلان کا خیر مقدم کرے گی اور ہر مشکل ساتھ دے گی۔ انھوں نے کہا کہ حکمران اگر نیٹو فورسز کی دہشت گردی کی محض مذمت کی بجائے اس کا منہ توڑ جواب دیں تو نیٹو افواج کبھی حملوں کی جرأت نہ کریں، یہ حملہ پاکستان کی خودمختاری پر حملہ اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اگر شروع ہی میں اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے قومی سلامتی کو داؤ پر لگا کر امریکہ سے ایسے معاہدے نہ کرتے تو آج اس صورتحال کی نوبت نہ آتی۔

Comments are closed.