ایران اور شام کے خلاف امریکی سازشوں کا مقصد خطے میں اسلامی مزاحمت کو نقصان پہنچانا ہے، سابق لبنانی رکن پارلیمنٹ

Posted: 22/11/2011 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, USA & Europe

لبنان کے سابق رکن پارلیمنٹ جناب نزیہ منصور نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران اور شام کے خلاف سیاسی دباو اور دھمکیوں کا مقصد خطے میں اسلامی مزاحمت کو نقصان پہنچانا ہے۔العالم نیوز چینل کے مطابق لبنان کے سابق رکن پارلیمنٹ اور بین الاقوامی قانون کے ماہر جناب نزیہ منصور نے امریکہ کی جانب سے ایران پر واشنگٹن میں امریکی سفیر کو قتل کرنے جیسے بیہودہ الزامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے الزامات کا جھوٹا ہونا سب کیلئے انتہائی واضح امر ہے اور امریکہ بھی اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ٹھوس دلیل پیش نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے ساتھ امریکی ناراضگی کی واحد وجہ یہ ہے کہ ایران خطے میں ایک طاقتور ملک ہونے کے ناطے امریکہ کے سامنے نہیں جھکا اور افغانستان، عراق، شام، بحرین اور خاص طور پر فلسطین سے متعلق امریکی پالیسیوں کی حمایت نہیں کر رہا۔  جناب نزیہ منصور نے بعض عرب ممالک کی جانب سے امریکہ کی کاسہ لیسی اور خطے میں امریکی پالیسیوں کی اندھی تقلید پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف ترکی فیصل کے ایران پر امریکی حملے سے متعلق بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف نے ایران پر امریکی حملے کے اثرات کو انتہائی تباہ کن قرار دے کر سعودی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے امریکی کی پیروی کرنے سے گریز کرے۔ سابق لبنانی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف دھمکیوں کا مقصد ایران، شام، عراق اور لبنان اور فلسطین میں اسلامی مزاحمت کے درمیان مضبوط اتحاد کو نقصان پنچانا ہے کیونکہ اس اتحاد نے امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ جناب نزیہ منصور نے اس نکتہ پر تاکید کرتے ہوئے عالمی استکباری قوتیں خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل خطے میں اسلامی مزاحمت کے بنیادی مرکز یعنی ایران کو کمزور کرنے کے درپے ہے کہا کہ امریکہ کے سیاسی ماہرین اور فوجی کمانڈروں نے واشنگٹن کو ایران پر حملے کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا ہے لہذا امریکہ اور اسرائیل ہر گز ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اقدام نہ فقط انہیں شدید خطرات سے دوچار کر دے گا بلکہ خطے اور پوری دنیا میں بڑی سیاسی ہلچل کا بھی باعث بنے گا۔

Comments are closed.