بحرین: لیڈی ڈاکٹرفاطمه الحاجی کی آپ بیتی – زیادتی، مارپیٹ اور پانچ سال قید

Posted: 20/11/2011 in All News, Articles and Reports, Important News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

فاطمه الحاجی نے کہا ہے کہ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انھوں نے اپنے حلف کے مطابق دکھی انسانیت کا مداوا کیا اور زخمیوں کا علاج کیا، یہ وہ زخمی تھے جو احتجاج کے دوران سرکاری فورسز کے حملوں میں زخمی ہونے کے بعد اسپتال منتقل کئے گئے تھے۔انھوں نے کہا: شدید احتجاجات کے دوران ایک رات 30 خلیفی گماشتے عام شہریوں کے بھیس میں ان کے گھر پر حملہ آور ہئے اور انہیں ایک خفیہ تفتیشی ادارے میں منتقل کیا اور جعلی دستاویزات اور ناکردہ جرائم کے اعتراف نامے پر دستخط کرانے سے قبل انہیں متعدد بار ٹارچر کیا گیا اور ان پر زیادتی کی گئی۔فاطمہ الحاجی ضمانت پر رہائی سے قبل 22 روز تک قید تنہائی میں رکھی گئیں اور اب ان کا کہنا تھا کہ ہر لمحہ ان کی گرفتاری کا امکان ہے۔انھوں نے کہا: میں جب بھی اپنے تین سالہ بیٹے یوسف کو گود میں اٹھاتی ہوں اس سے وداع کرتی ہوں کیونکہ ممکن ہے کہ ہر آن خلیفی گماشتے آکر مجھے گرفتار کرلیں اور بیٹے کے ساتھ میرا آخری وداع ہو۔لیڈی ڈاکٹر فاطمہ الحاجی ان بیس ڈاکٹروں میں سے ہیں جن کو گذشتہ روز جمعہ بھاری سزائیں سنائی گئیں۔انھوں نے سی این این سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اور ان کے رفقائے کار کو قید کی سزائیں سنائے جانے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسپتالوں میں اور اسپتالوں کے باہر آل خلیفہ حکومت کے اہلکاروں کی جانب سے عوام کے ساتھ نہایت سفاکانہ طرز سلوک کے عینی شاہد تھے اور حکومت انہیں دنیا کی نظروں سے اوجھل کرنا چاہتی ہے۔ کیونکہ جن لوگوں نے زخمیوں کا مداوا کیا ہے وہ خلیفی جرائم کے مستند گواہ ہیں۔انھوں نے کہا: گرفتاری کے بعد میری آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور مجھے ایک خفیہ تفتیشی مرکز میں منتقل کیا گیا اور وہاں مجھے وحشیانہ انداز سے زد و کوب کیا گیا اور کئی روز تک مجھے بھوکا پیاسا رکھا گیا اور پھر مجھ سے جنسی زیادتی کی گئی۔انھوں نے کہا: میری آنکھیں بند تھی اور کئی مرد میرے ارد گرد موجود تھے اور میں کئی لوگوں کی آوازیں سن رہی تھی اور خلیفی جلادوں نے مجھ سے کہا کہ وہ میرے بیٹے یوسف کو جانتے ہیں اور اگر میں ان کی فراہم کردہ دستاویزات پر دستخط نہ کروں تو کبھی بھی اپنے چھوٹے بیٹے کا منہ نہ دیکھ سکوں گی چنانچہ میں نے بعض دستاویزات پر پڑھے بغیر دستخط کئے اور بعد میں سمجھ گئی کہ وہ میرا اعتراف نامہ تھا اور میں نے ایسے جرائم کا اعتراف کیا تھا جو مجھ سے سرزد نہیں ہوئے تھے۔انھوں نے کہا: میں بے گناہ ہوں میں نے صرف اپنے طبی فرائض نبھائے ہیں لیکن اب مجھے اپنی اور اپنے بیٹے کی زندگی کے لئے فکرمند ہوں۔

Comments are closed.