حکومت علماء اور ذاکرین پر محرم میں ضلع بندی اور زبان بندی کی متعصبانہ روش ترک کرے، عبدالخالق اسدی

Posted: 22/11/2011 in All News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

لاہور میں اسلام ٹائمز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا کہ پولیس نئی امام بارگاہوں اور نئی آبادیوں میں رہائش گاہوں پر مجالس عزا میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا ہے کہ حکومت محرم الحرام میں جلوس ہائے عزاداری اور مجالس عزا میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ پولیس نئی آبادیوں میں مجالس عزا کرانے والوں کے خلاف خود ہی مدعی بن کر مقدمات درج کر رہی ہے اور بانیان مجالس کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اپنی مذہبی رسومات اور عبادات ادا کرنا شیعیان حیدر کرار کا آئینی حق ہے، جو کوئی حکومتی اہلکار چھین نہیں سکتا۔  مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عزاداری کے جلوسوں اور مجالس عزا کے انعقاد کو یقینی بنائے، تحفظ اور ضروری سہولیات فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملت تشیع کے پاکستان میں ماتمی جلوس ہوں یا احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے، ہمیشہ پرامن ہوتے ہیں۔ انتظامہ تعاون کرے تو مزید پرامن رہیں گے۔ علامہ عبدالخالق اسدی نے زور دیا کہ نئی آبادیوں میں امامبارگاہوں اور شیعہ مساجد کی تعمیر کے لئے حکومت جگہ مختص کرے اور جلوس ہائے عزا کے لائسنس جاری کرے، تاکہ تنگ گلیوں میں واقع قدیمی امام بارگاہوں میں رش کم ہو اور اس سے ٍخود انتظامی مشینری کو بھی سہولت ہو گی۔  انہوں نے اس حکومتی رویے کی شدید مذمت کی، جس کے تحت علما اور ذاکرین کے مختلف اضلاع میں داخلے پر پابندی اور زبان بندی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجالس پڑھنے والوں پر محرم الحرام شروع ہونے کے ایک دو دن پہلے پابندی عائد کرنا محرم الحرام کے پروگرامو ں میں مداخلت ہے، حکومت اس سے باز آئے

Comments are closed.