لیبیا کے نئے رہنما غیر منتخب اشرافیہ، ترہونی کا الزام

Posted: 27/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Tunis / Egypt / Yemen / Libya

لیبیا میں جمعرات کو اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے والی عبوری حکومت کی اہم ترین شخصیت نے نئی ملکی قیادت کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر منتخب اشرافیہ کا نام دیا ہے۔یہ بہت سخت بیان لیبیا کے سابق عبوری سربراہ حکومت علی ترہونی نے دیا ہے جن کی سربراہی میں کام کرنے والی انتظامیہ کل جمعرات کو اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئی تھی۔ معمر قذافی کے چار عشروں سے بھی زیادہ طویل دور حکومت کے بعد اس شمالی افریقی ملک میں جو نئے لیڈر اقتدار میں آئے ہیں، انہی میں سے علی ترہونی وہ سب سے نمایاں سیاستدان ہیں جنہوں نے قومی عبوری کونسل اور اس کی قیادت کو اس طرح تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔طرابلس سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق لیبیا میں ایک نئی کابینہ کی تشکیل کے چند ہی گھنٹے بعد علی ترہونی نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ نئی لیڈرشپ سرمائے، ہتھیاروں اور تعلقات عامہ کی بنیاد پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی یہ نئی قیادت لیبیا کے سارے عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔ ترہونی نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ’اس وقت لیبیا کے 90 فیصد باشندے سیاسی طور پر بے آواز ہیں۔‘خبر ایجنسی روئٹرز نے طرابلس سے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ لیبیا میں وزیر اعظم عبدالرحیم الکائب کی سربراہی میں قائم ہونے والی نئی عبوری حکومت کی تشکیل میں بھی قومی عبوری کونسل کو کافی اثر و رسوخ حاصل رہا۔ اس نئی عبوری حکومت کا اعلان منگل کے روز کیا گیا تھا۔ اس کی ذمہ داریوں میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ اسے لیبیا میں ابتدائی تبدیلیاں لاتے ہوئے اس ملک کو عملی جمہوریت کے راستے پر لانا ہے۔اس نئی حکومت کے بارے میں علی ترہونی نے کہا، ’جو چہرے ہم دیکھ رہے ہیں اور جو آوازیں ہم سن رہے ہیں، وہ آوازیں اشرافیہ اور قومی عبوری کونسل NTC کی آوازیں ہیں۔ ایسے غیر منتخب لوگوں کی آوازیں، جن میں وہ بھی شامل ہیں جن کی باہر سے نقد رقوم، ہتھیاروں اور پبلک ریلیشنز کے ذریعے مدد کی جا رہی ہے۔‘علی ترہونی قذافی حکومت کی مخالف قومی عبوری کونسل کی طرف سے عبوری وزیر اعظم بنائے جانے سے پہلے کچھ عرصہ قبل تک لیبیا کے خزانے اور تیل کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے طرابلس میں صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ لیبیا کے عوام کی اکثریت کی آواز بھی سنی جائے۔کل جمعرات کے دن نئی کابینہ کی حلف برداری تک بہت مختصر عرصے کے لیے عبوری حکومتی سربراہ کے عہدے پر فائز ترہونی نے کہا کہ لیبیا میں اب ایک ایسی تحریک شروع کیے جانے کی ضرورت ہے، جو ملک میں جمہوری آئینی اہداف کے حصول کو یقینی بنانے میں مدد دے سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ این ٹی سی ملک میں ہر طرف دندناتے مسلح ملیشیا گروہوں کو ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

Comments are closed.