Archive for 24/11/2011

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عازمین حج کے نام اپنے پیغام میں حج کے رموز کا ذکر کیا۔ آپ نے سرزمین وحی میں حاجیوں کی موجودگی کو بہترین موقعہ قرار دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے معروضی حالات کے تحت حج سے بھرپور استفادہ کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ پیغام حج میں قائد انقلاب اسلامی نے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر تاکید کی اور سامراجی طاقتوں کی سازشوں اور اسلام مخالف عزائم کی نشاندہی کرتے ہوئے اہم ترین سفارشات کی ہیں۔ پیغام کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے؛
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله ربّ العالمين وصلوات الله وتحياته على سيد الأنام محمد المصطفى وآله الطيبين وصحبه المنتجبين
اس وقت حج کی بہار اپنی تمام تر روحانی شادابی و پاکیزگی اور خداداد حشمت و شکوہ کے ساتھ آن پہنچی ہے اور ایمان و شوق سے معمور قلوب، کعبہ توحید اور مرکز اتحاد کے گرد پروانہ وار محو پرواز ہیں۔ مکہ، منا، مشعر اور عرفات ان خوش قسمت انسانوں کی منزل قرار پائے ہیں جنہوں نے “واذن فی الناس بالحج” کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خدائے کریم و غفور کی ضیافت میں پہنچ کر سرفراز ہوئے ہیں۔ یہ وہی مبارک مکان اور ہدایت کا سرچشمہ ہے کہ جہاں سے اللہ تعالی کی بین نشانیاں ساطح ہوتی ہیں اور جہاں ہر ایک کے سر پر امن و امان کی چادر کھنچی ہوئی ہے۔ دل کو ذکر و خشوع اور صفاء و پاکیزگي کے زمزم سے غوطہ دیں۔ اپنی بصیرت کی آنکھ کو حضرت حق کی تابندہ آیات پر وا کریں۔ اخلاص و تسلیم پر توجہ مرکوز کریں کہ جو حقیقی بندگی کی علامت ہے۔ اس باپ کی یاد کو جو کمال تسلیم و اطاعت کے ساتھ اپنے اسماعیل کو قربانگاہ تک لے کر گئے، بار بار اپنے دل میں تازہ کیجئے۔ اس طرح اس روشن راستے کو پہچانئے جو رب جلیل کی دوستی کے مقام تک پہنچنے کے لئے ہمارے لئے کھول دیا گیا ہے۔ مومنانہ ہمت اور صادقانہ نیت کے ساتھ اس جادے پر قدم رکھئے۔
مقام ابراہیم انہیں آیات بینات میں سے ایک ہے۔ کعبہ شریف کے پاس ابراہیم علیہ السلام کی قدم گاہ آپ کے مقام و مرتبے کی ایک چھوٹی سی مثال ہے، مقام ابراہیم در حقیقت مقام اخلاص ہے، مقام ایثار ہے، آپ کا مقام تو خواہشات نفسانی، پدرانہ جذبات اور اسی طرح شرک و کفر اور زمانے کے نمرود کے تسلط کے مقابل استقامت و پائيداری کا مقام ہے۔ نجات کے یہ دونوں راستے امت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ہم سب افراد کے سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کی جرئت، بہادری اور محکم ارادہ اسے ان منزلوں کی طرف گامزن کر سکتا ہے جن کی طرف آدم سے لیکر خاتم تک تمام انبیائے الہی نے ہمیں بلایا ہے اور اس راستے پر چلنے والوں کے لئے دنیا و آخرت میں عزت و سعادت کا وعدہ کیا ہے۔ امت مسلمہ کی اس عظیم جلوہ گاہ میں، مناسب ہے کہ حجاج کرام عالم اسلام کے اہم ترین مسائل پر توجہ دیں۔ اس وقت تمام امور میں سرفہرست بعض اہم اسلامی ممالک میں برپا ہونے والا انقلاب اور عوامی قیام ہے۔ گذشتہ سال کے حج اور امسال کے حج کے درمیانی عرصے میں عالم اسلام میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جو امت مسلمہ کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور مادی و روحانی عزت و پیشرفت سے آراستہ ایک روشن مستقبل کی نوید بن سکتے ہیں۔ مصر، تیونس اور لیبیا میں بد عنوان اور دوسروں پر منحصر ڈکٹیٹر تخت اقتدار سے گر چکے ہیں جبکہ بعض دوسرے ممالک میں عوامی انقلاب کی خروشاں لہریں طاقت و دولت کے محلوں کو نابودی و ویرانی کے خطرے سے دوچار کر چکی ہیں۔
ہماری امت کی تاریخ کے اس تازہ باب نے ایسے حقایق آشکارا کئے ہیں جو اللہ کی روشن نشانیاں ہیں اور ہمیں حیات بخش سبق دینے والے ہیں۔ ان حقایق کو اسلامی امہ کے تمام اندازوں اور منصوبوں میں مد نظر رکھا جانا چاہئے۔ سب سے پہلی حقیقت تو یہی ہے کہ جو اقوام کئی دہائیوں سے غیروں کے سیاسی تسلط میں جکڑی ہوئی تھیں ان کے اندر سے ایسی نوجوان نسل سامنے آئی ہے جو اپنے تحسین آمیز جذبہ خود اعتمادی کے ساتھ خطرات سے روبرو ہوئی ہے، جو تسلط پسند طاقتوں کے مقابلے پر آ کھڑی ہوئي ہے اور حالات کو دگرگوں کر دینے پر کمربستہ ہے۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ ان ملکوں میں الحادی فکر کے حکمرانوں کی ریشہ دوانیوں اور تسلط کے باوجود، دین کو مٹا دینے کی خفیہ و آشکارا کوششوں کے باوجود اسلام اپنے پرشکوہ اور نمایاں نفوذ و رسوخ کے ساتھ دلوں اور زبانوں کا رہنما بن گیا ہے اور دسیوں لاکھ کے مجمعے کی گفتار اور کردار میں چشمے کی مانند جاری ہے اور ان کے اجتماعات و طرز عمل کو تازگی اور گرمی حیات عطا کر رہا ہے۔ گلدستہائے آذان، عبادت گاہیں، اللہ اکبر کی صدائیں اور اسلامی نعرے اس حقیقت کی کھلی ہوئی نشانیاں اور تیونس کے حالیہ انتخابات اس حقیقت کی محکم دلیل ہیں۔ بلاشبہ اسلامی ممالک میں جہاں کہیں بھی غیرجانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات ہوں گے نتائج وہی سامنے آئيں گے جو تیونس میں سامنے آئے۔
تیسری حقیقت یہ ہے کہ اس ایک سال کے دوران پیش آنے والے واقعات نے سب پر یہ واضع کر دیا ہے کہ خدائے عزیز و قدیر نے اقوام کے عزم و ارادے میں اتنی طاقت پیدا کر دی ہے کہ کسی دوسری طاقت میں اس کا مقابلہ کرنے کی جرئت و توانائی نہیں ہے۔ اقوام اسی خداداد طاقت کے سہارے اس بات پر قادر ہیں کہ اپنی تقدیر کو بدل دیں اور نصرت الہی کو اپنا مقدر بنا لیں۔
چوتھی حقیقت یہ ہے کہ استکباری حکومتیں اور ان میں سر فہرست امریکی حکومت، کئی دہائیوں سے مختلف سیاسی اور سیکورٹی کے حربوں کے ذریعے خطے کی حکومتوں کو اپنا تابع فرمان بنائے ہوئے تھی اور دنیا کے اس حساس ترین خطے پر بزعم خود اپنے روز افزوں اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی تسلط کے لئے ہر طرح کی رکاوٹوں سے محفوظ راستہ بنانے میں کامیاب ہو گئی تھیں، آج اس خطے کی اقوام کی نفرت و بیزاری کی آماجگاہ بنی ہوئي ہیں۔
ہمیں یہ اطمینان رکھنا چاہئے کہ ان عوامی انقلابوں کے نتیجے میں تشکیل پانے والے نظام ماضی کی شرمناک صورت حال کو تحمل نہیں کریں گے اور اس خطے کا جیو پولیٹیکل رخ قوموں کے ہاتھوں اور ان کے حقیقی وقار و آزادی کے مطابق طے پائے گا۔ ایک اور حقیقت یہ ہے کہ مغربی طاقتوں کی منافقانہ اور عیارانہ طینت اس خطے کے عوام پر آشکارا ہو چکی ہے۔ امریکا اور یورپ نے جہان تک ممکن تھا مصر، تیونس اور لیبیا میں الگ الگ انداز سے اپنے مہروں کو بچانے کی کوشش کی لیکن جب عوام کا ارادہ ان کی مرضی پر بھاری پڑا تو فتحیاب عوام کے لئے عیارانہ انداز میں اپنے ہوٹوں پر دوستی کی مسکراہٹ سجا لی۔ اللہ تعالی کی روشن نشانیاں اور گراں قدر حقایق جو گذشتہ ایک سال کے عرصے میں اس خطے میں رونما ہوئے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں اور صاحبان تدبر و بصیرت کے لئے ان کا مشاہدہ اور ادراک دشوار نہیں ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود تمام امت مسلمہ اور خصوصا قیام کرنے والی اقوام کو دو بنیادی عوامل کی ضرورت ہے:
اول: استقامت کا تسلسل اور محکم ارادوں میں کسی طرح کی بھی اضمحلال سے سخت اجتناب۔ قرآن مجید میں اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے اللہ کا فرمان ہے ” فاستقم کما امرت و من تاب معک و لا تطغوا” اور ” فلذلک فادع و استقم کما امرت” اور حضرت موسی علیہ السلام کی زبانی ” و قال موسی لقومہ استعینوا باللہ و اصبروا، ان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ و العاقبتہ للمتقین” قیام کرنے والی اقوام کے لئے موجودہ زمانے میں تقوی کا سب سے بڑا مصداق یہ ہے کہ اپنی مبارک تحریک کو رکنے نہ دیں اور خود کو اس وقت ملنے والی (وقتی) کامیابیوں پر مطمئن نہ ہونے دیں۔ یہ اس تقوی کا وہ اہم حصہ ہے جسے اپنانے والوں کو نیک انجام کے وعدے سے سرفراز کیا گيا ہے۔
دوم: بین الاقوامی مستکبرین اور ان طاقتوں کے حربوں سے ہوشیار رہنا جن پر ان عوامی انقلابوں سے ضرب پڑی ہے۔ وہ لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہیں جائیں گے بلکہ اپنے تمام تر سیاسی، مالی اور سیکورٹی سے متعلق وسایل کے ساتھ ان ممالک میں اپنے اثر و رسوخ کو بحال کرنے کے لئے میدان میں اتریں گے۔ ان کا ہتھیار لالچ، دھمکی، فریب اور دھوکہ ہے۔ تجربے سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خواص کے طبقے میں بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن پر یہ ہتھیار کارگر ثابت ہوتے ہیں اور خوف، لالچ اور غفلت انہیں شعوری یا لاشعوری طور پر دشمن کی خدمت میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ نوجوانوں، روشنفکر دانشوروں اور علمائے دین کی بیدار آنکھیں پوری توجہ سے اس کا خیال رکھیں۔
اہم ترین خطرہ ان ممالک کے جدید سیاسی نظاموں کی ساخت اور تشکیل میں کفر و استکبار کے محاذ کی مداخلت اوراس کا اثر انداز ہونا ہے۔ وہ اپنی تمام توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ کوشش کریں گے کہ نو تشکیل شدہ نظام، اسلامی اور عوامی تشخص سے عاری رہیں۔ ان ممالک کے تمام مخلص افراد اور وہ تمام لوگ جو اپنے ملک کی عزت و وقار اور پیشرفت و ارتقاء کی آس میں بیٹھے ہیں، اس بات کی کوشش کریں کہ نئے نظام کی عوامی اور اسلامی پہچان پوری طرح یقینی ہو جائے۔ اس پورے مسئلے میں آئین کا کردارسب سے نمایاں ہے۔ قومی اتحاد اور مذہبی، قبایلی و نسلی تنوع کو تسلیم کرنا، آیندہ کامیابیوں کی اہم شرط ہے۔  مصر، تیونس اور لیبیا کی شجاع اور انقلابی قومیں نیز دوسرے ممالک کی بیدار مجاہد اقوام کو یہ جان لینا چاہئے کہ امریکا اور دیگر مغربی مستکبرین کے مظالم اور مکر و فریب سے ان کی نجات کا انحصار اس پر ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن ان کے حق میں قائم ہو۔ مسلمانوں کو دنیا کو ہڑپ جانے کے لئے کوشاں ان طاقتوں سے اپنے تمام مسائل سنجیدگي سے طے کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خود کو ایک عظیم عالمی طاقت میں تبدیل کریں اور یہ اسلامی ممالک کے اتحاد، ہمدلی اور باہمی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ عظیم الشان امام خمینی کی ناقابل فراموش نصیحت بھی ہے۔
امریکا اور نیٹو، خبیث ڈکٹیٹر قذافی کے بہانے کئی ماہ تک لیبیا اور اس کے عوام پر آگ برساتے رہے جبکہ قذافی وہ شخص تھا جو عوام کے جراتمندانہ قیام سے پہلے تک ان (مغربی طاقتوں) کے قریبی ترین دوستوں میں شمار ہوتا تھا، وہ اسے گلے لگائے ہوئے تھیں، اس کی مدد سے لیبیا کی دولت لوٹ رہی تھیں اور اسے بے وقوف بنانے کے لئے اس کے ہاتھ گرم جوشی سے دباتی تھیں یا اس کا بوسہ لیتی تھیں۔ عوام کے انقلاب کے بعد اسی کو بہانہ بنا کر لیبیا کے پورے بنیادی ڈھانچے کو ویران کرکے رکھ دیا۔ کون سی حکومت ہے جس نے نیٹو کو عوام کے قتل عام اور لیبیا کی تباہی جیسے المیے سے روکا ہو؟ جب تک وحشی اور خون خوار مغربی طاقتوں کے پنجے مروڑ نہیں دیئے جاتے اس وقت تک اس طرح کے اندیشے قائم رہیں گے۔ ان خطرات سے نجات، عالم اسلام کا طاقتور بلاک تشکیل دیئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مغرب، امریکا اور صیہونیت ہمیشہ کی نسبت آج زیادہ کمزور ہیں۔ اقتصادی مشکلات، افغانستان و عراق میں پے در پے ناکامیاں، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں عوام کے گہرے اعتراضات جو روز بروز وسیع تر ہو رہے ہیں، فلسطین و لبنان کے عوام کی جانفشانی و مجاہدت، یمن، بحرین اور بعض دوسرے امریکا کے زیر اثر ممالک کے عوام کا جراتمندانہ قیام، یہ سب کچھ امت مسلمہ اور بالخصوص جدید انقلابی ممالک کے لئے بشارتیں ہیں۔ پورے عالم اسلام اور خصوصا مصر، تیونس اور لیبیا کے باایمان خواتین و حضرات نے بین الاقوامی اسلامی طاقت کو وجود میں لانے کے لئے اس موقعہ کا بنحو احسن استعمال کیا۔ تحریکوں کے قائدین اور اہم شخصیات کو چاہئے کہ خداوند عظیم پر توکل اور اس کے وعدہ نصرت و مدد پر اعتماد کریں اور امت مسلمہ کی تاریخ کے اس نئے باب کو اپنے جاودانہ افتخارات سے مزین کریں جو رضائے پروردگار کا باعث اور نصرت الہی کی تمہید ہے۔
والسلام علی عباد اللہ الصالحین, سید علی حسینی خامنہ ای, 5 آبان 1390
29 ذیقعدہ 1432

Advertisements

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ملت ایران کو ایٹم بم کی کوئي ضرورت نہیں ہے اور ایٹم بم کا تعلق ان سے ہے جو تہذیب اور عزت سے عاری ہیں۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کل پاکدشت شہر میں ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوۓ مزید کہا کہ منہ زور طاقتیں جب یہ دیکھتی ہیں کہ ملت ایران ترقی و پیشرفت کے سلسلے میں پر عزم ہے اور اس نے فیصلہ کر رکھا ہےکہ وہ عزت و ترقی کی تمام چوٹیاں سر کر کے رہے گی تو وہ ملت ایران کی ترقی و پیشرفت کے سدراہ ہونے کے لۓ نۓ نۓ بہانے ڈھونڈتی ہیں۔ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے اس سوال کو اٹھاتے ہوۓ کہ ملت ایران کی پرامن ایٹمی ترقی و پیشرفت کے سدراہ کون ہونا چاہتے ہیں کہا کہ جن طاقتوں نے اپنے گوداموں میں ایٹم بموں کے ڈھیر لگا رکھے ہیں وہ ایران پر ایٹم بم کی تیاری کی کوشش کا الزام لگا رہی ہیں۔ صدر مملکت نے اس بات کو بیان کرتے ہوۓ کہ ایران نے بارہا ان کے دعوے کا جواب دیا ہے کہا کہ ملت ایران کو ایٹم بم کی کیا ضرورت ہے ۔ ایٹم بم کا تعلق ان کے ساتھ ہے جنہوں نے امریکہ کے مقامی لوگوں کو نیست و نابود کردیا اور امریکہ کی سرزمین پر قبضہ کرلیا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حکومت بحرین کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے۔ مارک ٹونر نے آل خلیفہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کے ذکر کو کہ مظاہرین کےخلاف حد سے زیادہ تشدد کا استعمال ہوا ہے مثبت قراردیا۔ یاد رہے کہ امریکہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت کا سب سےبڑا حامی ہے کیونکہ بحرین میں امریکہ کی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا اڈہ ہے۔ ادھر بحرین کے انقلابی گروہوں اور عوام نے آل خلیفہ کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو سیاسی رپورٹ قرار دیا ہے۔ بحرین کے ایک انقلابی رہنما فاضل عباس نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ عوام کے خلاف جاری حکومتی تشدد کے بارے میں یہ ایک ناقص رپورٹ ہے اور بحرین کے عوام حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی پر اعتماد نہیں کرتے کیونکہ ملت بحرین کے خلاف آل خلیفہ اور جارح آل سعود کے جرائم اس سے کہیں بڑھ کر ہیں جن کا ذکر رپورٹ میں کیا گيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ اس رپورٹ کو تیارکرنے میں امریکی وزارت خارجہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے مداخلت کی ہے۔ فاضل عباس نے کہا کہ بحرینی عوام اس رپورٹ کو نظر میں لائے بغیر اپنے اہداف حاصل ہونے تک استقامت و پائیداری سے اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔دوسری جانب بحرین کی جمعیت الوفاق نے حکومت کی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد آل خلیفہ کے اقتدار سے ہٹنے کامطالبہ کیا ہے۔ جمعیت الوفاق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت جس کے ہاتھ نہتے عوام کے خون سے رنگے ہیں اور جو عوام کو بری طرح جسمانی ایذائيں پہنچانے اور مساجد کی مسماری کی بھی ذمہ دار ہے، اسے ختم ہونا چاہیے اور اس کی جگہ قومی حکومت قائم ہونی چاہیے۔ اس انقلابی گروہ نے اعلان کیا ہے کہ قومی حکومت موجودہ مجرم حکومت کے خاتمے کے بعد عارضی طور پر ملک کا انتظام چلائے گي اور حقیقی اصلاحات کا آغاز کرے گي۔ جمعیت وفاق ملی نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت کو چاہیے کہ اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لئے اسکے کارندوں کےہاتھوں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کو تاوان ادا کرے، آزادی بیان اور احتجاج کرنے کی آزادی کی ضمانت دے، فوجی عدالت کے احکامات کو کالعدم قراردے اور تمام قیدیوں رہا کرے نیز کام سے نکالے گئے تمام ملازموں کو بحال کر دے۔جمعیت وفاق ملی نے بحرین کے عوامی انقلاب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی عدم مداخلت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ نے بھی بحرین کے داخلی امور میں ایران کی مداخلت کے دعوے کی تردید کر دی ہے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں مظاہرین فوجی حکومت سے استعفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ فوجی حکومت نے طاقت کے استعمال پر عوام سے معافی بھی مانگ لی ہے لیکن عوام قاتلوں کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیںالجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں مظاہرین فوجی حکومت سے  استعفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ فوجی حکومت نے طاقت کے استعمال پر عوام سے معافی بھی مانگ لی ہے لیکن عوام قاتلوں کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں لاکھوں افراد جمع ہیں اور حالیہ مظاہروں میں 30 سے زائد افراد کی ہلاکت اور فوج کی ریفرنڈم کی تجویز پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مصر کے وزیر داخلہ منصور العیسوی نے 28 نومبر کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے۔ ایک اور پیشرفت میں قاہرہ کے پراسیکیوٹر جنرل نے مظاہروں میں حصہ لینے پر تین امریکی طلبہ کو تفتیش کی غرض سے چار روز تک زیر حراست رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تینوں طلبہ قاہرہ کی امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ انہیں پیر کو تحریر اسکوائر میں دیگر مظاہرین کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر ناوی پلے نے مصر کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے واقعات سے متعلق تحقیقات کی جائے۔  ذرائع کے مطابق مصری عوام کو اب فوجی انتظامی کونسل پر اعتماد نہیں رہا کیونکہ فوجی انتظآمی کون سل امریکہ اور سعودی عرب کے زیر سایہ آگئی ہے اور مصری عوام کے انقلاب کو منحرف کرنے کی تلاش و وکشش کررہی ہے

مقتدی صدر نےشام کے خلاف عرب لیگ کے مؤقف پر شدید تنقید کرتے ہوئےکہا ہے کہ عرب لیگ ظلم کی حامی تنظیم ہے۔سائٹ الیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق کے ایک مذہبی سیاسی رہنما مقتدی صدر نےشام کے خلاف عرب لیگ کے حالیہ مؤقف پر شدید تنقید  کرتے ہوئےکہا ہے کہ عرب لیگ ظلم کی حامی تنظیم ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا ہم عدل و انصاف ایک ایسی تنظیم سے چاہتے ہیں جو ظلم کی حامی ہے؟ انھوں نے کہا کہ عرب لیگ علاقہ میں امریکی اور اسرائیل مفادات کے لئے کام کررہی ہے اور اس نے کبھی بھی مسئلہ فلسطین کے بارے میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ واضح رہے کہ عرب لیگ نے حال ہی میں شام کی رکنیت اس لیگ میں معلق کردی تھی۔

بحرین میں تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بحرین میں ایران کی مداخلت کے شواہد نہیں ملے ہیں اور بحرین کی سکیورٹی دستوں نےگرفتار شدہ مظاہرین قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی اور انتہائی توہیں آمیز سلوک جاری ہے۔المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین میں تحقیقاتی اورحقیقت یاب کمیشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ بحرین میں ایران کی مداخلت کے شواہد نہیں ملے ہیں اور بحرین کی سکیورٹی دستوں نےگرفتار شدہ افراد  کے ساتھ غیر انسانی اور انتہائی توہیں آمیز سلوک جاری ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحرینی حکام نے عوام کے ساتھ طاقت کا بے جا استعمال کیا ہے انھوں نے قیدیوں کو شکنجہ دیا ہے اور ان کے حقوق کو واضح طور پر نقض کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحرین میں ایران کی مداخلت کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں اور قیدیوں کے لئے صادر احکام پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ ان احکام میں عدل و انصاف کے بنیادی اصولوں کی رعایت نہیں کی گئی ہے۔

تہران…:…ایرانی پارلیمنٹ میں ایران اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات ختم کرنے کیلئے بل پاس کر لیا گیا۔جمعرات کو غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانیہ کی جانب سے ایران پر لگائی جانے والی نئی مالیاتی پابندیوں کے خلاف ردعمل کے طور پر ایران کی پارلیمنٹ میں اکثریت رائے سے برطانیہ سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کے لئے بل پاس کرلیا گیا ہے۔پارلیمنٹ میں بل کے حق میں ووٹ دینے والے 228 ممبران کاکہنا تھاکہ برطانیہ نے ایران پر نئی مالیاتی پابندیاں عائد کر کے ایک بار پھر اسلام ملک دشمنی کا ثبوت دیاہے۔جبکہ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کمیٹی کے سربراہ نے صدر محمود احمدی نژاد سے تہران میں تعینات برطانوی سفیر ڈومنی چل کوٹ کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

کراچی : مجلس وحدت المسلمین پاکستان کے رہنماوٴں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی قونصل خانے میں بم دھماکہ کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے تفتیش کرائی جائے اس کیس میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کیا جائے ۔ سعودی سفارت خانے اور سفارتکاروں کے قتل میں شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری برداشت نہیں کی جائے گی۔ شہید تابش کیس کی تحقیقات کرکے ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ گرفتار شیعہ نوجوان کو رہا کیا جائے ورنہ ملت جعفریہ اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔ یہ بات مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی ترجمان مولانا حسن ظفر نقوی، مولانا مرزا یوسف، مولانا شیخ حسن صلاح الدین، مولانا شبیہ الحسن، مولانا علی نواز نے بدھ کو امام بارگاہ علی رضا میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت محرم میں جلوس عزا و مجالس کے تحفظ کی سیکورٹی کیلئے خصوصی انتظام کرے۔

کراچی : کمشنر کراچی روشن علی شیخ کی زیرصدارت کمشنر آفس میں علمائے کرام کا اجلاس ہوا جس میں ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی محمد حسین سید، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ایم ڈی مصباح الدین فرید، مولانا محمد اسد تھانوی، مولانا تنویر الحق تھانوی، قاری محمد عثمان اور دیگر مکاتب فکر کے افراد، ڈپٹی کمشنرز، ڈی ایم سیز کے ایڈمنسٹریٹرز، پاکستان رینجرز، پولیس اور دیگر بلدیاتی اداروں کے افسران شریک ہوئے۔ کمشنر کراچی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت امن وسلامتی کیلئے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔ شرپسندی پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ محرم الحرام میں علمائے کرام کی تقریر کو ریکارڈ کیا جائے گا اور لاؤڈ اسپیکر ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ علمائے کرام محرم الحرام میں امن وبھائی چارے کو فروغ دیں اور ملک کی سلامتی کے لئے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر آفس میں سینٹرل کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جسے پانچوں ڈپٹی کمشنرز کے کنٹرول روم کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ محمد حسین سید نے کہا کہ میونسپل عملے کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ شہر میں نازیبا وال چاکنگ وبینرز فوری ہٹائے جائیں۔ پانچوں ڈی ایم سیز سے ہم رابطے میں ہیں۔ فائر بریگیڈ اور ایمبولینس مرکزی جلوس کے ساتھ ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی جلوس اور مین کوریڈورز کو 377 کیمروں کی مدد سے مانیٹر کیا جائے گا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ایسٹ نعیم بروکا نے اجلاس کو بتایا کہ سیکورٹی کے انتظامات کو مکمل کرلیا گیا ہے۔ علمائے کرام محرم الحرام کے لئے قائم کی جانے والی امن کمیٹی کے نام جلد سے جلد انتظامیہ کو فراہم کریں۔ اس موقع پر قاری محمد عثمان نے کہاکہ علمائے کرام امن وامان کے لئے انتظامیہ کی ہر طرح مدد کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اتحاد میں برکت ہے اور اس میں ملک وملت کی سالمیت ہے۔ اس موقع پر قاری اللہ داد نے کہاکہ سب سے محترم مہینہ محرم الحرام ہے نواسہ رسول حضرت امام حسین نے اپنی جان اسلام کی سربلندی کیلئے دی۔ مولانا تنویر الحق تھانوی نے کہاکہ شرپسند عناصر شہر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں جس کیلئے وہ دیواروں پر غیرمہذب کلمات تحریر کر رہے ہیں جس سے دوسرے فرقوں کی دل آزاری ہو رہی ہے۔

کراچی…:…امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے حسین حقانی کی رخصتی پر پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پر شدید تنقیدی رپورٹ شائع کی ہے،اخبار کی رپورٹ کے مطابق حقانی کی رخصتی امریکا کیلئے اسلام آباد کو محدود کرنے کا موقع ہے، امریکا مخالف عوام کے نمائندہ سفیر نے کھل کر اپنے آپ کو امریکا نواز ثابت کیا۔اخبار کے مطابق آئی ایس آئی کی طرف سے حقانی کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، میمو گیٹ تنازع نے عام پاکستانیوں کے نزدیک حقانی کو غدار بنا دیا، پاکستان کیلئے حقانی کی رخصتی بری خبر ہے۔ امریکی اخبار کہتا ہے کہ کرشماتی سفیر کی اچانک رخصتی نے واشنگٹن کیلئے اسلام آباد کو محدود کرنے کاموقع فراہم کیا، یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ کسی سفیر کی رخصتی عالمی میڈ یا میں شہ سرخیاں پائے، حسین حقانی نے سفیرکے طور پر تین سال سے زیادہ عرصے تک خدمات انجام دیں، وہ روایتی سفیروں سے مختلف ثابت ہو ئے، دنیا میں سب سے زیادہ امریکا مخالف مقامات میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے کھل کراپنے آپ کو امریکا نواز ثابت کیا۔ اخبار کے مطابق حقانی کی روانگی کے غیر معمولی حالات پاکستان کی نازک اور بے یقینی سیاست کا مظہر ہیں، انہیں عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، اخبار کہتا ہے کہ خفیہ طور پر فوج کی گرفت کو کمزور کرنے کیلئے امریکی معاونت کی درخواست کے غیر مصدقہ الزامات پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی آیس آئی کی طرف سے حسین حقانی پر استعفیٰ دینے کا دباوٴ تھا، حقانی کا عہدہ چھوڑنا واضح کرتا ہے کہ پاکستانی جرنیل سویلین بالادستی کے جمہوری اصول کو قبول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے امریکی پالیسی سازوں کو پاکستان سے تعلقات پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور ان تعلقات کوپہلے سے زیادہ محدود، عملی اور حقیقی بنانا چاہیے۔اخبار کا خیال ہے کہ میمو گیٹ اسکینڈل کی تمام صورت حال، سازش میں حقانی کے ملوث ہونے کے کسی ٹھوس ثبوت کی عدم موجودگی کے باوجود، مائیک مولن کا اس پر کوئی توجہ نہ دینا اور گزشتہ ہفتے میمو کا شائع ہونا بہت سے پاکستانیوں کو یقین دلاتا ہے کہ حقانی ایک غدارہے، پاکستان کیلئے حقانی کی رخصتی بری خبر ہے،کچھ پاکستانی حکام فوج کی مزاحمت اور واشنگٹن کے ساتھ دوستی برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔ اخبار نے الزام لگایا ہے کہ القاعدہ کے ایمن الظواہری اور طالبان کے ملا عمر کا پاکستان میں موجودگی کا یقین کیا جاتا ہے، 18کروڑ نفوس کا ملک دنیا میں سب سے تیز ترین جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر عمل پیرا ہے اور جہادی گروپوں کی آماج گاہ ہے۔امریکا کیلئے پاکستان کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے۔

ریاض … یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے خلیج تعاون کونسل کی جانب سے پیش کردہ منتقلی اقتدار کے فارمولے کو تسلیم کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں اور اقتدار چھوڑنے کے بعدعلاج کیلئے امریکہ فرار ہوں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں یمنی صدر نے خلیج تعاون کونسل کی جانب سے پیش کردہ معاہدے پر دستخط کر دئیے۔ اس معاہدے کو امریکی حمایت بھی حاصل ہے۔ معاہدے پر دستخط کے بعد صدر صالح کا کہنا تھا کہ اب خلوص کے ساتھ یمن کی تعمیرنو کا عمل شروع ہونا ضروری ہے کیونکہ گزشتہ دس ماہ سے ملک ایک بحران سے گزر رہا ہے۔ معاہدے کے تحت اگلے 90 دنوں کے دوران یمن میں عام پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بتایا کہ علی عبداللہ صالح اقتدار چھوڑنے کے بعدعلاج کیلئے امریکہ فرار ہونگے۔ انہوں نے بتایا کہ علی عبداللہ صالح سے ان کی بات چیت ہوئی ہے، صدر صالح نے بتایا کہ وہ اقتدار چھوڑنے کے بعد علاج کیلئے امریکہ فرار ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیویارک میں علی عبداللہ صالح سے ملاقات ان کیلئے خوشی کا باعث بنے گی۔

اقوام متحدہ…:…لیبیا کے سابق باغیوں نے اب تک سات ہزار کے قریب افراد کو قید کر رکھا ہے جن میں سے بیشتر کا تعلق افریقی ملکوں سے ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں سیکرٹری جنرل بان کی مون کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان میں سے بعض افراد پر تشدد بھی کیا گیا ہے اور خواتین اور بچوں کو بھی مردوں کے ساتھ زیرحراست رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس بات کی اطلاعات ملی ہیں کہ سرت شہر میں باغیوں اور سابق حکومتی فورسز دونوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ یہ رپورٹ پیر کو سلامتی کونسل میں لیبیا سے متعلق ہونے والی ایک بحث کیلئے تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی اس کارروائی کے بعد سپاہ صحابہ کے 100 سے 150 آدمیوں نے امام بارگاہ کے علم مبارک اور ممبر کو نذر آتش کر دیا۔اتوار (20-11-2011) کی صبح 6 بجے محلہ مروہائی، اندرون کوچی بازار پشاور میں واقع امام بارگاہ دیرعباس سے متصلہ سبیل پر محرم الحرام کی آمد پرکام کاج کی غرض تالا کھولنے کے بعد دہشتگرد عناصر سپاہ صحابہ کے چند افراد کی جانب سے بدزبانی، لڑائی اور فائرنگ کی گئی۔ دہشتگردوں کے جواب میں امام بارگاہ کے محافظ نے دفاع میں جوابی کاروائی کی۔ اس کاروائی میں حملہ آوروں کا ایک فرد غلام فاروق موقع پر ہلاک جبکہ اس کا بیٹا شدید زخمی ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی اس کارروائی کے بعد سپاہ صحابہ کے 100 سے 150 آدمیوں نے امام بارگاہ کے علم مبارک اور ممبر کو نذر آتش کر دیا، پولیس کی تاخیری کارروائی کے بعدحملہ آوروں کو امام بارگاہ سے نکالا گیا۔ آخری اطلاعات کے مطابق فرد غلام فاروق کا بیٹا بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ اس وقت شہر کے حالات بہت کشیدہ اور راستے بلاک ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال سے سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے پشاور شہر میں اہل تشیع کے درجنوں افراد شہید کر دئیے لیکن نہ ہی حکومت نے کوئی ایکشن لیا اور نہ ہی کالعدم تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی۔

چوتیسویں انٹرنیشنل حسینیہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ افکار امام حسین علیہ السلام کی پیروی ہی وحدت المسلمین کا پیش خیمہ ہے۔خانہ فرہنگ ایران راولپنڈی اور مرکزی امام حسین کونسل کے زیر اہتمام 34 ویں سالانہ بین الاقوامی حسینیہ کانفرنس سے گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حسین علیہ السلام امن عالم کا استعارہ اور یزید دہشت گردی کی علامت ہے۔ صدارتی خطاب میں گورنر پنجاب نے کہا کہ فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف علماء و مشائخ اور تمام مکاتب فکر اتحاد و وحدت کا مظاہرہ کریں اور حکومت کا ساتھ دیں۔ امام حسین علیہ السلام نے معاشرے میں عدل و انصاف اور سچائی کی خاطر جام شہادت نوش کیا۔  ایران کے ثقافتی اتاشی اور ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ایران راولپنڈی محمود امیر گل نے کہا افکار امام حسین علیہ السلام کی پیروی وحدت المسلمین کا پیش خیمہ ہے۔ آج ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو اتحاد وحدت کے ساتھ اپنی اقدار کی حفاظت کرنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نواسہ رسول ص حضرت امام حسین علیہ السلام کی شخصیت تمام انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔  کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی امام حسین علیہ السلام کے چیئرمین غضنفر مہدی نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی نے اسلام کو دائمی زندگی بخشی۔ علامہ اظہار بخاری نے کہا امام حسین علیہ السلام اور یزید میں اتنا ہی فرق ہے جتنا دہشت گردی اور جہاد میں، علامہ عبدالجلیل نقشبندی نے کہا رسول اکرم ص کی بہت سی احادیث نواسہ رسول ع کی شان میں موجود ہیں جن کا مقصد امت کو ان کے مقام و مرتبہ سے آگاہ کرنا تھا۔ خوشنود علی خان نے کہا کہ محبت حسین علیہ السلام جزو ایمان ہے۔ کانفرنس میں مولانا شمس الرحمان سواتی، سید ساقی شاہ، علامہ حسین احمد، احسان اکبر، محمد رفیق مغل اور دیگر نے خطاب کیا۔

میرپور: سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد نے کہا ہے کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینا بے غیرتی ہے یہ معاملہ قومی اسمبلی ،سینٹ ،صوبائی اسمبلیوں اور آزادکشمیر اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے مسلم کانفرنس پاکستان آزادکشمیر اور پوری دنیا میں اس پالیسی کی مخالفت کرے گی۔ ایک ریڈیو انٹرویو میں سردار عتیق احمد نے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ زرداری حکومت کس سوچ کے تحت بھارت کو پسندیدہ ترین قوم اور ملک قرار دے رہی ہے دوقومی نظریے اور تحریک آزادی کشمیر کو دفن کرکے بھارت یہ چاہتاہے کہ پاکستان میں اپنی فوجی چوکیاں تک قائم کرلے کل پاکستان سے بھارت یہ بھی مطالبہ کرسکتاہے کہ افغانستان کو تجارتی مقاصد کے لیے راستہ فراہم کیا جائے پھر اس کے بعد بھارت یہ بھی کہہ سکتاہے کہ وہ اپنے قیمتی مال کی نگہداشت اپنی سیکیورٹی اور اپنی فوج کے ذریعے کروانا چاہتاہے بات یہاں تک جاسکتی ہے کہ وہ پاکستان کے مختلف شہروںمیں اپنی فوجی چوکیاں قائم کرنے کے لیے بھی بین الاقوامی دباؤ پیدا کرواسکتاہے آزادکشمیر کے رہنے والے لوگ پاکستان کی اس پالیسی کی شدید ترین مخالفت کریں گے ہم نے صدر آصف علی زرداری او رپیپلزپارٹی سے مفاہمت اس لیے کی ہے کہ فضول کے لڑائی جھگڑوں سے گریز کیا جائے اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ قومی مفادات کو نقصان پہنچانے والی پالیسیاں بالاہی بالا بناکر قوم کو اعتماد میں لیے بغیر انہیں ٹھونس دیاجائے سردار عتیق احمد نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز سٹاف کالج کوئٹہ میں چار سو کے قریب فوجی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے اس زہریلی پالیسی کو نظریہ پاکستان کا خطرناک ترین دشمن قرار دیا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ میرے ذاتی سطح پر آصف علی زرداری ،میاں محمد نوازشریف ،عمران خان ،اسفندیار ولی ،منور حسین ،الطاف حسین ،چوہدری عبدالمجید ،بیرسٹر سلطان محمود ،سردار سکندر حیات ،راجہ فاروق حیدر ،خالد ابراہیم سے لے کر پوری قومی قیادت کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں لیکن ان تعلقات کا یہ مقصد ہر گزنہیں ہے کہ وہ پالیسیاں جو پاکستانی اور کشمیری قوم کا بیٹرا غرق کرسکتی ہیں اس پر ہم چپ رہیں میں اس سلسلہ میں چاروں صوبوں او رآزادکشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹر ز کا دور ہ کررہاہوں اور میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتاہوں کہ اگر آپ نے بھارت سے دوستی کرنی ہی ہے تو کشمیر کی قربانی دینے کی بجائے سیاچین ،سرکریک،گلگت بلتستان ،لداخ ،دریاؤں کے پانی کے مسئلے سے لیکر دیگر مسائل کے حوالے سے سوچا جائے بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور لاکھوں کشمیریوں نے صرف ا ور صرف آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں بھارت سے تجارت پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے اور بھارت سے تجارت کرکے پاکستانی صنعتوں کو دفن کردیا جائے گا بھارت ایک بڑی اقتصادی قوت ہے اور پاکستان اس کا صنعتی میدان میں مقابلہ نہیں کرسکتا سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ پہلے بھی بھارت نے پاکستان کے ساتھ تجارت کی تھی اور کھانے پینے کی جو اشیاء بھارت نے پاکستان بھیجی تھیں وہ مضر صحت تھیں ہم خود کشی پر مبنی یہ کام نہیں ہونے دیں گے

یروشلم: اسرائیلی سابق وزیر دفاع بنیامن بن الیگڈور کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور مصر کے درمیان کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حالیہ ابتر صورتحال میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا چھڑ جانا کسی طرح بھی بعید از امکان نہیں۔ بن الیگڈور کا یہ بیان اسرائیلی چیف آف جنرل سٹاف کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اسرائیلی فوجی سربراہ نے مصر کے اسرائیل سے ملحق علاقے صحرائے سینا میں مسلح سرگرمیوں کے تناظر میں اسرائیل کی اسٹریٹجی ہونے کا عندیہ دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ آج اسرائیل چاروں اطراف سے زلزلے اور طوفان کی زد میں آچکا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سابق اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ مصر میں اسلام پسند جماعت اخوان المسلمین کے انتخابات میں کامیابی کے امکانات رون ہیں۔ ان کے مطابق اخوان المسلمین پہلی مرتبہ مصری پارلیمان میں کم از کم ایک تہائی نشستیں حاصل کر لے گی جس کے بعد مصری نظام حکومت کیسا ہوگا اس کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ تاہم اسرائیل کو سمجھ لینا چاہیے کہ عنقریب اسے مصر کے ساتھ جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے صحرائے سینا کو دہشت گردی کا اڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقے نے ہمیشہ اسرائیل کو خطرات سے دو چار کیا ہے

عمان :اردن کی القدس تحفظ کمیٹی نے اردن کی فلسطین سے ملحق سرحد کی جانب ملین مارچ کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ پچیس نومبر جمعہ کے روز ہونے والے اس ملین مارچ میں اردن کے طول و عرض کے تمام علاقوں سے شہری القدس سے 22 کلومیٹر اور فلسطینی سرحد سے ایک کلومیٹر دور علاقے سویمہ پہنچیں گے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ملین مارچ کا انتظام کرنے والی اردنی تنظیم نے گزشتہ روزذرائع ابلاغ کے لیے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ القدس ملین مارچ کے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ جمعہ کے روز ہونے والے اس مارچ میں اردنی شہری سویمہ کے علاقے میں پہنچ کر ہی نماز جمعہ ادا کریں گے۔ تنظیم نے بتایا کہ اردن کے تمام اضلاع میں القدس تحفظ ریلی کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ہر ضلع سے ہزاروں افراد نے مارچ میں شرکت کیلیے اپنے نام رجسٹرڈ کروائے ہیں۔ منتظمین نے بتایا کہ اردن کے مختلف علاقوں سے ایک ہزار سے زائد بسوں کو مارچ کے شرکاء کے لیے مختص کر لیا گیا ہے۔ اردنی قوم ہمیشہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے فلسطینی قوم کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پچیس نومبر کو ہونے والا یہ اجتماع اردن کے لیے تاریخی حیثیت کا حامل ہو گا، عنقریب اردن انشا اللہ یہ مارچ مسجد اقصی تک بھی پہنچ جائے گا۔

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطین کی نمائندہ مذہبی، سیاسی اور قومی شخصیات نے خبردار کیا ہے کہ اگراسرائیل یا یہودیوں کے ہاتھوں قبلہ اول کو نقصان پہنچا تو ایک لا متناہی جنگ چھڑ جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پرعائد ہو گی۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ممتاز فلسطینی مذہبی شخصیات، علما اور اسلامی اسکالرزنے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں مسجد اقصی اور بیت المقدس کو یہودیوں کی طرف سے درپیش خطرات پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک سازش کے تحت مسجد اقصی کے تاریخی دروازے”باب المغاربہ”کو شہید کر کے اس کے سامنے ایک پل تعمیر کرنا چاہتا ہے ،جس کا مقصد یہودیوں کی قبلہ اول تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔ لیکن وہ اسرائیل کی اس سازش کے پس پردہ چھپے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں اور مراکشی دروازے کو مسمار کر کے اس کی جگہ پل کی تعمیر کی اجازت نہیں دیں گے۔فلسطین کی ممتاز شخصیات جن میں مفتی القدس شیخ محمد حسین، فلسطین کی سپریم اسلامک کمیٹی کے چیئرمین الشیخ ڈاکٹرعکرمہ صبری، سپریم عوامی کمیٹی کے سربراہ شیخ ابراہیم صرصور سمیت کئی دیگر اعلی شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ محمد حسین نے کہا کہ مسجد اقصی کیخلاف سازشیں اسلام اور مسلمانوں کیخلاف سازشوں کے مترادف ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے کی سازش آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔مسجد اقصی کے امام و خطیب شیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک منظم منصوبے کے تحت مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیت میں تبدیل کر کے اسے مسلمانوں اور فلسطینیوں سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ مسجد اقصی میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں

 

متنازعہ میمو گیٹ اسکینڈل کے معاملے میں حسین حقانی کے استعفے کے بعد سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شیری رحمٰن کو واشنگٹن میں پاکستان کی نئی سفیر تعینات کر دیا گیا ہے۔شیری رحمٰن کا اصل نام شیر بانو رحمٰن ہے ۔ وہ اکیس دسمبر 1960ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ شیری رحمٰن نے ملکی اور غیر ملکی تعلیمی اداروں سے آرٹ، تاریخ اور پولیٹیکل سائنس کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت سے پہلے 20 سال تک بطور صحافی مختلف اداروں میں کام کیا۔ وہ پہلی پاکستانی خاتون صحافی ہیں، جنہیں برطانوی ہاؤس آف لارڈز کی طرف سے آزادی صحافت کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔شیری رحمٰن 2002 سے 2007ء تک اور پھر 2008ء میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کی جانب سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ 31 مارچ 2008ء کو انہیں وفاقی وزیر اطلاعات بنایا گیا لیکن ایک سال بعد حکومت سے اختلافات کی بنیاد پر انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہیں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے لیے ایک پارلیمانی بل پیش کرنے پر سخت گیر مذہبی حلقوں کی جانب سے جان سے مار دیے جانے کی دھمکیاں بھی مل چکی ہیں۔پاکستان کے معروف صحافی طلعت حسین نے شیری رحمٰن کے بطور سفیر نامزد کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اس میں میرٹ زیادہ نظر آتا ہے کیونکہ شیری رحمٰن پاکستان کے نظام اور سیاست کو بہتر سمجھتی ہیں اور پچھلے چند سالوں سے وہ خارجہ امور پر بھی بہت توجہ دے رہی تھیں۔ ان کا اپنا ایک ادارہ ہے، جناح انسٹیٹیوٹ کے نام سے۔ بھارت کے ساتھ بڑے پیمانے پر وہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں بھی شامل ہیں اور بنکاک میں بات چیت کے کئی دور بھی کروا چکی ہیں۔‘‘امریکہ میں حسین حقانی کی جانشین کے طور پر شیری رحمٰن کی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے طلعت حسین نے کہا، ’’شیری رحمٰن کے تعلقات جی ایچ کیو کے ساتھ بھی بہتر ہیں۔ وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور جنرل ہیڈ کوارٹرز میں لیکچرز بھی  دیتی رہتی ہیں۔‘‘ادھر بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ شیری رحمٰن کی جگہ اگر کسی پیشہ ور سفارت کار کو امریکہ میں پاکستان کا نیا سفیر نامزد کیا جاتا تو وہ زیادہ بہتر فیصلہ ہوتا۔ تاہم مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی ایاز امیر کا اس بارے میں کہنا ہے، ’’ایسے دارالحکومتوں میں کیریئر ڈپلومیٹ ہونے چاہیئں۔ جیسا کہ بھارت بھی کرتا ہے۔ وہ سیاسی تعیناتیاں نہیں کرتے۔ لیکن ہمارے جو پیشہ ور سفارت کار ہیں، وہ اتنے متاثر کن نہیں رہے۔‘‘ عوامی مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے اس بارے میں کہا، ’’میں نہیں سمجھتا کہ شیری رحمٰن کی تقرری پر کسی کو اعتراض ہوگا، ان حلقوں میں جہاں حسین حقانی کے معاملے میں شدید اختلاف پایا جاتا تھا۔ پی پی پی کے مفاد کے لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو یہ کوئی بری چوائس نہیں۔ وہ رائٹر بھی رہی ہیں، انفارمیشن منسٹر بھی رہی ہیں۔ سیاسی تعیناتی کے لیے ان سے بہتر کوئی چوائس نہیں ہو سکتی تھی۔‘‘’میمو گیٹ‘ کے بارے میں آئینی درخواست حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن نے بدھ کے روز میمو گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کر دی۔ سینئر وکیل فخر الدین جی ابراہیم کے ذریعے دائر کی گئی اس درخواست میں صدر، وفاق پاکستان، آرمی چیف، حسین حقانی، منصور اعجاز، سیکرٹری خارجہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کو فریق بنایا گیا ہے۔ اس درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس فوری اہمیت کے معاملے کے لیے عدالت اپنا کردار ادا کرے۔ ’میمو گیٹ‘ تحقیقات پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ روز حسین حقانی سے استعفیٰ طلب کرتے ہوئے میمو گیٹ اسکینڈل کی شفاف اور غیر متعصبانہ تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔ تاہم سرکاری طور پر ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ تحقیقات کس نوعیت کی ہوں گی اور یہ عمل کون، کب شروع کرے گا۔ البتہ مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش میں ہیں کہ ڈی جی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز لیفٹیننٹ جنرل آصف اس معاملے کی تحقیقات کے لیے امریکہ جائیں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد آصف ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی سے بریفنگ لینے کے علاوہ امریکہ کے عسکری حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ حقانی کی سکیورٹی سخت: بطور سفیر مستعفی ہونے کے بعد حسین حقانی کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ حسین حقانی اور ان کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی نے میمو گیٹ اسکینڈل کا انکشاف کرنے والے پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ قانونی چارہ جوئی کب شروع کی جائے گی۔

امریکہ میں صدارتی انتخاب کے لیے ری پبلکن امیدواروں نے پاکستانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واشنگٹن پر اسلام آباد کی امداد میں کٹوتی کے لیے زور دیا ہے۔امریکی صدارتی انتخابات اگلے سال نومبر میں ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں امیدواروں کی مہم جاری ہے جو خارجہ تعلقات، داخلہ امور، اقتصادیات، سلامتی اور دیگر معاملات پر مرحلہ وار مباحثوں میں اپنا اپنا مؤقف امریکی عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک ری پبلکن امیدوار ریک پیری نے جو ریاست ٹیکساس کے گورنر ہیں، پاکستانی حکام کو ناقابل بھروسہ قرار دیا ہے۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا، ”بنیادی بات یہ ہے کہ کئی مواقعے پر وہ دکھا چکے ہیں کہ اُن پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، جب تک پاکستانی اس بات کی ضمانت نہیں دیتے کہ امریکہ کا بہترین مفاد اُن کے ذہن میں ہے، میں انہیں ایک پینی بھی نہیں دوں گا۔”امریکہ پر 11 ستمبر کے حملوں کے بعد سے واشنگٹن اور اسلام آباد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریبی اتحادی ہیں۔ اس قربت میں اسلام آباد طویل عرصے سے اس لیے خود کو دباؤ میں محسوس کر رہا ہے کہ واشنگٹن اسے بعض عسکریت پسندوں کے ساتھ خفیہ روابط کے سلسلے میں شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں امریکی فوج نے پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں خفیہ کارروائی کرکے القاعدہ کے لیڈر اُسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔  اس واقعے کے بعد سے دو طرفہ تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔صدارتی مہم کے سلسلے میں سابق امریکی سفارتکار جون ہنٹسمین کا کہنا تھا پاکستان کی جانب سے ‘لاحق خطرات’ بہرحال ایک بڑی تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا، ” یہی وہ ملک ہے جو آپ کو راتوں کو جگائے رکھتا ہے، اس کے پاس ایک سو سے زائد جوہری ہتھیار ہیں، اس کی سرحد پر مسئلہ ہے اور یہ ایک ناکام ریاست میں بدلنے کے دہانے پر ہے۔”  کانگریس کی رکن مائیکل باخمن کا اس سلسلے میں کہنا تھا، ” یہ ایک انتہائی غیر مستحکم ریاست ہے اور اس حقیقت کو بہت زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں”۔ ان کے بقول اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ القاعدہ کے دہشت گرد یہ جوہری ہتھیار حاصل کرلیں اور پھر یہ نیویارک اور واشنگٹن تک پہنچ جائیں۔ انہوں نے پاکستان کو ملنے والی اربوں ڈالر کی امداد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ”ہمیں مزید مطالبات منوانے چاہییں، ہم اس وقت جو رقم پاکستان کو بھیج رہے ہیں وہ بنیادی طور پر انٹیلی جنس سے متعلق ہے، ہمارا جو بھی عمل ہو وہ آخرکار امریکہ کی سلامتی کے لیے ہونا چاہیے۔”سابق اسپیکر نیوٹ گینگرِش Newt Gingrich کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات بڑی حد تک بدل چکے ہیں۔ ” امریکی دفتر خارجہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرکے پاکستانیوں سے کہا جائے کہ یا تو ہماری مدد کرو، یا ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ مگر اُس وقت شکایت مت کرو جب ہم ایسے لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں، جن کا تم اپنی سرزمین پر تعاقب نہیں کرنا چاہتے۔”ان صدارتی امیدواروں کی طرح بعض دیگر امریکی سیاستدان بھی امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق اپنے بیانات میں اسلام آباد حکومت کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں۔