امریکہ: پولیس کے ہاتھوں خواتین کے بال کھینچنے طلبہ پر مرچ اسپرے

Posted: 23/11/2011 in All News, Amazing / Miscellaneous News, Breaking News, Educational News, Important News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

سرمایہ داری نظام کے خلاف امریکی عوام کا انقلاب نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور اس بار امریکی پولیس نے جرائم کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے برکلی یونیورسٹی میں دھرنا دینے والے طلبہ پر وحشیانہ حملہ کرکے کئی افراد کو غیر انسانی طریقے سے گرفتار کیا۔پورٹ کے مطابق امریکی طلبہ نے حالیہ ہفتوں میں سرمایہ داری کے خلاف انقلاب میں اہم کردار ادا کرنا شروع کیا ہے جس کے بعد کئی یونیورسٹیوں پر پولیس کا قبضہ ہوچکا ہے اور امریکہ پولیس اسٹیٹ میں تبدیل ہوگیا ہے۔نہتے اور پر امن احتجاج میں شریک امریکی باشندوں کو امریکی پولیس کی طرف سے تشدد کا سامنا ہے لیکن شدید سنسر کی وجہ سے ان کی خبریں شاذ و نادر ہی باہر کی دنیا تک پہنچتی ہیں۔اس ویڈیو میں عورتوں کے بال کھینچنے کے دلدوز مناظر سے سرمایہ داری نظام کے غصے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کے خلاف امریکی عوام کی تحریک 17 ستمبر 2011 سے “99 فیصد” کے عنوان سے وال اسٹریٹ میں شروع ہوئی۔ اس تحریک کی رائے یہ ہے کہ وہ 99 فیصد عوام کی نمائندہ ہے اور یہ کہ ایک فیصد سرمایہ داروں نے امریکی معاشرے پر تسلط جمایا ہوا ہے۔ صہیونی لابی البتہ اس کو یہود مخالف تحریک سمجھتی ہے کیونکہ صہیونی لابی اس ایک فیصد میں پہلا کردار ادا کرتا ہے اور یہ سرمایہ دار اس لابی کے غلاموں کا کردار ادا کرتے ہیں چنانچہ “وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو” تحریک کے دوران کئی بار اسرائیل جھنڈے بھی نذر آتش کئے گئے ہیں۔ امریکہ میں بعض خودمختار ذرا‏ئع ابلاغ نے برکلی یونیورسٹی میں احتجاج کے طور پر دھرنا دینے والے نہتے اور پر امن طلبہ اور شہریوں پر سرمایہ داری نظام کے گماشتوں کی طرف سے مرچ اسپرے کی تصاویر شا‏‏ئع کی ہیں۔ یہ تصاویر سرمایہ داری نظام کے غصے کی علامت بھی ہے اور امریکی پولیس کی بربریت کا نشان بھی ہیں۔ مرچ اسپرے صرف اس حالت میں مجاز ہے جب پولیس پر کوئی حملہ کررہا ہو یا وائلڈ لا‏‏ئف کے کارکن اس وقت اس اسپرے کا استعمال کرتے ہيں جب انہیں کسی درندہ جانور کے حملے کا خطرہ ہو لیکن ان تصاویر میں نہ تو کوئی حملہ آور دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی کوئی درندہ جانور کسی پر حملہ کررہا ہے بلکہ عام لوگ ہیں، دھرنے پر بیٹھے ہیں نہ حملہ کررہے ہیں اور نہ ہی حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں۔ دنیا میں جمہوریت کے بلندبانگ دعوے کرنے والے استعماری نظام کی جب اپنی باری آتی ہے تو وہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہے تا کہ سرمایہ داری نظام کی فرسود عمارت کی گرتی ہوئی دیواروں کو سنبھالا دے سکے لیکن شاید کافی دیر ہوچکی ہے اور جب کوئی استعماری نظام عسکریت کو سماجی، معاشی اور سیاسی و ثقافتی امور پر فوقیت دینے لگتا ہے اس کے تمام اندرونی سہارے یکے بعد دیگرے مٹ جاتے ہیں۔ اس حادثے کے بعد امریکی پولیس کے خلاف نعرے بازی ہوئی اور انہیں “نازی پولیس” کا لقب عطا ہوا۔ اس حملے میں ایک 84 سالہ خاتون سمیت 9 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے

Comments are closed.