چين کے اثر کو روکنے کی نئی امريکی کوشش اور خطرات

Posted: 19/11/2011 in All News, Amazing / Miscellaneous News, Breaking News, Important News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

امريکی صدر باراک اوباما نے آسٹريليا کے دورے ميں آسٹريليا سے قريبی فوجی تعاون کا سمجھوتہ بھی کيا ہے۔ اس کا مقصد علاقے ميں چين کے اثرات کو روکنا اور بحيرہء جنوبی چين ميں معدنی تيل کے ذخائر پر بھی نظر رکھنا معلوم ہوتا ہے۔صدر اوباما نے کہا ہے کہ امريکہ آسٹريليا ميں ڈارون کے بحری اڈے پر 250 امريکی فوجی تعينات کرے گا۔ امريکی صدر نے آسٹريليا کی وزير اعظم جوليا گیلارڈ سے بات چيت کے بعد کہا کہ ہم يہاں اپنی موجودگی قائم رکھنے کے ليے آئے ہيں۔ يہ ہفتہ جنوبی ايشيا اور بحرالکاہل کے علاقے ميں امريکی پاليسی ميں ايک واضح اور اہم تبديلی کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اوباما نے کہا: ’’ہميں جس تحفظ اور خوشحالی کی ضرورت اور طلب ہے، اس خطے اور پوری دنيا ميں، اُس کے ليے اب ہم نے اپنے اشتراک عمل کو وسعت دے دی ہے۔‘‘ڈارون ميں امريکی فوجيوں کی تعداد بعد ميں بڑھا کر 2500 کر دی جائے گی۔ ليکن اس کی علامتی اہميت اس تعداد سے کہيں زيادہ ہے۔ صدر اوباما، جو آج 17 جون سے انڈونيشيا کے سرسبز جزيرے بالی ميں شروع ہونے والی آسیان کی سربراہی کانفرنس ميں شرکت کر رہے ہيں، جنوب مشرقی ایشیا کے چينی دائرہء اثر ميں امريکی موجودگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہيں۔ اس کے نتيجے میں خاص طور پر بحيرہء جنوبی چين ميں تنازعات کا خطرہ پيدا ہو رہا ہے، جس کے پورے علاقے پر چين بلا شرکت غيرے دعوٰی رکھتا ہے۔ ليکن ويت نام، فلپائن اور ملائيشيا بھی اس سمندر پر اپنا حق سمجھتے ہيں، جہاں اسپالٹی جزيرے کے ارد گرد گيس اور تيل کے بہت بڑے ذخائر کی موجودگی کا اندازہ ہے۔ علاقے کے چھوٹے ممالک چين کے ساتھ کسی ممکنہ تنازعے ميں ايک طاقتور اتحادی کی مدد چاہتے ہيں۔اوباما نے کہا کہ آسٹريليا سے امريکہ کا قريبی تعاون اُسے جنوب مشرقی ايشيا کے علاقے ميں تيزی سے کارروائی کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، مثلاً جب قدرتی آفات کی صورت ميں چھوٹے ممالک کو مدد کی ضرورت ہو۔ ليکن چين امريکہ کی اس پاليسی کو بخوبی سمجھ رہا ہے۔ امريکہ علاقے کے ممالک سے فوجی تعاون کرنا چاہتا ہے، جس کے پس منظر ميں وہاں تيل اور گيس کے ذخائر پر چين کے ساتھ ممکنہ تنازعہ بھی ہے۔ امريکی وزير خارجہ ہليری کلنٹن نے بھی بالی جانے سے قبل فلپائن ميں ايک معاہدے پر دستخط کيے ہيں۔ فلپائن، بحيرہء جنوبی چين ميں خام مال کے ذخائر کے سلسلے ميں چين کا سب سے سخت حريف ہے۔چينی وزير اعظم وين جياباؤ بھی بالی پہنچ رہے ہيں۔ اگر کسی کو اپنے مفادات کے مقابلے ميں واقعی امن اور انصاف سے دلچسپی ہے، تو کسی امريکی صدر کی آسیان کانفرنس ميں يہ پہلی شرکت براہ راست رابطے کے ذريعے تنازعات کو حل کرنے کا ايک سنہری موقع ہے۔

Comments are closed.