کیانی، پاشا کو سخت پیغام دیا جائے، مولن کو لکھا مبینہ خط منظر عام پر

Posted: 23/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

خط میں کہا گیا اگر امریکا پاکستان کی سیاسی حکومت کی مدد کرے تو موجودہ سکیورٹی ٹیم کو ہٹا کر امریکا کی مشاورت سے ایک نئی اور قابل اعتماد ٹیم تشکیل دی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں صدر اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے بارے میں تحقیقات کیلئے آزاد کمیشن قائم کریں گے۔پاکستانی بزنس مین منصور اعجاز کی جانب سے جنرل مائیک مولن کو دیا جانا والا مراسلہ منظر عام پر آ گیا ہے۔ خط میں مبینہ طور پر صدر زرداری کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکا جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو سخت پیغام دے۔ دس مئی کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل مائیک مولن کے حوالے کیے جانے والے مراسلے میں کہا گیا کہ دو مئی کے آپریشن کے بعد ملک میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ خط میں لکھا گیا کہ سول حکومت فوج کا دباؤ برداشت نہیں کر سکتی، لیکن اگر سیاسی حکومت کو ہٹایا گیا تو پاکستان القاعدہ کا محفوظ ٹھکانہ بن جائے گا۔ اسامہ بن لادن کے معاملے پر فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر سول بالا دستی کا نادر موقع ہے۔مائیک مولن سے درخواست کی گئی کہ وہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو سخت پیغام دیں اور ان سے کہا جائے کہ وہ فوجی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کنٹرول کریں۔ خط میں کہا گیا اگر امریکا پاکستان کی سیاسی حکومت کی مدد کرے تو موجودہ سکیورٹی ٹیم کو ہٹا کر امریکا کی مشاورت سے ایک نئی اور قابل اعتماد ٹیم تشکیل دی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں صدر اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے بارے میں تحقیقات کیلئے آزاد کمیشن قائم کریں گے۔ کمیشن کی تحقیقات کی روشنی میں اسامہ بن لادن کو پاکستان میں پناہ گاہ فراہم کرنے والے اور اس کی مدد کرنے والے سول، فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کے حکام کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کر دیا جائے گا۔ نئی سکیورٹی ٹیم القاعدہ کی قیادت، ملا عمر اور سراج الدین حقانی جیسے افراد کے خلاف کارروائی کرے گی یا پھر امریکا کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت دی جائے گی۔ خط میں کہا گیا فوجی قیادت جان گئی ہے کہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی کی مدد سے امریکی ہیلی کاپٹر اور طیارے جب چاہیں کسی کی نظر میں آئے بغیر پاکستان کی فضاؤں میں آ سکتے ہیں۔ انہیں یہ خوف ہے کہ اب امریکا پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ خط میں پیشکش کی گئی کہ سول حکومت کی حمایت یافتہ سکیورٹی ٹیم ایٹمی پروگرام کیلئے قابل قبول فریم ورک یا ضابطہ تیار کرے گی۔ نئی سکیورٹی ٹیم آئی ایس آئی کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کرے گی، جس کے بعد وہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلقات نہیں رکھ سکے گی۔ نئی پالیسی کے تحت ممبئی حملوں کے ملزموں کو سزا دی جائے گی اور بھارت میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کو اس کے حوالے کیا جائے گا۔

Comments are closed.