کراچی پولیس نے چند روز قبل اغوا ہونے والے نوجوانوں کو سعودی قونصلیٹ کے کیس میں ملزم نامزد کر دیا

Posted: 22/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

ذرائع کے مطابق پولیس کے کرائم زون نے اتوار کے روز ذرائع ابلاغ کے سامنے چار بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاری ظاہر کر دی، جن کو چند روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گھروں سے بغیر وارنٹ کے غیر قانونی طور پر اغوا کر لیا تھا، تاہم اب تک کی اطلاعات کے مطابق پولیس کے تشدد سے ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا ہے۔ کراچی میں پولیس انتظامیہ کے بدترین تشدد کے نتیجہ میں ایک شیعہ نوجوان جاں بحق ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس کے کرائم زون نے اتوار کے روز ذرائع ابلاغ کے سامنے چار بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری ظاہر کر دی، جن کو چند روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گھروں سے بغیر وارنٹ کے غیر قانونی طور پر اغوا کر لیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے چند روز قبل شیعہ بے گناہ نوجوانوں ذکی کاظمی، محسن، صفدر عباس، محمد علی کاظمی اور تابش حسین کو شیعہ آبادیوں میں چھاپہ مار کر گھروں سے بغیر وارنٹ کے غیر قانونی طور پر اغوا کر لیا تھا، تاہم اتوار کے روز کرائم زون نے چار شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری ظاہر کر دی ہے جبکہ پانچویں شیعہ نوجوان تابش کو پولیس نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا ہے۔ دوسری جانب پولیس انتظامیہ کرائم زون نے اتوار کے روز ذرائع ابلاغ کو چار شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری کے بارے میں بتاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چاروں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم لشکر مہدی سے ہے جبکہ یہ چاروں شیعہ نوجوان سعودی سفارتخانے پر بم حملہ کرنے میں ملوث ہیں۔ ایس ایس پی کرائم برانچ فاروق اعوان نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزم کو رابعہ سٹی کے پاس سے مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا جسے علاج کے لئے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔ انھوں نے بتایا کہ آج عید گاہ کے علاقے سے گرفتار تین ملزمان کی نشان دہی پر چھاپہ مارا گیا۔ ایس ایس پی کرائم برانچ کے مطابق ملزم کے تین ساتھی ذکی عرف کامران، محسن اور محمد علی کو آج صبح گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمان اس سال مئی کے مہینے میں کراچی میں سعودی قونصلیٹ پر دستی بم حملے میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ شہر میں فرقہ ورانہ وارداتوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔

Comments are closed.