آئی ایس آئی نے حقانی کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا، امریکی اخبار کا الزام

Posted: 24/11/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

کراچی…:…امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے حسین حقانی کی رخصتی پر پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پر شدید تنقیدی رپورٹ شائع کی ہے،اخبار کی رپورٹ کے مطابق حقانی کی رخصتی امریکا کیلئے اسلام آباد کو محدود کرنے کا موقع ہے، امریکا مخالف عوام کے نمائندہ سفیر نے کھل کر اپنے آپ کو امریکا نواز ثابت کیا۔اخبار کے مطابق آئی ایس آئی کی طرف سے حقانی کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، میمو گیٹ تنازع نے عام پاکستانیوں کے نزدیک حقانی کو غدار بنا دیا، پاکستان کیلئے حقانی کی رخصتی بری خبر ہے۔ امریکی اخبار کہتا ہے کہ کرشماتی سفیر کی اچانک رخصتی نے واشنگٹن کیلئے اسلام آباد کو محدود کرنے کاموقع فراہم کیا، یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ کسی سفیر کی رخصتی عالمی میڈ یا میں شہ سرخیاں پائے، حسین حقانی نے سفیرکے طور پر تین سال سے زیادہ عرصے تک خدمات انجام دیں، وہ روایتی سفیروں سے مختلف ثابت ہو ئے، دنیا میں سب سے زیادہ امریکا مخالف مقامات میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے کھل کراپنے آپ کو امریکا نواز ثابت کیا۔ اخبار کے مطابق حقانی کی روانگی کے غیر معمولی حالات پاکستان کی نازک اور بے یقینی سیاست کا مظہر ہیں، انہیں عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، اخبار کہتا ہے کہ خفیہ طور پر فوج کی گرفت کو کمزور کرنے کیلئے امریکی معاونت کی درخواست کے غیر مصدقہ الزامات پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی آیس آئی کی طرف سے حسین حقانی پر استعفیٰ دینے کا دباوٴ تھا، حقانی کا عہدہ چھوڑنا واضح کرتا ہے کہ پاکستانی جرنیل سویلین بالادستی کے جمہوری اصول کو قبول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے امریکی پالیسی سازوں کو پاکستان سے تعلقات پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور ان تعلقات کوپہلے سے زیادہ محدود، عملی اور حقیقی بنانا چاہیے۔اخبار کا خیال ہے کہ میمو گیٹ اسکینڈل کی تمام صورت حال، سازش میں حقانی کے ملوث ہونے کے کسی ٹھوس ثبوت کی عدم موجودگی کے باوجود، مائیک مولن کا اس پر کوئی توجہ نہ دینا اور گزشتہ ہفتے میمو کا شائع ہونا بہت سے پاکستانیوں کو یقین دلاتا ہے کہ حقانی ایک غدارہے، پاکستان کیلئے حقانی کی رخصتی بری خبر ہے،کچھ پاکستانی حکام فوج کی مزاحمت اور واشنگٹن کے ساتھ دوستی برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔ اخبار نے الزام لگایا ہے کہ القاعدہ کے ایمن الظواہری اور طالبان کے ملا عمر کا پاکستان میں موجودگی کا یقین کیا جاتا ہے، 18کروڑ نفوس کا ملک دنیا میں سب سے تیز ترین جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر عمل پیرا ہے اور جہادی گروپوں کی آماج گاہ ہے۔امریکا کیلئے پاکستان کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے۔

Comments are closed.