یورپ پر اینٹی بائیوٹکس سے مدافعت کے حامل جرثوموں کا غلبہ

Posted: 18/11/2011 in All News, Amazing / Miscellaneous News, Educational News, Health & Sports News, Important News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

یورپ میں کئی ایسے جرثوموں کی گرفت مضبوط پڑتی دکھائی دے رہی ہے جن پر انتہائی طاقتور اینٹی بائیوٹکس ادویات بھی اثر نہیں کر پا رہیں۔ زیادہ متاثرہ یورپی ممالک میں جرثومے کی ایک قسم میں دوا سے مدافعت کی شرح پچاس فیصد کی خطرناک حد تک نوٹ کی گئی ہے۔ مختلف قسم کی ادویات کے مقابلے میں مدافعت رکھنے والے جرثوموں ’بیکٹیریا‘ کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ ان جرثوموں کو ’سپر بگز‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یورپیئن سینٹر فار ڈزیز پریوینشن اینڈ کنٹرولECDC نے اپنی تازہ رپورٹ میں اس طرز کے جرثوموں پر قابو پانے کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔اس ادارے کے ڈائریکٹر مارک سپرینگر نے لندن میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس طرز کی بیکٹیریا کے خلاف ماہرین طب کو ’اعلان جنگ‘ کر دینا چاہیے۔ ’’ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو انفیکشن کے بہت سارے معاملات سامنے آئیں گے اور نتیجے میں ایسے بہت سے مریض ہمارے درمیان موجود ہوں گے، جن کی حالت بہت خراب ہوچکی ہوگی اور ہمارے پاس ان کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس بھی موجود نہیں ہوگی۔‘‘  ان کے بقول یورپ میں کلیبسیلا Klebsiella نمونیا نامی بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹکس سے مدافعت کی شرح میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران دو فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ بعض ممالک میں اس بیکٹیریا میں دوا کے خلاف مزاحمت پچاس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ کلیبسیلا  نامی بیکٹیریا نمونیا، پیشاب کے نظام اور نظام خون میں انفیکشن کا عمومی سبب ہے۔ اس بیکٹیریا کی سپر بگز نسل دنیا کی طاقتور ترین اینٹی بائیوٹکس دوا کارباپینیمس carbapenems کے خلاف بھی مدافعت رکھتی ہے۔ ECDC کے مطابق متعدد یورپی ممالک سے ملنے والی رپورٹوں میں انکشاف ہوا ہے کہ وہاں 15 تا 50 فیصد کلیبسیلا بیکٹیریا کارباپینیمس نامی طاقتور ترین اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت ظاہر کر رہا ہے۔ماہرین کے بقول اس کی ایک بڑی وجہ اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال بھی ہے، جس کے سبب جسم کا مدافعاتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور یوں بیکٹیریا پر اس کا اثر نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں ایسے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو بھی ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے جو بلاناغہ مریضوں کو اینٹی بائیوٹکس تجویز کرتے ہیں۔

Comments are closed.