حامد کرزئی پر تنقید، اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار برطرف

Posted: 19/11/2011 in Afghanistan & India, All News, Breaking News, Important News, USA & Europe

افغانستان میں تعینات اعلیٰ امریکی اہلکار جنرل جان ایلن نے افغان صدر حامد کرزئی پر تنقید کرنے پر میجر جنرل پیٹر فُلر کو اپنے نائب کمانڈر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ امریکی وزارت دفاع نے اس خبر کی تصدیق کر دی ہے۔جنرل جان ایلن نے افغان فورسز کوعسکری تربیت فراہم کرنے والے خصوصی مشن کے نائب کمانڈر میجر جنرل پیٹر فُلر کو افغان مشن سے فارغ کر دیا ہے۔ فلر نے پولیٹیکو نامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغان رہنما ’حقیقت سے کٹے‘ ہوئے ہیں۔جمعرات کو شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں میجر جنرل فُلر نے افغان حکام کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں گزشتہ دس برس سے جاری جنگ کے دوران امریکہ کی طرف سے دی گئی جانی اور مالی قربانیوں کی قدر نہیں کرتے۔ اس انٹرویو کے دوران میجر جنرل فُلر نے افغان صدر حامد کرزئی کے اس بیان پر بھی شدید تحفظات ظاہر کیے، جس میں حامد کرزئی نے کہا تھا کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے مابین کوئی عسکری تنازعہ ہوا تو افغان حکومت پاکستان کا ساتھ دے گی۔ میجر جنرل فُلر نے افغان صدر کے اس بیان پر کچھ یوں تبصرہ کیا تھا، ’مجھے افسوس ہے۔ ہم نے آپ کو11.6 بلین ڈالر دیے اور اب آپ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ آپ کو ہماری کوئی پرواہ نہیں‘۔ اس انٹرویو میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان، امریکہ کی طرف سے دی گئی جانی اور مالی قربانیوں کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔پینٹا گون کے ترجمان جارج لِٹل نے جمعہ کو خبر رساں اداروں کو بتایا کہ وزیر دفاع لیون پنیٹا اس واقعہ سے باخبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میجر جنرل فُلر نے اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کیا ہے اور ان کے اس انٹرویو سے امریکی محکمہ ء دفاع لاتعلق ہے۔ جارج لِٹل نے مزید کہا کہ وزیر دفاع لیون پنیٹا کو میجر جان ایلن پر بھرپور اعتماد ہے اور وہ میجر جنرل فُلر کے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں گے، اس کا احترام کیا جائے گا۔خیال رہے کہ جولائی 2010 ء میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، جب افغانستان میں تعینات ایساف اور امریکی افواج کے سربراہ جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے امریکی صدر باراک اوباما اور ان کی انتظامیہ کے بارے میں متنازعہ کلمات ادا کیے تھے۔ اس وقت امریکی صدر نے میک کرسٹل کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

 

Comments are closed.