حکومت سانحہ عاشورہ و چہلم کے دھماکوں کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائے، شیعہ علماء کونسل

Posted: 22/11/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

نمائش چورنگی سے سی بریز چوت تک نکالی جانے والی تحفظ عزاداری ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایک مخصوص دہشتگرد ٹولہ جو سرکاری سرپرستی میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے اور عزاداری میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عزاداری سید الشہداء ع ہماری شہ رگ حیات ہے اور کوئی بھی عزادار اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور جو یہ سمجھتا ہے کہ امام حسین ع کے عزادار کو اس عزاداری سے دور کر دے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے، لہذا عزاداری کی جانب اٹھنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ دیا جائے گا، لیکن یہ مجلس حسین ع ایسے ہی قائم و دائم رہے گی۔ اگر حکومت عزاداران امام حسین ع کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو ایسے حکمرانوں کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہم ملت جعفریہ حکومت کے انتہائی اہم ذمہ دار کی جلوس عزاء کو سکیورٹی کے نام پر محدود کرنے کی کوشش کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور صدر و وزیراعظم سے ایسے نااہل ذمہ دار کے استعفٰی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام نمائش چورنگی سے سی بریز چوک تک نکالی جانے والی تحفظ عزاداری ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مقررین میں مولانا جعفر سبحانی، علامہ آفتاب حیدر جعفری، مولانا علی محمد نقوی، مولانا حسن رضا رضوی، مولانا کامران عابدی اور جے ایس او کے مرکزی رہنما موسٰی رضا، ذیشان کاظمی شامل تھے۔ مقررین نے کہا کہ ہمیشہ محرم سے قبل ایک مخصوص دہشت گرد ٹولہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع کر دیتا ہے اور قتل عام کرتا ہے۔ جس سے شہر میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ملک میں شیعہ سنی جھگڑا ہے جبکہ ملک میں شیعہ سنی کا کوئی جھگڑا نہیں ہے، بلکہ یہ دونوں اسلام کے بازو ہیں اور دونوں ہی عزاداران سید الشہداء ع ہیں، جسکی مثال عاشورہ کے شہداء ہیں جن میں شیعہ اور سنی دونوں شامل تھے، مگر یہ یہودی آلہ کار، دہشتگرد ٹولہ جو کہ سرعام سرکاری سرپرستی میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے اور عزاداری میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر حکومت اس دہشتگرد ٹولہ کو لگام نہیں لگاتی تو ہمیں اپنے لوگوں کا تحفظ اور عزاداری کرنے کا طریقہ آتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ حکومت ہمارے شہداء کے قاتلوں کو گرفتار کرے، سانحہ عاشورہ و چہلم کے دھماکوں کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائے اور اس سانحہ کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دے اور محرم سے قبل بے گناہ گرفتار نوجوانوں کو رہا کرے۔ اگر محرم سے قبل رہا نہیں کیا گیا تو ہم اپنے بے گناہ اسیروں کو رہا کرانا جانتے ہیں، مگر مملکت خداداد پاکستان کی خاطر خاموش ہیں اور ہماری اس خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، اگر ہم اپنے دفاع کی خاطر اٹھ کھڑے ہوئے تو زمین کی رنگت تبدیل ہو جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم عزاداری کے نام پر کسی سے بھیک نہیں مانگتے اور حکومت محرم سے قبل تمام انتظامات مکمل کر لے، اب کسی کمزوری کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی سانحہ واقع ہوتا ہے تو اس کی ذمہ دار حکومت وقت ہو گی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کے ای ایس سی کو پابند کرے کہ محرم تا ربیع الاول لوڈشیڈنگ نہ کی جائے، کیونکہ اندھیرے میں دہشتگرد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

Comments are closed.