Archive for 19/11/2011

شام نےملک میں عرب لیگ کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کےلیے تنظیم کے مبصرین کو ملک میں آنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ شام کے ایک سفارت کار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شام کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ عرب لیگ کے مبصرین کا ملک میں آنے دے گا جو ملک میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے تنظیم کے امن معاہدہ پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔سفارتکار نے اپنا نام بتانے کی شرط پر کہا ہے کہ دمشق نے عرب لیگ کو اپنے اس فیصلے کے بارے میں جمعرات کو ہی اطلاع کر دی ہے۔ سفارت کار کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کے مبصرین کے کام کرنےکے حوالے کچھ تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔اس سے قبل عرب لیگ نے شام کو حکومت مخالف مظاہرین پر تشدد بند کرنےاور مبصرین کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کے لیے تین دن کی مہلت دی تھی۔قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ حمد بن جاصم آل ثاني نے کہا تھا کہ اگر شام اب بھی تعاون نہیں کرتا تو اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ادھر شام کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا تھا جب فرانس نے شام سے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔عرب لیگ نےگزشتہ ہفتے اس وقت شام کی رکنیت کو منجمد کر دیا تھا جب وہ تنظیم کے امن منصوبے پر عمل کرنےمیں ناکام رہا تھا۔اس منصوبے کے تحت شام کو شہروں سے ٹینک ہٹانے، مظاہرین پر حملے بند کرنا اور دو ہفتے کی مدت میں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے بات چیت کے سلسلے کا آغاز کرنا تھا۔تاہم ان مطالبات کے برعکس اس منصوبے کے سامنے آنے کے بعد شام میں تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔شامی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے تشدد کے واقعات کی تصدیق انتہائی مشکل ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس برس مارچ میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک ساڑھے تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شامی حکومت تشدد کے واقعات کی ذمہ داری مسلح گروپوں اور شدت پسندوں پر ڈالتی ہے۔

Advertisements

امريکی صدر باراک اوباما نے آسٹريليا کے دورے ميں آسٹريليا سے قريبی فوجی تعاون کا سمجھوتہ بھی کيا ہے۔ اس کا مقصد علاقے ميں چين کے اثرات کو روکنا اور بحيرہء جنوبی چين ميں معدنی تيل کے ذخائر پر بھی نظر رکھنا معلوم ہوتا ہے۔صدر اوباما نے کہا ہے کہ امريکہ آسٹريليا ميں ڈارون کے بحری اڈے پر 250 امريکی فوجی تعينات کرے گا۔ امريکی صدر نے آسٹريليا کی وزير اعظم جوليا گیلارڈ سے بات چيت کے بعد کہا کہ ہم يہاں اپنی موجودگی قائم رکھنے کے ليے آئے ہيں۔ يہ ہفتہ جنوبی ايشيا اور بحرالکاہل کے علاقے ميں امريکی پاليسی ميں ايک واضح اور اہم تبديلی کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اوباما نے کہا: ’’ہميں جس تحفظ اور خوشحالی کی ضرورت اور طلب ہے، اس خطے اور پوری دنيا ميں، اُس کے ليے اب ہم نے اپنے اشتراک عمل کو وسعت دے دی ہے۔‘‘ڈارون ميں امريکی فوجيوں کی تعداد بعد ميں بڑھا کر 2500 کر دی جائے گی۔ ليکن اس کی علامتی اہميت اس تعداد سے کہيں زيادہ ہے۔ صدر اوباما، جو آج 17 جون سے انڈونيشيا کے سرسبز جزيرے بالی ميں شروع ہونے والی آسیان کی سربراہی کانفرنس ميں شرکت کر رہے ہيں، جنوب مشرقی ایشیا کے چينی دائرہء اثر ميں امريکی موجودگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہيں۔ اس کے نتيجے میں خاص طور پر بحيرہء جنوبی چين ميں تنازعات کا خطرہ پيدا ہو رہا ہے، جس کے پورے علاقے پر چين بلا شرکت غيرے دعوٰی رکھتا ہے۔ ليکن ويت نام، فلپائن اور ملائيشيا بھی اس سمندر پر اپنا حق سمجھتے ہيں، جہاں اسپالٹی جزيرے کے ارد گرد گيس اور تيل کے بہت بڑے ذخائر کی موجودگی کا اندازہ ہے۔ علاقے کے چھوٹے ممالک چين کے ساتھ کسی ممکنہ تنازعے ميں ايک طاقتور اتحادی کی مدد چاہتے ہيں۔اوباما نے کہا کہ آسٹريليا سے امريکہ کا قريبی تعاون اُسے جنوب مشرقی ايشيا کے علاقے ميں تيزی سے کارروائی کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، مثلاً جب قدرتی آفات کی صورت ميں چھوٹے ممالک کو مدد کی ضرورت ہو۔ ليکن چين امريکہ کی اس پاليسی کو بخوبی سمجھ رہا ہے۔ امريکہ علاقے کے ممالک سے فوجی تعاون کرنا چاہتا ہے، جس کے پس منظر ميں وہاں تيل اور گيس کے ذخائر پر چين کے ساتھ ممکنہ تنازعہ بھی ہے۔ امريکی وزير خارجہ ہليری کلنٹن نے بھی بالی جانے سے قبل فلپائن ميں ايک معاہدے پر دستخط کيے ہيں۔ فلپائن، بحيرہء جنوبی چين ميں خام مال کے ذخائر کے سلسلے ميں چين کا سب سے سخت حريف ہے۔چينی وزير اعظم وين جياباؤ بھی بالی پہنچ رہے ہيں۔ اگر کسی کو اپنے مفادات کے مقابلے ميں واقعی امن اور انصاف سے دلچسپی ہے، تو کسی امريکی صدر کی آسیان کانفرنس ميں يہ پہلی شرکت براہ راست رابطے کے ذريعے تنازعات کو حل کرنے کا ايک سنہری موقع ہے۔

افغانستان میں تعینات اعلیٰ امریکی اہلکار جنرل جان ایلن نے افغان صدر حامد کرزئی پر تنقید کرنے پر میجر جنرل پیٹر فُلر کو اپنے نائب کمانڈر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ امریکی وزارت دفاع نے اس خبر کی تصدیق کر دی ہے۔جنرل جان ایلن نے افغان فورسز کوعسکری تربیت فراہم کرنے والے خصوصی مشن کے نائب کمانڈر میجر جنرل پیٹر فُلر کو افغان مشن سے فارغ کر دیا ہے۔ فلر نے پولیٹیکو نامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغان رہنما ’حقیقت سے کٹے‘ ہوئے ہیں۔جمعرات کو شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں میجر جنرل فُلر نے افغان حکام کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں گزشتہ دس برس سے جاری جنگ کے دوران امریکہ کی طرف سے دی گئی جانی اور مالی قربانیوں کی قدر نہیں کرتے۔ اس انٹرویو کے دوران میجر جنرل فُلر نے افغان صدر حامد کرزئی کے اس بیان پر بھی شدید تحفظات ظاہر کیے، جس میں حامد کرزئی نے کہا تھا کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے مابین کوئی عسکری تنازعہ ہوا تو افغان حکومت پاکستان کا ساتھ دے گی۔ میجر جنرل فُلر نے افغان صدر کے اس بیان پر کچھ یوں تبصرہ کیا تھا، ’مجھے افسوس ہے۔ ہم نے آپ کو11.6 بلین ڈالر دیے اور اب آپ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ آپ کو ہماری کوئی پرواہ نہیں‘۔ اس انٹرویو میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان، امریکہ کی طرف سے دی گئی جانی اور مالی قربانیوں کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔پینٹا گون کے ترجمان جارج لِٹل نے جمعہ کو خبر رساں اداروں کو بتایا کہ وزیر دفاع لیون پنیٹا اس واقعہ سے باخبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میجر جنرل فُلر نے اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کیا ہے اور ان کے اس انٹرویو سے امریکی محکمہ ء دفاع لاتعلق ہے۔ جارج لِٹل نے مزید کہا کہ وزیر دفاع لیون پنیٹا کو میجر جان ایلن پر بھرپور اعتماد ہے اور وہ میجر جنرل فُلر کے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں گے، اس کا احترام کیا جائے گا۔خیال رہے کہ جولائی 2010 ء میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، جب افغانستان میں تعینات ایساف اور امریکی افواج کے سربراہ جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے امریکی صدر باراک اوباما اور ان کی انتظامیہ کے بارے میں متنازعہ کلمات ادا کیے تھے۔ اس وقت امریکی صدر نے میک کرسٹل کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

 

یونان میں عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بچتی اقدامات کے پڑنے والے بوجھ کو منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے۔ اس تناظر میں نکالے جانے والے جلوس میں قریب 50 ہزار افراد نے شرکت کی۔ گزشتہ روز کے اس جلوس میں ماضی کی طلبہ تحریک کے دوران مرنے والوں کو بھی یاد کیا گیا۔ ایتھنز سے مظاہرین اور پولیس کے مابین تصادم کی بھی اطلاعات ہیں۔ یونان میں ایک ہفتہ قبل ہی لوکاس پاپادیموس کی سربراہی میں نئی حکومت نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ ماہر اقتصادیات پایادیموس آج پارلیمان میں اپنا نیا بچتی پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ اگر یونان کو یورپی یونین اور عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے مزید مالی امداد وصول نہیں ہوئی تو دسمبر میں اس کے  دیوالیہ ہوجانے کے امکانات موجود ہیں۔