مستعفی اطالوی وزير اعظم برلسکونی پر مقدمات

Posted: 23/11/2011 in All News, Important News, Russia & Central Asia, Survey / Research / Science News, USA & Europe

حال ہی ميں مستعفی ہو جانے والے اطالوی وزير اعظم سلویو بيرلسکونی پر دائر ايک مقدمے کی سماعت آج سے پھر شروع ہو گئی ہے۔ اگلے دنوں اور ہفتوں کے دوران سابق وزير اعظم پر مزيد مقدمات بھی قائم ہوں گے۔ابھی چند ہی ہفتے پہلے کی بات ہے کہ اٹلی کے سابق وزير اعظم سلويو بيرلسکونی کواُن پرعائد بہت سے مقدمات کے سلسلے ميں عدالتی پيشی سے بچنے کے ليے برسلز کی سربراہی کانفرنس يا کسی اور اہم سرکاری مصروفيت کا عذر پيش کرنے کا موقع حاصل تھا۔ ويسے بھی وہ ہميشہ يہی کہتے ہيں کہ اُن پر زيادتی ہو رہی ہے اور اطالوی عدليہ انہيں نشانہ بنائے ہوئے ہے۔  شہر ميلان کی عدالت ميں برلسکونی کے خلاف عدالتی کارروائی کی وجہ ان پر يہ الزام ہے کہ انہوں نے مراکش کی ايک کم عمر لڑکی روبی  کے ساتھ جنسی روابط رکھے تھے۔ دسمبر سے اس کيس ميں گواہوں کے بيانات ليے جائيں گے۔ اس کے بعد يہ اندازہ لگايا جا سکے گا کہ برلسکونی کی کوٹھی ميں شام کے اوقات ميں کيا کچھ ہوا کرتا تھا۔ دفاع کے گواہوں ميں ايک امريکی اداکار جارج کلُونی بھی شامل ہوں گے۔اندازہ ہے کہ روبی کيس ميں ابھی ايسی اور بہت سی تفصيلات بھی سامنے آئيں گی، جو برلسکونی کے ليے شرمندگی کا باعث ہوں گی۔ ليکن سابق وزير اعظم پر کوئی جرم ثابت کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔ ايک اور کيس اس سے بھی زيادہ خطرناک ہے۔ اس ميں برلسکونی پر ايک گواہ کو رشوت دينے کا الزام ہے۔ اس کيس کی اگلی پيشی آئندہ پير کو ہے اور يہ تقريباً اختتام  تک پہنچ چکا ہے۔ ارب پتی سابق اطالوی وزير اعظم اب اپنی سرکاری مصروفيات کی آڑ ليتے ہوئے اس کيس کو بھی مزيد طول نہيں دے سکتے۔ اخبار لا استامپا کے صحافی فيدريکو گريميکا کا کہنا ہے کہ برليسکونی کو بہت خوف ہے کہ انہيں کہيں جيل نہ جانا پڑ جائے: ) او ۔ ٹون 3 ( ’’انہيں يہ خوف ہے۔ ميرے خيال ميں يہ نئی حکومت کے بارے ميں مذاکرات کا موضوع بھی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ برلسکونی نے حکومت ميں تبديلی پر اُس وقت رضامندی ظاہر کی، جب اُن سے اُن کے سياسی مستقبل اور مقدمات کے بارے ميں وعدے کر ليے گئے۔‘‘اطالوی قانون کے مطابق 75 سالہ برلسکونی جيل جانے کے ليے بہت بوڑھے ہو چکے ہيں۔

Comments are closed.