شیعہ مسلمان آل سعود کے تعصب کا شکار

Posted: 23/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Religious / Celebrating News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

سعودی عرب میں بھی عوامی انقلاب کی آہٹیں سنائي دے رہی ہیں جس کے خوف سے آل سعود نے انسانی حقوق کی کھلے عام خلاف ورزی کرتےہوئے ایک سو دس شیعہ مسلمانوں کو ملک بدر کردیا ہے۔ المستقبل العراقی ویب سائٹ کے مطابق ایک سو دس سعودی شیعہ مسلمانوں کو قطر کے طیارے کے ذریعے سعودی عرب سے نکالا دیا گيا ہے۔ سعودی حکام کا یہ غیر اخلاقی اقدام ایسے حالات میں سامنے آيا ہے کہ اس ملک کے مشرقی علاقوں میں اسلامی بیداری کی نشانیاں سامنے آئی ہیں اور عوام نے اپنے حقوق کے حصول نیز قیدیوں کی رہائي کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے ہیں ۔ سعودی عرب میں شیعہ مسلمان گرچہ دس سے پندرہ فیصد تک ہیں لیکن انہیں وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں بلکہ ان کےساتھ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے۔ اس کےعلاوہ شیعہ مسلمانوں کو سرکاری عھدوں پر نہیں رکھا جاتا یا بہت ہی کم رکھا جاتا ہے۔ شیعہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ حکومت نے ان کے مذہبی امور پر پابندیاں لگا رکھی ہیں اور انہیں مساجد میں بھی نماز جماعت ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ شیعہ مسلمانوں کے ساتھ سعودی حکومت کے رویے میں جو چیز نہایت منفی ہے وہ شیعہ مسلمانوں کے تعلق سے سعودی حکومت کی فرقہ وارانہ نظر ہے۔ یہ نظر انتھا پسند وہابی فکر کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہے جس کی مضبوط گرفت میں سعودی حکومت اور آل سعود ہے۔ وہابیوں نے سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کی زندگي اجیرن بنادی ہے اور ان پر ہر سطح پر روک ٹوک دیکھی جاسکتی ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق اس وقت آل سعود کی کال کوٹھریوں میں تیس ہزار سیاسی قیدی ہیں جن میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے۔ یہ بات تک کہی گئی ہے کہ شیعوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کےلئے مشرقی علاقے کے افراد کو حج کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ سعودی حکام نے اس طرح سے شیعہ مسلمانوں کو عالم اسلام سے آئے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ رابط قائم کرنے اور انہيں اپنے حالات سے سے آگاہ کرنے سے روکے رکھا۔ گذشتہ مہینوں میں سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں عوام نے اپنے پامال شدہ حقوق کا مطالبہ کرنے کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے ہیں جس سے آل سعود کو شدید تشویش لاحق ہوچکی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں جو دوہفتے قبل نشر ہوئي ہے کہا ہے کہ آٹھ مہینوں میں سعودی حکومت نے ایک سو ساٹھ سیاسی کارکنوں کوگرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ہے، اور ان میں زیادہ ترتعداد شیعہ مسلمانوں کی ہے۔ قابل ذکر ہے علاقے کے حالات کچھ ایسا موڑ لے رہے ہیں کہ ظالم حکام کی تشدد پسند پالیسیاں عوامی ریلے کو نہیں روک پائيں گي کیونکہ اب قومیں اپنے ضایع شدہ حقوق کی بازیابی کے لئے اٹھ کھڑی ہوئي ہیں۔ موجودہ دور نہ صرف علاقے کی قوموں بلکہ عرب حکام کے لئے بڑا حساس ہے اور سعودی عرب و اردن جیسے ممالک جہاں شاہی حکومتیں ہیں انہیں سب سے زیادہ تشویش لاحق ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ علاقے کی شاہی حکومتوں کو احساس ہوچکا ہے کہ جن ملکوں کو مستحکم قرادیا جاتا تھا ان میں بھی اب اسلامی بیداری کی موجوں سے لرزہ چھا رہا ہے اور یہ سعودی عرب اور اردن کی شاہی حکومتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے کہ اگر انہوں نے اپنے عوام کے مطالبات کو نظر انداز کیا تو ان کا انجام اتنا گھناونا ہوگا کہ جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔

Comments are closed.