ایران پر سعودی سفیر کے قتل کا الزام محض ڈرامہ ہے، امریکہ افغانستان سے انخلا کرنے سے قبل عرب دنیا کو ایران کے گلے ڈالنا چاہتا ہے، حمید گل

Posted: 23/11/2011 in Afghanistan & India, All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

یہ ایک ڈرامہ ہے اور مسئلہ جان بوجھ کر پیدا کیا گیا۔ سعودی عرب اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لیکر گیا ہے، اب دیکھیں اس معاملے میں اقوام متحدہ کیا کرتی ہے۔ سعودی عرب کو اقوام متحدہ میں نہیں جانا چاہیے تھا، او آئی سی کا پلیٹ فارم موجود ہے، اگر کوئی مسئلہ تھا بھی تو بات چیت اور سفارتی ذریعے سے حل کیا جانا چاہیئے تھا، ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر ہم لوگ ہر بات میں اقوام متحدہ میں ہی کیوں جاتے ہیں، یہ دو اسلامی ممالک کا معاملہ ہے اور انہی کے درمیان رہنا چاہیے، یاد رہے کہ ہمیں کبھی بھی وہاں سے بھیک نہیں ملی، سوڈان کو تقسیم کیا گیا، کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ جوں کا توں ہے، اقوام متحدہ سے ہمیں اب تک ملا کیا ہے۔؟  محمود عباس فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گیا ہے اور دو ریاستوں کے فارمولے کو قبول کر لیا ہے، رہبر سید علی خامنہ ای نے تقریر میں جو بات کی اور بعد میں جو اعلامیہ جاری کیا گیا، اس میں ایک پوائنٹ میری جانب سے بھی تھا، کیوں کہ مجھے اس کمیٹی کا ممبر بنایا گیا تھا، میں نے اپنے نکتہ نظر سے بات کی اور وہ بات اس اعلامیہ کا حصہ بنی، یہ میرا گمان ہے، ممکن ہے کہ دیگر احباب کی بھی اس نکتہ سے متعلق ایک ہی رائے ہو، وہ نکتہ یہ تھا کہ دو ریاستوں کی بات کرنے سے پہلے وہاں ریفرنڈم کروایا جائے کہ کیا آپ لوگ تقسم چاہتے ہو، فلسطین کا ایک حصہ اسرائیل میں ہے اور دوسرا حصہ جو نام نہاد ہے وہ بھی انہی کے قبضے میں ہے، لہٰذا آپ پہلے تو ریفرنڈم کروائیں کہ کیا آپ فلسطین کی تقسیم چاہتے ہیں یا نہیں، یہ سیدھی انسانی حقوق کی بات ہے، وہ قوتیں جو ہمیں ہیومن رائٹس کا درس دیتی ہیں وہ خود ان فلسطینیوں کی رائے کو اہمیت دیں، وہ جو چاہیں اس کے مطابق فلسطین کا فیصلہ کیا جائے۔ یہ ایک جمہوری بات ہے اور پوری کانفرنس کا محور و مرکز یہی بات تھی۔  دوسرا یہ کہ اوباما انتظامیہ نے الیکشن جیتنا ہے اور انہیں افغانستان سے جانا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اُن سے اس ایشو پر بات نہ کی جائے، اوباما انتظامیہ کیلئے فلسطین اور افغانستان کے مسائل پر نزع کے یہی دو پوائنٹس ہیں، دونوں کا ایک دوسرے سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ امریکہ افغانستان سے جلدی انخلا چاہتا ہے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ہاری ہوئی اور بے سود جنگ ہے، لیکن اسرائیل اس کی گردن پر بیٹھا ہے، کیونکہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ جب امریکہ نکلے گا تو اس کا براہ راست اثر فلسطین اور مڈل ایسٹ پر پڑے گا اور دوسرا افغانستان کی صلاحیت کو بھی جوں کا توں چھوڑ کر جا رہا ہے تو اس سے اسرائیل کے حوالے سے خطرات میں اضافہ ہو جائے گا۔ سارا مسئلہ یہ ہے کہ جو نئے معاملات چل رہے ہیں امریکی اس سے کیسے جان چھڑائیں گے۔ چنانچہ وہ یہ ذمہ داری کہ ہم فلسطین سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، خاص طور پر ایران پر ہم حملہ کر نہیں سکتے چونکہ سکت نہیں رہی اور ایران مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار ہے، لہٰذا عرب دنیا کو بھڑکا کر ایران کے گلے ڈال دیا جائے۔ اس کا نتیجہ ہمارے لیے بڑا پریشان کن ہو گا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ہم ایران کے دوست بھی ہیں اور بھائی بھی، اور اسی طرح سعودی عرب بھی ہمارا دوست اور عزیز ملک ہے، ان کا آپس میں محاذ آرائی کا سلسلہ چل نکلتا ہے تو پاکستان جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، وہ پھر مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔

Comments are closed.