ایران اور حزب اللہ کی جوابی دھمکی پر امریکہ بوکھلاہٹ کا شکار

Posted: 23/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, USA & Europe

امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کی جائیں ایران پر حملہ آخری راستہ ہونا چاہیئے۔امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں خطے پر برے اثرات مرتب ہوں گے، تاہم ایران کا رویہ بدلنے کے لئے سخت معاشی اور سفارتی پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے۔ پینٹا گون میں پریس بریفنگ کے دوران لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ ایران پر پابندیاں لگانے کے لئے اتحادیوں سے رابطے میں ہیں۔ ایران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا پابند ہے، اسے بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنی چاہیئے۔ لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ ہمیں ایران سے ہوشیار رہنا ہو گا جو خطے کے لئے بھی خطرناک ہے اور وہاں موجود امریکی افواج کے لئے بھی۔ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اسرائیل کے ممکنہ حملے پر امریکی انتظامیہ کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں موجود امریکی فوجیوں کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف کارروائی صرف اس پروگرام کو تین سال تک پیچھے لے جا سکتی ہے اور اس حملے غیر ارادی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو پورے خطے کے ساتھ ساتھ علاقے میں موجود امریکی فوجیوں کو خاص طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔ لیون پنیٹا نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی جوہری ادارے کی رپورٹ انٹیلجنس کی رپوٹوں سے مطابقت رکھتی ہے جن کے مطابق ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کی کوشش کو تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اندر جوہری ہتھیاروں کے حصول سے متعلق اختلافات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حملے سے تہران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکتی لیکن اس سے خطے میں سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پینٹا گون کے سربراہ نے مزید کہا کہ وہ اپنے پس رو سابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس سے متفق ہیں کہ ایران پر بمباری کی صورت میں اس کا جوہری پروگرام تقریباً تین برسوں کے لیے تعطل کا شکار ہو گا۔ امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کی جائیں، ایران پر حملہ آخری راستہ ہونا چاہیئے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے تنازعے کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران حکومت کو ایسے شواہد فراہم کرنے چاہیئں کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ بان کی مون کی طرف سے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے، جب ایران کے سپریم لیڈر نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملہ کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ منگل کو اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ اسرائیلی صدر کو امریکی حکام ہی نے ایران پر حملے دھمکی دینے کا کہا ہو گا تاکہ ایران کے ممکنہ ردعمل کو دیکھ لے۔ اگر ایران دباؤ قبول کرے تو مزید دباؤ بڑھایا جائے لیکن معاملہ اسکے برعکس ہو گیا۔ کیونکہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے تازہ ترین بیان میں ایران پر حملے کی صورت میں پورے مشرق وسطی میں جنگ پھیلنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ امریکہ دھمکی کی زبان سمجھتا ہے، ایرانی صدر، حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی منہ توڑ جوابی دھمکی پر امریکی حکومت و وزیر دفاع بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔

Comments are closed.