بلوچستان میں خونریز حملہ، چودہ سکیورٹی اہلکار ہلاک

Posted: 22/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir

پاکستان کے جنوب مغربی  علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 14 اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ صوبہ بلوچستان کے ضلع لورالائی میں پیش آیا۔ ایک سکیورٹی اہلکار نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ فرنٹیئر کور کے اہلکار معمول کے گشت پر تھے، جب جدید اسلحے سے لیس دہشت گردوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس اہلکار کے مطابق حملہ آوروں نے راکٹ پروپلڈ گرینیڈز بھی استعمال کیے۔ اس حملے کی ذمہ داری علیحدگی پسند مسلح گروپ بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔ بی ایل اے کے ایک ترجمان نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درجنوں فوجیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔پاکستان کے جنوب مغربی علاقے میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے نیم فوجی فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ایک میجر سمیت چودہ اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔یہ واقعہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مشرق میں واقع موسیٰ خیل نامی علاقے میں پیش آیا۔ یہ دیہی علاقہ کوئٹہ سے قریب چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری بلوچ علیٰحدگی پسندوں پر عائد کی جا رہی ہے۔ بلوچ قوم پرست صوبے میں قدرتی وسائل پر زیادہ اختیار حتیٰ کہ علیٰحدگی کا نعرہ بھی لگاتے ہیں۔ ان قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے نے متعدد سرکردہ بلوچ شخصیات کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے رکھا ہے اور ان کے اہل خانہ کو اس سلسلے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔پاکستانی صوبہ بلوچستان میں حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد میں 2006ء کے بعد سے تیزی دیکھنے میں آرہی ہے، جب سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں صوبے کے سابق گورنر اور ایک اہم قبیلے کے سربراہ اکبر بگٹی کو ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ متعدد ایف سی اہلکار زخمی بھی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اہلکار کوئلے کی ایک کان کے پاس سلامتی کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ جائے واردات قدرتی گیس کے ذخائر سے مالا مال علاقے سوئی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ سوئی میں ہفتے کے روز اسی طرز کی ایک کارروائی میں دو سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔پاکستان کی سیاسی قیادت نے بلوچ علیٰحدگی پسندوں کو منانے کے لیے حال ہی میں متعدد اقدامات کا اعلان بھی کیا تھا۔ ملکی وزیر داخلہ رحمان ملک بھارت پر ان علیٰحدگی پسندوں کی پشت پناہی کا الزام بھی عائد کر چکے ہیں۔

 

Comments are closed.