بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینا بے غیرتی ہے۔ سردار عتیق احمد

Posted: 24/11/2011 in Afghanistan & India, All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir

میرپور: سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد نے کہا ہے کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینا بے غیرتی ہے یہ معاملہ قومی اسمبلی ،سینٹ ،صوبائی اسمبلیوں اور آزادکشمیر اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے مسلم کانفرنس پاکستان آزادکشمیر اور پوری دنیا میں اس پالیسی کی مخالفت کرے گی۔ ایک ریڈیو انٹرویو میں سردار عتیق احمد نے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ زرداری حکومت کس سوچ کے تحت بھارت کو پسندیدہ ترین قوم اور ملک قرار دے رہی ہے دوقومی نظریے اور تحریک آزادی کشمیر کو دفن کرکے بھارت یہ چاہتاہے کہ پاکستان میں اپنی فوجی چوکیاں تک قائم کرلے کل پاکستان سے بھارت یہ بھی مطالبہ کرسکتاہے کہ افغانستان کو تجارتی مقاصد کے لیے راستہ فراہم کیا جائے پھر اس کے بعد بھارت یہ بھی کہہ سکتاہے کہ وہ اپنے قیمتی مال کی نگہداشت اپنی سیکیورٹی اور اپنی فوج کے ذریعے کروانا چاہتاہے بات یہاں تک جاسکتی ہے کہ وہ پاکستان کے مختلف شہروںمیں اپنی فوجی چوکیاں قائم کرنے کے لیے بھی بین الاقوامی دباؤ پیدا کرواسکتاہے آزادکشمیر کے رہنے والے لوگ پاکستان کی اس پالیسی کی شدید ترین مخالفت کریں گے ہم نے صدر آصف علی زرداری او رپیپلزپارٹی سے مفاہمت اس لیے کی ہے کہ فضول کے لڑائی جھگڑوں سے گریز کیا جائے اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ قومی مفادات کو نقصان پہنچانے والی پالیسیاں بالاہی بالا بناکر قوم کو اعتماد میں لیے بغیر انہیں ٹھونس دیاجائے سردار عتیق احمد نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز سٹاف کالج کوئٹہ میں چار سو کے قریب فوجی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے اس زہریلی پالیسی کو نظریہ پاکستان کا خطرناک ترین دشمن قرار دیا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ میرے ذاتی سطح پر آصف علی زرداری ،میاں محمد نوازشریف ،عمران خان ،اسفندیار ولی ،منور حسین ،الطاف حسین ،چوہدری عبدالمجید ،بیرسٹر سلطان محمود ،سردار سکندر حیات ،راجہ فاروق حیدر ،خالد ابراہیم سے لے کر پوری قومی قیادت کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں لیکن ان تعلقات کا یہ مقصد ہر گزنہیں ہے کہ وہ پالیسیاں جو پاکستانی اور کشمیری قوم کا بیٹرا غرق کرسکتی ہیں اس پر ہم چپ رہیں میں اس سلسلہ میں چاروں صوبوں او رآزادکشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹر ز کا دور ہ کررہاہوں اور میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتاہوں کہ اگر آپ نے بھارت سے دوستی کرنی ہی ہے تو کشمیر کی قربانی دینے کی بجائے سیاچین ،سرکریک،گلگت بلتستان ،لداخ ،دریاؤں کے پانی کے مسئلے سے لیکر دیگر مسائل کے حوالے سے سوچا جائے بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور لاکھوں کشمیریوں نے صرف ا ور صرف آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں بھارت سے تجارت پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے اور بھارت سے تجارت کرکے پاکستانی صنعتوں کو دفن کردیا جائے گا بھارت ایک بڑی اقتصادی قوت ہے اور پاکستان اس کا صنعتی میدان میں مقابلہ نہیں کرسکتا سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ پہلے بھی بھارت نے پاکستان کے ساتھ تجارت کی تھی اور کھانے پینے کی جو اشیاء بھارت نے پاکستان بھیجی تھیں وہ مضر صحت تھیں ہم خود کشی پر مبنی یہ کام نہیں ہونے دیں گے

Comments are closed.