شیعہ علماء کونسل پنجاب کا اہم ہنگامی اجلاس، پنجاب بھر سے اضلاع کی شرکت۔

Posted: 23/11/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

ملتان: اہم صوبائی اجلاس میں ایم ایم اے کی بحالی کے امکانات، موجودہ حالات میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کا کردار اور آمدہ انتخابات میں ملت تشیع کے کلیدی کردار کو مزید مضبوط اور طاقتور بنانے کے حوالے سے موضوعات پر طویل بحث کی گئی شیعہ علماء کونسل پنجاب کا ایک اہم صوبائی اجلاس گذشتہ روز جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ شیعہ میانی ملتان میں منعقد ہوا، جس کی صدارت شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید عبدالجلیل نقوی کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبائی نائب صدر مولانا آغا عظمت علی نے کی، جبکہ مرکزی نائب صدر اور عالم اسلام کے معروف مبلغ استاذ العلماء علامہ سید محمد تقی نقوی مہمان خصوصی تھے۔ اجلاس میں اراکین صوبائی کابینہ چوہدری فدا حسین گھلوی، سید ایم ایچ بخاری، سید اظہار نقوی، سردار کاظم علی خان حیدری، مہر قیصر عباس دادوآنہ، فضل عباس جنجوعہ اور دیگر نے شرکت کی۔ پنجاب میں شیعہ علماء کونسل کے ڈویژنل صدور و سیکریٹریز اور ضلعی صدور و جنرل سیکریٹریز کے علاوہ جعفریہ یوتھ اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نمائندگان بھی شریک تھے۔ جبکہ علامہ سید علی اصغر نقوی وائس پرنسپل جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ ملتان نے خصوصی طور پر تربیتی اور اخلاقی تعمیر کے موضوع پر پُرمغز درس دیا۔
اہم صوبائی اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں ملت جعفریہ کا کردار، سیاسی جماعتوں کے روابط اور مذاکرات کی کیفیت، ایم ایم اے کی بحالی کے امکانات، موجودہ حالات میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کا کردار اور آمدہ انتخابات میں ملت تشیع کے کلیدی کردار کو مزید مضبوط اور طاقتور بنانے کے حوالے سے موضوعات پر طویل بحث کی گئی اور اہم فیصلہ جات کئے گئے۔ جبکہ آمدہ انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے حوالے سے بھی متعدد معاملات طے کئے گئے۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب نے ملک میں مکتب تشیع کے پیروکاروں کے خلاف جاری دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے بھیانک اور ملکی امن وامان برباد کرنے کے سلسلے پر سخت تشویش کرتے ہوئے سپریم کورٹ اور مقتدر قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں اور ملک کے عمومی اور نچلی سطح کے مسائل پر توانائیاں صرف کرنے کی بجائے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جیسے خونی سیلاب کو روکنے کے لیے اقدامات کا اعلان کریں۔ کیونکہ یہ دونوں مسائل اعلی عدلیہ اور مقتدر قوتوں کے سارے کارناموں اور زحمات و خدمات کو داغدار کر رہے ہیں۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذکورہ دونوں مسائل سے متاثرہ لوگ بھی اب مایوسی کی انتہاء کو پہنچ چکے ہیں جس کا ادراک کرنا اور اندازہ لگانا اعلی عدلیہ اور مقتدر قوتوں کی اولین ذمہ داری ہے تاکہ ملک کو خانہ جنگی اور فتنہ و فساد سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اجلاس میں محرم الحرام میں مجالس و جلوس ہائے عزاء کے انعقاد میں حائل سرکاری اور فرقہ وارانہ رکاوٹوں کا بھی بغور جائزہ لیا گیا اور مختلف ضلعی صدور کی طرف سے پیش کئے گئے تحفظات اور مطالبات کی روشنی میں طے کیا گیا کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے بھرپور رابطہ کرکے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اور عزاداری کے انعقاد کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ البتہ امن و امان کے قیام اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کے لیے انتظامیہ اور دینی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور معاونت کی جائے گی اس حوالے سے امن کمیٹیوں اور اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں کے کردار کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا جائے گا۔ شیعہ علماء کونسل کے اجلاس میں سانحہ علی پور، سانحہ دریا خان اور ننکانہ صاحب میں فرقہ وارانہ صورت حال کی کشیدگی کے حوالے سے بھی خصوصی غور کیا گیا اور آئینی و قانونی راستے کے ذریعے جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ملک میں موجوہ دور میں جان لیوا مہنگائی، کرپشن کے نت نئے اسکینڈلز رونما ہونے، امریکہ میں پاکستانی سفیر کے حالیہ اقدام سے پیدا ہونے والی صورت حال، امریکہ و اسرائیل کے طرف سے اسلامی جمہوری ایران پر حملہ کرنے کی کیدڑ بھبھکیوں، عرب ممالک میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں، بھارت کو پسندیدہ قرار دینے کے حکومتی فیصلے کے اثرات، کالعدم اور دہشت گرد گروہوں کی شرپسندانہ سرگرمیوں، فرقہ پرستوں کے از سرنو منظم ہونے کے سلسلے اور حکومتوں کی دانستہ خاموشی کے موضوعات پر خصوصی مشاورت کی گئی اور حکمرانوں سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ پاکستان کے داخلی اور خارجی تشخص کو باوقار اور باحمیت بناتے ہوئے اقدامات کریں۔

 

Comments are closed.