جشن آزادی کنونشن، ایم ڈبلیو ایم کا گلگت بلتستان سے دہشتگردی کے خاتمے اور پائیدار امن کا مطالبہ

Posted: 22/11/2011 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

مقررین کے خطاب کے دوران گلگت کی فضائیں لبیک یاحسین اور پاکستان بنایا تھا، پاکستان بچائیں گے کی صدائوں سے گونجتی رہیں۔ گلگت بلتستان کے مکینوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی پر زور مذمت کی گئی۔  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام گلگت بلتستان کے یوم آزادی کی مناسبت سے شہید بے نظیر بھٹو چوک گلگت میں ایک عظیم الشان کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقہ بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ فرزندان گلگت کے اس تاریخی اجتماع سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، ڈپٹی سیکرٹری علامہ محمد امین شہیدی، قائد گلگت بلتستان آغا راحت حسینی الحسینی، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری سیاسایات سید علی اوسط رضوی، گلگت بلتستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل شیخ نیئر عباس مصطفوی، امام سجاد فائونڈیشن کے سید امجد کاظمی ایڈووکیٹ، انجمن دعائے زہرا کے سرپرست مییجر ریاض، رکن قانون ساز سمبلی نواز خان ناجی، مسلم لیگ (ن) کے راہنما قاری حفیظ الرحمٰن، جماعت اسلامی کے عبدالسمیع، ایم کیو ایم کے ہدایت علی، آل پاکستان مسلم لیگ کے راہنما اور سابق ایم این اے سرپرست حسین شاہ، پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن محمد موسٰی اور علامہ بلال حسین سمائری سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے گلگت بلتستان میں ہونے والی قتل و غارت اور دہشتگردی کی پر زور مذمت کرتے ہوئے علاقہ میں پائیدار امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ علاقائیت کی بجائے قومیت کے فروغ پر توجہ دی جائے، جب تک ہم متحد ہو کر استعماری سازشوں کو ناکام نہیں بنائیں گے، اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے، انہوں نے گلگت بلتستان کے مکینوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی پر زور مذمت کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر مقامی شعرائے کرام عبدالحفیظ شاکر، غلام عباس نسیم اور حاجی نائیک خان نے جشن آزادی کے حوالے سے کلام پیش کیا۔ مقررین کے خطاب کے دوران گلگت کی فضائیں لبیک یاحسین اور پاکستان بنایا تھا، پاکستان بچائیں گے کی صدائوں سے گونجتی رہیں، کنونشن میں سابق صدر انجمن سید احمد علی شاہ، سابق چیئرمین میونسل کمیٹی محمد الیاس صدیقی اور میضر حسین شاہ بھی شریک تھے۔

Comments are closed.