Archive for 27/11/2011

اسلام آباد: رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق پاکستان میں محرم الحرام کا چاند نظر آ گیا ہے۔ یوم عاشورہ چھ دسمبر بروز منگل کو ہو گا۔ اسلامی کیلنڈر کے مطابق محرم کا مہینہ سال کا پہلا مہینہ ہوتا ہے۔ چناچہ کل بروز اتوار نئے سال 1433 کی پہلی تاریخ ہو گی۔

Advertisements

محرم الحرام کا چاند نواسہ رسول (ص) حضرت امام حسین علیہ السلام کی کربلا کے میدان میں عظیم قربانی کی یاد لیکر نمودار ہوگیا ہے نبی کریم حضرت محمد مصطفی (ص) کے نواسے کی یاد پورے عالم اسلام میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جاتی ہے جس میں لوگ بلا تفریق مذہب و ملت شرکت کرتے ہیں ۔ اس موقع پر اکثر مؤمنین کربلا معلی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کربلا میں محرم الحرام کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق محرم الحرام کا چاند نواسہ رسول (ص) حضرت امام حسین علیہ السلام کی کربلا کے میدان میں عظیم قربانی کی یاد لیکر نمودار ہوگیا ہے  نبی کریم حضرت محمد مصطفی (ص) کے نواسے کی یاد پورے عالم اسلام میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جاتی ہے جس میں لوگ بلا تفریق مذہب و ملت شرکت کرتے ہیں اور پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کو ان کے نواسے کی عظیم قربانی پر تعزيت و تسلیت پیش کرتے ہیں حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید جیسے فاسق و فاجرکی بیعت نہ کرکے اسلام کو حیات ابدی  عطا کی ۔محرم الحرام میں ماتمی جلوس ، علم اور تعزیہ نکالے جاتے ہیں۔ محرم الحرام میں اسلامی جمہوریہ ایران ، عراق ، پاکستان ، ہندوستان ، یورپ، امریکہ ، سعودی عرب، خلیجی ممالک ، شام ، اردن ، ترکی اور دیگر ممالک میں مؤمنین عقیدت کے ساتھ عزاداری میں حصہ لیتے ہیں واضح رہے کہ معاویہ کے بیٹے یزيد ملعون نے سن 61 ہجری میں پیغمبر اسلام (ص)کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کو ان کے اہلبیت اور اصحاب کے ہمراہ تین دن کا بھوکا اور پیاسا شہید کردیا تھا مسلمان اس واقعہ کی یاد ہر سال مناتے ہیں اور عقیدت و احترام کے ساتھ مجالس عزا میں شرکت کرتے ہیں اور نواسہ رسول (ص) کے غم میں اشک غم بہاتے ہیں

محرم الحرام کی پہلی رات کربلای معلی میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کے نواسے حضرت امام حسین (ع) کے روضہ پر سرخ پرچم کی جگہ سیاہ پرچم نصب کردیا گیا ہےنامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق محرم الحرام کی پہلی رات کربلای معلی میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کے نواسے حضرت امام حسین (ع) کے روضہ مبارک پر سرخ پرچم کی جگہ سیاہ پرچم نصب کردیا گیا ہے۔ پرچم تبدیل کرنے کی تقریب مغرب کے وقت انجام پذیر ہوئی ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضے پر چہلم تک سیاہ پرچم نصب رہے گا اور شہداء کربلا کے چہلم کے بعد پھر سرخ پرچم گنبد پر نصب کردیا جائےگا۔ علمدار کربلا حضرت عباس کے روضہ کا پرچم بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔

شام کے سکیورٹی دستوں نے حمص شہر میں دہشت گردوں کے قبضہ سے بڑی مقدار میں اسرائیلی ہتھیار برآمد کئے ہیں۔ شام میں امریکہ ، اسرائیل اور عرب لیگ مشترکہ طور پر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ شامی عوام بشار اسد کی حمایت پر پختہ عزم کئے ہوئے ہیں شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہشام کے سکیورٹی دستوں نے حمص شہر میں دہشت گردوں کے قبضہ سے بڑی مقدار میں اسرائیلی ہتھیار برآمد کئے ہیں۔ شام میں امریکہ ، اسرائیل اور عرب لیگ مشترکہ طور پر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ شامی عوام بشار اسد کی حمایت پر پختہ عزم کئے ہوئے ہیںشام کے لاذقیہ شہر میں عوام کی بڑی تعداد نے شام کے صدر بشار اسد کی حمایت میں مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین بالخصوص جوانوں نے شام کے خلاف عرب ليگ کے اقدامات کی شدید مذمت کی ہے اور شا میں غیر ملکی مداخلت کو رد کردیا ہےمظاہرین نے عرب ليک کو امریکی اور اسرائیلی آلہ کار تنظیم قراردیتے ہوئےعرب ليگ کی شدید مذمت کی ہے۔ شام کے ٹی وی کے مطابق شامی سکیورٹی دستوں نے حمص شہر میں 16 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسرائیلی ہتھیار برآمد ہوئے ہیں واضح رہے کہ امریکہ، اسرائیل  اور عرب ليگ مشترکہ طور پر شام میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ کے سربراہ نے ایران کے خلاف دشمنوں کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیں گے اور نیٹو کے دفاعی میزائل سسٹم کو تباہ کردیں گے۔ رپورٹ کے مطابقاسلامی جمہوریہ ایران  کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ کے سربراہ حاجی زادہ نے ایران کے خلاف دشمنوں کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیں گے اور تر کی میں نیٹو کے دفاعی میزائل سسٹم کو تباہ کردیں گے۔ خرم آباد میں بسیجیوں کے ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران کی طرف بری آنکھ اٹھا کر دیکھنے والے کی آنکھ نکال دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ دشمن کی دھمکیوں اور سازشوں کے پیش نظر رہبر معظم انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے حکم کے مطابق ایران کی مسلح افواج نے نئی اور مؤثر دفاعی اسراٹیجک پر کام شروع کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر بسیج نہ ہوتی تو دشمن نے انقلاب کی کامیابی کے بعد سے کئی بار حملے کئے ہوتے ، انھوں نے کہا کہ اگر ایران کو خطرہ لاحق ہوا تو سب سے پہلے ترکی میں  نیٹو کے دفاعی میزائل سسٹم کو نشانہ بنائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف گذشتہ 32 برسوں سے اقتصادی پابندیاں عائد ہیں لیکن ایران نے دشمن کی اقتصادی پابندیوں کو ناکام بنادیا اور آج امریکہ اور یورپ شدید اقتصادی بحران کا شکار ہیں

شام کے صدر بشار اسد نے شام کے خلاف عرب ليگ کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرب لیگ معافی مانگتے ہوئے شام کی طرف لوٹ آئےگي پریس سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے صدر بشار اسد نے شام کے خلاف عرب ليگ کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرب لیگ معافی مانگتے ہوئے شام کی طرف لوٹ آئےگي۔ انھوں نے کہا کہ عرب لیگ کی شام کے ساتھ یہ رفتار کوئی تازہ رفتار نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ عرب لیگ کی تجویز کو اس لئے قبول کیا گیا تھا تاکہ اپنے دوستوں کی مدد کرسکیں جبکہ ہم جانتے تھے کہ عرب لیگ کی تجویز کسی نتیجے تک نہیں پہنچے گی۔ بشار اسد نے ترکی کی طرف سے شام کے خلاف جارحانہ انداز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی میں بعض افراد ایسے ہیں جن کے ذہن میں عثمانی سلطنت کا نقشہ اب بھی زندہ ہے۔ بشار اسد نے کہا کہ ترکی کے حکمراں بعض مکار افراد کے مکر میں آگئے ہیں جو دینی نعرے لگاتے ہیں اور ترکی اس طرح عرب ممالک میں اپنے نفوذ کی راہیں ہموار کرنا چاہتاہے انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ ترکی کا پرچم آگ میں نہ جلایا جائے کیونکہ ترکی کے عوام اس پر فخر کرتے ہیں۔ بشار اسد نےکہا کہ امریکہ اور اسرائيل شام کے خلاف سازش جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب اس سازش کا عرب لیگ اور ترکی کی بھی حصہ بنتے جارہے ہیں انھوں نے کہا کہ شام ہرگز فریب کاروں کے فریب میں نہیں آئےگا۔

عراق کے صدر جلال طالبانی نے شام کے اندرونی معاملات میں ترکی کی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے امور میں ترکی کی مداخلت خوفناک بات ہے اخبار القدس العربی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق کے صدر جلال طالبانی نے شام کے اندرونی معاملات میں ترکی کی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے امور میں ترکی کی مداخلت خوفناک بات ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہم شام میں اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں اور ایسی حکومت کے خلاف ہیں جو عربی بہار اور جمہوریت کے خلاف ہو طالبانی نے کہا کہ ہم عرب ممالک میں ڈکٹیٹروں کے خلاف ہیں اور عرب عوام کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں جو جمہوریت اور استقلال کی جد و جہد کررہے ہیں انھوں نے کہا کہ شام کے اندرونی معاملات میں ہم بیرونی مداخلت کے خلاف ہیں اور ترکی کو چاہیے کہ وہ شام کے معاملات میں مداخلت کرنے سے باز رہے۔

بحرین کے ایک مرجع اور مایہ ناز عالم دین نے بحرینی حکومت کے ظلم و ستم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین میں آل خلیفہ حکومت کو اقتدار سے الگ ہونا چاہیے انھیں بحرینی عوام پر حکومت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے نہرین نیٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین کے ایک مرجع اور مایہ ناز عالم دین آیت اللہ عیسی قاسم نے بحرینی حکومت کے ظلم و ستم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  بحرین میں آل خلیفہ حکومت کو اقتدار سے الگ ہونا چاہیے ان ےک ظلم و ستم کے پیش  ںظر انھیں بحرینی عوام پر حکومت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ نے آل خلیفہ حکومت کے سنگين اور بھیانک  جرائم کا پردہ چاک کردیا ہے انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ سے یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ بحرینی عوام کی تحریک قومی اور ملکی تحریک ہے انھوں نے کہا کہ بحرین کی آل خلیفہ حکومت  اگر اقتدار سے الگ نہ ہوئی تو اس کا حشر بھی دیگر عرب ڈکٹیٹروں جیسا ہی ہوگا۔ واضح رہے کہ بحرینی حکومت بحرینی عوام کی تحریک کو کچلنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسلامی اتحاد پارٹی کے سکریٹری نے ایران کے خلاف برطانیہ کی معاندانہ سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو برطانیہ کے ساتھ رابطہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اسلامی اتحاد پارٹی کے سکریٹری محمد نبی حبیبی  نے ایران کے خلاف برطانیہ کی معاندانہ سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو برطانیہ کے ساتھ رابطہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ برطانوی حکومت پوری تاریخ میں ایرانی قوم کی دشمن رہی ہے اور ہماری قوم کو برطانوی حکومت سے بہت زيادہ نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی قوم اور برطانوی حکومت کے مفادات دو مختلف سمتوں میں ہیں لہذا ایسی سامراجی طاقت کے ساتھ سیاسی رابطہ رکھنا ایرانی قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ نے برطانوی حکومت کے ساتھ رابطہ ختم کرنے کی قرارداد منظور کرکے ایرانی قوم کی امنگوں کے مطابق کام کیا ہے

مصر میں فوج کے اقتدار کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مظاہرین نے فوج کی جانب سے نئے وزیر اعظم کے انتخاب کو بھی ردّ کر دیا ہے۔سینکڑوں مظاہرین نے تحریر اسکوائر کے قریب واقع کابینہ کے دفاتر کے سامنے مظاہرہ کیا۔ انہوں نے الجنزوری کو دفاتر میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ وہ اس موقع پر ’انقلاب‘ اور الجنزوری کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ انہوں نے الجنزوری کو گزشتہ حکومت کے باقیات میں سے قرار دیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ تحریر اسکوائر پر موجود مظاہرین نے الجنزوری کی تقرری مسترد کر دی ہے۔ وہاں موجود عمر عبدالمنصور نامی شخص نے کہا: ’’ہم کسی ایسے شخص کو نہیں چاہتے جسے عسکری کونسل نے منتخب کیا ہو۔ ہم کسی سویلین کا انتخاب چاہتے ہیں جو انقلاب کے وقت تحریر اسکوائر پر ہمارے ساتھ موجود رہا ہو۔ تیس سالہ محمد خطاب نے کہا: ’’تحریر کے نوجوانوں نے بہت سے نام تجویز کیے ہیں۔ ان میں سے کسی کو منتخب نہیں کیا گیا۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ حسنی مبارک کے جانے کے بعد کچھ نہیں بدلا۔‘‘تحریر اسکوائر پر عبادت کی امامت کرنے والے شیخ مظہر شاہین نے کہا کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، مظاہرین تحریر اسکوائر نہیں چھوڑیں گےمصر کی سپریم کونسل آف دی آرمڈ فورسز (ایس سی اے ایف) نے پیر کے انتخابات اور سیاسی بحران کے باوجود 78 سالہ کمال  الجنزوری کو کابینہ کی قیادت کا فریضہ سونپا ہے۔اپنی تقرری کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے الجنزوری نے کہا کہ قبل ازیں کابینہ کو صدر کی جانب سے بہت سے اختیارات دیے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سابق وزرائے اعظم کے مقابلے میں زیادہ اختیارات ملے ہیں۔الجنزوری سابق صدر حسنی مبارک کے دَور میں انیس سو چھیانوے سے انیس سو ننانوے تک کے عرصے کے لیے بھی مصر کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔انہوں نے نشریاتی خطاب میں کہا کہ وہ آئندہ ہفتے کے آخر تک اپنی حکومت تشکیل دیں گے اور کچھ وزارتیں نوجوانوں کو  بھی دیں گے۔

لیبیا میں جمعرات کو اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے والی عبوری حکومت کی اہم ترین شخصیت نے نئی ملکی قیادت کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر منتخب اشرافیہ کا نام دیا ہے۔یہ بہت سخت بیان لیبیا کے سابق عبوری سربراہ حکومت علی ترہونی نے دیا ہے جن کی سربراہی میں کام کرنے والی انتظامیہ کل جمعرات کو اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئی تھی۔ معمر قذافی کے چار عشروں سے بھی زیادہ طویل دور حکومت کے بعد اس شمالی افریقی ملک میں جو نئے لیڈر اقتدار میں آئے ہیں، انہی میں سے علی ترہونی وہ سب سے نمایاں سیاستدان ہیں جنہوں نے قومی عبوری کونسل اور اس کی قیادت کو اس طرح تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔طرابلس سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق لیبیا میں ایک نئی کابینہ کی تشکیل کے چند ہی گھنٹے بعد علی ترہونی نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ نئی لیڈرشپ سرمائے، ہتھیاروں اور تعلقات عامہ کی بنیاد پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی یہ نئی قیادت لیبیا کے سارے عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔ ترہونی نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ’اس وقت لیبیا کے 90 فیصد باشندے سیاسی طور پر بے آواز ہیں۔‘خبر ایجنسی روئٹرز نے طرابلس سے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ لیبیا میں وزیر اعظم عبدالرحیم الکائب کی سربراہی میں قائم ہونے والی نئی عبوری حکومت کی تشکیل میں بھی قومی عبوری کونسل کو کافی اثر و رسوخ حاصل رہا۔ اس نئی عبوری حکومت کا اعلان منگل کے روز کیا گیا تھا۔ اس کی ذمہ داریوں میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ اسے لیبیا میں ابتدائی تبدیلیاں لاتے ہوئے اس ملک کو عملی جمہوریت کے راستے پر لانا ہے۔اس نئی حکومت کے بارے میں علی ترہونی نے کہا، ’جو چہرے ہم دیکھ رہے ہیں اور جو آوازیں ہم سن رہے ہیں، وہ آوازیں اشرافیہ اور قومی عبوری کونسل NTC کی آوازیں ہیں۔ ایسے غیر منتخب لوگوں کی آوازیں، جن میں وہ بھی شامل ہیں جن کی باہر سے نقد رقوم، ہتھیاروں اور پبلک ریلیشنز کے ذریعے مدد کی جا رہی ہے۔‘علی ترہونی قذافی حکومت کی مخالف قومی عبوری کونسل کی طرف سے عبوری وزیر اعظم بنائے جانے سے پہلے کچھ عرصہ قبل تک لیبیا کے خزانے اور تیل کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے طرابلس میں صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ لیبیا کے عوام کی اکثریت کی آواز بھی سنی جائے۔کل جمعرات کے دن نئی کابینہ کی حلف برداری تک بہت مختصر عرصے کے لیے عبوری حکومتی سربراہ کے عہدے پر فائز ترہونی نے کہا کہ لیبیا میں اب ایک ایسی تحریک شروع کیے جانے کی ضرورت ہے، جو ملک میں جمہوری آئینی اہداف کے حصول کو یقینی بنانے میں مدد دے سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ این ٹی سی ملک میں ہر طرف دندناتے مسلح ملیشیا گروہوں کو ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

پاکستانی شہرکراچی میں پولیس نے ایک ایسی خاتون کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کو ہلاک کرنے کے بعد اس کا گوشت پکانے کی کوشش کی۔ جمعرات کو پاکستانی بندر گاہی شہر کراچی کی شاہ فیصل کالونی میں چھاپہ مار کر پولیس نے 32 سالہ زینب بی بی اور اس کے 22 سالہ بھانجے ظہیر کو گرفتار کر لیا۔ زینب بی بی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے بھانجےکی مدد سے اپنے شوہر احمد عباس کو ہلاک کیا۔پولیس نے انسانی گوشت سے بھرا ایک پیالہ بھی برآمد کر لیا ہے، جو ملزمہ پکانے کے لیے تیار کر رہی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ زینب بی بی نے اپنے شوہر کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ اس سے اجازت لیے بغیر ہی دوسری شادی کا ارادہ رکھتا تھا۔ علاقائی پولیس کے اعلیٰ اہلکار ندیم بیگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ چاقو بھی برآمد کر لیا گیا ہے، جس کی مدد سے زینب اور اس کے بھانجے ظہیر نے مبینہ طور پر قتل کی یہ واردات سر انجام دی۔ ندیم بیگ نے بتایا، ’انہوں نے احمد عباس کو قتل کیا اور اس کے جسم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیے۔ وہ گوشت کے ان ٹکڑوں کو پکانےکے قریب ہی تھے کہ پولیس نے چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لے لیا‘۔ پاکستان کے مقامی نجی ٹیلی وژن چینلوں میں ایسے لرزہ خیز مناظر بھی دکھائے گئے، جن میں چولہے پر پکنے کے لیے انسانی گوشت سے بھرا پیالہ تیار تھا۔ پولیس اہلکار ندیم بیگ نے بتایا کہ زینب کے ہمسایوں نے اس وقوعہ کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیس سے جڑے محرکات اور حقائق جاننے کے لیے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ندیم بیگ نے ابتدائی تحقیقات کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا، ’مقتول کے گوشت کو پکانے کے دو محرکات ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ ملزمان شائد تمام شواہد مٹانا چاہتے تھے یا پھر زینب بی بی اپنے شوہر کی دوسری شادی کے ارادے پر اس سے شدید نفرت کرنے لگی تھی، اور نفرت کے اظہار کے طور پر اس نے اپنے مقتول شوہر کے گوشت کو پکانے کا ارداہ بنایا‘۔ پاکستان میں رائج عائلی قوانین کے مطابق مرد کو دوسری شادی کے لیے اپنی پہلی زوجہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ یہ اجازت سن 1962 کے فیملی لاز کے تحت لازمی قرار دی گئی ہے۔ پاکستان کی شہری آبادی میں اس اجازت کا احترام  کسی حد تک دیکھا جاتا ہے لیکن دیہات کی فیوڈل معاشرت میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہے

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے جواب میں اسرائیل کو صفحہٴ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اب تلک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کے پاس 200 کے قریب ایٹم بم موجود ہیں۔گزشتہ ایک ہفتہ سے اسرائیل ایران کو دھمکی دے رہا ہے کہ وہ ایک موثر کارروائی کر کے ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو ختم کر دے گا کیونکہ اگر ایران نیوکلیئر بم بنانے میں کامیاب ہو گیا تو مشرق وسطٰی کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ امریکہ نے ہر چند اسرائیل کی ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کے خلاف فوجی جارحیت کی فی الوقت حمایت نہیں کی ہے لیکن اس کا خیال ہے کہ ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں، جن میں وہ ایرانی بینک بھی شامل ہیں جو نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں ایرانی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔  واضح رہے کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران خفیہ طریقے سے ایٹم بم بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور وہ اٹامک انرجی ایجنسی سے اپنے نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں بعض معلومات انتہائی خفیہ رکھ رہا ہے اور ایجنسی سے مکمل تعاون نہیں کر رہا ہے، ایرانی حکومت نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی پہلو ہے جس کی کوئی اہمیت یا حیثیت نہیں ہے۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام انتہائی پرامن ہے اور وہ اپنے اس پروگرام سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ دوسری طرف ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے جواب میں اسرائیل کو صفحہٴ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اب تلک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کے پاس 200 کے قریب ایٹم بم موجود ہیں۔ تاہم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ سے متعلق روس کا موقف بالکل واضح ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر مزید اقتصادی پابندیوں کی حمایت نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی بھی ملک کی جانب سے ایران پر حملہ کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں تو ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات کھٹائی میں پڑ جائیں گے اور ماضی میں ایران کی نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں جو مذاکرات ہو چکے ہیں، ان کے نتائج بھی بے ثمر ثابت ہوں گے۔ چین نے بھی ایران پر کسی بھی جانب سے حملے کو مشرق وسطٰی میں آگ سے کھیلنے سے تعبیر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس قسم کی کارروائی کی حمایت نہیں کرنی چاہئے۔ اٹامک انرجی ایجنسی سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ کے نمائندے نے کہا کہ وہ اس کا مطالعہ کر رہے ہیں لیکن فی الحال اس میں کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ فرانس کے صدر نے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا ہے، اسی طرح بعض عرب ممالک بھی ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کی حمایت کر رہے ہیں۔لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اسرائیل کو ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو تباہ کرنے کی اجازت دے سکتا ہے یا پھر وہ اس کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے؟ بارک اوباما اس سلسلے میں خاصے پریشان نظر آ رہے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں، کیا اسرائیل کو خفیہ طور پر ایران پر حملہ کرنے کے سلسلے میں Go head دے دیں یا پھر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں، تاکہ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کو کامیابی کے ساتھ پایہٴ تکمیل تک نہ پہنچا سکے، لیکن اس سلسلے میں امریکہ کو روس اور چین کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور یہ ممکن ہے کہ سکیورٹی کونسل میں ایران کے خلاف سخت پابندیوں کی قرارداد منظور نہ ہو سکے۔ اس صورت میں امریکہ اسرائیل کے ساتھ ملکر ایران پر فوجی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ قطر اور بحرین میں موجود اپنے بحری بیڑوں کو پہلے ہی حرکت میں لا چکا ہے اور یہ بیڑے آہستہ آہستہ خلیج فارس میں داخل ہو رہے ہیں، یقیناً امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ان فوجی نقل و حمل کی وجہ سے ایران کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے اور پاکستان کے لئے بھی کیونکہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ موجودہ حکومت کی کوششوں سے ایران اور پاکستان کے تعلقات میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس میں گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی شامل ہے، جو تیزی سے مکمل ہونے جا رہا ہے۔  اگر ایران پر اسرائیل نے حملہ کیا تو پاکستان کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟ یقیناً پاکستان کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہوں گی اور ہونی بھی چاہئیں، لیکن کیا پاکستان ایران کی کوئی فوجی مدد کر سکتا ہے؟ میرا خیال ہے کہ شاید پاکستان ایسا نہیں کر سکے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو عالمی سطح پر صرف روس اور چین ایران کی حمایت کر رہے ہیں اور کسی بھی ملک کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور مشرق وسطٰی جنگ کی آگ میں بھسم ہو جائے گا، جس کا سب سے زیادہ نقصان اسرائیل اور امریکہ کو پہنچے گا۔ مزید برآں دنیا کی معیشت جو پہلے ہی مندی کا شکار ہے، مزید دباؤ میں آ جائے گی اور تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کی معیشت تباہ و برباد ہو سکتی ہے، اس صورت میں معاشرتی افراتفری کا دور دورہ ہو گا اور زندگی کا سفر انتہائی مشکل اور کٹھن ثابت ہو سکتا ہے، اس لئے بارک حسین اوباما کو چاہئے کہ وہ اسرائیل کو دوبارہ مذاکرات کا راستہ اختیار کر کے اس دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا لیں

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں کا نشانہ صرف شیعہ نہیں ہیں، ہمارے اہلسنت بھائی بھی ان کی بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں، داتا دربار پر حملہ، علامہ سرفراز نعیمی کی شہادت، رحمان بابا کے مزار پر حملہ اور دیگر واقعات سب کے سامنے ہیں، یہ دہشت گرد شیعہ اور سنی دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں، لہٰذا اس ملک میں دہشت گردی کو فروغ دینے والے امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کے خاتمے کے لئے شیعہ اور سنی کو ایک جگہ جمع ہونا پڑے گا۔ ہمیشہ سامراجی قوتوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی ہے، جمہوری اسلامی ایران میں امام خمینی ؒ کی قیادت میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد جب اس کے اثرات پاکستان میں نمودار ہونا شروع ہوئے اور پاکستان کے شیعہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور خدا عزوجل کا ہم پر کرم ہوا کہ ہمیں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی ؒ جیسی قیادت نصیب ہوئی جس نے ملت جعفریہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے ساتھ ساتھ سرزمین پاکستان میں شیعہ سنی وحدت کا نعرہ لگایا، اس قیادت کے خلوص، امام حسین ؑ سے بے پناہ عشق اور امام خمینی ؒ سے عقیدت کی وجہ سے پاکستان میں شیعہ اور سنی اپنے مشترکات پر اکھٹا ہونا شروع ہوئے تو سامراجی طاقتوں نے اس انقلاب کے راستے کو روکنے کے لئے اس وقت کے آمر حکمران کا سہارا کے لر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ملک میں فرقہ واریت کو عام کیا، اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی علامہ عارف حسین الحسینی ؒ کو شہید کیا، لہٰذا ہم نے دیکھا کہ اس ملک میں شیعہ سنی کے درمیان تفریق کو عام کیا، دیوبندی بریلوی کے درمیان تفریق کو عام کیا، غرض اس طرح اس ملک کے عوام کو توڑ دیا گیا، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی ملک کی ایجنسیاں انہیں سامراجی ایجنٹوں کو اپنی گود میں پال کر ان کی پرورش کررہی ہیں، آج ملک میں اس طرح کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے کہ ہر شخص ان سامراجی ایجنٹوں کے ہاتھوں ہراساں دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ کھیل زیادہ دیر تک نہیں چلے گا، پاکستان کے شیعوں نے امام خمینی کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی ؒ کے وحدت کے نعرے کو پھر سے بلند کردیا ہے اور ملک کے گوشے گوشے میں رابطوں کا آغاز کردیا ہے، انشاءاللہ وہ دن دور نہیں کہ جب سامراجی طاقتوں کا یہ کھیل جلد نابود ہوگا اور ملک خداداد پاکستان کے شیعہ اور سنی متحد ہوکر ان دہشت گردوں کا اس ملک سے سفایا کریں گے۔سامراجی طاقتوں نے یہاں یہ کھیل کھیلا ہے، کچھ لوگ ان کا آلہ کار ضرور بنے ہیں لیکن اس سارے مسئلے کی اصل وجہ عالمی استعمار امریکہ ہے، لہٰذا پاکستان کی شیعہ اور سنی عوام کو متحد ہوکر امریکہ کے خلاف قیام کرنا ہوگا اور اس ملک کو امریکہ کے ناپاک قدموں سے پاک کرنا ہوگا، جس دن ایسا ہوگا اس دن پاکستان کے عوام حقیقی معنوں میں جشن آزادی منائیں گے اور اپنے ان عظیم بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے جنہوں نے اس پاکستان کو بنانے کے لئے اپنی جان، سرمایہ اور حتیٰ کہ ناموس تک کی قربانی پیش کی۔ لہٰذا پاکستان کے عوام کو فرقہ واریت، لسانیت، علاقائیت، صوبائیت، قوم پرستی اور دیگر مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لئے اس سرزمین سے امریکہ کو بھگانا ہوگا۔یہ بات درست ہے اور اس ملک کا المیہ ہی یہی ہے کہ سیکیوریٹی ایجنسیاں ان کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرتی ہیں، ہم بارہا یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے، دوسرا قابل مذمت امر یہ ہے کہ ہمارے ملک کے حکمران بھی اس سارے کھیل میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، کچھ تازہ حقائق آپ کے گوش گزار کروں کہ گزشتہ تین ماہ کے عرصے کے اندر اب تک 22 سے زیادہ شیعہ عمائدین، کاروباری حضرات اور نوجوانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاچکا ہے لیکن تاحال کسی بھی دہشت گرد کو گرفتار نہیں کیا گیا، وہیں دوسری جانب ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کا عمل جاری ہے اور شیعہ نوجوانوں کو بے قصور گرفتار کیا جارہا ہے، سعودی قونصل خانے پر حملے کے نام پر گزشتہ پانچ ماہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کئی شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کیا اور ملت جعفریہ کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا گیا اور ان نوجوانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ان سے اقرار جرم کروانے کی کوشش کی گئی جسکا ثبوت منتظر امام کیس بھی ہے اس کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے منتظر امام پر جھوٹے کیسوں کو مسترد کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے، مزید یہ کہ 16 نومبر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر شیعہ نوجوانوں محمد علی، محسن، زکی اور شہید تابش کو گرفتار کیا، جن کی گرفتاری بیس نومبر کو بتائی گئی جبکہ شہید تابش حسین کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا جوکہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ ان کا نشانہ صرف شیعہ ہی نہیں ہیں، ہمارے اہلسنت بھائی بھی ان کی بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں، داتا دربار پر حملہ، علامہ سرفراز نعیمی کی شہادت، رحمان بابا کے مزار پر حملہ اور دیگر واقعات سب کے سامنے ہیں، یہ دہشت گرد شیعہ اور سنی دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں، لہٰذا اس ملک میں دہشت گردی کو فروغ دینے والے امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کے خاتمے کے لئے شیعہ اور سنی کو ایک جگہ جمع ہونا پڑے گا اور اس ملک کی ایجنسیوں کو اب یہ جان لینا چاہیئے کہ ظلم کا دور ختم ہونے والا ہے کہیں ایسا نہ ہو مظلوموں کی آہ ان کے گھرانوں میں لرزہ طاری کردے۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہہ پیغام یہی ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیں، کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہ دیں کہ ملت کے درمیان اختلاف کی بات کرے، کوشش کریں کہ مجالس امام حسین ؑ میں اہلسنت برادری کو بھی دعوت دیں، یاد رکھیں کہ آج کے دور میں کہ جب ہر طرف ناامنی ہے، دہشت گردی ہے، غربت ہے، زبوں حالی ہے، اقدار کی پامالی ہے، نفرت، جھوٹ، رشوت غرض معاشرے کی ہر برائی عام ہے، ایسے حالات میں ہر شخص کی نگاہیں حسین ؑ کی طرف ہیں، لہٰذا ہمیں بھی حسینی کردار کو اپناتے ہوئے اس سرزمین پاکستان میں اپنے عمل کے ذریعے وحدت کی مؤثر آواز کو بلند کرنا ہے۔ انشاء اللہ خدا سے امید ہے کہ وہ اس عظیم کام میں ہماری مدد فرمائے۔

سی سی پی او لاہور نے ہدایت کی ہے کہ جلوس یا مجلس کے اختتام پر خصوصی طور پر ڈیوٹی پر مامور اہلکار ہائی الرٹ رہیں، لیڈیز پولیس کی تعیناتی سمیت سیکورٹی کے موثر انتظاما ت کئے جائیں کیپٹل سٹی پولیس چیف احمد رضا طاہر نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران ذاکرین اور علماء کے مجالس میں آنے اور جانے کے اوقات میں انکی سیکورٹی کا خاص خیال رکھا جائیگا، جلوس یا مجلس کے اختتام پر خصوصی طور پر ڈیوٹی پر مامور اہلکار ہائی الرٹ رہیں گے۔ سی سی پی او نے کہا کے محرم الحرام کے دوران بالخصوص عورتوں کی مجالس میں لیڈیز پولیس کی تعیناتی سمیت سیکورٹی کے موثر انتظاما ت کئے جائیں۔ سی سی پی او نے سٹی ٹریفک پولیس کو بھی ہدایت کی ہے کہ محرم الحرام کے دوران سیکورٹی کے پیش نظر اگر کو ئی سڑک عارضی طور پر بند کی جائے تو شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی کیلئے متبادل راستہ دیا جائے اور ایسے مقامات پر الرٹ وارڈنز تعینات کئے جائیں۔ اپنے ایک حکم میں سی سی پی او احمد رضا طاہر نے کہا کہ محرم کے جلوسوں کی فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے تین سطحوں کی جامع چیکنگ کے نظام کی سختی سے پابندی کی جائے جبکہ ٹریفک پولیس اور تھانہ پولیس مشترکہ طور پر تمام گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی موثر چیکنگ اور سکریننگ کریں۔ سی سی پی او نے کہا کہ محرم کے جلوسوں کو چھتوں سمیت تمام اطراف سے سیکورٹی مہیا کی جائے اور جلوسوں کے روٹس پر سائیڈ لین اور سٹرکوں کو خاردار تار کے ذریعے بلاک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حساس مقامات کی حفاظت کیلئے موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی پٹرولنگ کا موثر نظام اپنایا جائے۔ سی سی پی او نے حکم دیا کہ جلوسوں کے ہمراہ محلہ و امن کمیٹیوں کے ارکان کے ساتھ ساتھ بم ڈسپوزل سکواڈ کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ سی سی پی او نے کہا کہ محرم الحرام کے دنوں میں فول پروف سیکورٹی کے پیش نظر تمام مجالس کے ایگزٹ اور انٹری پوائنٹس، مجالس اور جلوسوں کی قریبی چھتوں اور روٹوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی جبکہ ڈیوٹی پر مامور پولیس جوان مجالس یا جلوس ختم ہونے کے بعد آخری عزادار کے جانے تک ڈیوٹی پر موجود رہیں گے جبکہ مجالس اور جلوسوں سے 200 میٹر کی دوری پر پارکنگ کی اجازت ہو گی۔ احمد رضا طاہرنے کہا کہ 12 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار محرم الحرام کے دوارن اپنے فرائض سرانجام دیں گے اور لاہور پولیس 4000 مجالس اور 640 جلوسوں کو مکمل سیکورٹی فراہم کرے گی جبکہ مسلح پولیس اہلکار روزانہ منعقد ہونے والے پروگراموں کو بھی تحفظ فراہم کرنے کیلئے تعینات کئے جائیں گے۔ اسی طرح 297 امام بارگاہوں اور جلوس کے راستوں پر واقع 787 مساجد اور حساس مقامات پر اِضافی نفری تعینات کی جائے گی، جبکہ ڈسٹرکٹ امن کمیٹی کے 1068 ممبران مجالس اور جلوس کے راستوں پر موجود ہونگے. 184 حساس مقامات کی خصوصی سیکورٹی کا انتظام کیا گیا ہے جن میں 48اے کیٹیگری، 94 بی کیٹیگری اور 12 سی کیٹیگری کے مقامات شامل ہیں۔ مجالس اور جلوسوں کی خصوصی سیکورٹی کیلئے 134 موبائل سکواڈ، 85 موٹر سائیکل، 75 گاڑیاں اور ایلیٹ کی 11 گاڑیاں گشت کریں گی۔ اپنے ایک حکم میں سی سی پی او نے لاہور پولیس کو یہ بھی ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ جلوسوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، ٹریفک حکام خصوصی ٹریفک پلان تشکیل کریں جبکہ خواتین مجالس اور جلوسوں کے روٹس کو بھی غیر معمولی سیکورٹی کور دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کی شناخت اور تلاشی کو یقینی بنانے کیلئے تمام داخلی پوائنٹس کیلئے واک تھرو گیٹ اور میٹل ڈیٹیکٹر استعمال کئے جائیں جبکہ پولیس ملازمین کو حساس مقامات اور ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کے متعلق مسلسل بریفنگ دی جائے۔

سربراہ شیعہ علماء کونسل نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں، بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے، جو ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے۔ دنیا میں جو طبقات فرسودہ، غیر اسلامی، لادین، غیر منصفانہ، ظالمانہ، آمرانہ اور بادشاہانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، کربلا ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے محرم الحرام 1433ھ کے آغاز پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ واقعہ کربلا میں اس قدر ہدایت، رہنمائی اور جاذبیت ہے کہ وہ ہر دور کے ہر انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ کربلا ایک کیفیت، ایک جذبے، ایک تحریک اور ایک عزم کا نام بن چکی ہے۔ واقعہ کربلا کے پس منظر میں نواسہ رسول اکرم ص حضرت امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد آفاقی اصول اور پختہ نظریات شامل ہیں۔ آپ نے واقعہ کربلا سے قبل مدینہ سے مکہ اور مکہ میں حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کر کے کربلا کے سفر کے دوران اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں واشگاف انداز سے اظہار کیا اور دنیا کی ان غلط فہمیوں کو دور کیا کہ آپ کسی ذاتی اقتدار، جاہ و حشم کے حصول، ذاتی مفادات کے مدنظر یا کسی خاص شخصی مقصد کے تحت عازم سفر ہوئے ہیں اور موت جیسی اٹل حقیقت کے یقینی طور پر رونما ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کی طرف سے ہر قسم کی مالی، دنیاوی، حکومتی اور ذاتی پیشکش کو ٹھکرایا اور صرف قرآن و سنت، شریعت محمدی، دینی احکام، اوامر و نواہی اور اسلام کے نظام کے نفاذ کو ترجیح دی۔  علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کے موقف کو سمجھنے کے لئے آپ کے آفاقی خطبات کا مطالعہ ضروری ہے۔ ماضی اور حال میں دنیا کے جس خطے میں ان خطبات کے ذریعے امام عالی مقام کا موقف لوگوں تک پہنچا اور صاحبان بصیرت نے اس کا مطالعہ کیا تو انہیں جہاں امام حسین ع کا موقف جاننے کو ملا، وہاں انہوں نے واقعہ کربلا کے حقائق کا ادراک بھی کیا اور اس واقعے کے حوالے سے تاریخ میں پائی جانے والی منفی اور حقیقت سے دور غلط فہمیوں کا علم بھی حاصل کیا اور امام حسین ع کے موقف کی سچائی تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس طریقے سے ہر دور میں انسانوں نے خطبات امام حسین ع کو جب واقعہ کربلا کے ساتھ تجزیاتی انداز سے دیکھا تو انہیں کربلا کی حقیقتوں سے آشانائی حاصل ہوئی۔ جس طرح ہر دور میں اس حوالے سے کم یا منفی معلومات کے حامل طبقات موجود رہے اسی طرح موجودہ دور میں بھی ایسا طبقہ موجود ہے جو کربلا کا صحیح ادراک یا معلومات نہیں رکھتا، اسے چاہیے کہ وہ خطبات امام حسین ع کا باریک بینی سے مطالعہ کرے اور پھر فیصلہ کرے۔  انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں، بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے، اس لئے ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے۔ دنیا میں جو طبقات فرسودہ، غیر اسلامی، لادین، غیر منصفانہ، ظالمانہ، آمرانہ اور بادشاہانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، کربلا ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ معاشروں کے تمام حاکم طبقات اور محروم و مظلوم طبقات امام حسین ع کی جدوجہد سے استفادہ کر سکتے ہیں، کیونکہ آپ نے فقط ایک مذہب یا مسلک یا امت کی فلاح کی بات نہیں کی، بلکہ پوری انسانیت کی نجات کی بات کی ہے۔ البتہ خصوصیت کے ساتھ محروم، مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ اس کے ساتھ حکمرانوں کی بے قاعدگیوں، بے اعتدالیوں، بدعنوانیوں، کرپشن، اقرباء پروری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور شہریوں کے مذہبی، شہری اور قانونی حقوق کی پامالی کی طرف بھی نشاندہی فرمائی۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ چونکہ عزاداری سید الشہداء ع  جبر کے خلاف جہاد کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے اور اس سے انسان کے ذاتی رویے سے لے کر اجتماعی معاملات میں انقلاب رونما ہوتا ہے، اس لئے حکمران طبقات کے ساتھ ساتھ ظلم و جبر اور شر کے حامی طبقات بھی عزاداری کے مخالف اقدام کرتے ہیں حالانکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق عزاداری منانا ہر شہری کا آئینی، قانونی، مذہبی اور شہری حق ہے، جسے کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔
ان دنوں میں جب ہم پاکستان میں عزاداری سیدالشہداء منا رہے ہیں اور محرم کے ایام کا آغاز ہو رہا ہے۔ حکمرانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مراسم عزاء کے انعقاد کے لئے لائسنس، اجازت نامے، روٹ پرمٹ یا اس جیسی دیگر پابندیاں لگانے سے گریز کریں اور کرفیو کے عالم یا سنگینوں کے سائے تلے عزاداری منانے کی بجائے کھلے اور آزادانہ ماحول میں عزاداری کی محافل منعقد کرنے کا اہتمام کریں۔   سربراہ شیعہ علماء کونسل نے کہا کہ عزاداران سید الشہداء ع کو مطمئن رہنا چاہیے کہ ان کے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رہے گی اور عزاداری کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا رہے گا، لیکن عزاداروں، بانیان مجالس، لائسنسداروں اور خطباء و ذاکرین کو ہر قسم کے داخلی انتشار و افتراق سے بچتے ہوئے وحدت و اخوت کو رواج دینا چاہیے اور باہم متحد رہ کر اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں ادا کرنی ہونگی اور جدوجہد کو طاقت بخش بنانا ہو گا، تاکہ دشمنان اسلام کے ساتھ ساتھ فرقہ پرستوں، جنونیوں اور دہشتگردوں کے منفی عزائم ناکام بنائے جا سکیں، پاکستان میں اتحاد بین المومنین اور اتحاد بین المسلمین کی فضا قائم ہو اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ اور اسلامی معاشرے کے قیام کی جدوجہد آسان ہو۔

جامعہ شہید علامہ عارف حسینی میں منعقد ہونیوالے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈویژنل صدر کا کہنا تھا کہ اتحاد بین المسلمین کا عملی مظاہرہ کیا جائے، تاکہ دشمنوں کے ناکام عزائم اور گھناؤنی سازشیں کامیاب نہ ہو سکیں۔امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پشاور ڈویژن کا اجلاس ڈویژنل صدر ثاقب بنگش کی زیر صدارت جامعہ شہید علامہ عارف حسینی میں منعقد ہوا، جس میں کابینہ اور کوہاٹ ریجن سمیت تمام یونٹس کے نمائندوں نے شرکت کی، اجلاس میں محرم الحرام کے پروگرامات اور سکیورٹی کی حالیہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ڈویژنل صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ محرم الحرام میں یاد کربلا کو اسلامی وحدت و یگانگت کے فروغ کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کا عملی مظاہرہ کیا جائے، تاکہ دشمنوں کے ناکام عزائم اور گھناؤنی سازشیں کامیاب نہ ہو سکیں، محرم کسی کو تکلیف دینے کا نام نہیں، بلکہ اتفاق و اتحاد کا مہینہ ہے، محرم تحریکِ کربلا اور امام حسین کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ موجودہ حالات میں ایک بار پھر یزید وقت کے خلاف کربلا کو برپا کرنا ہی دین اسلام اور وطن عزیز کی بقاء کا واحد راستہ ہے۔

محرم ہمیں اتحاد و اتفاق کا درس دیتا ہے کیونکہ کہ امام حسین ع کی قربانی صرف ایک فقہ تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے میں ظالم کے خلاف مظلوم کی تحریک ہے۔محرم الحرام کے سلسلے میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پشاور ڈویژن اور عالمی علماء و مشائخ کونسل کے زیرِاہتمام استقبالِ محرم اور امن کانفرنس کا انعقاد 28 نومبر کو پریس کلب پشاور میں ہو گا۔ تقریب کے مہمانان خصوصی صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف و حج الحاج نمروز خان خانخیل، صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات میاں افتخار حسین اور مشیرِ وزیراعظم علامہ سید ایاز اظہر ہاشمی ہوں گے۔ تقریب میں علماء کرام، سیاسی و مذہبی قائدین کے علاوہ دانشور، صحافی حضرات اور تاجر برادری شرکت کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار آئی ایس او پشاور ڈویژن کے صدر ثاقب بنگش اور عالمی علماء و مشائخ کونسل کے چیئرمین علامہ محمد شعیب نے مشترکہ اجلاس میں کیا۔ انہوں نے کہا محرم ہمیں اتحاد و اتفاق کا درس دیتا ہے، کیونکہ کہ امام حسین ع کی قربانی صرف ایک فقہ تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے میں ظالم کے خلاف مظلوم کی تحریک ہے۔

امریکا نے عرب ممالک کو ہتھیار فروخت کرنے کے منصوبے بنائے ہیں ان میں سعودی عرب کیلئے 60 ارب ڈالرز مالیت کے جدید ایف پندرہ لڑاکا طیارے، اومان کیلئے اسٹنگر میزائل اور فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں کی فروخت کے منصوبے بھی شامل ہیں۔امریکا نے ایران کیخلاف علاقائی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کرتے ہوئے خطے میں اسلحے کے انبار لگانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق اوباما انتظامیہ نے خاموشی سے ایک منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت خلیجی اتحادی ملک متحدہ عرب امارات کو ہزاروں جدید بنکر بسٹر بم اور دیگر اسلحہ فروخت کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مجوزہ پیکیج آنے والے دنوں میں امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جو 4900 بنکر بسٹر بم اور دیگر ہتھیاروں پر مشتمل ہو گا۔ اوباما انتظامیہ ایران کے مقابلے پر چھ خلیجی ممالک بحرین، اومان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکا نے خلیج تعاون تنظیم کے رکن ملکوں سے باقاعدگی سے اسٹریٹجک مذاکرات کئے ہیں اور پینٹا گون ان چھ ملکوں کے درمیان انٹیلی جینس کے تبادلے اور فوجی ہم آہنگی میں بہتری کے لئے کوششیں کر رہا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران امریکا نے ان ممالک کو ہتھیار فروخت کرنے کے جو منصوبے بنائے ہیں ان میں سعودی عرب کے لئے 60 ارب ڈالرز مالیت کے جدید ایف پندرہ لڑاکا طیارے، اومان کے لئے اسٹنگر میزائل اور فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں کی فروخت کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل کیانی نے بعض امریکی اہلکاروں کی پاکستان میں موجودگی پر اعتراض کیا تھا، ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اہلکاروں کو واپس امریکا بلا لیا گیا تھا۔ کیمرون منٹر نے اعتراف کیا کہ ماضی میں امریکا نے افغانستان سمیت بعض معاملات میں عجلت میں پالیسیاں تبدیل کیں، جن سے نقصان اٹھانا پڑا۔امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن اچھا آئیڈیا نہیں، ترکمانستان سے گیس پائپ لائن کا منصوبہ بہتر رہے گا، جنرل شجاع پاشا اور عمران خان سے کئی مرتبہ ملاقات ہوئی، تاہم وہ دونوں سے کبھی ایک ساتھ نہیں ملے۔ لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ امریکا نے میمو اور حسین حقانی کے استعفے کو امریکا نے سنجیدگی سے لیا ہے، میمو ایشو پر معاونت کی ضرورت پڑی تو امریکا اس کے لئے تیار ہے۔ کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل کیانی نے بعض امریکی اہلکاروں کی پاکستان میں موجودگی پر اعتراض کیا تھا، ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اہلکاروں کو واپس امریکا بلا لیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل شجاع پاشا اور عمران خان سے کئی مرتبہ ملاقات ہوئی، تاہم وہ دونوں سے کبھی ایک ساتھ نہیں ملے۔ کیمرون منٹر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہیں، پاکستان سے سول اور فوجی تعلقات مضبوط کرنا چاہتے ہیں، پاکستان مستحکم ہو گا تو امریکا مضبوط ہو گا۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن اچھا آئیڈیا نہیں، ترکمانستان سے گیس پائپ لائن کا منصوبہ بہتر رہے گا۔ دیگر ذرائع کے مطابق امریکی سفیر نے کہا ہے کہ وہ سیاسی اور عسکری قیادت سے الگ الگ ملاقات کرتے ہیں۔ حسین حقانی کے معاملہ پر فیصلہ پاکستان نے کرنا ہے۔ وہ لاہور میں لمز کے طلبہ سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ کیمرون منٹر نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے سیاستدانوں اور فوجی افسروں سے کبھی مشترکہ ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ حسین حقانی کے معاملے اور شیری رحمان کی امریکا میں سفارت کیلئے نامزدگی پر فیصلے پاکستان نے کرنے ہیں۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امریکا اور چین سے بہترین تعلقات ہیں، ایسے ہی تعلقات خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی ہونے چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں کیمرون منٹر نے اعتراف کیا کہ ماضی میں امریکا نے افغانستان سمیت بعض معاملات میں عجلت میں پالیسیاں تبدیل کیں، جن سے نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک ایران کے بجائے ترکمانستان گیس منصوبے بہترین ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ فوجیوں، مزاروں اور شہریوں پر حملے کرنے والوں کے خلاف دونوں ممالک کی جنگ مشترکہ ہے۔ امریکا پاک افغان سہ فریقی مزاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

لاہور میں سنہری مسجد کے دورے کے موقع پر امریکی سفیر کمیرون منٹر کے وفد میں شامل ایک افسر جوتے اتارے بغیر ہی مسجد میں داخل ہو گیا جس کے نتیجے میں سفیر کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اس پر معافی مانگ لی۔پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کے لاہور میں سنہری مسجد کے دورہ کے موقع پر امریکی سفیر کا سکیورٹی گارڈ جوتے سمیت مسجد میں داخل ہو گیا۔ امریکی اہلکاروں نے سکیورٹی گارڈ کو جوتوں سمیت داخل ہونے سے منع کیا لیکن اس نے بات ماننے سے انکار کر دیا اور جوتوں سمیت مسجد میں داخل ہو گیا۔ دوسری طرف امریکی سفیر کے سکیورٹی گارڈ کی جانب سے مسجد کی بے حرمتی کرنے پر سیاسی و مذہبی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔  امریکی سفیر کیمرون منٹر نے لاہور میں سنہری مسجد کا دورہ کیا لیکن وہ ان کے وفد کا ایک رکن جوتوں سمیت مسجد میں داخل ہوگیا جس پر سفیر کو معافی مانگنا پڑگئی۔ دیگر ذرائع کے مطابق لاہور میں سنہری مسجد کے دورے کے موقع پر امریکی سفیر کمیرون منٹر کے وفد میں شامل ایک افسر جوتے اتارے بغیر ہی مسجد میں داخل ہو گیا جس کے نتیجے میں سفیر کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اس پر معافی مانگ لی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ انہیں اس واقعے پر دکھ پہنچا ہے اور مایوسی ہوئی ہے، وہ اور امریکی سفارتخانے اور قونصل خانوں میں ان کی ٹیم اس پر معذرت خواہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کےمقدس مقامات کا احترام کرتے ہیں۔ اس سے پہلے سنہری مسجد کے دورے کے موقع پر انہوں نے مسجد کی تزئین او آرائش کیلئے ساٹھ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کا رشتہ پارٹنر شپ کا ہے۔ پاکستان کے ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے پاک ایرن پائپ لائن منصوبے سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔

رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکمران اگر نیٹو فورسز کی دہشت گردی کی محض مذمت کی بجائے اس کا منہ توڑ جواب دیں تو نیٹو افواج کبھی حملوں کی جرأت نہ کریں، یہ حملہ پاکستان کی خودمختاری پر حملہ اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے نیٹو فورسز کی طرف سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سالمیت و خودمختاری پر حملہ اور کھلی دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت زبانی نوٹس کے روایتی عمل سے آگے بڑھ کر پاکستان کی خود مختاری کا دفاع کرے اور نیٹو فورسز کی جانب سے سرحدوں کی پامالی اور بے گناہ فوجی شہید کرنے کا منہ توڑ جواب دے اگر اب بھی پاکستانی حکومت نے ڈرون اور نیٹو فورسز حملے روکنے کیلئے عملی اقدامات نہ کئے تو یہ امریکی غلامی کا بدترین ثبوت ہو گا۔ پارلیمنٹ اور اے پی سی کی مشترکہ قراردادوں پر عمل نہ کرنا افسوسناک ہے۔ جامعہ المنتظر کے پرنسپل علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی، مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی، آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر سید رحمن شاہ، امیر جماعۃ الدعوۃ حافظ محمد سعید، حافظ عبدالرحمن مکی، جمعیت علماء اسلام(س) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی، مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما مولانا محمد شفیع جوش، تحریک آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین حافظ سیف اللہ منصور، تحریک آزادی جموں کشمیر کے سیکرٹری جنرل حافظ خالد ولید و دیگر نے نیٹو فورسز کے حملوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو فورسز کے حملوں پر محض زبانی مذمت اور احتجاج کافی نہیں حکمران نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلہ میں قائم اتحاد سے باہر نکل آئیں اور نیٹو کی سپلائی لائن مستقل طور پر منقطع کی جائے، امریکہ آئے دن پاکستان میں ڈرون حملے اور بمباری کر کے بے گناہ پاکستانی عوام اور فوجیوں کو شہید کر رہا ہے لیکن حکمرانوں کی طرف سے پاکستانی حدود میں کی جانے والی بدترین دہشت گردی کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا جس پر پوری پاکستانی قوم میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ مذہبی وسیاسی جماعتیں متحد ہو کر حکمرانوں پر دباؤ بڑھائیں کہ وہ امریکی غلامی سے نکل کر ملکی سرحدوں کے دفاع کا فریضہ سرانجام دیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ نیٹو نے پہلے بھی کئی بار پاکستان کی سرحدوں کو پامال کیا ہے لیکن پاکستان کی جانب سے رسمی احتجاج سے زیادہ کبھی عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے نیٹو فورسز کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں، امریکہ اور نیٹو افغانستان میں اپنی شکست کے بعد اب اپنے اتحادی پاکستان پر ہی حملہ آور ہو رہے ہیں، امریکیوں کی دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔ جمعیت علماء اسلام (س)کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی، مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما مولانا محمد شفیع جوش، تحریک آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین حافظ سیف اللہ منصور و دیگر نے کہا کہ امریکہ کے گن گانے والے حکمرانوں کے لیے یہ سانحہ ایک طمانچے کی حیثیت رکھتا ہے جس سے اب ان کی آنکھیں کھل جانی چاہیں اور ڈالروں کے بجائے پاکستان کی سالمیت کے بارے میں سوچنا چاہیے، حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ چند دن نیٹو کی سپلائی روکنے اور پھر معاف کر دینے والی سیاست کے بجائے ان لوگوں کی بھر پور حمایت اور مدد کا اعلان کر دے جو نیٹو و امریکہ کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ پوری قوم حکومت کے اس اعلان کا خیر مقدم کرے گی اور ہر مشکل ساتھ دے گی۔ انھوں نے کہا کہ حکمران اگر نیٹو فورسز کی دہشت گردی کی محض مذمت کی بجائے اس کا منہ توڑ جواب دیں تو نیٹو افواج کبھی حملوں کی جرأت نہ کریں، یہ حملہ پاکستان کی خودمختاری پر حملہ اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اگر شروع ہی میں اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے قومی سلامتی کو داؤ پر لگا کر امریکہ سے ایسے معاہدے نہ کرتے تو آج اس صورتحال کی نوبت نہ آتی۔

المرکز اسلامی پشاور سے جاری کئے گئے ایک بیان میں جماعت اسلامی کے پی کے امیر کا کہنا تھا کہ نیٹو افواج اور اُن کے جنگی طیاروں کے طرف سے پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر سنیٹیر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے پاک افغان بارڈر کے قریب پاکستان چیک پوسٹ پر نیٹو طیاروں کے حملے اور دو درجن سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کے شہید یا زخمی ہونے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی آزادی اور خود مختاری پر حملہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے راستے نیٹو افواج کو سپلائی مستقل طور پر بند کی جائے۔ ہفتہ کے روز المرکز اسلامی پشاور سے جاری کئے گئے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ نیٹو افواج اور اُن کے جنگی طیاروں کے طرف سے پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حکمرانوں اور فوج کو حالیہ واقعہ کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ اُنہوں نے کہا پاکستان فوج اور حکمران ہمت اور جذبے سے کام لیں اور ملکی سرحدات کی جرأت اور بہادری سے مقابلہ کریں تو پوری قوم اُن کی پشت پر ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم امریکہ سے جنگ نہیں چاہتے۔ لیکن اگر امریکہ نے پاکستان پر جنگ ٹھونسنے کی جسارت کی تو پوری قوم ملکی سرحدات کی حفاظت کے لئے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہو گی۔

شیعہ علماء کونسل کے مرکزی ترجمان نے اس افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے سیکورٹی فورسز کے اہل کاروں کے لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔علامہ سید ساجد علی نقوی کے مرکزی ترجمان نے ملک کے قبائلی علاقوں میں نیٹو ہیلی کاپٹرز کی بلااشتعال بمباری کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے 26 سے زائد اہلکاروں کے جاں بحق ہونے اور متعدد کے زخمی ہونے پر اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے سفارتی آداب اور ملکی خودمختاری کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس جارحیت کے جواب میں ہر سطح پر سخت اور جاندار انداز میں آواز اٹھائے اور احتجاج کے ذریعے بیرونی مداخلت کا موثر توڑ نکالے، نیز آل پارٹیز کانفرنس میں منظور کئے جانے والے مشترکہ اعلامیہ پر مکمل عمل درآمد کر کے عوامی خواہشات اور جذبات کی حقیقی ترجمانی کرے۔ مرکزی ترجمان نے اس افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے نیٹو کے حملوں کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں اس قسم کی کارروائیوں کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔ امریکہ، نیٹو اور ایساف سے ہر قسم کے سفارتی، سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس تعلقات پر نظرثانی کی جائے گی۔  وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، وزیردفاع، وزیرخارجہ، وزیر خزانہ، وزیرداخلہ، وزیر اطلاعات و نشریات اور سینئر وزیر پرویز الہی سمیت اراکین کمیٹی نے شرکت کی۔ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد میڈیا کو جاری کئے گئے اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ملک کی خودمختاری، آزادی اور سرحدوں کی ہر قیمت پر تحفظ کریں گے، وزیر اعظم گیلانی پاکستان کے امریکہ، نیٹو اور ایساف کے ساتھ آئندہ تعاون کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔ کمیٹی نے پاکستانی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کے اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس اور اُن کے اہل خانہ سے ہمدردی اور تعزیت کی۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ واقعہ پر اقوام متحدہ اور نیٹو سے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چودہ مئی دو ہزار گیارہ کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی قرارداد کے مطابق نیٹو اور ایساف کی لاجسٹک سپلائی لائن فوری طور پر بند کی جائے گی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، نیٹو اور ایساف سے ہر قسم کے سفارتی، سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس تعلقات پر نظرثانی کی جائے گی۔ پاکستان شدید ترین الفاظ میں اس بیہمانہ حملے کی مذمت کرتا ہے اور یہ ناصرف عالمی قوانین بلکہ نیٹو اور ایساف کے افغانستان میں مینڈیٹ کی بھی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور نیٹو ایساف کو اس کی ریڈ لائن سے واضح طور پر آگاہ کردیا ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ایوان وزیراعظم اسلام آباد میں ہوا۔ جس میں پاکستانی سکیورٹی فورس کی چوکی پر نیٹو حملے سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا، اجلاس میں نیٹو اور ایساف کے حملے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے پاکستان کی آزادی، سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ نیٹو اور ایساف نے حملہ کرکے اپنے مینڈٹ سے تجاوز کیا ہے۔ پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملہ ناقابل قبول ہے۔ دفاعی کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پندرہ دن کے اندر امریکہ سے شمسی ائربیس خالی کروائی جائے گی۔ اس کے علاوہ نیٹو اور ایساف کی سپلائی رسد فوری بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نیٹو، ایساف اور امریکہ کے ساتھ تعاون کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔ اجلاس میں امریکہ، نیٹو اور ایساف کے ساتھ سیاسی، فوجی، سفارتی اور انٹیلیجنس تعاون پر نظر ثانی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، وزیر دفاع احمد مختار، وزیر داخلہ رحمان ملک اور وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ ، سینئر وزیر پرویز الہٰی، وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان اور سیکریٹری کابینہ ڈویژن نرگس سیٹھی نے شرکت کی، چئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں، چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آصف سندیلہ اور ائیرچیف مارشل راؤ قمر سلیمان بھی اجلاس میں موجود تھے۔

سرحدی چیک پوسٹ نیٹو کے بلااشتعال حملے کے بعد امریکا میں پاکستانی ناظم الامور عفت گردیزی نے امریکی دفتر خارجہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے احتجاج کو فوری طور پر امریکی حکومت تک پہنچایا جائے۔ نیٹو ہیلی کاپٹرز کی سرحدی چیک پوسٹ پر بلااشتعال فائرنگ پر پاکستان نے امریکا سے شدید احتجاج کیا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستان کی ناظم الامور عفت گردیزی نے وزارت خارجہ حکام کو جگا کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ عفت گردیزی نے وزارت خارجہ کے حکام سے کہا کہ پاکستان کے احتجاج کو بلاتاخیر امریکی حکومت تک پہنچایا جائے۔ واضح رہے کہ گذشتہ شب مہمند ایجنسی کے علاقے بائی زئی میں واقع ایک سرحدی چیک پوسٹ پر نیٹو کے ہیلی کاپٹرز کی بلا اشتعال فائرنگ سے 2افسران سمیت 28 اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔  ادھر پاکستان نے چیک پوسٹ پر حملے میں 28 اہلکاروں کی شہادت پر احتجاجاً نیٹو کی افغانستان کے لیے سپلائی معطل کر دی ہے۔ نیٹو کے حملے کے بعد مہمند ایجنسی کے لوگوں میں شدید اشتعال پھیل گیا جبکہ دوسری جانب خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ نے احتجاجاً طورخم کے راستے نیٹو کی سپلائی بند کر دی۔ خیبر ایجنسی کے علاقے تختہ بیگ اور بھگیاڑی سے 50 نیٹو کنٹینروں کو واپس بھجوا دیا گیا، اس راستے سے روزانہ تقریباً 200 نیٹو کنٹینر افغانستان جاتے ہیں۔  قبل ازیں مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقے بائیزئی میں سرحدی پوسٹ پر نیٹو ہیلی کاپٹرز کی بمباری کے نتیجے میں 28 سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز غلنئی سے 55 کلو میٹر شمال مغرب کی جانب بائیزئی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی سرحدی پوسٹ سلالہ پر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب دو نیٹو طیاروں نے بمباری کر دی جس کے نتیجے میں 28 سکیورٹی اہلکار شہید اور7 زخمی ہو گئے۔ حملے کی اطلاع پر پاک فوج کے ہیلی کاپٹر لاشوں اور زخمیوں کو لینے علاقے میں پہنچ گئے۔ ادھر امریکا میں‌ پاکستانی سفارتخانے نے واشنگٹن میں امریکی دفتر خارجہ سے پاکستانی اہلکاروں‌کی شہادت پر شدید احتجاج کیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب نیٹو ہیلی کاپٹرز نے بلا اشتعال فائرنگ کی۔ شہید ہونے والوں‌ میں میجر مجاہد اور کیپٹن عثمان بھی شامل ہیں۔مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقے بائیزئی میں سرحدی پوسٹ پر نیٹو ہیلی کاپٹرز کی بمباری کے نتیجے میں 28 سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔ آئی ایس پی آر نے نیٹو ہیلی کاپٹرز کی بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی چیک پوسٹ پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی۔ مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز غلنئی سے 55 کلو میٹر شمال مغرب کی جانب بائیزئی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی سرحدی پوسٹ سلالہ پر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب دو نیٹو طیاروں نے بمباری کر دی، جس کے نتیجے میں 28 سکیورٹی اہلکار شہید اور 15 زخمی ہو گئے۔ حملے کی اطلاع پر پاک فوج کے ہیلی کاپٹر لاشوں اور زخمیوں کو لینے علاقے میں پہنچ گئے ۔ دوسری طرف آئی ایس پی آر نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب نیٹو ہیلی کاپٹرز نے بلا اشتعال فائرنگ کی۔ شہید ہونے والوں‌ میں میجر مجاہد اور کیپٹن عثمان بھی شامل ہیں۔ ادھر امریکا میں‌ پاکستانی سفارتخانے نے واشنگٹن میں امریکی دفتر خارجہ سے پاکستانی اہلکاروں‌ کی شہادت پر شدید احتجاج کیا ہے دیگر ذرائع کے مطابق افغانستان میں تعینات نیٹو اور ایساف فورسز کی پاک افغان بارڈر پر پاکستانی چیک پوسٹ پر فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 28 ہو گئی ہے جبکہ بارہ سے زیادہ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاک افغان بارڈر پر مہمند ایجنسی کی تحصیل بائیزئی کے علاقے سلالا میں ایساف اور نیٹو فورسز کے ہیلی کاپٹروں نے علی الصبح پاکستانی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق اس واقعہ میں پاک فوج کے ایک میجر اور ایک کیپٹن سمیت اٹھائیس سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔ یہ چیک پوسٹیں دور افتادہ پہاڑی علاقے میں دہشت گردوں کی آمد و رفت روکنے کیلئے قائم کی گئی ہیں، جہاں سے اطلاعات آنے میں وقت لگ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس علاقے میں تازہ نفری اور امدادی ٹیمیں پہنچ چکی ہیں جو اپنا کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اس واقعہ پر اعلٰی ترین سطح پر امریکہ سے احتجاج کیا گیا ہے۔

  سن2008 میں امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے صدر کو دی جانے والی سیکورٹی رپورٹ کے مطابق موساد اس وقت تک امریکی فوجیوں کی مدد سے 350 عراقی جوہری دانشوروں کو قتل کروا چکی تھی۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے 2008 میں صدر جرج بش کو پیش کی جانے والی ایک سیکورٹی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جاسوسی ادارہ موساد اس وقت تک عراق میں موجود امریکی فوجیوں کی مدد سے 350 عراقی جوہری سائنسدانوں اور 200 یونیورسٹی پروفیسرز کو قتل کروا چکی تھی۔ اردن کے اخبار “بین الاقوامی حقیقت” نے یہ سیکورٹی رپورٹ منتشر کرتے ہوئے 2003 سے 2008 تک عراق میں امریکی فوجیوں کی پانچ سالہ موجودگی کے دوران انجام پانے والے اہم حقائق کو فاش کیا ہے۔
عراق میں موساد ایجنٹس کی موجودگی:
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایجنٹس اور اسرائیلی کمانڈوز عراق پر امریکی قبضے کے آغاز سے ہی سرگرم عمل ہیں۔ انکی فعالیت کا محور عراقی دانشوروں کو قتل کرنا ہے۔ وہ خاص طور پر ایسے دانشوروں کو قتل کرتے ہیں جو امریکہ کی جانب سے امیگریشن کی پیشکش کو ٹھکرا کر عراق میں رہنے پر مصر ہیں۔امریکی وزارت خارجہ کی اس رپورٹ میں آیا ہے کہ عراق کے اکثر دانشور امریکہ میں تحقیقاتی مراکز میں کام کرنے کی پیشکش کو ٹھکرا چکے ہیں اور امریکہ آنے پر راضی نہیں ہیں۔ اسی طرح انہوں نے امریکی دانشوروں کے ہمراہ مخصوص تجربات میں شرکت کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ عراقی دانشوروں کی بڑی تعداد دوسرے ممالک میں بھاگ جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے امریکی عراق میں باقی رہ جانے والے دانشوروں سے تفتیش کرتے ہیں اور انہیں ٹارچر کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ اسرائیل کی صہیونیستی رژیم ان دانشوروں کو اپنی قومی سلامتی اور بقا کیلئے شدید خطرہ تصور کرتی ہے۔
اسرائیل اور عراقی سائنسدانوں کے قتل کا منصوبہ:
اس سیکورٹی رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ اسرائیل اس نظریئے پر کاربند ہے کہ عراقی دانشوروں سے مقابلے کا بہترین راستہ انہیں قتل کرنا ہے اور انہیں قتل کرنے کیلئے عراق میں بدامنی اور انارکی پھیلانا ضروری ہے۔اس امریکی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے سات ماہ قبل [یہ رپورٹ 2008 میں لکھی گئی ہے] اسرائیلی جاسوسی ادارے موساد کی جانب سے اس نظریئے کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور اسی حوالے سے طے پایا ہے کہ یہ کام اسرائیلی کمانڈوز کے ذمے لگایا جائے گا اور امریکی سیکورٹی گروپس اس کام میں ان سے تعاون کریں گے۔
عراق کے 350 جوہری سائنسدانوں اور 200 یونیورسٹی پروفیسرز کے قتل کا اعتراف:
امریکی وزارت خارجہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک امریکی سپشل سیکورٹی گروپ عراق کے تمام دانشوروں کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کرنے میں مصروف ہے اور یہ کام گذشتہ سات ماہ سے جاری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہیں معلومات کی بنیاد پر اب تک [2008 تک] عراق کے تقریبا 350 جوہری سائنسدان اور 200 یونیورسٹی پروفیسرز قتل کئے جا چکے ہیں۔ ان تمام افراد کو انکے گھروں سے دور گلی کوچوں میں دہشت گردانہ اقدامات کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ اس دہشت گردانہ منصوبے میں ایک ہزار سے زائد عراقی دانشوروں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ شمالی عراق موساد کی پناہگاہ اور اڈے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس امریکی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کمانڈوز عراق میں عراقی دانشوروں کو قتل کرنے کے علاوہ بعض عراقی سیکورٹی اہلکاروں کو ٹریننگ دینے پر بھی مامور کئے گئے ہیں۔ یہ اسرائیلی کمانڈوز ان اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کی ٹریننگ دینے میں مصروف ہیں۔
عراق میں امریکی سفارتخانے میں 185 اسرائیلی اور یہودی افراد کی موجودگی:
رپورٹ کے مطابق بغداد میں واقع امریکی سفارتخانے میں 185 سے زائد اسرائیلی اور یہودی افراد موجود ہیں جو عراق کے مختلف وزارتخانوں اور فوجی اور سیکورٹی مراکز پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان افراد کے علاوہ عراق میں بڑی تعداد میں اسرائیل کی ملٹی نیشنل کمپنیز بھی سرگرم عمل ہیں۔ ڈربابل ریسرچ سنٹر کی جانب سے انجام پانے والی تحقیقات کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ پانچ سال سے عراق میں وسیع پیمانے پر اثرورسوخ قائم کر رکھا ہے۔ اسرائیل کا مڈل ایسٹ ریسرچ سنٹر عرب پبلیکیشن ریسرچ سنٹر اور فرانسوی سفارتخانے کی مدد سے عراق میں فعالیت انجام دے رہا ہے۔ فرانس کے سفارتخانے پر حملے کے بعد اب یہ مرکز امریکی سفارتخانے کے قریب الخصراء کے علاقے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح بغداد میں واقع الرشید ہوٹل کا ساتواں فلور بھی اسرائیل کی جاسوسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔