علامہ ساجد علی نقوی کا پیغام محرم الحرام 1433ھ

Posted: 27/11/2011 in Advertise Religious, All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

سربراہ شیعہ علماء کونسل نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں، بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے، جو ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے۔ دنیا میں جو طبقات فرسودہ، غیر اسلامی، لادین، غیر منصفانہ، ظالمانہ، آمرانہ اور بادشاہانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، کربلا ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے محرم الحرام 1433ھ کے آغاز پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ واقعہ کربلا میں اس قدر ہدایت، رہنمائی اور جاذبیت ہے کہ وہ ہر دور کے ہر انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ کربلا ایک کیفیت، ایک جذبے، ایک تحریک اور ایک عزم کا نام بن چکی ہے۔ واقعہ کربلا کے پس منظر میں نواسہ رسول اکرم ص حضرت امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد آفاقی اصول اور پختہ نظریات شامل ہیں۔ آپ نے واقعہ کربلا سے قبل مدینہ سے مکہ اور مکہ میں حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کر کے کربلا کے سفر کے دوران اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں واشگاف انداز سے اظہار کیا اور دنیا کی ان غلط فہمیوں کو دور کیا کہ آپ کسی ذاتی اقتدار، جاہ و حشم کے حصول، ذاتی مفادات کے مدنظر یا کسی خاص شخصی مقصد کے تحت عازم سفر ہوئے ہیں اور موت جیسی اٹل حقیقت کے یقینی طور پر رونما ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کی طرف سے ہر قسم کی مالی، دنیاوی، حکومتی اور ذاتی پیشکش کو ٹھکرایا اور صرف قرآن و سنت، شریعت محمدی، دینی احکام، اوامر و نواہی اور اسلام کے نظام کے نفاذ کو ترجیح دی۔  علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کے موقف کو سمجھنے کے لئے آپ کے آفاقی خطبات کا مطالعہ ضروری ہے۔ ماضی اور حال میں دنیا کے جس خطے میں ان خطبات کے ذریعے امام عالی مقام کا موقف لوگوں تک پہنچا اور صاحبان بصیرت نے اس کا مطالعہ کیا تو انہیں جہاں امام حسین ع کا موقف جاننے کو ملا، وہاں انہوں نے واقعہ کربلا کے حقائق کا ادراک بھی کیا اور اس واقعے کے حوالے سے تاریخ میں پائی جانے والی منفی اور حقیقت سے دور غلط فہمیوں کا علم بھی حاصل کیا اور امام حسین ع کے موقف کی سچائی تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس طریقے سے ہر دور میں انسانوں نے خطبات امام حسین ع کو جب واقعہ کربلا کے ساتھ تجزیاتی انداز سے دیکھا تو انہیں کربلا کی حقیقتوں سے آشانائی حاصل ہوئی۔ جس طرح ہر دور میں اس حوالے سے کم یا منفی معلومات کے حامل طبقات موجود رہے اسی طرح موجودہ دور میں بھی ایسا طبقہ موجود ہے جو کربلا کا صحیح ادراک یا معلومات نہیں رکھتا، اسے چاہیے کہ وہ خطبات امام حسین ع کا باریک بینی سے مطالعہ کرے اور پھر فیصلہ کرے۔  انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں، بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے، اس لئے ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے۔ دنیا میں جو طبقات فرسودہ، غیر اسلامی، لادین، غیر منصفانہ، ظالمانہ، آمرانہ اور بادشاہانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، کربلا ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ معاشروں کے تمام حاکم طبقات اور محروم و مظلوم طبقات امام حسین ع کی جدوجہد سے استفادہ کر سکتے ہیں، کیونکہ آپ نے فقط ایک مذہب یا مسلک یا امت کی فلاح کی بات نہیں کی، بلکہ پوری انسانیت کی نجات کی بات کی ہے۔ البتہ خصوصیت کے ساتھ محروم، مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ اس کے ساتھ حکمرانوں کی بے قاعدگیوں، بے اعتدالیوں، بدعنوانیوں، کرپشن، اقرباء پروری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور شہریوں کے مذہبی، شہری اور قانونی حقوق کی پامالی کی طرف بھی نشاندہی فرمائی۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ چونکہ عزاداری سید الشہداء ع  جبر کے خلاف جہاد کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے اور اس سے انسان کے ذاتی رویے سے لے کر اجتماعی معاملات میں انقلاب رونما ہوتا ہے، اس لئے حکمران طبقات کے ساتھ ساتھ ظلم و جبر اور شر کے حامی طبقات بھی عزاداری کے مخالف اقدام کرتے ہیں حالانکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق عزاداری منانا ہر شہری کا آئینی، قانونی، مذہبی اور شہری حق ہے، جسے کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔
ان دنوں میں جب ہم پاکستان میں عزاداری سیدالشہداء منا رہے ہیں اور محرم کے ایام کا آغاز ہو رہا ہے۔ حکمرانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مراسم عزاء کے انعقاد کے لئے لائسنس، اجازت نامے، روٹ پرمٹ یا اس جیسی دیگر پابندیاں لگانے سے گریز کریں اور کرفیو کے عالم یا سنگینوں کے سائے تلے عزاداری منانے کی بجائے کھلے اور آزادانہ ماحول میں عزاداری کی محافل منعقد کرنے کا اہتمام کریں۔   سربراہ شیعہ علماء کونسل نے کہا کہ عزاداران سید الشہداء ع کو مطمئن رہنا چاہیے کہ ان کے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رہے گی اور عزاداری کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا رہے گا، لیکن عزاداروں، بانیان مجالس، لائسنسداروں اور خطباء و ذاکرین کو ہر قسم کے داخلی انتشار و افتراق سے بچتے ہوئے وحدت و اخوت کو رواج دینا چاہیے اور باہم متحد رہ کر اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں ادا کرنی ہونگی اور جدوجہد کو طاقت بخش بنانا ہو گا، تاکہ دشمنان اسلام کے ساتھ ساتھ فرقہ پرستوں، جنونیوں اور دہشتگردوں کے منفی عزائم ناکام بنائے جا سکیں، پاکستان میں اتحاد بین المومنین اور اتحاد بین المسلمین کی فضا قائم ہو اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ اور اسلامی معاشرے کے قیام کی جدوجہد آسان ہو۔

Comments are closed.