موساد 350 عراقی جوہری سائنس دانوں کو قتل کروا چکی ہے، امریکی وزارت خارجہ رپورٹ

Posted: 27/11/2011 in All News, Breaking News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Survey / Research / Science News, USA & Europe

  سن2008 میں امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے صدر کو دی جانے والی سیکورٹی رپورٹ کے مطابق موساد اس وقت تک امریکی فوجیوں کی مدد سے 350 عراقی جوہری دانشوروں کو قتل کروا چکی تھی۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے 2008 میں صدر جرج بش کو پیش کی جانے والی ایک سیکورٹی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جاسوسی ادارہ موساد اس وقت تک عراق میں موجود امریکی فوجیوں کی مدد سے 350 عراقی جوہری سائنسدانوں اور 200 یونیورسٹی پروفیسرز کو قتل کروا چکی تھی۔ اردن کے اخبار “بین الاقوامی حقیقت” نے یہ سیکورٹی رپورٹ منتشر کرتے ہوئے 2003 سے 2008 تک عراق میں امریکی فوجیوں کی پانچ سالہ موجودگی کے دوران انجام پانے والے اہم حقائق کو فاش کیا ہے۔
عراق میں موساد ایجنٹس کی موجودگی:
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایجنٹس اور اسرائیلی کمانڈوز عراق پر امریکی قبضے کے آغاز سے ہی سرگرم عمل ہیں۔ انکی فعالیت کا محور عراقی دانشوروں کو قتل کرنا ہے۔ وہ خاص طور پر ایسے دانشوروں کو قتل کرتے ہیں جو امریکہ کی جانب سے امیگریشن کی پیشکش کو ٹھکرا کر عراق میں رہنے پر مصر ہیں۔امریکی وزارت خارجہ کی اس رپورٹ میں آیا ہے کہ عراق کے اکثر دانشور امریکہ میں تحقیقاتی مراکز میں کام کرنے کی پیشکش کو ٹھکرا چکے ہیں اور امریکہ آنے پر راضی نہیں ہیں۔ اسی طرح انہوں نے امریکی دانشوروں کے ہمراہ مخصوص تجربات میں شرکت کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ عراقی دانشوروں کی بڑی تعداد دوسرے ممالک میں بھاگ جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے امریکی عراق میں باقی رہ جانے والے دانشوروں سے تفتیش کرتے ہیں اور انہیں ٹارچر کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ اسرائیل کی صہیونیستی رژیم ان دانشوروں کو اپنی قومی سلامتی اور بقا کیلئے شدید خطرہ تصور کرتی ہے۔
اسرائیل اور عراقی سائنسدانوں کے قتل کا منصوبہ:
اس سیکورٹی رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ اسرائیل اس نظریئے پر کاربند ہے کہ عراقی دانشوروں سے مقابلے کا بہترین راستہ انہیں قتل کرنا ہے اور انہیں قتل کرنے کیلئے عراق میں بدامنی اور انارکی پھیلانا ضروری ہے۔اس امریکی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے سات ماہ قبل [یہ رپورٹ 2008 میں لکھی گئی ہے] اسرائیلی جاسوسی ادارے موساد کی جانب سے اس نظریئے کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور اسی حوالے سے طے پایا ہے کہ یہ کام اسرائیلی کمانڈوز کے ذمے لگایا جائے گا اور امریکی سیکورٹی گروپس اس کام میں ان سے تعاون کریں گے۔
عراق کے 350 جوہری سائنسدانوں اور 200 یونیورسٹی پروفیسرز کے قتل کا اعتراف:
امریکی وزارت خارجہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک امریکی سپشل سیکورٹی گروپ عراق کے تمام دانشوروں کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کرنے میں مصروف ہے اور یہ کام گذشتہ سات ماہ سے جاری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہیں معلومات کی بنیاد پر اب تک [2008 تک] عراق کے تقریبا 350 جوہری سائنسدان اور 200 یونیورسٹی پروفیسرز قتل کئے جا چکے ہیں۔ ان تمام افراد کو انکے گھروں سے دور گلی کوچوں میں دہشت گردانہ اقدامات کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ اس دہشت گردانہ منصوبے میں ایک ہزار سے زائد عراقی دانشوروں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ شمالی عراق موساد کی پناہگاہ اور اڈے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس امریکی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کمانڈوز عراق میں عراقی دانشوروں کو قتل کرنے کے علاوہ بعض عراقی سیکورٹی اہلکاروں کو ٹریننگ دینے پر بھی مامور کئے گئے ہیں۔ یہ اسرائیلی کمانڈوز ان اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کی ٹریننگ دینے میں مصروف ہیں۔
عراق میں امریکی سفارتخانے میں 185 اسرائیلی اور یہودی افراد کی موجودگی:
رپورٹ کے مطابق بغداد میں واقع امریکی سفارتخانے میں 185 سے زائد اسرائیلی اور یہودی افراد موجود ہیں جو عراق کے مختلف وزارتخانوں اور فوجی اور سیکورٹی مراکز پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان افراد کے علاوہ عراق میں بڑی تعداد میں اسرائیل کی ملٹی نیشنل کمپنیز بھی سرگرم عمل ہیں۔ ڈربابل ریسرچ سنٹر کی جانب سے انجام پانے والی تحقیقات کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ پانچ سال سے عراق میں وسیع پیمانے پر اثرورسوخ قائم کر رکھا ہے۔ اسرائیل کا مڈل ایسٹ ریسرچ سنٹر عرب پبلیکیشن ریسرچ سنٹر اور فرانسوی سفارتخانے کی مدد سے عراق میں فعالیت انجام دے رہا ہے۔ فرانس کے سفارتخانے پر حملے کے بعد اب یہ مرکز امریکی سفارتخانے کے قریب الخصراء کے علاقے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح بغداد میں واقع الرشید ہوٹل کا ساتواں فلور بھی اسرائیل کی جاسوسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔

Comments are closed.