کراچی:پولیس نے شیعہ بے گناہ نوجوان کا جسمانی ریمانڈ لے لیا

Posted: 23/11/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

زیر حراست بے گناہ شیعہ نوجوان ذکی کاظمی عرف کامران جس پر کے پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ سعودی سفارت خانے پر حملے میں ملوث ہے کا آج عدالت سے ۷روز کا جسمانی ریمانڈ لے لیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق کرائم برانچ آف پولیس نے پیر کے روز عدالت سے بے گناہ شیعہ نوجوان ذکی کاظمی پر سعودی سفارتخانے پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے ۷ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کرائم برانچ آف پولیس نے بے گنا ہ شیعہ نوجوان ذکی کاظمی کو نئے ایڈمنسٹریٹو جج برائے انسداد دہشت گردی کی عدالت جسٹس فیصل عرب کی عدالت میں پیش کیا،جہاں پولیس نے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ شیعہ نوجوان ذکی کاظمی کا تعلق کالعدم تنظیم ’’لشکر مہدی‘‘ سے ہے اور وہ مسجد پر حملہ سمیت فرقہ وارانہ کلنگ میں بھی ملوث ہے ۔کرائم برانچ آف پولیس نے عدالت سے درخواست کی کہ تفتیش کے لئے ذکی کاظمی کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے جس پر عدالے نے مورخہ ۲۸ نومبر تک پولیس کو ریمانڈ دے دیا۔واضح رہے کہ پولیس پہلے ہی دو شیعہ بے گناہ نوجوانوں محسن اور محمد علی کاظمی کو فرقہ وارانہ دہشتگردی کے الزام میں پھنسانے کے لئے دونوں کا ریمانڈلے چکی ہے ،جبکہ پولیس نے ۱۶ نومبر کو ذکی کاظمی،محسن،محمد علی کاظمی ،صفدر اور تابش کو ان کے گھروں گلبرگ،بفرزون اور گلستان جوہر سے گرفتار کیا تھا جبکہ گرفتار کئے گئے شیعہ نوجوانوں میں سے تابش حسین ولد توفیق حسین کو پولیس نے اتوار کے روز ۲۰ نومبر کو جھوٹے پولیس مقابلے میں گولی مار کر شہید کر دیا ہے اور شہید پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سعودی سفارتخانے پر بم حملے کا بنیادی کردار تھا۔دوسری جانب پولیس انتظامیہ نے کہا ہے کہ پولیس نے گلستان جوہر کے علاقے رابعہ سٹی میں تابش حسین وعرف آصف کے ساتھیوں محسن،ذکی کاظمی ،محمد علی کاظمی اور صفدر کی مدد سے کاروائی کی جہاں پولیس مقابلے میں تابش حسین شہید ہو گیا۔جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں کو صبح عید گاہ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔دوسری جانب پولیس نے ایک بے گناہ شیعہ نوجوان صفدر عباس کو ثبوتوں کی عد م فراہمی کی بناء پر رہا کر دیاہے ،جبکہ معروف شیعہ عالم دین مولانا حسن ظفر کاکہناہے کہ وہ تمام شیعہ نوجوانوں کی رہائی کے لئے پولیس اور حکومتی اہلکاروں سے رابطے میں ہیں تاکہ بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔

Comments are closed.