Archive for 22/11/2011

شیعہ علماء کونسل کے سربراہ نے ’’عید مباہلہ‘‘ کی مناسبت سے اسلامیان عالم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید مباہلہ کی بابرکت ساعتوں میں ہمیں اس عہد کی تجدید کرنا ہو گی کہ دین حق کی سربلندی اور ترویج کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے اور راہ حق پر عمل پیرا ہوں۔علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ یہ دن خاصان خدا کی طرف سے دین خدا کی صداقت و حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے میدان عمل میں آنے کا دن ہے، جس کی وجہ سے دین حق سے انکار کرنے والوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ جس دین کامل کو خدا کے نزدیک پسندیدہ ترین دین قرار دیا گیا ہو اور جس کی ترویج و اشاعت کے لئے رحمت اللعالمین جیسی ہستی نے تکالیف اور مصائب برداشت کئے ہوں اور پھر جس دین کی سچائی کو دنیائے عالم پر واضح کرنے کے لئے رسول خدا اپنے اہل بیت اطہار ع کے ہمراہ مباہلے کے لئے نکل پڑے ہوں، یہ امر عالم انسانیت کو اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ جلد یا بدیر بالاخر دنیائے عالم کو دین حق کی جانب ہی رخ کرنا پڑے گا کیونکہ دین اسلام ہی بالاخر انسان کی دنیوی و اخروی فلاح اور نجات کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا روز مباہلہ پیغمبر گرامی نے اپنے حقیقی جانشینوں کا تعارف کرا کے یہ بات رہتی دنیا تک کے لئے واضح کر دی کہ سسکتی اور بھٹکتی ہوئی انسانیت کے لئے اگر کوئی نمونہ عمل ہے تو وہ خانوادہ رسالت کے علاوہ کوئی اور نہیں کیونکہ خانوادہ عصمت و طہارت نے اپنے عمل و کردار کے ذریعے دنیائے عالم کی رشد و ہدایت کا سامان فراہم کیا اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام اور بدی کی قوتوں کے خلاف اعلان جہاد بلند کر کے بلاتفریق مذہب و مسلک، رنگ و نسل، انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ عید مباہلہ کی بابرکت ساعتوں میں ہمیں اس عہد کی تجدید کرنا ہو گی کہ دین حق کی سربلندی اور ترویج کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے اور راہ حق پر عمل پیرا ہو کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو بہتر بنانے کی سعی و کوشش کریں گے۔

 

Advertisements

نمائش چورنگی سے سی بریز چوت تک نکالی جانے والی تحفظ عزاداری ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایک مخصوص دہشتگرد ٹولہ جو سرکاری سرپرستی میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے اور عزاداری میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عزاداری سید الشہداء ع ہماری شہ رگ حیات ہے اور کوئی بھی عزادار اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور جو یہ سمجھتا ہے کہ امام حسین ع کے عزادار کو اس عزاداری سے دور کر دے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے، لہذا عزاداری کی جانب اٹھنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ دیا جائے گا، لیکن یہ مجلس حسین ع ایسے ہی قائم و دائم رہے گی۔ اگر حکومت عزاداران امام حسین ع کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو ایسے حکمرانوں کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہم ملت جعفریہ حکومت کے انتہائی اہم ذمہ دار کی جلوس عزاء کو سکیورٹی کے نام پر محدود کرنے کی کوشش کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور صدر و وزیراعظم سے ایسے نااہل ذمہ دار کے استعفٰی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام نمائش چورنگی سے سی بریز چوک تک نکالی جانے والی تحفظ عزاداری ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مقررین میں مولانا جعفر سبحانی، علامہ آفتاب حیدر جعفری، مولانا علی محمد نقوی، مولانا حسن رضا رضوی، مولانا کامران عابدی اور جے ایس او کے مرکزی رہنما موسٰی رضا، ذیشان کاظمی شامل تھے۔ مقررین نے کہا کہ ہمیشہ محرم سے قبل ایک مخصوص دہشت گرد ٹولہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع کر دیتا ہے اور قتل عام کرتا ہے۔ جس سے شہر میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ملک میں شیعہ سنی جھگڑا ہے جبکہ ملک میں شیعہ سنی کا کوئی جھگڑا نہیں ہے، بلکہ یہ دونوں اسلام کے بازو ہیں اور دونوں ہی عزاداران سید الشہداء ع ہیں، جسکی مثال عاشورہ کے شہداء ہیں جن میں شیعہ اور سنی دونوں شامل تھے، مگر یہ یہودی آلہ کار، دہشتگرد ٹولہ جو کہ سرعام سرکاری سرپرستی میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے اور عزاداری میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر حکومت اس دہشتگرد ٹولہ کو لگام نہیں لگاتی تو ہمیں اپنے لوگوں کا تحفظ اور عزاداری کرنے کا طریقہ آتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ حکومت ہمارے شہداء کے قاتلوں کو گرفتار کرے، سانحہ عاشورہ و چہلم کے دھماکوں کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائے اور اس سانحہ کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دے اور محرم سے قبل بے گناہ گرفتار نوجوانوں کو رہا کرے۔ اگر محرم سے قبل رہا نہیں کیا گیا تو ہم اپنے بے گناہ اسیروں کو رہا کرانا جانتے ہیں، مگر مملکت خداداد پاکستان کی خاطر خاموش ہیں اور ہماری اس خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، اگر ہم اپنے دفاع کی خاطر اٹھ کھڑے ہوئے تو زمین کی رنگت تبدیل ہو جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم عزاداری کے نام پر کسی سے بھیک نہیں مانگتے اور حکومت محرم سے قبل تمام انتظامات مکمل کر لے، اب کسی کمزوری کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی سانحہ واقع ہوتا ہے تو اس کی ذمہ دار حکومت وقت ہو گی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کے ای ایس سی کو پابند کرے کہ محرم تا ربیع الاول لوڈشیڈنگ نہ کی جائے، کیونکہ اندھیرے میں دہشتگرد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک کام کا انتظار کر رہا ہوں، اگر نہیں ہوا تو علم حضرت غازی ع کو تھام کر اپنی کربلا کی طرف روانہ ہو جاؤں گا، جس کو آنا ہے میرے پیچھے چلے، میں اسیروں کے ساتھ جیل میں رہنا پسند کرونگا، مجھے وہ زندان کا اندھیرا پسند ہے جہاں میرے بچے ( اسیر ) ساتھ ہوں۔ کراچی کے علاقے انچولی سوسائٹی میں پیامِ ولایت فاونڈیشن کی جانب سے دفاع عزاداری کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے مختلف نمائندگان نے خطاب کیا۔ خطاب کرنے والوں میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان معروف عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی بھی شامل تھے۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے اپنی تقریر کے ابتداء میں کہا کے میں ایک ماتم دار ہوں اور ایک عام شیعہ ہوں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں گرفتار ہونے والے شیعہ نوجوانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کے ہمیں کہا جاتا ہے کے ہم معاملات کو متوازن کر رہے ہیں، جس کے جواب میں علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کے متوازن کس کے ساتھ؟ دہشت گردوں کے ساتھ؟ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کے شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے ہمیں پریشر میں ڈالا جا رہا ہے۔ ہمیں دھمکیاں دی جاتی ہے کے اُن لوگوں سے پریس کانفرنس کروا دینگے۔ انہون نے آگاہ کیا کہ ملت ہر قسم اقدام کے لیے تیار ہو جائے، اگر نوجوانوں کو رہائی نصیب نہیں ہوئی تو اپنی حکمت عملی کا اعلان کرونگا، میں جانتا ہوں مجھے کیا کرنا ہے، علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ ایک کام کا انتظار کر رہا ہوں، اگر نہیں ہوا تو علم حضرت غازی کو تھام کر اپنی کربلا کی طرف روانہ ہو جاونگا، جس کو آنا ہے میرے پیچھے چلے۔ میں اسیروں کے ساتھ جیل میں رہنا پسند کرونگا، مجھے وہ زندان کا اندھیرا پسند ہے، جہاں میرے بچے ( اسیر ) ساتھ ہوں۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کے جب تک میری زبان ہے بولتا رہونگا، اگر میں مر بھی گیا تو نوجوان میرا پیغام آگے پہچائیں۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے سامراجی قوتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کے یہ لوگ میری موت سے بھی ڈرتے ہے کہ اگر مار دیا تو اُن پر ایک اور عذاب بن جائے گا۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا میرا پیغام پورے پاکستان تک پہنچا دیں کہ بہت جلد تاریخ کا بھی اعلان کرونگا اور کیا کرنے والا ہوں وہ بھی بتاونگا، سب سے آگے خود چلو نگا، تاکہ اگر کچھ ہو تو پہلے مجھے ہو۔

ذرائع کے مطابق پولیس کے کرائم زون نے اتوار کے روز ذرائع ابلاغ کے سامنے چار بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاری ظاہر کر دی، جن کو چند روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گھروں سے بغیر وارنٹ کے غیر قانونی طور پر اغوا کر لیا تھا، تاہم اب تک کی اطلاعات کے مطابق پولیس کے تشدد سے ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا ہے۔ کراچی میں پولیس انتظامیہ کے بدترین تشدد کے نتیجہ میں ایک شیعہ نوجوان جاں بحق ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس کے کرائم زون نے اتوار کے روز ذرائع ابلاغ کے سامنے چار بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری ظاہر کر دی، جن کو چند روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گھروں سے بغیر وارنٹ کے غیر قانونی طور پر اغوا کر لیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے چند روز قبل شیعہ بے گناہ نوجوانوں ذکی کاظمی، محسن، صفدر عباس، محمد علی کاظمی اور تابش حسین کو شیعہ آبادیوں میں چھاپہ مار کر گھروں سے بغیر وارنٹ کے غیر قانونی طور پر اغوا کر لیا تھا، تاہم اتوار کے روز کرائم زون نے چار شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری ظاہر کر دی ہے جبکہ پانچویں شیعہ نوجوان تابش کو پولیس نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا ہے۔ دوسری جانب پولیس انتظامیہ کرائم زون نے اتوار کے روز ذرائع ابلاغ کو چار شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری کے بارے میں بتاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چاروں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم لشکر مہدی سے ہے جبکہ یہ چاروں شیعہ نوجوان سعودی سفارتخانے پر بم حملہ کرنے میں ملوث ہیں۔ ایس ایس پی کرائم برانچ فاروق اعوان نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزم کو رابعہ سٹی کے پاس سے مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا جسے علاج کے لئے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔ انھوں نے بتایا کہ آج عید گاہ کے علاقے سے گرفتار تین ملزمان کی نشان دہی پر چھاپہ مارا گیا۔ ایس ایس پی کرائم برانچ کے مطابق ملزم کے تین ساتھی ذکی عرف کامران، محسن اور محمد علی کو آج صبح گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمان اس سال مئی کے مہینے میں کراچی میں سعودی قونصلیٹ پر دستی بم حملے میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ شہر میں فرقہ ورانہ وارداتوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔

یم ڈبلیو ایم بلوچستان کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ آج بھی دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان نواسہ رسول اللہ کی یاد مناتے ہیں، انہوں نے کہا کہ امام حسین عالی مقام کی ذات گرامی کسی ایک فرقہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام لوگوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ واقعہ کربلا سب کیلئے مشعل راہ ہے، حکومت ایام عزاء کے دوران عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔ قبل ازیں وہ لسبیلہ کے ایک روزہ تنظیمی دورے پر پہنچے تو سید رحیم شاہ دوپاسی کی سربراہی میں کارکنوں نے انکا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر حسینی جامعہ مسجد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ کربلا ظلم کے خلاف ہر دور کے اہل حق کی تحریک کا نام ہے، آج بھی دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان نواسہ رسول اللہ کی یاد مناتے ہیں، انہوں نے کہا کہ امام حسین عالی مقام کی ذات گرامی کسی ایک فرقہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام لوگوں کیلئے مشعل راہ ہے، اس موقع پر تقریب سے مجلس وحدت مسلمین لسبیلہ کے رہنما سید رحیم شاہ دوپاسی نے بھی خطاب کیا۔ دریں اثناء میر انور علی ڈومکی اور عبدالعارض ڈومکی نے نیوبختیار ڈومکی میں علامہ مقصود علی ڈومکی کے عزازمیں عصرانہ دیا۔

لاہور میں اسلام ٹائمز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا کہ پولیس نئی امام بارگاہوں اور نئی آبادیوں میں رہائش گاہوں پر مجالس عزا میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا ہے کہ حکومت محرم الحرام میں جلوس ہائے عزاداری اور مجالس عزا میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ پولیس نئی آبادیوں میں مجالس عزا کرانے والوں کے خلاف خود ہی مدعی بن کر مقدمات درج کر رہی ہے اور بانیان مجالس کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اپنی مذہبی رسومات اور عبادات ادا کرنا شیعیان حیدر کرار کا آئینی حق ہے، جو کوئی حکومتی اہلکار چھین نہیں سکتا۔  مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عزاداری کے جلوسوں اور مجالس عزا کے انعقاد کو یقینی بنائے، تحفظ اور ضروری سہولیات فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملت تشیع کے پاکستان میں ماتمی جلوس ہوں یا احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے، ہمیشہ پرامن ہوتے ہیں۔ انتظامہ تعاون کرے تو مزید پرامن رہیں گے۔ علامہ عبدالخالق اسدی نے زور دیا کہ نئی آبادیوں میں امامبارگاہوں اور شیعہ مساجد کی تعمیر کے لئے حکومت جگہ مختص کرے اور جلوس ہائے عزا کے لائسنس جاری کرے، تاکہ تنگ گلیوں میں واقع قدیمی امام بارگاہوں میں رش کم ہو اور اس سے ٍخود انتظامی مشینری کو بھی سہولت ہو گی۔  انہوں نے اس حکومتی رویے کی شدید مذمت کی، جس کے تحت علما اور ذاکرین کے مختلف اضلاع میں داخلے پر پابندی اور زبان بندی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجالس پڑھنے والوں پر محرم الحرام شروع ہونے کے ایک دو دن پہلے پابندی عائد کرنا محرم الحرام کے پروگرامو ں میں مداخلت ہے، حکومت اس سے باز آئے

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ اسلام کا نظام معیشت ہی دنیا میں عادلانہ نظام کی ضمانت ہے۔ دوسرے مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اجتہاد کی بحث کو نظری نہیں رہنا چاہیے بلکہ قومی اسمبلی کو اس کا نمائندہ ادارہ ہونا چاہیے۔  اشتراکی اور سرمایہ دارانہ نظام ناکام ہو چکے ہیں، اسلام کا نظام معیشت ہی دنیا میں عادلانہ نظام کی ضمانت ہے، یہی علامہ اقبال رہ اور استاد مرتضٰی مطہری کے افکار کا حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل مولانا محمد خان شیرانی نے البصیرہ کے زیر اہتمام ایام اقبال رہ کی مناسبت سے منعقد ہونے والے سیمینار ’’احیائے فکر دینی میں علامہ اقبال رہ اور مرتضٰی مطہری رہ کا کردار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  تقریب کی دوسری نشست کے صدر پروفیسر فتح محمد ملک ریکٹر اسلامی یونیورسٹی نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اقبال کا خواب پورا ہونے کا وقت آچکا ہے، آج سرمایہ دارانہ نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔ ہمیں اتحاد امت کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی، یہی علامہ اقبال کے دل کا درد ہے۔ ہم بنیادی باتوں اور فروعی چیزوں میں فرق کرنے سے قاصر ہیں۔  تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر سہیل عمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرتضی مطہری رہ نے ایرانی دانشوروں کی جدید نسل کو اقبال رہ کی افکار سے متعارف کرایا، جبکہ ڈاکٹر فرید پراچہ نائب قیم جماعت اسلامی نے تقریب کے دوران علامہ اقبال اور مرتضٰی مطہری کی فکری مطابقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا علامہ اقبال، مرتضیٰ مطہری اور علامہ مودودی نے معذرت خواہانہ رویے کو ترک کرکے جرات مندی کی روش کو اپنانے کا درس دیا۔ آج اسلامی بیداری انہی تعلیمات کا ثمرہ ہے۔ صدر نشین البصیرہ و اخوت ریسرچ اکادمی اور اس سیمینار کے میزبان ثاقب اکبر نے دنیا میں تیزی پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے تہذیبی خلا کو اپنی دینی دانش سے پر کریں، جس کے لیے علامہ اقبال رہ اور استاد مرتضی مطہری کی روش سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔  پروفیسر احسان اکبر نے موجودہ صدی کو اقبال رہ کی صدی قرار دیا، تقریب سے ڈاکٹر محمد طفیل، ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر، ڈاکٹر شہزاد اقبال شام، ڈاکٹر دوست محمد، ڈاکٹر نثار ہمدانی، ڈاکٹر سجاد استوری، خواجہ شجاع عباس، مولانا علی عباس کے علاوہ دیگر کئی مقررین نے خطاب کیا۔ اس پروگرام میں ملک بھر سے آئے ہوئے دانشوروں، یونیورسٹی اساتذہ اور اسکالرز کے علاوہ معززین شہر اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے افراد نے بھی شرکت کی۔ واضح رہے کہ البصیرہ کے زیراہتمام منعقد ہونے والے اس سیمینار کا مقصد علامہ اقبال رہ اور مرتضٰی مطہری رہ کے افکار کے ذریعے مغرب کی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنا ہے

مقررین کے خطاب کے دوران گلگت کی فضائیں لبیک یاحسین اور پاکستان بنایا تھا، پاکستان بچائیں گے کی صدائوں سے گونجتی رہیں۔ گلگت بلتستان کے مکینوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی پر زور مذمت کی گئی۔  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام گلگت بلتستان کے یوم آزادی کی مناسبت سے شہید بے نظیر بھٹو چوک گلگت میں ایک عظیم الشان کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقہ بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ فرزندان گلگت کے اس تاریخی اجتماع سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، ڈپٹی سیکرٹری علامہ محمد امین شہیدی، قائد گلگت بلتستان آغا راحت حسینی الحسینی، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری سیاسایات سید علی اوسط رضوی، گلگت بلتستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل شیخ نیئر عباس مصطفوی، امام سجاد فائونڈیشن کے سید امجد کاظمی ایڈووکیٹ، انجمن دعائے زہرا کے سرپرست مییجر ریاض، رکن قانون ساز سمبلی نواز خان ناجی، مسلم لیگ (ن) کے راہنما قاری حفیظ الرحمٰن، جماعت اسلامی کے عبدالسمیع، ایم کیو ایم کے ہدایت علی، آل پاکستان مسلم لیگ کے راہنما اور سابق ایم این اے سرپرست حسین شاہ، پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن محمد موسٰی اور علامہ بلال حسین سمائری سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے گلگت بلتستان میں ہونے والی قتل و غارت اور دہشتگردی کی پر زور مذمت کرتے ہوئے علاقہ میں پائیدار امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ علاقائیت کی بجائے قومیت کے فروغ پر توجہ دی جائے، جب تک ہم متحد ہو کر استعماری سازشوں کو ناکام نہیں بنائیں گے، اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے، انہوں نے گلگت بلتستان کے مکینوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی پر زور مذمت کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر مقامی شعرائے کرام عبدالحفیظ شاکر، غلام عباس نسیم اور حاجی نائیک خان نے جشن آزادی کے حوالے سے کلام پیش کیا۔ مقررین کے خطاب کے دوران گلگت کی فضائیں لبیک یاحسین اور پاکستان بنایا تھا، پاکستان بچائیں گے کی صدائوں سے گونجتی رہیں، کنونشن میں سابق صدر انجمن سید احمد علی شاہ، سابق چیئرمین میونسل کمیٹی محمد الیاس صدیقی اور میضر حسین شاہ بھی شریک تھے۔

خطے کے عرب ممالک میں اسلامی بیداری کی لہر اور امریکہ کے حمایت یافتہ ڈکٹیٹرز کی یکے بعد دیگرے سرنگونی کے نتیجے میں اسلام پسند قوتوں کا برسراقتدار آنا امریکہ کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔  عربی زبان میں شائع ہونے والے اخبار القدس العربی نے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی جانب سے عرب دنیا میں اسلام پسند گروہوں کے ساتھ تعاون کرنے کی پیشکش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں تاکید کی گئی ہے کہ عرب ممالک میں اسلامی بیداری کی لہر اور امریکہ نواز ڈکٹیٹرز کی یکے بعد دیگرے سرنگونی کے نتیجے میں اسلام پسند قوتوں کا برسراقتدار آنے کا امکان شدت پا گیا ہے جسکی وجہ سے امریکہ یہ کوشش کر رہا ہے کہ خود کو نئی سیاسی صورتحال سے مطابقت دیتے ہوئے اپنے مفادات کو محفوظ بنائے۔ اخبار کے مطابق اس امریکی کوشش کو کئی چیلنج درپیش ہو سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی جانب سے عرب دنیا خاص طور پر مصر اور تیونس میں اسلام پسند گروہوں کو تعاون کی پیشکش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ القدس العربی میں شائع ہونے والے اس مقالے میں کہا گیا ہے کہ یہ امریکہ کا حقیقی موقف نہیں اور امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے یہ پیشکش نئی سیاسی صورتحال کے ساتھ خود کو مطابقت دینے کیلئے مزید وقت حاصل کرنے کی غرض سے انجام پائی ہے۔ امریکہ کی موجودہ حکومت اپنی گذشتہ تمام حکومتوں اور یورپ کی اکثر حکومتوں کی طرح عرب ممالک میں انقلاب کے بعد برگزار ہونے والے انتخابات میں اسلام پسند قوتوں کی کامیابی کو اپنے روایتی حلیف اسرائیل کیلئے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں اور اسلام پسند گروہوں کو برسراقتدار آنے سے روکنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہیں۔ جب تک امریکہ اسرائیل کی حمایت اور اسکے جارحانہ اقدامات کی تائید کرنے میں مصروف ہے سیاسی اسلام اور اسلامی تحریکوں کے ساتھ تعاون کا اعلان کوئی معنا نہیں رکھتا اور فریبکاری اور دھوکہ دہی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیل اور اسکے بارے میں موقف کی نوعیت وہ معیار ہے جسکے مطابق امریکہ اسلامی گروہوں کو قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ کرے گا۔ لہذا اگرچہ تیونس میں اسلامی تحریک “النھضہ” کے سربراہ راشد الغنوشی جو ملک کے پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کر چکے ہیں کی جانب سے ایسی پالیسی اختیار کی گئی جو مغربی دنیا کے اعتماد کا باعث بنی لیکن حال ہی میں اس تحریک اور اسکے اتحادیوں کی جانب سے تیونس کے آئین میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بہبودی کو ممنوع قرار دینے پر مبنی نئے قانون کا اضافہ باعث بنا ہے کہ مغربی دنیا کی نظروں میں انکے تمام مثبت نکات ختم ہو جائیں۔  القدس العربی نے مزید لکھا ہے کہ اسلام اور مغربی دنیا کے درمیان تعاون ممکن ہے لیکن اس شرط پر کہ مغربی دنیا اسرائیل کی مکمل اور بے چون و چرا حمایت اور اسلامی ممالک میں موجود قدرتی ذخائر پر قبضے کی لالچ سے ہٹ کر تعاون کرنے پر آمادہ ہو۔ مقالے میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کا سیاسی اسلام کے ساتھ تعاون کیلئے صرف امریکی حکومت کی جانب سے راضی ہو جانا کافی نہیں بلکہ معتدل یا کٹر اسلامی گروہ بھی اسرائیل کی مکمل حمایت پر مبنی خطے میں امریکی پالیسیوں کو ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ لہذا امریکہ کو اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لانی پڑیں گے ورنہ دوسری صورت میں انکا ٹکراو یقینی ہے۔

ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل نے انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ محرم الحرام کے دوران اگر انتظامیہ کی غفلت کی بناء پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومت پر عائد ہو گی۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل محمد مہدی نے ایام عزا سیل کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواسہ رسول ص کی عزاداری ہماری شہ رگ ہے اس عزاداری امام حسین ع میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی، حکومت محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنائے اور کراچی بھر کی امام بارگاہوں میں رینجرز کو فی الفور تعینات کیا جائے۔ ایام عزا سیل کے اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے رہنما مولانا علی انور جعفری، اصغر عباس زیدی، آفتاب عالم اور دیگر نے شرکت کی۔ محمد مہدی نے کہا کہ محرم الحرام کی آمد آمد ہے حکومت کو چاہیئے کہ وہ محرم کے دوران امن و امان قائم رکھنے کیلئے کراچی بھر کی امام بارگاہوں کو رینجرز کے حوالے کر کے انہیں خصوصی اختیارات دے اور پاک فوج کو ہائی الرٹ رکھے۔ انہوں نے کہا کہ نواسہ رسول ص کی عزاداری ہماری شہ رگ ہے، ہم نے اس عزاداری کی حفاظت اپنا خون دے کر کی ہے، اگر آئندہ بھی ملت پر کوئی مشکل وقت پڑا تو مجلس وحدت کا ہر کارکن دشمن کے آگے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو گا۔ ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل نے انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ محرم الحرام کے دوران اگر انتظامیہ کی غفلت کی بناء پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومت پر عائد ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ محرم سے قبل پاک فوج کالعدم تنظیموں اور دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاون کرے تاکہ آئندہ ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ محمد مہدی نے مطالبہ کیا کہ بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو فی الفور رہا کیا جائے

فیصل آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ نواز لیگ کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دینگے، میمو والا معاملہ 9 دن میں عوام کے سامنے لائینگے، ہم تبدیلی لا چکے ہیں، کشمیر کا معاملہ پس پشت نہیں ڈالنے دینگے، شہباز پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ میاں محمد نواز شریف نے فیصل آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری ملکی خودمختاری بیچ رہے ہیں، ملکی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، میمو والا معاملہ 9 دنوں میں عوام کے سامنے لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد میں حملہ ہوتا ہے، حکمرانوں کی ٹانگیں کانپنا شروع ہو جاتی ہیں، ان سے قبل آمر صدر پرویز مشرف ایک فون کال پر ڈھیر ہو گئے تھے، اس کی طرح موجودہ حکمران بھی بزدل ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ ملکی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ میمو والا معاملہ نو دن میں عوام کے سامنے لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب آپ پتہ نہیں کب تبدیلی لائیں گے، ہم ملک میں تبدیلی لا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس کے معاملے کو پس پشت نہیں ڈالنے دیں گے۔ پنجاب حکومت کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، پنجاب میں حکومت کی کارکردگی مثالی ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے، جس کی وجہ سے ہم حکومت سے باہر آ گئے۔ اگر میثاق جمہوریت پر عمل ہوتا تو آج ملکی حالات اس طرح کے نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں پاکستان کا سفیر امریکی مفادات کے لئے کام کر رہا ہے اور حسین حقانی امریکی فوج سے کہتا ہے کہ آؤ ہمارے ملک کی حفاظت کرو۔ ہمیں پاک فوج پر ناز ہے، لیکن جو ایجنسیوں کا کھیل کھیل رہے تھے، ہم نے اس کھیل کو بند کروا دیا ہے۔  قبل ازیں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے عمران خان کو پیشکش کی ہے کہ وہ اثاثوں کے بارے میں الزامات کی بجائے ہمارے ساتھ سپریم کورٹ چلیں اور اس میں یہ فیصلہ کرائیں کہ کالا دھن کس کے پاس ہے اور کہا ہے کہ ہمارے لیڈر عوام کے سامنے ہیں جب بھی ملک پر مشکل آئی تو صدر زرداری لندن یا فرانس بھاگ جاتے ہیں، ہمیں ملک کو زرداری سے پاک کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا عمران خان ایک بال سے دو وکٹیں نہیں گرا سکتے، یہ الگ بات ہے ایمپائر ملے ہوئے ہوں تو شاید تین وکٹیں بھی گرا لیں، یہ بلبلے ہیں جن میں ہوا کسی اور نے بھری ہے، ہم اس آئی ایس آئی کو مانتے ہیں جو دشمن کے دلوں پر لرزہ طاری کر دے، اس کو نہیں مانتے جو لوٹا کریسی میں ملوث ہو اور ہم ان جرنیلوں کیخلاف ہیں، جو فوج کی طاقت کو اقتدار حاصل کرنے کیلئے استعمال کریں۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ فیصل آباد والے لائل پور کو نہیں بھول سکتے تو میں متحدہ پاکستان کو کیسے بھول سکتا ہوں، ہم جان دے دینگے، لیکن آمریت کو کسی صورت قبول نہیں کرینگے چاہے وہ فوجی آمریت ہو یا سویلین آمریت ہو، جاوید ہاشمی اس کے خلاف لڑتے ہوئے جان کی بازی بھی لگا دے گا۔ اس سے قبل ممبر قومی اسمبلی عابد شیر نے کہا کہ کرپٹ، چور، لٹیروں کو بھاگنے نہیں دیں گے، یہ جلسہ واضح کرتا ہے کہ فیصل آباد نواز شریف کا ہے۔ عابد شیر نے کہا کہ اب حکمرانوں کو کوئی نہیں بچا سکتا ہے کیونکہ انہوں نے اس شہر کے 5 لاکھ مزدوروں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا سیلاب کرپٹ حکمرانوں سے ایوان اقتدار خالی کروانے کی ایک علامت ثابت ہو گا، جس کی قیادت میرے محترم قائد نواز شریف کریں گے۔  خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج کا جلسہ کرپٹ حکمرانوں کے خلاف عوامی عدالت میں تبدیل ہو گیا ہے۔ آزادی کے ثمرات ابھی تک عوام تک نہیں پہنچے ہیں کیونکہ یہ ملک قائداعظم کا پاکستان نہیں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرداری نے طے کرلیا ہے کہ وہ اپنی اصلاح نہیں کریں گے، ان کی اصلاح کیلئے ہم نے تنقید بھی اپنی آرا بھی ان تک پہنچائیں۔

لبنان کے سابق رکن پارلیمنٹ جناب نزیہ منصور نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران اور شام کے خلاف سیاسی دباو اور دھمکیوں کا مقصد خطے میں اسلامی مزاحمت کو نقصان پہنچانا ہے۔العالم نیوز چینل کے مطابق لبنان کے سابق رکن پارلیمنٹ اور بین الاقوامی قانون کے ماہر جناب نزیہ منصور نے امریکہ کی جانب سے ایران پر واشنگٹن میں امریکی سفیر کو قتل کرنے جیسے بیہودہ الزامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے الزامات کا جھوٹا ہونا سب کیلئے انتہائی واضح امر ہے اور امریکہ بھی اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ٹھوس دلیل پیش نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے ساتھ امریکی ناراضگی کی واحد وجہ یہ ہے کہ ایران خطے میں ایک طاقتور ملک ہونے کے ناطے امریکہ کے سامنے نہیں جھکا اور افغانستان، عراق، شام، بحرین اور خاص طور پر فلسطین سے متعلق امریکی پالیسیوں کی حمایت نہیں کر رہا۔  جناب نزیہ منصور نے بعض عرب ممالک کی جانب سے امریکہ کی کاسہ لیسی اور خطے میں امریکی پالیسیوں کی اندھی تقلید پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف ترکی فیصل کے ایران پر امریکی حملے سے متعلق بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف نے ایران پر امریکی حملے کے اثرات کو انتہائی تباہ کن قرار دے کر سعودی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے امریکی کی پیروی کرنے سے گریز کرے۔ سابق لبنانی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف دھمکیوں کا مقصد ایران، شام، عراق اور لبنان اور فلسطین میں اسلامی مزاحمت کے درمیان مضبوط اتحاد کو نقصان پنچانا ہے کیونکہ اس اتحاد نے امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ جناب نزیہ منصور نے اس نکتہ پر تاکید کرتے ہوئے عالمی استکباری قوتیں خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل خطے میں اسلامی مزاحمت کے بنیادی مرکز یعنی ایران کو کمزور کرنے کے درپے ہے کہا کہ امریکہ کے سیاسی ماہرین اور فوجی کمانڈروں نے واشنگٹن کو ایران پر حملے کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا ہے لہذا امریکہ اور اسرائیل ہر گز ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اقدام نہ فقط انہیں شدید خطرات سے دوچار کر دے گا بلکہ خطے اور پوری دنیا میں بڑی سیاسی ہلچل کا بھی باعث بنے گا۔

تہران میں ایک تقریب سے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ مغرب کی منطق زور زبردستی کی منطق ہے اور اس کے باوجود وہ انسانی حقوق کی بات کرتا ہے، لیکن عالمی رائے عامہ ان دعوؤں کی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ دنیا انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوؤں کی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عالمی سطح پر اولمپیاڈ میں ممتاز پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغرب کی منطق زور زبردستی کی منطق ہے اور اس کے باوجود وہ انسانی حقوق کی بات کرتا ہے، لیکن عالمی رائے عامہ ان دعوؤں کی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ایران کی پوزیشن کو ممتاز قرار دیا اور کہا کہ ایرانیوں کو ترقی کے راستے پر گامزن رہنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون جاری رکھنا ہو گا۔

امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی اہلیہ اور پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی فرح ناز اصفہانی نے خفیہ مراسلے کے معاملے پر پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پیر کے روز سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرح ناز اصفہانی نے کہا،’ ہم ڈرنے اور بھاگنے والے نہیں، ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کریں گے۔‘  انہوں نے کہا کہ منصور اعجاز کی باتوں میں تضاد ہے۔ ان کے خلاف پاکستان اور امریکہ میں قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حسین حقانی اپنے بلیک بیری فون اور کمپیوٹر کیforensic تحقیقات کے لیے مکمل تعاون کرنے پر تیار ہیں۔ فرح ناز اصفہانی کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا،’’میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکن ہوں اور میرے شوہر سرکاری ملازم ہیں۔ حکومت انہیں بتائے گی کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور مجھے میری پارلیمانی پارٹی بتائے گی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ لیکن ہم ایک چیز یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم لوگ اس سارے معاملے کی forensic تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔‘‘ ادھر ہفتے کی شب میمو گیٹ،نامی اسکینڈل کی وجہ بننے والے خفیہ مراسلے کے بارے میں وضاحت کے لیے اسلام آباد پہنچنے کے بعد سےحسین حقانی کی پیر کی دوپہر تک  صدر زرداری سےصرف ایک غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اتوار کے روز ہونے والی ملاقات میں حسین حقانی نے ابتدائی طور پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی۔ حسین حقانی کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر آج یا کل ملکی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی حکومت اور خصوصاً صدر آصف علی زرداری پر اس مراسلے سے متعلق تحقیقات کے لیے مختلف حلقوں کی جانب سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور اس معاملے میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف پیش پیش ہیں۔ گزشتہ روز فیصل آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے حکومت کو اس خفیہ مراسلے کی تحقیقات کے لیے الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا،’’زرداری صاحب! آپ ایک دو دنوں کے اندر انکوائری شروع کروائیں اور اسے اگلے نو دنوں میں اپنے منطقی انجام تک پہنچائیں۔ کل میں نے کہا تھا کہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ نہ صرف پنجاب سے ، نہ صرف بلوچستان سے بلکہ صوبہ سرحد اور سندھ سے بھی درخواست لے کر سپریم کورٹ جائے گی۔‘‘تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خود حکومت کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی  تحقیقات کو یقینی بنائے۔ معروف تجزیہ نگار نسیم زہرہ کا کہنا ہے،’’ایک شفاف اور قابل اعتبار انکوائری بہت ضروری ہے۔ یہ معاملہ بہت سنگین ہے۔ پاکستان کے سول ملٹری تعلقات ، پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات اور پاکستان میں جمہوریت کس طرح کام کرے گی، ان سب چیزوں پر اس معاملے کا گہرا اثر ہوگا۔‘‘

پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا نے میمو اسکینڈل میں ذاتی طور پر مداخلت کرتے ہوئے تفصیلات کی جانچ کی ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انہوں نے پاکستانی نژاد تاجر منصور اعجاز سے بائیس اکتوبر کو لندن میں ملاقات کی تھی۔ اس تاجر نے اسی ماہ فنانشل ٹائمز میں لکھے گئے ایک کالم میں اس میمو کا انکشاف کیا تھا، جس کے ذریعے پاکستان میں فوج کے خلاف امریکی مدد طلب کی گئی تھی۔ آئی ایس آئی کے ایک سینئر اہلکار نے اے پی کو بتایا ہے کہ انہیں اس ملاقات کا علم نہیں، تاہم انہوں نے اس بات سے انکار بھی نہیں کیا۔

پاکستان کے جنوب مغربی  علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 14 اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ صوبہ بلوچستان کے ضلع لورالائی میں پیش آیا۔ ایک سکیورٹی اہلکار نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ فرنٹیئر کور کے اہلکار معمول کے گشت پر تھے، جب جدید اسلحے سے لیس دہشت گردوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس اہلکار کے مطابق حملہ آوروں نے راکٹ پروپلڈ گرینیڈز بھی استعمال کیے۔ اس حملے کی ذمہ داری علیحدگی پسند مسلح گروپ بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔ بی ایل اے کے ایک ترجمان نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درجنوں فوجیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔پاکستان کے جنوب مغربی علاقے میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے نیم فوجی فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ایک میجر سمیت چودہ اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔یہ واقعہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مشرق میں واقع موسیٰ خیل نامی علاقے میں پیش آیا۔ یہ دیہی علاقہ کوئٹہ سے قریب چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری بلوچ علیٰحدگی پسندوں پر عائد کی جا رہی ہے۔ بلوچ قوم پرست صوبے میں قدرتی وسائل پر زیادہ اختیار حتیٰ کہ علیٰحدگی کا نعرہ بھی لگاتے ہیں۔ ان قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے نے متعدد سرکردہ بلوچ شخصیات کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے رکھا ہے اور ان کے اہل خانہ کو اس سلسلے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔پاکستانی صوبہ بلوچستان میں حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد میں 2006ء کے بعد سے تیزی دیکھنے میں آرہی ہے، جب سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں صوبے کے سابق گورنر اور ایک اہم قبیلے کے سربراہ اکبر بگٹی کو ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ متعدد ایف سی اہلکار زخمی بھی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اہلکار کوئلے کی ایک کان کے پاس سلامتی کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ جائے واردات قدرتی گیس کے ذخائر سے مالا مال علاقے سوئی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ سوئی میں ہفتے کے روز اسی طرز کی ایک کارروائی میں دو سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔پاکستان کی سیاسی قیادت نے بلوچ علیٰحدگی پسندوں کو منانے کے لیے حال ہی میں متعدد اقدامات کا اعلان بھی کیا تھا۔ ملکی وزیر داخلہ رحمان ملک بھارت پر ان علیٰحدگی پسندوں کی پشت پناہی کا الزام بھی عائد کر چکے ہیں۔

 

روسی وزیرخارجہ سیرگئی لاوروف نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مغرب شام کے معاملے میں اشتعال انگیزی سے کام لے رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مغربی ممالک شامی اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات نہ کرنے پر اکسا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عرب لیگ کی جانب سے شام پر دباؤ میں اضافہ کیا گیا کہ وہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن بند کرتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرے، تو مغربی ممالک نے اپوزیشن رہنماؤں کو شہہ دی کہ وہ بشارالاسد حکومت سے مذاکرات نہ کریں۔ واضح رہے کہ روس ان چند ممالک میں سے ایک ہے، جو اب بھی بشار الاسد حکومت کے حامی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس مارچ سے اب تک شام میں جاری احتجاجی مظاہروں نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

مصر میں گزشتہ تین روز  کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے۔ طبی ذرائع کے دارالحکومت قاہرہ، اسکندریہ اور سوئز میں ہونے والی پر تشدد جھڑپوں میں سینکڑوں دیگر افراد زخمی بھی ہیں۔ مظاہرین مصر کے فوجی حکمرانوں کی جانب سے بنائے گئے آئینی مسودے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے نئی منتخب حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد فوج کو بہت زیادہ اختیارا ت حاصل رہیں گے۔شمال افریقی ریاست مصر میں نیا عوامی احتجاجی سلسلہ تیسرے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں میں 30 سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ فروری میں سابق صدر حسنی مبارک کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے والے عوامی احتجاج کا رخ اب بظاہر ملکی فوج کی جانب ہو چکا ہے۔ انقلابِ مصر کے مرکز، قاہرہ کے التحریر چوک میں ہزاروں مظاہرین سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قاہرہ میں برسر اقتدار فوج فوری طور پر حکومتی ذمہ داریاں سویلین حکومت کے حوالے کرے۔ ملکی فوج اور پولیس ان مظاہرین کو التحریر اسکوائر سے بے دخل کرنے کے لیے لاٹھی چارج ، آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کا استعمال کر چکی ہے۔ اس کے باوجود پیر کو تیسرے روز بھی التحریر چوک پر مظاہرین کے جُھنڈ نظر آئے۔تازہ مظاہروں کا سلسلہ ہفتے کے روز شروع ہوا جب مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے التحریر چوک پر ملکی فوج کے خلاف پر امن مظاہرہ کیا جسے اتوار اور پھر آج پیر تک دوام دیا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نمائندے نے بتایا کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس اور فوج پر پتھراؤ کرنے کے علاوہ  پٹرول بم بھی پھینکے گئے۔ اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی میں شارٹ گن اور ربر کی گولیوں کا استعمال بھی دیکھنے میں آیا۔مصر کی تازہ صورتحال پر بین الاقوامی برادری نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ وہ مصر میں انسانی حقوق کے احترام کی ضمانت چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں سکیورٹی فورسز کا احتساب بھی شامل ہے۔ مصر ی محکمہء صحت نے مظاہروں کے نئے سلسلے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق یہ ہلاکتیں التحریر چوک اور بعض دیگر شہروں میں ہفتے کے دن اور اس کے بعد ہوئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ قاہرہ کے علاوہ اسکندریہ اور سوئز جیسے شہروں میں بھی سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔مصر کی فوجی انتظامیہ نے 28 نومبر کو پارلیمانی انتخابات کا وعدہ کر رکھا ہے مگر موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ تشدد کا نیا سلسلہ انتخابات کے انعقاد پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہ انتخابات حسنی مبارک کے 30 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد مصر میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔ مصر میں عبوری مدت کے لیے برسر اقتدار کابینہ نے گزشتہ روز ایک ہنگامی اجلاس کے بعد یہ عزم ظاہر کیا تھا کہ پارلیمانی انتخابات وقت پر ہوں گے۔ ملکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب کے بعد اقتدار سویلین حکومت کو منتقل کر دے گی۔ یاد رہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے فی الحال کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔