قاہرہ میں لاکھوں مظاہرین کا فوجی حکومت کے خلاف مظاہرہ جاری

Posted: 24/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Survey / Research / Science News, Tunis / Egypt / Yemen / Libya

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں مظاہرین فوجی حکومت سے استعفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ فوجی حکومت نے طاقت کے استعمال پر عوام سے معافی بھی مانگ لی ہے لیکن عوام قاتلوں کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیںالجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں مظاہرین فوجی حکومت سے  استعفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ فوجی حکومت نے طاقت کے استعمال پر عوام سے معافی بھی مانگ لی ہے لیکن عوام قاتلوں کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں لاکھوں افراد جمع ہیں اور حالیہ مظاہروں میں 30 سے زائد افراد کی ہلاکت اور فوج کی ریفرنڈم کی تجویز پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مصر کے وزیر داخلہ منصور العیسوی نے 28 نومبر کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے۔ ایک اور پیشرفت میں قاہرہ کے پراسیکیوٹر جنرل نے مظاہروں میں حصہ لینے پر تین امریکی طلبہ کو تفتیش کی غرض سے چار روز تک زیر حراست رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تینوں طلبہ قاہرہ کی امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ انہیں پیر کو تحریر اسکوائر میں دیگر مظاہرین کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر ناوی پلے نے مصر کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے واقعات سے متعلق تحقیقات کی جائے۔  ذرائع کے مطابق مصری عوام کو اب فوجی انتظامی کونسل پر اعتماد نہیں رہا کیونکہ فوجی انتظآمی کون سل امریکہ اور سعودی عرب کے زیر سایہ آگئی ہے اور مصری عوام کے انقلاب کو منحرف کرنے کی تلاش و وکشش کررہی ہے

Comments are closed.