Archive for 23/11/2011

یمن کے صدر علی عبد اللہ صالح اقتدار نائب صدر کو منتقل کرنے پر تيار ہو گئے ہيں۔ خليجی تعاون کونسل کی وساطت سے طے پانے والے ايک سمجھوتے پر دستخط کے لیے وہ سعودی عرب کے دارالحکومت رياض پہنچ گئے ہيں۔ يمن کی سرکاری خبر ايجنسی سبا نے اطلاع دی ہے کہ صالح سعودی حکومت کی دعوت پر ریاض پہنچے ہيں، جہاں وہ خليجی ممالک کے تجويز کردہ سمجھوتے پر دستخط کريں گے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے يمن جمال بن عمر کے مطابق اپوزيشن اور صدر صالح دونوں اس پر دستخط کريں گے۔ اس معاہدے کے مطابق وہ تمام اختيارات نائب صدر منصور ہادی کو منتقل کر ديں گے، جو اپوزيشن سے مل کر ايک نئی حکومت بنائيں گے اور تين ماہ کے اندر نئے انتخابات کرائے جائيں گے۔ کئی ماہ کے ہنگاموں کے بعد يمنی صدرصالح اقتدار نائب صدر کو منتقل کرنے پر تيار ہو گئے ہيں۔ اس کے ليے وہ خليجی تعاون کونسل کی وساطت سے طے پانے والے ايک سمجھوتے پر دستخط کرنے سعودی عرب کے دارالحکومت پہنچ چکے ہيں۔يمنی صدر علی  عبداللہ صالح اقتدار کی منتقلی کے ايک معاہدے پر دستخط کرنے کے ليے آج سعودی عرب کے دارالحکومت رياض پہنچ گئے ہيں۔ يمن کی سرکاری خبر ايجنسی سبا نے اطلاع دی ہے کہ صالح سعودی حکومت کی دعوت پر وہاں پہنچے ہيں، جہاں وہ خليجی ممالک کے تجويز کردہ سمجھوتے پر دستخط کريں گے۔خليج کے سات ممالک پر مشتمل خليجی تعاون کونسل نے يمن ميں اقتدار کی منتقلی کا سمجھوتہ اقوام متحدہ کے نمائندے جمال بن عمرکی مدد سے تيار کيا ہے۔ بن عمر کو اس سلسلے ميں امريکہ اوريورپی يونين سے بھی مدد ملی ہے۔ جمال بن عمر نے کہا: ’’سمجھوتے ميں تفصيل سے اُن تمام مراحل کا ذکر کيا گيا ہے، جو اقتدار کی منتقلی کے دوران پيش آئيں گے۔ ان ميں قومی اتحاد کی حکومت اور ايک فوجی کميشن کا قيام بھی شامل ہے، جو تشدد کو ختم کرتے ہوئے ملک ميں پھيلے ہوئے مليشيا گروپوں اور فوج کے درميان اختلافات دور کرے گا۔ ملک کو درپيش چيلنجوں کے ليے ايک قومی مکالمتی فورم بنايا جائے گا اور يمن کے مستقبل کی راہ متعين کی جائے گی۔‘‘اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے يمن جمال بن عمر نے کہا کہ سمجھوتے کو آخری شکل دينے کے کام کی وجہ سے اس پر دستخط ميں کچھ دير ہو گئی ہے۔ اپوزيشن اور صدر صالح دونوں اس پر دستخط کريں گے۔ صدر صالح اس سے پہلے اسی سمجھوتے کی مختلف اشکال پر دستخط کرنے سے تين مرتبہ پيچھے ہٹ چکے ہيں۔اس معاہدے کے مطابق وہ تمام اختيارات نائب صدر منصور ہادی کو منتقل کر ديں گے، جو اپوزيشن سے مل کر ايک نئی حکومت بنائيں گے اور تين ماہ کے اندر نئے انتخابات کرائے جائيں گے۔ سياسی ذرائع کا کہنا ہے کہ صالح 90 دنوں تک کے ليے  اعزازی صدر رہيں گے، جس کے بعد ہادی کو متفقہ طور پر دوسال کی عبوری مدت کے ليے صدر چنا جائے گا۔ عبوری مدت کے دوران صالح کوئی سياسی فيصلے نہيں کر سکيں گے اور نہ ہی اُنہيں ہادی کے فيصلوں کو ويٹو کرنے کا اختيار ہو گا۔آج يمن کے دارالحکومت صنعا ميں ہزاروں افراد نے صدر عبداللہ صالح کو معافی دينے کے خلاف مظاہرے کيے۔ تیل برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کی سرحد پر واقع يمن ميں خانہ جنگی کا بھی خطرہ ہے۔ امريکہ نے القاعدہ کے خلاف جنگ ميں لمبے عرصے تک صدر صالح کی حمايت کی ہے، ليکن حال ہی ميں وہ اس سے دستبردار ہو گيا ہے۔

Advertisements

حال ہی ميں مستعفی ہو جانے والے اطالوی وزير اعظم سلویو بيرلسکونی پر دائر ايک مقدمے کی سماعت آج سے پھر شروع ہو گئی ہے۔ اگلے دنوں اور ہفتوں کے دوران سابق وزير اعظم پر مزيد مقدمات بھی قائم ہوں گے۔ابھی چند ہی ہفتے پہلے کی بات ہے کہ اٹلی کے سابق وزير اعظم سلويو بيرلسکونی کواُن پرعائد بہت سے مقدمات کے سلسلے ميں عدالتی پيشی سے بچنے کے ليے برسلز کی سربراہی کانفرنس يا کسی اور اہم سرکاری مصروفيت کا عذر پيش کرنے کا موقع حاصل تھا۔ ويسے بھی وہ ہميشہ يہی کہتے ہيں کہ اُن پر زيادتی ہو رہی ہے اور اطالوی عدليہ انہيں نشانہ بنائے ہوئے ہے۔  شہر ميلان کی عدالت ميں برلسکونی کے خلاف عدالتی کارروائی کی وجہ ان پر يہ الزام ہے کہ انہوں نے مراکش کی ايک کم عمر لڑکی روبی  کے ساتھ جنسی روابط رکھے تھے۔ دسمبر سے اس کيس ميں گواہوں کے بيانات ليے جائيں گے۔ اس کے بعد يہ اندازہ لگايا جا سکے گا کہ برلسکونی کی کوٹھی ميں شام کے اوقات ميں کيا کچھ ہوا کرتا تھا۔ دفاع کے گواہوں ميں ايک امريکی اداکار جارج کلُونی بھی شامل ہوں گے۔اندازہ ہے کہ روبی کيس ميں ابھی ايسی اور بہت سی تفصيلات بھی سامنے آئيں گی، جو برلسکونی کے ليے شرمندگی کا باعث ہوں گی۔ ليکن سابق وزير اعظم پر کوئی جرم ثابت کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔ ايک اور کيس اس سے بھی زيادہ خطرناک ہے۔ اس ميں برلسکونی پر ايک گواہ کو رشوت دينے کا الزام ہے۔ اس کيس کی اگلی پيشی آئندہ پير کو ہے اور يہ تقريباً اختتام  تک پہنچ چکا ہے۔ ارب پتی سابق اطالوی وزير اعظم اب اپنی سرکاری مصروفيات کی آڑ ليتے ہوئے اس کيس کو بھی مزيد طول نہيں دے سکتے۔ اخبار لا استامپا کے صحافی فيدريکو گريميکا کا کہنا ہے کہ برليسکونی کو بہت خوف ہے کہ انہيں کہيں جيل نہ جانا پڑ جائے: ) او ۔ ٹون 3 ( ’’انہيں يہ خوف ہے۔ ميرے خيال ميں يہ نئی حکومت کے بارے ميں مذاکرات کا موضوع بھی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ برلسکونی نے حکومت ميں تبديلی پر اُس وقت رضامندی ظاہر کی، جب اُن سے اُن کے سياسی مستقبل اور مقدمات کے بارے ميں وعدے کر ليے گئے۔‘‘اطالوی قانون کے مطابق 75 سالہ برلسکونی جيل جانے کے ليے بہت بوڑھے ہو چکے ہيں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی تازہ اقتصادی پابندیوں کو روس نے بین الاقوامی قوانین کے خلاف قراردیا ہے۔ رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی تازہ اقتصادی پابندیوں کو روس نے بین الاقوامی قوانین کے خلاف قراردیا ہے۔ روس کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف نئی پابندیوں پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔روسی وزارت خآرجہ کے مطابق امریکہ اور مغربی ممالک کے غیر اخلاقی اور غیر منطقی اقدام کا ایران کے ساتھ مذاکرات کے عمل پر منفی اثر پڑے گا۔امریکہ اور مغربی ملکوں کی طرف سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کو روس نے بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کے غیر اخلاقی اور غیر منطقی اقدام کا ایران کے ساتھ مذاکرات کے عمل پر منفی اثر پڑے گا۔ذرائع کے مطابق امریکہ خود معاشی بحران کا شکار ہے اور یورپی ممالک میں  اقتصادی بد حالی سے عوام سڑکوں پر پہنچ گئے ہیں ایسی صورتحال میں امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا ایران پر کوئي خاص اثر نہیں پڑےگا۔ امریکہ اور مغربی ممالک ایران کو الگ تھلگ کرنے کے بجائے خود الگ تھلگ ہوگئے ہیں اور ایران نے گذشتہ تین برسوں میں امریکی پابندیوں کے سائے میں شاندار ترقی اور پیشرفت حاصل کی ہے۔

سرمایہ داری نظام کے خلاف امریکی عوام کا انقلاب نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور اس بار امریکی پولیس نے جرائم کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے برکلی یونیورسٹی میں دھرنا دینے والے طلبہ پر وحشیانہ حملہ کرکے کئی افراد کو غیر انسانی طریقے سے گرفتار کیا۔پورٹ کے مطابق امریکی طلبہ نے حالیہ ہفتوں میں سرمایہ داری کے خلاف انقلاب میں اہم کردار ادا کرنا شروع کیا ہے جس کے بعد کئی یونیورسٹیوں پر پولیس کا قبضہ ہوچکا ہے اور امریکہ پولیس اسٹیٹ میں تبدیل ہوگیا ہے۔نہتے اور پر امن احتجاج میں شریک امریکی باشندوں کو امریکی پولیس کی طرف سے تشدد کا سامنا ہے لیکن شدید سنسر کی وجہ سے ان کی خبریں شاذ و نادر ہی باہر کی دنیا تک پہنچتی ہیں۔اس ویڈیو میں عورتوں کے بال کھینچنے کے دلدوز مناظر سے سرمایہ داری نظام کے غصے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کے خلاف امریکی عوام کی تحریک 17 ستمبر 2011 سے “99 فیصد” کے عنوان سے وال اسٹریٹ میں شروع ہوئی۔ اس تحریک کی رائے یہ ہے کہ وہ 99 فیصد عوام کی نمائندہ ہے اور یہ کہ ایک فیصد سرمایہ داروں نے امریکی معاشرے پر تسلط جمایا ہوا ہے۔ صہیونی لابی البتہ اس کو یہود مخالف تحریک سمجھتی ہے کیونکہ صہیونی لابی اس ایک فیصد میں پہلا کردار ادا کرتا ہے اور یہ سرمایہ دار اس لابی کے غلاموں کا کردار ادا کرتے ہیں چنانچہ “وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو” تحریک کے دوران کئی بار اسرائیل جھنڈے بھی نذر آتش کئے گئے ہیں۔ امریکہ میں بعض خودمختار ذرا‏ئع ابلاغ نے برکلی یونیورسٹی میں احتجاج کے طور پر دھرنا دینے والے نہتے اور پر امن طلبہ اور شہریوں پر سرمایہ داری نظام کے گماشتوں کی طرف سے مرچ اسپرے کی تصاویر شا‏‏ئع کی ہیں۔ یہ تصاویر سرمایہ داری نظام کے غصے کی علامت بھی ہے اور امریکی پولیس کی بربریت کا نشان بھی ہیں۔ مرچ اسپرے صرف اس حالت میں مجاز ہے جب پولیس پر کوئی حملہ کررہا ہو یا وائلڈ لا‏‏ئف کے کارکن اس وقت اس اسپرے کا استعمال کرتے ہيں جب انہیں کسی درندہ جانور کے حملے کا خطرہ ہو لیکن ان تصاویر میں نہ تو کوئی حملہ آور دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی کوئی درندہ جانور کسی پر حملہ کررہا ہے بلکہ عام لوگ ہیں، دھرنے پر بیٹھے ہیں نہ حملہ کررہے ہیں اور نہ ہی حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں۔ دنیا میں جمہوریت کے بلندبانگ دعوے کرنے والے استعماری نظام کی جب اپنی باری آتی ہے تو وہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہے تا کہ سرمایہ داری نظام کی فرسود عمارت کی گرتی ہوئی دیواروں کو سنبھالا دے سکے لیکن شاید کافی دیر ہوچکی ہے اور جب کوئی استعماری نظام عسکریت کو سماجی، معاشی اور سیاسی و ثقافتی امور پر فوقیت دینے لگتا ہے اس کے تمام اندرونی سہارے یکے بعد دیگرے مٹ جاتے ہیں۔ اس حادثے کے بعد امریکی پولیس کے خلاف نعرے بازی ہوئی اور انہیں “نازی پولیس” کا لقب عطا ہوا۔ اس حملے میں ایک 84 سالہ خاتون سمیت 9 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے

صوبائی حکومت کے احکامات کے مطابق مولانا گلفام حسین ہاشمی، مولانا احمد لدھیانوی، مولانا عبیدالرحمان ضیاء سمیت دیگر علماء پر پابندی عائد کی گئی ہےپنجاب حکومت نے محرم الحرام کے دوران 23 علماء کرام کے لاہور میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جبکہ 22 علماء کی زبان بندی کے احکامات جاری کر دئیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت نے محرم میں جن علماء کے لاہور میں داخلے پر پابندی عائد کی ہے ان میں مولانا گلفام حسین ہاشمی، کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما احمد لدھیانوی، مولانا عبیدالرحمان ضیاء سمیت دیگر علماء شامل ہیں جبکہ مولانا زبیر احمد ظہیر، جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان، مولانا پیر سیف اللہ خالد، مولانا ابتسام الٰہی ظہیر، جے یو آئی کے سر براہ اجمل قادری، قاری شبیر احمد عثمانی سمیت مجموعی طور پر 22 علما کی زبان بندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اور ایف سی اہلکاروں کو کسی خطرہ کے پیش نظر گولی مارنے کے علاوہ دیگر اختیارات بھی سونپ دیئے جائینگے، پولیس کو حسا س قرار دیئے گئے اضلاع میں شدت پسندوں کیخلاف کارروائی کا اختیار بھی ہوگا۔خیبر پختونخوا حکومت نے محرم الحرام میں دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق پولیس اور ایف سی اہلکاروں کو کسی خطرہ کے پیش نظر گولی مارنے کے علاوہ دیگر اختیارات بھی سونپ دیئے جائینگے، یکم سے دس محرم الحرام تک پشاور سمیت حساس قرار دیئے جانے والے اضلاع میں شدت پسند عناصر کے خلاف کاروائی کے اختیارات پولیس کو دینے کا فیصلہ امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے، پشاور میں امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر حساس مقامات کے قریب مزید پولیس چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں تاکہ کسی قسم کا کوئی نا خوشگوار واقعہ رونماء نہ ہو سکے

خط میں کہا گیا اگر امریکا پاکستان کی سیاسی حکومت کی مدد کرے تو موجودہ سکیورٹی ٹیم کو ہٹا کر امریکا کی مشاورت سے ایک نئی اور قابل اعتماد ٹیم تشکیل دی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں صدر اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے بارے میں تحقیقات کیلئے آزاد کمیشن قائم کریں گے۔پاکستانی بزنس مین منصور اعجاز کی جانب سے جنرل مائیک مولن کو دیا جانا والا مراسلہ منظر عام پر آ گیا ہے۔ خط میں مبینہ طور پر صدر زرداری کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکا جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو سخت پیغام دے۔ دس مئی کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل مائیک مولن کے حوالے کیے جانے والے مراسلے میں کہا گیا کہ دو مئی کے آپریشن کے بعد ملک میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ خط میں لکھا گیا کہ سول حکومت فوج کا دباؤ برداشت نہیں کر سکتی، لیکن اگر سیاسی حکومت کو ہٹایا گیا تو پاکستان القاعدہ کا محفوظ ٹھکانہ بن جائے گا۔ اسامہ بن لادن کے معاملے پر فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر سول بالا دستی کا نادر موقع ہے۔مائیک مولن سے درخواست کی گئی کہ وہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو سخت پیغام دیں اور ان سے کہا جائے کہ وہ فوجی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کنٹرول کریں۔ خط میں کہا گیا اگر امریکا پاکستان کی سیاسی حکومت کی مدد کرے تو موجودہ سکیورٹی ٹیم کو ہٹا کر امریکا کی مشاورت سے ایک نئی اور قابل اعتماد ٹیم تشکیل دی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں صدر اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے بارے میں تحقیقات کیلئے آزاد کمیشن قائم کریں گے۔ کمیشن کی تحقیقات کی روشنی میں اسامہ بن لادن کو پاکستان میں پناہ گاہ فراہم کرنے والے اور اس کی مدد کرنے والے سول، فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کے حکام کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کر دیا جائے گا۔ نئی سکیورٹی ٹیم القاعدہ کی قیادت، ملا عمر اور سراج الدین حقانی جیسے افراد کے خلاف کارروائی کرے گی یا پھر امریکا کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت دی جائے گی۔ خط میں کہا گیا فوجی قیادت جان گئی ہے کہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی کی مدد سے امریکی ہیلی کاپٹر اور طیارے جب چاہیں کسی کی نظر میں آئے بغیر پاکستان کی فضاؤں میں آ سکتے ہیں۔ انہیں یہ خوف ہے کہ اب امریکا پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ خط میں پیشکش کی گئی کہ سول حکومت کی حمایت یافتہ سکیورٹی ٹیم ایٹمی پروگرام کیلئے قابل قبول فریم ورک یا ضابطہ تیار کرے گی۔ نئی سکیورٹی ٹیم آئی ایس آئی کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کرے گی، جس کے بعد وہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلقات نہیں رکھ سکے گی۔ نئی پالیسی کے تحت ممبئی حملوں کے ملزموں کو سزا دی جائے گی اور بھارت میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کو اس کے حوالے کیا جائے گا۔

امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کی جائیں ایران پر حملہ آخری راستہ ہونا چاہیئے۔امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں خطے پر برے اثرات مرتب ہوں گے، تاہم ایران کا رویہ بدلنے کے لئے سخت معاشی اور سفارتی پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے۔ پینٹا گون میں پریس بریفنگ کے دوران لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ ایران پر پابندیاں لگانے کے لئے اتحادیوں سے رابطے میں ہیں۔ ایران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا پابند ہے، اسے بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنی چاہیئے۔ لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ ہمیں ایران سے ہوشیار رہنا ہو گا جو خطے کے لئے بھی خطرناک ہے اور وہاں موجود امریکی افواج کے لئے بھی۔ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اسرائیل کے ممکنہ حملے پر امریکی انتظامیہ کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں موجود امریکی فوجیوں کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف کارروائی صرف اس پروگرام کو تین سال تک پیچھے لے جا سکتی ہے اور اس حملے غیر ارادی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو پورے خطے کے ساتھ ساتھ علاقے میں موجود امریکی فوجیوں کو خاص طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔ لیون پنیٹا نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی جوہری ادارے کی رپورٹ انٹیلجنس کی رپوٹوں سے مطابقت رکھتی ہے جن کے مطابق ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کی کوشش کو تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اندر جوہری ہتھیاروں کے حصول سے متعلق اختلافات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حملے سے تہران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکتی لیکن اس سے خطے میں سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پینٹا گون کے سربراہ نے مزید کہا کہ وہ اپنے پس رو سابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس سے متفق ہیں کہ ایران پر بمباری کی صورت میں اس کا جوہری پروگرام تقریباً تین برسوں کے لیے تعطل کا شکار ہو گا۔ امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کی جائیں، ایران پر حملہ آخری راستہ ہونا چاہیئے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے تنازعے کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران حکومت کو ایسے شواہد فراہم کرنے چاہیئں کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ بان کی مون کی طرف سے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے، جب ایران کے سپریم لیڈر نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملہ کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ منگل کو اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ اسرائیلی صدر کو امریکی حکام ہی نے ایران پر حملے دھمکی دینے کا کہا ہو گا تاکہ ایران کے ممکنہ ردعمل کو دیکھ لے۔ اگر ایران دباؤ قبول کرے تو مزید دباؤ بڑھایا جائے لیکن معاملہ اسکے برعکس ہو گیا۔ کیونکہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے تازہ ترین بیان میں ایران پر حملے کی صورت میں پورے مشرق وسطی میں جنگ پھیلنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ امریکہ دھمکی کی زبان سمجھتا ہے، ایرانی صدر، حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی منہ توڑ جوابی دھمکی پر امریکی حکومت و وزیر دفاع بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔

دفاعی اخراجات میں کمی پر عمل شروع ہو جاتا ہے تو دفاعی تجزیہ کاروں کے نزدیک ہائی پروفائل ہتھیاروں کے پروگراموں کی ایک بڑی تعداد کو ختم کرنا پڑ سکتا ہے۔امریکا آئندہ دہائی میں اپنے دفاعی اخراجات میں ایک ٹریلین ڈالر کی کمی کے منصوبے پر عمل شروع کرنے والا ہے۔ لیون پنیٹا فوجی اخراجات میں کٹوتی کے مجوزہ منصوبے کو پینٹا گون کیلئے قیامت قرار دے چکے ہیں۔ واشنگٹن میں دفاعی کٹوتیوں پر طویل ترین میدان سجنے جا رہا ہے، ہنگامی حالات میں جنگی اخراجات پر اثرات نہیں پڑیں گے۔ پینٹاگون ایف 35، نیول پٹرول ایئر کرافٹ اور جنگی جہازوں کی خریداری کے منصوبوں کو ترک کر سکتا ہے۔ امریکی اخبار “وال اسٹریٹ جرنل” کی رپورٹ کے مطابق سپر کمیٹی کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی اس امکان کو ظاہر کرتی ہے جس کا اشارہ وزیر دفاع لیون پنیٹا نے پینٹاگون کیلئے قیامت کا منظر قرار دیا تھا۔ دفاعی حکام اور بجٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مخصوص دفاعی اشیاء کی کٹوتی پر طویل لڑائی کیلئے واشنگٹن میں اسٹیج سج چکا ہے۔ پینٹا گون کچھ ایسی تخلیقی اکاوٴنٹنگ کی مدد سے دفاعی کٹوتی کے اثرات کو نرم کر سکتا ہے، تاہم ہنگامی حالات میں جنگی اخراجات پر ان فوجی اخراجات کی کٹوتی کے اثرات نہیں پڑیں گے۔ سینیٹرز پہلے ہی مالی سال 2012ء کیلئے بنیادی دفاعی بجٹ کے دس ارب ڈالر کو جنگی بجٹ میں منتقل کر چکے ہیں۔ پینٹاگون حکام نے اس سلسلے میں کمیٹی کے کسی نتیجے پر نہ پہنچنے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ پینٹاگون پہلے ہی اضافی 500 سے 600 بلین ڈالر خودکار کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر دفاعی اخراجات میں کمی پر عمل شروع ہو جاتا ہے تو دفاعی تجزیہ کاروں کے نزدیک ہائی پروفائل ہتھیاروں کے پروگراموں کی ایک بڑی تعداد کو ختم کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیون پنیٹا اشارہ دے چکے ہیں کہ پینٹاگون ایف 35جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر، نیول پٹرول ائرکرافٹ اور جنگی جہازوں کی خریداری کے منصوبوں کو ترک کر دیں گے۔

آئی ایس او کے مرکزی صدر نے اپنے ایک بیان میں گلگت اور کراچی کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے شرپسند عناصر کے خلاف کاروائی کرے۔امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر سید علی رحمن شاہ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ محرم الحرام سے قبل ملک بھر میں سکیورٹی کے انتظامات مکمل کرے، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے، انہوں نے گلگت اور کراچی کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے شر پسند عناصر کے خلاف کاروائی کرے، تاکہ دورانِ محرم الحرام امن و امان کی صورت حال بہتر رہے۔

یہ ایک ڈرامہ ہے اور مسئلہ جان بوجھ کر پیدا کیا گیا۔ سعودی عرب اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لیکر گیا ہے، اب دیکھیں اس معاملے میں اقوام متحدہ کیا کرتی ہے۔ سعودی عرب کو اقوام متحدہ میں نہیں جانا چاہیے تھا، او آئی سی کا پلیٹ فارم موجود ہے، اگر کوئی مسئلہ تھا بھی تو بات چیت اور سفارتی ذریعے سے حل کیا جانا چاہیئے تھا، ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر ہم لوگ ہر بات میں اقوام متحدہ میں ہی کیوں جاتے ہیں، یہ دو اسلامی ممالک کا معاملہ ہے اور انہی کے درمیان رہنا چاہیے، یاد رہے کہ ہمیں کبھی بھی وہاں سے بھیک نہیں ملی، سوڈان کو تقسیم کیا گیا، کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ جوں کا توں ہے، اقوام متحدہ سے ہمیں اب تک ملا کیا ہے۔؟  محمود عباس فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گیا ہے اور دو ریاستوں کے فارمولے کو قبول کر لیا ہے، رہبر سید علی خامنہ ای نے تقریر میں جو بات کی اور بعد میں جو اعلامیہ جاری کیا گیا، اس میں ایک پوائنٹ میری جانب سے بھی تھا، کیوں کہ مجھے اس کمیٹی کا ممبر بنایا گیا تھا، میں نے اپنے نکتہ نظر سے بات کی اور وہ بات اس اعلامیہ کا حصہ بنی، یہ میرا گمان ہے، ممکن ہے کہ دیگر احباب کی بھی اس نکتہ سے متعلق ایک ہی رائے ہو، وہ نکتہ یہ تھا کہ دو ریاستوں کی بات کرنے سے پہلے وہاں ریفرنڈم کروایا جائے کہ کیا آپ لوگ تقسم چاہتے ہو، فلسطین کا ایک حصہ اسرائیل میں ہے اور دوسرا حصہ جو نام نہاد ہے وہ بھی انہی کے قبضے میں ہے، لہٰذا آپ پہلے تو ریفرنڈم کروائیں کہ کیا آپ فلسطین کی تقسیم چاہتے ہیں یا نہیں، یہ سیدھی انسانی حقوق کی بات ہے، وہ قوتیں جو ہمیں ہیومن رائٹس کا درس دیتی ہیں وہ خود ان فلسطینیوں کی رائے کو اہمیت دیں، وہ جو چاہیں اس کے مطابق فلسطین کا فیصلہ کیا جائے۔ یہ ایک جمہوری بات ہے اور پوری کانفرنس کا محور و مرکز یہی بات تھی۔  دوسرا یہ کہ اوباما انتظامیہ نے الیکشن جیتنا ہے اور انہیں افغانستان سے جانا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اُن سے اس ایشو پر بات نہ کی جائے، اوباما انتظامیہ کیلئے فلسطین اور افغانستان کے مسائل پر نزع کے یہی دو پوائنٹس ہیں، دونوں کا ایک دوسرے سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ امریکہ افغانستان سے جلدی انخلا چاہتا ہے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ہاری ہوئی اور بے سود جنگ ہے، لیکن اسرائیل اس کی گردن پر بیٹھا ہے، کیونکہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ جب امریکہ نکلے گا تو اس کا براہ راست اثر فلسطین اور مڈل ایسٹ پر پڑے گا اور دوسرا افغانستان کی صلاحیت کو بھی جوں کا توں چھوڑ کر جا رہا ہے تو اس سے اسرائیل کے حوالے سے خطرات میں اضافہ ہو جائے گا۔ سارا مسئلہ یہ ہے کہ جو نئے معاملات چل رہے ہیں امریکی اس سے کیسے جان چھڑائیں گے۔ چنانچہ وہ یہ ذمہ داری کہ ہم فلسطین سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، خاص طور پر ایران پر ہم حملہ کر نہیں سکتے چونکہ سکت نہیں رہی اور ایران مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار ہے، لہٰذا عرب دنیا کو بھڑکا کر ایران کے گلے ڈال دیا جائے۔ اس کا نتیجہ ہمارے لیے بڑا پریشان کن ہو گا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ہم ایران کے دوست بھی ہیں اور بھائی بھی، اور اسی طرح سعودی عرب بھی ہمارا دوست اور عزیز ملک ہے، ان کا آپس میں محاذ آرائی کا سلسلہ چل نکلتا ہے تو پاکستان جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، وہ پھر مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔

ایران امریکہ محاذ آرائی کم کرنے کی کوشش کی، امریکہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام پر کوئی بات سننے کو تیار نہیں،امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہو گا۔ امریکی صدر کی گرتی مقبولیت میں اضافے کے لئے یہودی لابی ایران سے جنگ چاہتی ہے، پاکستان ایران اور امریکہ تعلقات کو معمول پر لانے کی پوزیشن میں نہیں امریکہ میں اس وقت 9.2 فیصد شرح سے بیروزگاری ہے، جس کی وجہ سے امریکی صدر باراک اوباما پر اصلاحات کے لئے دباو بڑھ رہا ہے کہ عوام کو روزگار فراہم کیا جائے۔ اس وجہ سے امریکی صدر کی مقبولیت پچاس فیصد کم ہو گئی ہے۔ باراک اوباما کی مقبولیت میں اضافے کے لئے یہودی لابی چاہتی ہے کہ ایران سے چھیڑ چھاڑ کر دی جائے۔ تو وہ آئندہ انتخابات جیت سکیں گے اور آپ کو معلوم ہو گا کہ اسرائیلی لابی کا امریکی میڈیا، بینکنگ اور امریکی کانگریس پر کنٹرول ہے۔ جو اپنے مفا ات کے حق میں پالیسیاں بنوانے کے لئے اثر و رسوخ اور دباو استعمال کرتی ہے۔ امریکی کانگریس کے اراکین کو یہودی لابی باقاعدہ threat کرتی ہے کہ ان کے مفادات کے تحفظ کی پالیسیوں کی حمایت نہ کرنے کی صورت میں انہیں آئندہ انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان کی اب بین الاقوامی سطح پر پہلے والی پوزیشن نہیں رہی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالات کو معمول پر لا سکے، ہم دہشتگردی کی وجہ سے اپنے اندرونی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، ہمارے دور میں پاکستان پہلی نو اہم ریاستوں میں شامل تھا۔ اب تو معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے، پاکستان کیا رول ادار کر سکتا ہے۔؟امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو گا۔ ہمارے بارڈر پر افغانستان میں 32 سال سے سوویت یونین کی 1979ء میں آمد کی وجہ سے جنگ جاری ہے، بھارت سے ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہیں، اب تیسرے بارڈر پر بھی جنگ شروع ہو گئی تو حالات بہت خراب ہوں گے۔ جب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا سنتا ہوں تو گھبراتا ہوں، ہم پہلے سے ہی دہشتگردی اور بدامنی کا شکار ہے۔

 

مسائل کا حل ولایت سے تعلق جوڑ دینے میں ہے، وہ جوان جو ولایت سے اپنا تعلق استوار کر چکے ہیں انکی منزل بھی واضح ہو چکی ہے اور انکے اہداف بھی، وہ اس کشمکش سے اپنی جان چھڑا چکے ہیں جو ایک لادین معاشرہ انکے اندر پیدا کرتا ہے، وہ استقامت و جرات مندی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں ہیں۔ نہ ان پر استعماری سازشیں اثر انداز ہوتی ہیں اور نہ ہی آستین کے سانپوں کے کاٹے کا ان پر اثر ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ولایت سے قربت اختیار کی جائے، ولایت کو تسلیم کیا جائے اور اپنی ضمام ولایت کے سپرد کر دی جائے۔اسلامی دنیا کیخلاف یوں تو پہلے دن سے ہی سازشی عناصر نے نہ ختم ہونے والی سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ ان کی سازشوں کے طریقہ کار بھی جدید ہوتے چلے گئے، لیکن مسلم دنیا کے سیاسی لٹیروں اور مادہ پرست سازشی عناصر نے استعمار کے پلان پر عمل کرتے ہوئے نوجوان نسل کو ہدف قرار دیا اور استعمار کی اس گھنائونی سازش میں شامل ہو گئے جو اس نے نوجوانوں خصوصاً مسلم نوجوانوں کیخلاف شروع کی ہوئی تھیں۔ اسلامی افکار، اقدار اور تعلیم سے دور کرنا اور اخلاقی پستی میں دھکیلنا، استعمار کے اولین اہداف ہیں، نوجوانوں میں دین کے بارے میں عجیب و غریب شبہات و خدشات کو جنم دینا اور ان کو ایک ایسے راستہ کی نشان دہی کرنا جو کسی منزل کی طرف نہیں جاتا ہے بلکہ نوجوان کو ایک ایسے بند کمرے میں پہنچا دیتا ہے جہاں سے نہ واپسی ممکن ہے اور نہ ہی سکون سے جینا ممکن ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اسلامی دنیا کے نام نہاد سیاسی کٹھ پتلیاں نوجوانوں کی کردار سازی کرنے کے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کا نہ سر ہے اور نہ پیر، اوپر سے دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ یہی وہ واحد راستہ ہے جو ایک صالح اسلامی معاشرے کے قیام کا موجب بنے گا، فیصلہ کرنے اور راہ کے تعین کرنے کا فقدان ہے، تبھی تو یا تو مادہ پرستی کی طرف جانے والے راستے کو صراط مستقیم قرار دیا جاتا ہے یا پھر اسلام کے شاندار اور لازوال عہد رفتہ کی عظمت اور رفعت کے احیائےنو کے لئے نوجوانوں کو فکری و نظریاتی کردار ادا کرنے کے بجائے مرنے اور گردن اڑا دینے کو ہی اسلام کی اساس قرار دیا جا رہا ہے۔ نوجوان پستی کی طرف گرتا چلا جا رہا ہے، مگر کوئی ان کو سہارا دینے اور سیدھا راستہ دکھانے پر راضی دکھائی نہیں دیتا اور راضی ہو بھی تو کیسے ہو، اگر قوم و ملک کے معماروں کو صحیح راستے کی نشان دہی کر دی، تو پھر سر اٹھا کر چلنے والے نوجوان کے عزم و ارادے کے سامنے کون ٹک پائے گا؟ اسی بات کے خوف نے معاشرے میں ایک گھٹن کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے، مادیت کی راہ میں ایک ایسی دوڑ کا آغاز کیا گیا ہے جو گول دائرے کے اطراف میں جاری ہے اور کبھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچے گی۔ جھوٹی اور لادینیت پر قائم رسم و رواج میں سب کو ایسا مشغول کر دیا گیا ہے کہ ان رسموں اور رواجوں کو دین سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، ہر شخص اپنے ہر عمل کی صداقت کو اسلام کی رو سے ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ معاملہ چاہے معصوم اور ناحق خون سے مسجدوں کو لال کیے جانے کا ہو یا لسانیت یا مذہب کے نام پر تعصب کے بیج بونے کا۔۔۔۔۔۔ہر عمل کو اسلام سے درست ثابت کرنے کی دوڑ لگی ہے۔۔۔۔جس کا دل چاہتا ہے اسلام کو وہی شکل دے کر پیش کر دیتا ہے۔ نعوذ باللہ
کسی بھی معاشرے میں سماجی، معاشی، سیاسی معاملات سے اگر نوجوان لا تعلق نظر آئے تو سمجھ لینا چاہئے کہ ان مسائل کا حل ہونا مشکل ہے۔ طالب علموں اور نوجوانوں کو کسی بھی معاشرے کا سب سے فعال عنصر تصور کیا جاتا ہے، جن پر معاشرے کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے، اگر یہ طبقہ تعمیری فکر اور صحیح سیرت کا حامل ہو گا تو پوری قوم اور معاشرے کے روشن مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے، لیکن اگر یہ طبقہ فکری اور عملی بے راہ روی کا شکار ہو جائے تو مستقبل تو دور کی بات ہے یہ اپنے بزرگوں کے کئے کرائے پر بھی پانی پھیر دے گا۔ نوجوان قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ اچھے خیالات کو قبول کرنے کی صلاحیت ان میں زیادہ ہوتی ہے۔ بڑی عمر کے لوگوں کو بسا اوقات مصلحتیں اور عصبیتیں کسی فکر کو قبول کرنے سے روک دیتی ہیں۔ نوجوانوں کے مضبوط عزائم ان زنجیروں کو کاٹ سکتے ہیں، جو بڑوں کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہیں۔ ان ہی خصوصیات کی بناء پر نوجوان ہر تحریک کا سرمایہ ہوتے ہیں، ان کو ہر تحریک اپنے ساتھ لینے اور ان سے طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جب کسی تحریک میں جوانوں کی آمد رک جاتی ہے تو وہ ختم ہو جاتی ہے یا رک جاتی ہے۔ دُنیا میں جو بڑے بڑے انقلاب آئے ہیں، ان میں نوجوانوں کا ہاتھ رہا ہے۔ ان کی قربانیوں ہی نے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے احوال بتاتے ہیں کہ نوجوانوں ہی نے سب سے پہلے ان کا ساتھ دیا۔ دور حاضر میں اٹھنے والی اسلامی تحریکوں کی کامیابی میں نوجوانوں کا کردار کلیدی رہا ہے، تیونس ہو یا مصر، یمن ہو یا بحرین، لبنان ہو یا ایران یا مسئلہ فلسطین ۔۔۔صرف نوجوان ہی ہیں، جنہوں نے اپنی ثابت قدمی اور مضبوط فکری بنیادوں کی بدولت استعمار کو اس طرح پچھاڑا ہے کہ دنیا حیران ہے۔ اس وقت پوری دنیا اخلاقی بحران سے گذر رہی ہے۔ آج کے نوجوان بھی اسی بحران کا شکار ہیں۔ آج کا نوجوان مادہ پرستی کی راہ میں ”روبوٹ“ بننے پر کمربستہ ہے، لیکن اخلاقی قدروں کےحوالے سے اس قدر خاموش ہے کہ ”لاش“ کا گمان ہوتا ہے۔ اخلاقی قدریں انسان کو بعض اصولوں کا پابند بناتی ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ لیکن موجودہ دور کے انسان کے نزدیک یہ اخلاقی قدریں قدامت پرستی اور جہالت کی دلیل ہے۔ انسان جس اخلاقی قدر کو چاہئے اسے دورِ جاہلیت کی یادگار کہہ کر پامال کر سکتا ہے۔ ہمارے جوان کو کوئی قوم اور زبان کی بنیاد پر تعصب کی عینک پہنا دینا چاہتا ہے تو کوئی مذہبی انتہا پسندی کو اس پر تھوپ دینا چاہتا ہے، کہیں مساجد میں خون کے دریا بہائے جا رہے ہیں تو کہیں مساجد میں کفر کے فتوے سنائے جا رہے ہیں، کہیں نماز اور روزے سے لگائو کی بنیاد پر اسے انتہا پسند قرار دے دیا جاتا ہے تو کہیں مذہب سے دوری کی پاداش میں نوجوان پر جنت کی حوروں کو حرام قرار دے دیا جاتا ہے اور کہیں کسی مسلمان کے قتل کے عوض جنت کی حوروں کا بٹوارہ ہوتا ہے۔ ان تمام ذکر کئے جانے والے مسائل کا حل ولایت سے تعلق جوڑ دینے میں ہے، وہ جوان جو ولایت سے اپنا تعلق استوار کر چکے ہیں انکی منزل بھی واضح ہو چکی ہے اور انکے اہداف بھی، وہ اس کشمکش سے اپنی جان چھڑا چکے ہیں جو ایک لادین معاشرہ انکے اندر پیدا کرتا ہے، وہ استقامت و جرات مندی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں ہیں۔ نہ ان پر استعماری سازشیں اثر انداز ہوتی ہیں اور نہ ہی آستین کے سانپوں کے کاٹے کا ان پر اثر ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ولایت سے قربت اختیار کی جائے، ولایت کو تسلیم کیا جائے اور اپنی ضمام ولایت کے سپرد کر دی جائے۔ جب ضمام ولایت کہ ہاتھوں میں ہو گی تو حزب اللہ وجود میں آ جاتی ہے اور نوجوان شجاعت و جوانمردی کا پیکر بن جاتا ہے جو راتوں میں اپنے رب سے راز و نیاز میں مصروف ہوتا ہے اور دن میں باطل سے برسر پیکار رہتا ہے، وہ عرفانیت کی کتنی ہی منازل ایک رات میں طے کر لیتا ہے جس کے لیے سالوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ اپنی جوانی کو ضائع نہ کریں، استعمار کی متعین کی گئی راہ پر چلنے کے بجائے راہ ولایت کو اختیار کریں اور نصرت دین کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔

حتمی تجزیئے میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا کو ایران فوبیا میں مبتلا کرنے کا امریکہ کا پوشیدہ ایجنڈہ یہ ہے کہ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق سنسی خیزی پیدا کر کے عالمی برادری کو خوف میں مبتلا کر دیا جائے۔ امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور دوسرے بدمعاش حواریوں سے ملکر ایران پر حملہ کر کے اس کے بہت بڑے معدنی ذخائر لوٹنا چاہتا ہے، جس کیلئے وہ ایک طویل عرصے سے نظریں جمائے ہوئے ہے، اس غیرمقدس اتحاد میں کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایران کو چھیڑنے کا ذمہ دار کون ہو گا لیکن جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ و برطانوی کتے کے پیچھے جو دم ہلتی نظر آ رہی ہے وہ اسرائیل ہے۔

حالیہ دنوں میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ میں امریکہ و برطانیہ گلا پھاڑ کر جس انداز میں ایران فوبیا کا پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف عمل ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مشرق وسطٰی میں سیاسی ڈھانچے کو تباہ کن جنگ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، تینوں ممالک کی یہ منڈلی یا جماعت جو منحوس مثلث پر مشتمل ہے، ایران کے خلاف اپنے مصنوعی اور بے بنیاد الزامات کو جواز بنائے ہوئے ہیں، اس منحوس مثلت کے اعلٰی دفاعی حکام نے گذشتہ دنوں میں ایک میٹنگ کے دوران ایران کیخلاف ایک متحدہ محاذ تشکیل دیا ہے، جس سے ان کے مستقبل قریب میں ایران اور خطے کے بارے میں مذموم عزائم کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ ایران پر حملہ کرنے کی افواہیں اور آئی اے ای اے کی حالیہ رپورٹ، جس میں ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے الزامات لگائے گئے، بعد میں منظر عام پر آئی ہیں۔
برطانوی جریدہ ’’گارڈین‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل ڈیوڈ رچرڈز نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں تل ابیب کا دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے اسرائیل کے چوٹی کے ملٹری اور انٹیلی جنس عہدیداروں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں، جس میں اسرائیلی دفاعی حکام کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ برطانیہ ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر اسرائیل کے حملے کی مکمل حمایت کرے گا، مزید برآں برطانوی حکام نے مزید بتایا کہ امریکی حکومت ایران کے نیوکلیئر پلانٹس کے خلاف بڑی تیزی سے ٹارگٹڈ حملوں کا منصوبہ بنا رہی ہے، اور برطانیہ ان ممکنہ حملوں کے منصوبے کا حصہ بننے کیلئے تیار ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ پچھلے بدھ کو اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے اپنے برطانوی ہم منصب سے لندن میں ملاقات کی اور ظاہر ہے کہ اس ملاقات کا اولین ایجنڈہ ایران کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، اس ملاقات کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ برطانوی دفاعی حکام نے دسیوں برسوں سے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا ہے، پس حالیہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعلقات میں استحکام اور فروغ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔حال ہی میں واشنگٹن میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایک سینئر امریکی فوجی کمانڈر نے کہا کہ ایران، امریکہ کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے، ایران امریکہ اور اس کے مفادات، ہمارے دوستوں کے لئے خطرے کی بڑی علامت بن چکا ہے، اس کا کہنا تھا کہ اس وقت اگر کسی چیز پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تو وہ ایران ہے۔’’اتفاق‘‘ سے اسی دن اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو ایک انٹرویو میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا اور اس امر کی خواہش کی کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کیلئے فوجی آپشن کا مرحلہ نزدیک تر آ گیا ہے، جب چینل کی طرف سے یہ سوال کیا گیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مسئلے کے کسی سیاسی یا سفارتی حل کی بجائے ملٹری آپشن کی طرف جا رہے ہیں؟ تو شمعون پیریز نے جواب دیا کہ مجھے اس بات کا مکمل یقین ہے اور میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ تمام ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی نظرین گھڑی کی ٹک ٹک پر لگی ہوئی ہیں، جو رہنماؤں کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں رہا۔اسی تناظر میں فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ایران کا رویہ اور ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی شدید خواہش عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس نے کہا اگر اسرائیل کے وجود کو کوئی بھی خطرہ لاحق ہوا تو فرانس اس کے تحفظ میں خاموش نہیں رہے گا۔ فرانس کے موقف کے برعکس تین ممالک کی منڈلی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی لفظی جنگ میں دو قدم مزید آگے بڑھالئے ہیں۔
 دھمکی یا دباؤ ایران کے لئے نئے الفاظ نہیں اور وہ اس تلخ صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے، جیسا کہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے لیبیا کے شہر بن غازی میں ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ بدقسمتی سے امریکہ نے عالمی مسائل پر عقلمندی اور دانائی کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا ہے، اس نے صرف طاقت کے زور پر معاملات کو حل کرنے کی روش اپنا رکھی ہے، وہ معقولیت کو بھی گم کر بیٹھے ہیں، انکا کہنا تھا کہ ہم ہر تلخ اور سخت صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیارہیں، انہوں نے کہا ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ وہ ایران سے ٹکراؤ سے قبل کم از کم دو مرتبہ ضرور سوچیں گے۔امریکہ، ایران کیخلاف دوبارہ جاری اپنی لفظی جنگ میں اپنے وہی پرانے الزامات کو بار بار دوہرا رہا ہے، جیسے ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، ایران علاقے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، ایران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، اور اگر ایٹم بم بنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کر لیتا ہے تو یہ تیسری ورلڈوارکا پیش خیمہ ہو گا۔ حالیہ الزامات کا سلسلہ اس وقت مزید تیز ہو گیا جب عالمی ایٹمی انرجی ایجنسی کی رپورٹ سامنے آئی، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران بڑے پیمانے پر سٹیل کے کنٹینر بنا چکا ہے جو نیوکلیئر ہتھیاروں کے لئے استعمال ہوتے ہیں، ایران نے نیوکلیئر وارہیڈ میں استعمال ہونے والے سپر کمپیوٹر بھی تیارکر لئے ہیں، اور اسی طرح کی دوسری قیمتی معلومات ابھی صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں، جن کاتعلق  ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام سے ہے۔’’منحوس مثلث‘‘ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کا ایران کیخلاف حملے کا پلان سٹیج کرنے کا مقصد اس کے معدنی ذخائر کی لوٹ مار کرنا ہے، تاہم ایران اس صورتحال پر کبھی بھی خاموش بیٹھا نہیں رہے گا اور حملہ آوروں کا ان کے گھر تک پیچھا کریگا۔ اگست 2011ء میں سپاہ پاسداران کے ایک اعلٰی کمانڈر بریگیڈیئر علی شادمانی نے ان تین موثر اقدامات کا ذکر کیا ہے، جو ایران کیخلاف ممکنہ کسی بھی جارحیت کی صورت پر حکمت عملی کے طور پر اختیار کئے جا سکتے ہیں۔
(1) امریکہ اسرائیل کا دوست اور ہمدرد ہے، ایران اسرائیل کا امن تباہ و برباد کر دیگا اور اسرائیل میں عدم اطمینان یقیناً امریکہ کو کسی بھی جارحیت سے روکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
(2) کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لے گا، جہاں سے دنیا بھر میں تیل کی 40 فیصد سپلائی گزرتی ہے، جس سے پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں کئی گنا بڑھ جائیں گی اور پہلے ہی تیزی سے ابتر ہوتی ہوئی عالمی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گی۔ 
(3) ایران، عراق اور افغانستان میں اپنے اتحادیوں سے مل کر امریکہ کے ملٹری بیسز کا محاصرہ کر سکتا ہے اور کسی بھی حملے کی صورت میں ایرانی فوجیں ان بیسز کی طرف بڑھ جائیں گی اور امریکی افواج کی ممکنہ پیش قدمی کو روک دیں گی۔
حتمی تجزیئے میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا کو ایران فوبیا میں مبتلا کرنے کا امریکہ کا پوشیدہ ایجنڈہ یہ ہے کہ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق سنسی خیزی پیدا کر کے عالمی برادری کو خوف میں مبتلا کر دیا جائے۔ امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور دوسرے بدمعاش حواریوں سے ملکر ایران پر حملہ کر کے اس کے بہت بڑے معدنی ذخائر لوٹنا چاہتا ہے، جس کیلئے وہ ایک طویل عرصے سے نظریں جمائے ہوئے ہے، اس غیرمقدس اتحاد میں کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایران کو چھیڑنے کا ذمہ دار کون ہو گا لیکن جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ و برطانوی کتے کے پیچھے جو دم ہلتی نظر آ رہی ہے وہ اسرائیل ہے۔

 

ملتان: اہم صوبائی اجلاس میں ایم ایم اے کی بحالی کے امکانات، موجودہ حالات میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کا کردار اور آمدہ انتخابات میں ملت تشیع کے کلیدی کردار کو مزید مضبوط اور طاقتور بنانے کے حوالے سے موضوعات پر طویل بحث کی گئی شیعہ علماء کونسل پنجاب کا ایک اہم صوبائی اجلاس گذشتہ روز جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ شیعہ میانی ملتان میں منعقد ہوا، جس کی صدارت شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید عبدالجلیل نقوی کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبائی نائب صدر مولانا آغا عظمت علی نے کی، جبکہ مرکزی نائب صدر اور عالم اسلام کے معروف مبلغ استاذ العلماء علامہ سید محمد تقی نقوی مہمان خصوصی تھے۔ اجلاس میں اراکین صوبائی کابینہ چوہدری فدا حسین گھلوی، سید ایم ایچ بخاری، سید اظہار نقوی، سردار کاظم علی خان حیدری، مہر قیصر عباس دادوآنہ، فضل عباس جنجوعہ اور دیگر نے شرکت کی۔ پنجاب میں شیعہ علماء کونسل کے ڈویژنل صدور و سیکریٹریز اور ضلعی صدور و جنرل سیکریٹریز کے علاوہ جعفریہ یوتھ اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نمائندگان بھی شریک تھے۔ جبکہ علامہ سید علی اصغر نقوی وائس پرنسپل جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ ملتان نے خصوصی طور پر تربیتی اور اخلاقی تعمیر کے موضوع پر پُرمغز درس دیا۔
اہم صوبائی اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں ملت جعفریہ کا کردار، سیاسی جماعتوں کے روابط اور مذاکرات کی کیفیت، ایم ایم اے کی بحالی کے امکانات، موجودہ حالات میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کا کردار اور آمدہ انتخابات میں ملت تشیع کے کلیدی کردار کو مزید مضبوط اور طاقتور بنانے کے حوالے سے موضوعات پر طویل بحث کی گئی اور اہم فیصلہ جات کئے گئے۔ جبکہ آمدہ انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے حوالے سے بھی متعدد معاملات طے کئے گئے۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب نے ملک میں مکتب تشیع کے پیروکاروں کے خلاف جاری دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے بھیانک اور ملکی امن وامان برباد کرنے کے سلسلے پر سخت تشویش کرتے ہوئے سپریم کورٹ اور مقتدر قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں اور ملک کے عمومی اور نچلی سطح کے مسائل پر توانائیاں صرف کرنے کی بجائے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جیسے خونی سیلاب کو روکنے کے لیے اقدامات کا اعلان کریں۔ کیونکہ یہ دونوں مسائل اعلی عدلیہ اور مقتدر قوتوں کے سارے کارناموں اور زحمات و خدمات کو داغدار کر رہے ہیں۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذکورہ دونوں مسائل سے متاثرہ لوگ بھی اب مایوسی کی انتہاء کو پہنچ چکے ہیں جس کا ادراک کرنا اور اندازہ لگانا اعلی عدلیہ اور مقتدر قوتوں کی اولین ذمہ داری ہے تاکہ ملک کو خانہ جنگی اور فتنہ و فساد سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اجلاس میں محرم الحرام میں مجالس و جلوس ہائے عزاء کے انعقاد میں حائل سرکاری اور فرقہ وارانہ رکاوٹوں کا بھی بغور جائزہ لیا گیا اور مختلف ضلعی صدور کی طرف سے پیش کئے گئے تحفظات اور مطالبات کی روشنی میں طے کیا گیا کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے بھرپور رابطہ کرکے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اور عزاداری کے انعقاد کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ البتہ امن و امان کے قیام اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کے لیے انتظامیہ اور دینی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور معاونت کی جائے گی اس حوالے سے امن کمیٹیوں اور اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں کے کردار کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا جائے گا۔ شیعہ علماء کونسل کے اجلاس میں سانحہ علی پور، سانحہ دریا خان اور ننکانہ صاحب میں فرقہ وارانہ صورت حال کی کشیدگی کے حوالے سے بھی خصوصی غور کیا گیا اور آئینی و قانونی راستے کے ذریعے جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ملک میں موجوہ دور میں جان لیوا مہنگائی، کرپشن کے نت نئے اسکینڈلز رونما ہونے، امریکہ میں پاکستانی سفیر کے حالیہ اقدام سے پیدا ہونے والی صورت حال، امریکہ و اسرائیل کے طرف سے اسلامی جمہوری ایران پر حملہ کرنے کی کیدڑ بھبھکیوں، عرب ممالک میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں، بھارت کو پسندیدہ قرار دینے کے حکومتی فیصلے کے اثرات، کالعدم اور دہشت گرد گروہوں کی شرپسندانہ سرگرمیوں، فرقہ پرستوں کے از سرنو منظم ہونے کے سلسلے اور حکومتوں کی دانستہ خاموشی کے موضوعات پر خصوصی مشاورت کی گئی اور حکمرانوں سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ پاکستان کے داخلی اور خارجی تشخص کو باوقار اور باحمیت بناتے ہوئے اقدامات کریں۔

 

پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں اضافی سیکورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے، ڈبل سواری، واک چاکنگ، اشتعال انگیز تقاریر، ہر قسم کا اسلحہ ساتھ لیکر چلنے اور افغان مہاجرین کے شہر میں داخلہ پر پابندی ہو گی، وفاقی حکومت نے محرم الحرام کے حوالے سے قبائلی علاقہ کرم ایجنسی کو بھی حساس ترین قرار دیا ہے، موجودہ حالات کے پیش نظر حکومت، سیکورٹی اداروں اور متعلقہ انتظامیہ کیلئے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال یقینی بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں، اس حوالے سے معاشرہ کے ہر طبقہ کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ پشاور سمیت صوبہ خیبر پختونخوا 2005ء سے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، اب تک ہزاروں معصوم شہری دہشتگردوں کے وحشیانہ اور ظالمانہ اقدامات کا نشانہ بن چکے ہیں، مساجد، امام بارگاہوں، بازار، تعلیمی اداروں، سرکاری اور سیکورٹی اداروں سمیت ہر طبقہ ہائے زندگی کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا، صوبہ کے ان مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت نے 5 اضلاع کو محرم الحرام کے حوالے سے حساس ترین قرار دیا ہے، جس کے مطابق پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں سخت ترین سکیورٹی انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ صوبے کے باقی 20 اضلاع میں بھی حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے، گزشتہ چند سالوں میں حساس قرار دیئے گئے ان اضلاع میں دہشتگردی کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جبکہ ایام محرم میں بھی دہشتگردوں نے اپنے روایتی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہ شہریوں کو بربریت کا نشانہ بنایا، ماتمی جلوسوں اور مجالس عزاء پر حملے کئے گئے۔  صوبہ خیبرپختونخوا میں محرم الحرام کے دوران امن وامان کا قیام یقینی بنانے کیلئے سکیورٹی پلان تشکیل دیدیا گیا ہے، محرم الحرام کے پیش نظر محکمہ پولیس میں ہرقسم کے تبادلوں اور نئی تقرریوں پر پابندی عائد ہو گی، حساس قرار دیئے گئے اضلاع صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت کوہاٹ، ہنگو، بنوں اور ڈی آئی خان میں ڈبل سواری، واک چاکنگ، اشتعال انگیز تقاریر اور ہر قسم کا اسلحہ ساتھ لیکر چلنے پر پابندی ہو گی جبکہ ان اضلاع میں محرم الحرام کے دوران افغان مہاجرین کے شہر میں داخلہ پر پابندی ہو گی اور اضافی سیکورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ اکبر خان ہوتی نے صوبہ بھر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، محرم الحرام کے پیش نظر پولیس جوانوں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں، خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے تشکیل دیئے گئے سکیورٹی پلان کے مطابق محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں کے راستوں کو بند کر دیا جائیگا جبکہ ماتمی جلوسوں کے راستے میں ہر قسم کی گاڑیوں کی پارکنگ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، ادھر پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے بھی مذہبی بھائی چارے کی فضاء برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کئے ہیں اور ڈی سی او پشاور سراج احمد خان نے محرم الحرام کے دوران ہر صورت امن عامہ کی فضاء برقرار رکھنے کیلئے متعلقہ محکموں اور حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔  پشاور میں 26 نومبر سے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس امر کا فیصلہ ڈی سی او پشاور سراج احمد کی سربراہی میں انتظامیہ نے کیا، اس سے قبل 25 نومبر سے دفعہ 144 نافذ ہونی تھی لیکن تحریک انصاف کی جانب سے 25 نومبر کو جلسہ کے باعث یہ تاریخ ایک روز کیلئے بڑھا دی گئی، ڈی سی او نے پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ 26 نومبر سے قبل کسی شہری کو دفعہ 144 کے نام پر بے جا تنگ نہ کیا جائے جبکہ عوام سے اپیل کی کہ پولیس کی جانب سے کسی بھی شکایت کی صورت میں ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے، انہوں نے محرم الحرام کے سلسلے میں پولیس کو ماتمی جلوسوں اور مجالس عزاء کی بھرپور حفاظت کیلئے ہدایت بھی کی گئی ہے۔ وبائی حکومت نے محرم الحرام میں دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر صوبے کے 200 سے زائد علماء کو سیکورٹی فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پشاور، ہنگو، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان سمیت حساس ترین اضلاع میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کو پولیس سیکورٹی کے علاوہ لیویز فورس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکار بھی فراہم کئے جائینگے جبکہ صوبے کے بیشتر علما کرام کے پاس پہلے سے ہی سرکاری سیکورٹی موجود ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ 200 سے زائد علماء کو سیکورٹی کی فراہمی کے حوالے سے محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا نے صوبے کے تمام ڈی آئی جیز اور ڈی پی اوز کو ہدایت جاری کر دی ہیں، ان علماء کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سیکورٹی خدشات کا اظہار کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے محرم الحرام کے حوالے سے قبائلی علاقہ کرم ایجنسی کو بھی حساس ترین قرار دیا ہے، اس سلسلے میں کرم ایجنسی کی تینوں تحصیلوں کو حساس قرار دیا گیا ہے، کرم ایجنسی کو یکم محرم الحرام سے دس محرم الحرام تک سیل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں جبکہ خاصہ دار فورس، لیویز فورس کے علاوہ پیرا ملٹری فورس کی مزید نفری بھی کرم ایجنسی کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات کی جا رہی ہے، فاٹا سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق کرم ایجنسی کو وفاق نے حساس قرار دیا ہے جس کے لئے کمشنر کوہاٹ ڈویژن، ڈی آئی جی کوہاٹ اور پولٹیکل ایجنٹ کرم ایجنسی کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کرم ایجنسی میں محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر قافلوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد کر دی جائیگی۔ خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات کے پیش نظر حکومت، سیکورٹی اداروں اور متعلقہ انتظامیہ کیلئے محرم الحرام کے دوران امن وامان کی صورتحال یقینی بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں، ان ایام میں ہر طبقہ کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا بلخصوص تمام علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں میں شعور پیدا کریں کہ وہ محرم الحرام کے دوران امام حسین ع کی یاد کو اپنے عقائد اور نظریات کے تحت مناتے ہوئے آپس میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیں تاکہ ملک اور اسلام دشمن عناصر کو اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے، شہریوں کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے حالات پر نظر رکھیں اور مجالس عزاء اور ماتمی جلوسوں کے تحفظ کیلئے انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں، تاکہ سیکورٹی ادارے شہریوں، تاجروں اور مذہبی رہنمائوں کے تعاون سے سیکورٹی کے مکمل انتظامات کر سکیں۔

 

ایران اور حزب اللہ لبنان کی جانب سے 12 سی آئی اے ایجنٹس کی گرفتاری پر مبنی خبر نے عالمی میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی نیوز چینل اے بی سی نیوز نے کل شام اعلان کیا کہ ایران اور لبنان میں 12 امریکی جاسوس انٹیلی جنس ایجنسیز کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے ہیں جنہیں سزائے موت دیئے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔ اس خبر نے امریکہ میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے اور عالمی میڈیا میں ہلچل مچا کر رکھ دی ہے۔ ان امریکی جاسوسوں کی گرفتاری اس وقت انجام نہیں پائی بلکہ گذشتہ مدت میں وقتا فوقتا انجام پائی ہے۔ بعض سیاسی ماہرین کی نظر میں اس وقت مغربی میڈیا کا اس خبر کو بڑے پیمانے پر کوریج دینا اور پھیلانا کچھ مشکوک نظر آتا ہے۔
گارڈین: برطانوی روزنامہ ڈیلی گارڈین اس خبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ سی آئی اے کی جانب سے واضح غلطیاں باعث بنی ہیں کہ اسکے جاسوس پھانسی کے تختے تک جا پہنچیں۔
ڈیلی میل: برطانوی اخبار ڈیلی میل اس خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رپورٹ کی صورت میں لکھتا ہے: ہم نہیں سمجھتے ان ایجنٹس کو دوبارہ زندہ دیکھ سکیں گے۔ ایران اور لبنان میں گرفتار ہونے والے دسیوں جاسوسوں کو سزائے موت ملنے کا قوی امکان موجود ہے۔ ڈیلی میل اس رپورٹ میں لکھتا ہے کہ ایران اور حزب اللہ لبنان کی جانب سے ان جاسوسوں کی گرفتاری نے امریکہ کی جانب سے ایران اور حزب اللہ کے خلاف اقدامات کو شدید دھچکہ پہنچایا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس:ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی ان افراد کی گرفتاری کو ایران اور حزب اللہ لبنان کے مقابلے میں سی آئی اے کیلئے بڑی ناکامی قرار دیا اور لبنان میں امریکہ کی شکست کا اعتراف کیا۔
یو ایس اے ٹوڈے:امریکی اخبار یو ایس ٹوڈے لکھتا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے ان امریکی جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد لبنان میں سی آئی اے کے آپریشنز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
فرانس نیوز ایجنسی:فرانس نیوز ایجنسی نے بھی ان امریکی جاسوسوں کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سی آئی اے کو پہلے ہی خبردار کیا جا چکا تھا کہ انکے جاسوس خطرے میں ہیں۔
نیوز 24:نیوز 24 چینل نے بھی اس خبر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان امریکی جاسوسوں کی گرفتاری نے لبنان میں سی آئی اے کو شدید دھچکہ پہنچایا ہے، گذشتہ چند ماہ کے دوران سی آئی اے کے اعلی اہلکاروں نے بیرونی ممالک میں اپنے جاسوسوں کی دستگیری کو روکنے کیلئے خفیہ طور پر شدید قسم کی احتیاطی تدابیر لاگو کر رکھی تھیں۔ یہ احتیاطی تدابیر حزب اللہ لبنان کی جانب سے ان جاسوسوں کی گرفتاری سے پہلے عمل میں لائی جا چکی تھیں۔
اسرائیل نیشنل نیوز:اسرائیلی میڈیا نے بھی اپنے مخصوص انداز میں اس خبر پر ردعمل ظاہر کیا۔ اسرائیل نیشنل نیوز نے 12 امریکی جاسوسوں کی گرفتاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں ممکنہ سزائے دیئے جانے پر پریشانی کا اظہار کیا۔
یدیعوت آحارنوٹ: اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارنوٹ “سی آئی اے وحشت زدہ، حزب اللہ کا انٹی جاسوسی سیل” کے عنوان سے لکھتا ہے کہ حزب اللہ نے ایران کی مدد سے وطن کے غداروں کو شناخت کر کے گرفتار کر لیا ہے۔
یہ اخبار مزید لکھتا ہے کہ حزب اللہ لبنان جدیدترین ٹیلی کمیونیکیشن آلات کے ذریعے سی آئی اے کے جاسوسوں کو پکڑنے میں کامیاب رہا ہے۔
ہارٹز:ایک اور اسرائیلی اخبار ہارٹز نے ان جاسوسوں کی گرفتاری کو سی آئی اے کیلئے شدید نقصان قرار دیا اور لکھا کہ حزب اللہ لبنان ایران کی مدد اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان جاسوسوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
رشیا ٹوڈے:روسی نیوز چینل رشیا ٹوڈے نے “ایران اور لبنان میں سی آئی اے کے نیٹ ورک کی نابودی” کے عنوان سے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فی الحال ان جاسوسوں کا انجام واضح نہیں ہے لیکن جو چیز یقینی ہے وہ یہ کہ امریکی جاسوسی ادارے کیلئے اسکے اثرات انتہائی منفی ہوں گے۔
رویٹرز:رویٹرز نیوز ایجنسی نے بھی اس خبر کو ایران اور حزب اللہ لبنان کے مقابلے میں سی آئی اے کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ امریکی جاسوسی نیٹ ورک خود امریکہ کی جانب سے لبنان کو دیئے گئے ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کے ذریعے ہی فاش ہوا۔
ٹائم:امریکی مجلے ٹائم نے اس واقعے کو امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کی شکست قرار دیتے ہوئے ان امریکی جاسوسوں کی گرفتاری میں ایران کے اہم کردار پر تاکید کی۔
سی این این:امریکی نیوز چینل سی این این نے بھی دوسرے نیوز چینلز کی طرح ان جاسوسوں کی گرفتاری کو سی آئی اے کی شکست قرار دیا۔
یونائٹڈ انٹرنیشنل:امریکی نیوز ویب سائت یونائٹڈ انٹرنیشنل نے اس خبر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان جاسوسوں کو سزائے ملنے کے امکان پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔
لاس اینجلس ٹائمز:امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد گذشتہ سال گرمیوں سے لبنان میں سی آئی اے کے تمام آپریشنز روکے جا چکے ہیں۔

اپنی گفتگو میں علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری توانائی کے پروگرام میں کوئی نئی تبدیلی نہیں ہوئی، جو چیز ایران پر پابندیاں لگانے کا باعث بن رہی ہے وہ علاقے میں رونما ہونے والے واقعات ہیں، ان تبدیلیوں نے مغربی طاقتوں کے مسلط کئے ہوئے ڈیکٹیٹرز کو زمین پر پٹخ دیا ہے۔فارس نیوز کے مطابق مجلس شوری کے اسپیکر علی لاریجانی کا ایران پر لگائی جانے والی نئی پابندیوں، کہ جس میں مرکزی بینک پر لگائی جانے والی پابندی بھی شامل ہے، کے بارے میں کہنا تھا کہ ان کے اس اقدام کے جواب میں یقینا ایران بھی قدم اٹھائے گا اور ہم اس قسم کے ممالک سے جو ایران سے ایسا سلوک کریں، سے روابط رکھنے پر نظرِثانی کریں گے۔ فارس نیوز کے پارلیمانی خبرنگار کی رپورٹ کے مطابق مجلس شوری کے اسپیکر علی لاریجانی نے آج منگل کے دن ظھر کے وقت شھداءِ سپاہ کی یاد میں رکھے گئے مراسم میں نیوز رپورٹز سے بات چیت کی، اپنی گفتگو کے دوران اس سوال پر کہ یورپی یونین کی طرف سے لگائی جانے والی متوقع پابندیوں کا اعلان کہ جن میں مرکزی بینک پر پابندی بھی شامل ہے اس بارے میں آپکی کی کیا نظر ہے؟ کے جواب میں علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ میں  پہلے بھی اس مسئلے پر کہہ چکا ہوں کہ یہ روش جو امریکہ اور برطانیہ جیسے بعض ممالک نے اپنا رکھی ہے، بیوقوفانہ روش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری توانائی کے پروگرام میں کوئی نئی تبدیلی نہیں ہوئی، بس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو چیز ان پابندیوں کا باعث بن رہی ہے وہ علاقے میں رونما ہونے والے واقعات ہیں۔ جب ہم اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں ہونے والی تبدیلیوں نے مغربی طاقتوں کے مسلط کئے  ہوئے ڈیکٹیٹرز  کو زمین پر پٹخ دیا ہے۔ 
مجلس کے اسپیکر نے واضح کیا کہ ایران کے مرکزی بینک پر پابندی دوسری اقوام کے ساتھ بھی زیادتی ہے، انکا کہنا تھا ایران کے اسلامی انقلاب کو دنیا میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس میں وہ پیغام ہے جس نے ان ڈیکٹیٹرز کو زمین پر پٹخ دیا ہے، اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ انکے اس آخری قدم (ایران پر مزید پابندیاں لگانا) کا سلامتی کونسل میں انکی کی گئی کوششوں سے بھی تعلق ہے، لیکن اپنی ان کوششوں میں وہ کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے کہ مغربی طاقتوں نے ایران کے خلاف ایک قرارداد پاس کی ہے لیکن یہ قرارداد بھی مضبوط نہیں تھی۔    ایران کی قومی اسمبلی کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ جو کام وہ کرنے جا رہے ہیں، اس بھول میں نہ رہیں کہ اسکا جواب نہیں دیا جائے گا بلکہ ایران بھی ایسے ممالک کی اس روش کے جواب میں ان سے تعلقات پر نظرِثانی کرے گا اور ہم بھی جلد ہی اسمبلی میں اس مسئلے کی چھان بین کریں گے۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا مرکزی بینک پر پابندی لگانے سے مغرب اپنے ھدف کو حاصل کر لے گا یا نہیں، کہا کہ انہوں نے ایک قدم اٹھایا ہے، ایران بھی یقینا اقدام کرے گا البتہ یہ اقدامات ایران کی جوہری توانائی کے پروگرام میں کسی قسم کی تبدیلی کا باعث نہیں بنیں گے اور نہ ہی اسپر تاثیرگزار ہوں گے۔

پاکستان سمیت مختلف مسلم ممالک میں بادشاہوں، جاگیر داروں اور وڈیروں کی اجارہ داری قائم ہے، قیام پاکستان کے بعد سے یہی جاگیردار حکومت اور سیاست پر مسلط رہے ہیں، یہ ایک ہی قسم کے لوگ ہیں، وہی چند خاندان ہیں جو انگریز کے پروردہ تھے، وہی آج بھی سیاسی نظام میں بیٹھے ہوئے ہیں، سیاسی جماعتوں کے صرف نام مختلف ہیں، لیکن ان سے یہ وہی جاگیرار لوگوں کا گروہ ہے، جو کبھی کسی پارٹی میں ہوتا ہے تو کبھی کسی اور پارٹی کی شکل میں، کبھی یہ مارشل لاء کے نام پر کام کرتے ہیں تو کبھی جمہوریت کے نام پر، لیکن ایک طبقہ اس ملک و قوم پر مسلط ہے۔ایران کا عالمی سطح پر جو سٹینڈ رہا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بہت اچھا ہے، اس کا موقف ملی و قومی غیرت پر مبنی اور امت کے مفاد میں ہے، ایران نے دوسرے مسلم ممالک پر ثابت کر دیا کہ اگر چھوٹا ملک ہونے کے باوجود قومی غیرت کیلئے مضبوط موقف اپنایا جائے تو نہ صرف وہ ملک زندہ رہ سکتا ہے بلکہ ترقی بھی کر سکتا ہے، روز اول سے ایران کا امریکہ کے ساتھ مخالفانہ رویہ ہے، میں یہ کہوں گا کہ ”اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔” اگر ایران اپنے اصولی موقف کی بنیاد پر قائم رہ سکتا ہے اور ترقی بھی کر سکتا ہے تو پاکستان جو 17 کروڑ عوام کا ملک ہے وہ امریکہ کے بغیر کیوں نہیں رہ سکتا؟۔   ایران میں بہت ترقی ہوئی ہے، وہاں امن و امان کی صورتحال ٹھیک ہے، ان کا باقاعدہ اپنا ایک سسٹم اور قانون ہے، ایران پاکستان کیلئے ایک مثال ہے، بیت المقدس کے حوالے سے ایران کی پالیسی اور امریکہ و یہودیوں کی مخالفت میں موقف پوری امت کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرتا ہے، بدقسمتی سے باقی عالم اسلام پر امریکی یجنٹ مسلط ہیں اور وہ مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کا قتل عام کر رہے ہیں، ہم ایران کے عالمی سطح پر سٹینڈ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مسلم دنیا کے عوام کو بھی چاہیئے کہ وہ ایسا موقف رکھنے والے افراد کو ووٹ دیں اور پارلیمنٹ تک پہنچائیں جو حقیقت میں امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کر سکیں۔   ایرانی حکمرانوں کی پالیسیوں کے باعث پوری دنیا میں ان کی عزت ہے، ہمارے ملک پر جو امریکی ایجنٹ مسلط ہیں وہ تو ہماری بے عزتی کی وجہ بن رہے ہیں، بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کا پاسپورٹ دیکھ کر ہی کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ چور ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے حکمران نے کرپشن کو اس قدر عام کر دیا کہ لوگ پاکستانیوں پر اعتبار نہیں کرتے، ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اس ملک کو ان امریکی غلاموں سے نجات دلائے۔

 

سعودی عرب میں بھی عوامی انقلاب کی آہٹیں سنائي دے رہی ہیں جس کے خوف سے آل سعود نے انسانی حقوق کی کھلے عام خلاف ورزی کرتےہوئے ایک سو دس شیعہ مسلمانوں کو ملک بدر کردیا ہے۔ المستقبل العراقی ویب سائٹ کے مطابق ایک سو دس سعودی شیعہ مسلمانوں کو قطر کے طیارے کے ذریعے سعودی عرب سے نکالا دیا گيا ہے۔ سعودی حکام کا یہ غیر اخلاقی اقدام ایسے حالات میں سامنے آيا ہے کہ اس ملک کے مشرقی علاقوں میں اسلامی بیداری کی نشانیاں سامنے آئی ہیں اور عوام نے اپنے حقوق کے حصول نیز قیدیوں کی رہائي کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے ہیں ۔ سعودی عرب میں شیعہ مسلمان گرچہ دس سے پندرہ فیصد تک ہیں لیکن انہیں وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں بلکہ ان کےساتھ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے۔ اس کےعلاوہ شیعہ مسلمانوں کو سرکاری عھدوں پر نہیں رکھا جاتا یا بہت ہی کم رکھا جاتا ہے۔ شیعہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ حکومت نے ان کے مذہبی امور پر پابندیاں لگا رکھی ہیں اور انہیں مساجد میں بھی نماز جماعت ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ شیعہ مسلمانوں کے ساتھ سعودی حکومت کے رویے میں جو چیز نہایت منفی ہے وہ شیعہ مسلمانوں کے تعلق سے سعودی حکومت کی فرقہ وارانہ نظر ہے۔ یہ نظر انتھا پسند وہابی فکر کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہے جس کی مضبوط گرفت میں سعودی حکومت اور آل سعود ہے۔ وہابیوں نے سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کی زندگي اجیرن بنادی ہے اور ان پر ہر سطح پر روک ٹوک دیکھی جاسکتی ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق اس وقت آل سعود کی کال کوٹھریوں میں تیس ہزار سیاسی قیدی ہیں جن میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے۔ یہ بات تک کہی گئی ہے کہ شیعوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کےلئے مشرقی علاقے کے افراد کو حج کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ سعودی حکام نے اس طرح سے شیعہ مسلمانوں کو عالم اسلام سے آئے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ رابط قائم کرنے اور انہيں اپنے حالات سے سے آگاہ کرنے سے روکے رکھا۔ گذشتہ مہینوں میں سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں عوام نے اپنے پامال شدہ حقوق کا مطالبہ کرنے کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے ہیں جس سے آل سعود کو شدید تشویش لاحق ہوچکی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں جو دوہفتے قبل نشر ہوئي ہے کہا ہے کہ آٹھ مہینوں میں سعودی حکومت نے ایک سو ساٹھ سیاسی کارکنوں کوگرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ہے، اور ان میں زیادہ ترتعداد شیعہ مسلمانوں کی ہے۔ قابل ذکر ہے علاقے کے حالات کچھ ایسا موڑ لے رہے ہیں کہ ظالم حکام کی تشدد پسند پالیسیاں عوامی ریلے کو نہیں روک پائيں گي کیونکہ اب قومیں اپنے ضایع شدہ حقوق کی بازیابی کے لئے اٹھ کھڑی ہوئي ہیں۔ موجودہ دور نہ صرف علاقے کی قوموں بلکہ عرب حکام کے لئے بڑا حساس ہے اور سعودی عرب و اردن جیسے ممالک جہاں شاہی حکومتیں ہیں انہیں سب سے زیادہ تشویش لاحق ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ علاقے کی شاہی حکومتوں کو احساس ہوچکا ہے کہ جن ملکوں کو مستحکم قرادیا جاتا تھا ان میں بھی اب اسلامی بیداری کی موجوں سے لرزہ چھا رہا ہے اور یہ سعودی عرب اور اردن کی شاہی حکومتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے کہ اگر انہوں نے اپنے عوام کے مطالبات کو نظر انداز کیا تو ان کا انجام اتنا گھناونا ہوگا کہ جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔

شام کے شہروں میں جاری انتہا پسندوں اور وہابی دہشت گردوں کے حملوں میں ۱۱۵ شیعہ شہید ہو گئے ہیں۔شام کے مقامی ذرائع کی رپورٹس کے مطابق گذشتہ چند ماہ میں اب تک ایک سو پندرہ  شیعہ شہید ہو چکے ہیں جبکہ وہابی ناصبی دہشت گردوں نے مقامی شیعہ شہریوں کے گھروں کو منہدم کر دیا ہے جبکہ چار ماہ سے جاری پر تشدد مہم میں اب تک ۱۱۵ شیعہ افراد کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا ہے ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ناصبی وہابی دہشت گردوں سلفی ناصبیوں نے شیعہ شہریوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بان رکھا ہے جس کے باعث کئی شہروں سے شیعہ افراد ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔شام کیملت جعفریہ کے مقامی رہنما نے ذرائع کو بتایاہے کہ سلفی وہابی دہشت گرد جن کو امریکی وسعودی امداد حاصل ہے اور وہ امریکی و سعودی ایماء پر شام میں شیعہ آبادیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے یں ،ان کاکہنا تھا کہ ناصبی سلفی شیعہ شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور شیعیان شام کے گھروں کو منہدم کر رہے ہیں۔رہنما کاکہنا تھا کہ شیعہ اور علویان شام ناصبی سلفیوں کی دہشت گردی کا نشانہ اس لئے بن رہے ہیں کہ وہ شام کے سدر بشار الاسد کی حمایت میں ہیں تاہم شام کی ۹۰ فیصد آبادی بشار اسد کی حمایت کر رہی ہے لیکن سلفی وہابی دہشت گردوں نے شیعیان شام کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا رکھا ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ بدھ کو لاکھوں شامیوں نے سدر بشار الاسد کی حمایت میں زبردست ریلی نکالی تھی جن کا یہ مطالبہ تھا کہ شا م میں امریکی و سعودی ایماء پر کسی بھی سازش کو قبول نہیں کریں گے۔شرکائے ریلی نے عرب لیگ کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اندرونی یکجہتی کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

بحرین کےعوام نے سعودی عرب کےشیعوں کےحق میں مظاہرےکئےہيں ۔العالم کی رپورٹ کےمطابق بحرینی عوام نے پیر کےدن ملک کےمختلف علاقوں میں سعودی عرب کےقطیف علاقے کےشیعوں کی حمایت میں مظاہرےکئے۔سعودی پولیس کی فائرنگ میں جاں بحق ہونےوالے ناصرالمحیشی کاجنازہ حوالےنہ کئےجانے کےبعد شہرقطیف کےعوام نے ملک کےمشرقی علاقےمیں مظاہرےکئے ، سعودی پولیس نےمظاہرین پرفائرنگ کرکے ایک جوان کوزخمی کردیا۔سعودی پولیس نے ناصرالمحیشی کوہسپتال منتقل کئےجانےکےبعد ہسپتال کومحاصرےمیں لےلیا۔انیس سالہ سعودی جوان ناصرالمحیشی جواتوار کی رات الشویکہ محلےمیں سعودی سیکورٹی اہلکاروں کی فائرنگ کےنتیجےمیں زخمی ہوگئےتھے پیر کےدن زخموں کی تاب نہ لاکرچل بسے۔ العوامیہ علاقےمیں تحریک آزادگان نےایک اعلامیےمیں عوام سےاپیل کی ہےکہ اس جوان کی تشیع جنازہ میں شرکت کریں لیکن جنازہ نہ ملنےکی وجہ سے تشیع جنازہ منگل تک کےلئےملتوی کردی گئي۔

زیر حراست بے گناہ شیعہ نوجوان ذکی کاظمی عرف کامران جس پر کے پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ سعودی سفارت خانے پر حملے میں ملوث ہے کا آج عدالت سے ۷روز کا جسمانی ریمانڈ لے لیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق کرائم برانچ آف پولیس نے پیر کے روز عدالت سے بے گناہ شیعہ نوجوان ذکی کاظمی پر سعودی سفارتخانے پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے ۷ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کرائم برانچ آف پولیس نے بے گنا ہ شیعہ نوجوان ذکی کاظمی کو نئے ایڈمنسٹریٹو جج برائے انسداد دہشت گردی کی عدالت جسٹس فیصل عرب کی عدالت میں پیش کیا،جہاں پولیس نے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ شیعہ نوجوان ذکی کاظمی کا تعلق کالعدم تنظیم ’’لشکر مہدی‘‘ سے ہے اور وہ مسجد پر حملہ سمیت فرقہ وارانہ کلنگ میں بھی ملوث ہے ۔کرائم برانچ آف پولیس نے عدالت سے درخواست کی کہ تفتیش کے لئے ذکی کاظمی کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے جس پر عدالے نے مورخہ ۲۸ نومبر تک پولیس کو ریمانڈ دے دیا۔واضح رہے کہ پولیس پہلے ہی دو شیعہ بے گناہ نوجوانوں محسن اور محمد علی کاظمی کو فرقہ وارانہ دہشتگردی کے الزام میں پھنسانے کے لئے دونوں کا ریمانڈلے چکی ہے ،جبکہ پولیس نے ۱۶ نومبر کو ذکی کاظمی،محسن،محمد علی کاظمی ،صفدر اور تابش کو ان کے گھروں گلبرگ،بفرزون اور گلستان جوہر سے گرفتار کیا تھا جبکہ گرفتار کئے گئے شیعہ نوجوانوں میں سے تابش حسین ولد توفیق حسین کو پولیس نے اتوار کے روز ۲۰ نومبر کو جھوٹے پولیس مقابلے میں گولی مار کر شہید کر دیا ہے اور شہید پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سعودی سفارتخانے پر بم حملے کا بنیادی کردار تھا۔دوسری جانب پولیس انتظامیہ نے کہا ہے کہ پولیس نے گلستان جوہر کے علاقے رابعہ سٹی میں تابش حسین وعرف آصف کے ساتھیوں محسن،ذکی کاظمی ،محمد علی کاظمی اور صفدر کی مدد سے کاروائی کی جہاں پولیس مقابلے میں تابش حسین شہید ہو گیا۔جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں کو صبح عید گاہ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔دوسری جانب پولیس نے ایک بے گناہ شیعہ نوجوان صفدر عباس کو ثبوتوں کی عد م فراہمی کی بناء پر رہا کر دیاہے ،جبکہ معروف شیعہ عالم دین مولانا حسن ظفر کاکہناہے کہ وہ تمام شیعہ نوجوانوں کی رہائی کے لئے پولیس اور حکومتی اہلکاروں سے رابطے میں ہیں تاکہ بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔

دو روز قبل کراچی میں متعصب پولیس انتظامیہ کی دہشت گردی کے نتیجہ میں شہید ہونے والے معصوم اور بے گناہ شیعہ نوجوان شہید تابش حسین کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ کراچی کے قبرستان وادئ حسین میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اٹھائیس سالہ بے گناہ شیعہ نوجوان شہید تابش حسین ولد توفیق حسین کو آج کراچی کے قبرستان وادئ حسین مین آہوں ،سسکیوں اور لبیک یاحسین (ع) کے فلگ شگاف نعرو ں کی گونج میں سپرد خاک کر دیا گیا۔شہید تابش حسین کی نماز جنازہ مسجد و امام بارگاہ شہدائے کربلا انچولی سوسائٹی میں بعد نماز ظہرین مولانا حسن ظفر نقوی کی اقتدا ء میں ادا کی گئی جہاں شہر بھر سے سیکڑوں شیعیان حیدر کرار نے شرکت کی اور شہید کی نماز جنازہ ادا کی،اس موقع پر مولانا علی محمد،علامہ آفتاب حیدر جعفری ،مولانا حیدر عباس،مولانا عقیل موسیٰ ،مولانا میر حسین سمیت دیگر موجود تھے۔شہید تابش حسین کی نماز جنازہ کے بعد شہید کے جسد خاکی کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ آہوں ،سسکیوں اور لبیک یاحسین (ع) ،شہید کی جو موت ہے ،وہ قوم کی حیات ہے ،کے فلگ شگاف نعروں میں وادئ حسین قبرستان لے جایا گیا جہاں شہید کو سپرد خاک کر دیا گیا۔یہ بات یاد رہے کہ دو روز قبل کراچی پولیس کے متعصب پولیس افسران کی ایماء پر شہید تابش حسین کو گولی مار کر ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا تھا،جبکہ اس سے قبل چند روز قبل ان کو ان کے گھر سے قانون نافذ کرنے والے حساس اداروں کے اہلکاروں نتے چھاپہ مار کاروائی کر کے ان کو اغوا کر لیا تھا تاہم چند روز گذر جانے کے بعد چار دیگر گرفتار کئے گئے شیعہ نوجوانوں ذکی کاظمی،علی کاظمی،محسن اور صفدر عباس کو پولیس کی حراست میں دے دیا گیا جبکہ جھوٹے پولیس مقابلے کا ڈرامہ کرتے ہوئے شہید تابش حسین کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔