سیاسی اسلام سے امریکہ کا خوف

Posted: 22/11/2011 in All News, Articles and Reports, Educational News, Palestine & Israel, Religious / Celebrating News, USA & Europe

خطے کے عرب ممالک میں اسلامی بیداری کی لہر اور امریکہ کے حمایت یافتہ ڈکٹیٹرز کی یکے بعد دیگرے سرنگونی کے نتیجے میں اسلام پسند قوتوں کا برسراقتدار آنا امریکہ کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔  عربی زبان میں شائع ہونے والے اخبار القدس العربی نے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی جانب سے عرب دنیا میں اسلام پسند گروہوں کے ساتھ تعاون کرنے کی پیشکش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں تاکید کی گئی ہے کہ عرب ممالک میں اسلامی بیداری کی لہر اور امریکہ نواز ڈکٹیٹرز کی یکے بعد دیگرے سرنگونی کے نتیجے میں اسلام پسند قوتوں کا برسراقتدار آنے کا امکان شدت پا گیا ہے جسکی وجہ سے امریکہ یہ کوشش کر رہا ہے کہ خود کو نئی سیاسی صورتحال سے مطابقت دیتے ہوئے اپنے مفادات کو محفوظ بنائے۔ اخبار کے مطابق اس امریکی کوشش کو کئی چیلنج درپیش ہو سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی جانب سے عرب دنیا خاص طور پر مصر اور تیونس میں اسلام پسند گروہوں کو تعاون کی پیشکش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ القدس العربی میں شائع ہونے والے اس مقالے میں کہا گیا ہے کہ یہ امریکہ کا حقیقی موقف نہیں اور امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے یہ پیشکش نئی سیاسی صورتحال کے ساتھ خود کو مطابقت دینے کیلئے مزید وقت حاصل کرنے کی غرض سے انجام پائی ہے۔ امریکہ کی موجودہ حکومت اپنی گذشتہ تمام حکومتوں اور یورپ کی اکثر حکومتوں کی طرح عرب ممالک میں انقلاب کے بعد برگزار ہونے والے انتخابات میں اسلام پسند قوتوں کی کامیابی کو اپنے روایتی حلیف اسرائیل کیلئے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں اور اسلام پسند گروہوں کو برسراقتدار آنے سے روکنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہیں۔ جب تک امریکہ اسرائیل کی حمایت اور اسکے جارحانہ اقدامات کی تائید کرنے میں مصروف ہے سیاسی اسلام اور اسلامی تحریکوں کے ساتھ تعاون کا اعلان کوئی معنا نہیں رکھتا اور فریبکاری اور دھوکہ دہی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیل اور اسکے بارے میں موقف کی نوعیت وہ معیار ہے جسکے مطابق امریکہ اسلامی گروہوں کو قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ کرے گا۔ لہذا اگرچہ تیونس میں اسلامی تحریک “النھضہ” کے سربراہ راشد الغنوشی جو ملک کے پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کر چکے ہیں کی جانب سے ایسی پالیسی اختیار کی گئی جو مغربی دنیا کے اعتماد کا باعث بنی لیکن حال ہی میں اس تحریک اور اسکے اتحادیوں کی جانب سے تیونس کے آئین میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بہبودی کو ممنوع قرار دینے پر مبنی نئے قانون کا اضافہ باعث بنا ہے کہ مغربی دنیا کی نظروں میں انکے تمام مثبت نکات ختم ہو جائیں۔  القدس العربی نے مزید لکھا ہے کہ اسلام اور مغربی دنیا کے درمیان تعاون ممکن ہے لیکن اس شرط پر کہ مغربی دنیا اسرائیل کی مکمل اور بے چون و چرا حمایت اور اسلامی ممالک میں موجود قدرتی ذخائر پر قبضے کی لالچ سے ہٹ کر تعاون کرنے پر آمادہ ہو۔ مقالے میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کا سیاسی اسلام کے ساتھ تعاون کیلئے صرف امریکی حکومت کی جانب سے راضی ہو جانا کافی نہیں بلکہ معتدل یا کٹر اسلامی گروہ بھی اسرائیل کی مکمل حمایت پر مبنی خطے میں امریکی پالیسیوں کو ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ لہذا امریکہ کو اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لانی پڑیں گے ورنہ دوسری صورت میں انکا ٹکراو یقینی ہے۔

Comments are closed.