تھائی لینڈ میں سیلاب سے جاپانی کمپنیوں کی پیداوار متاثر

Posted: 18/11/2011 in All News, China / Japan / Koriea & Others, Important News, Russia & Central Asia, Survey / Research / Science News

تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ میں کئی دہائیوں کا بدترین سیلاب بتدریج ختم ہو جائے گا مگر اس کے مختلف کمپنیوں اور صارفین پر پڑنے والے منفی اثرات دیر تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ تھائی لینڈ بہت سی کمپنیوں کا پیداواری مرکز ہے اور اکتوبر کے بعد آنے والے سیلاب میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ بہت سی کمپنیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں کمپیوٹر  ساز کمپنی ڈیل، ہارڈ ڈسک ڈرائیو بنانے والی توشیبا اور ویسٹرن ڈیجیٹل کے علاوہ گاڑیوں کی صنعت کے بڑے نام ٹویوٹا اور فورڈ بھی شامل ہیں۔مارچ میں جاپان میں آنے والے زلزلے اور اب تھائی لینڈ میں سیلاب کے بعد یہ سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں کہ کمپنیاں اپنے بنیادی پرزوں کی سپلائی کے نیٹ ورکس سے کتنی اچھی طرح آگاہ ہیں اور آیا ان خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔ٹوکیو کے ایم ایم ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تجزیہ کار ماساکی ناکامورا نے کہا، ’’کمپنیوں کے پاس اس حوالے سے محدود انتخاب ہےکیونکہ اضافی سامان رکھنے سے تجارتی منافع پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور اس سے خطرے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘ خاص طور پر جاپان میں متعارف کرائے جانے والے ’عین وقت پر فراہمی‘ کے تصور کے تحت اہم پرزوں اور خام مال کو صرف ضرورت پڑنے پر ہی فراہم کیا جاتا ہے اور اسے اس طرح کے حادثوں سے نقصان پہنچتا ہے۔ڈائی اچی لائف ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ایک سینئر ماہر اقتصادیات تورو نشی ہاما نے کہا کہ اس تصور کو تبدیل نہیں کیا جائے گا مگر اب کمپنیاں دیگر مقامات پر پیداواری مراکز قائم کر کے اس خطرے میں مزید کمی لائیں گی۔تھائی فیکٹریاں ہارڈ ڈرائیوز کی 40 فیصد سپلائی فراہم کرتی ہیں۔ فیکٹریوں کے سیلاب سے متاثر ہونے کے بعد نئی ہارڈ ڈرائیوز کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔اکتوبر کے اواخر میں 400 سے زائد جاپانی کمپنیوں نے تھائی لینڈ میں سیلاب کے بعد اپنا کام بند کر دیا تھا۔ تھائی لینڈ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری جاپان نے کر رکھی ہے۔ جاپانی کمپنیاں ٹیکسوں کی کم شرح، ارزاں افرادی قوت اور معیاری سہولیات کی وجہ سے تھائی لینڈ میں اپنی پیداوار کرتی ہیں۔تھائی لینڈ کے سیلاب سے متاثر ہونے کے بعد جاپانی کمپنیاں آئندہ برس انڈونیشیا، ویت نام اور بھارت میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ستمبر میں ٹویوٹا کمپنی نے کہا تھا کہ جاپان میں مارچ کے زلزلے کے بعد اس کی گاڑیوں کی پیداوار کا عمل دوبارہ معمول کی سطح پر آ گیا ہے تاہم تھائی لینڈ میں سیلاب کے باعث اسے اپنے تین اسمبلی پلانٹ بند کرنا پڑے، جو نومبر کے اواخر تک ہی کھل سکتے ہیں۔ ٹویوٹا اور ہونڈا نے نقصان کا تخمینہ لگانے کے دوران اپنی سالانہ آمدنی کی پیش گوئی پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔گاڑیاں تیار کرنے والی دیگر جاپانی کمپنیوں یعنی نسان اور متسوبشی اور برقی آلات کے معروف ناموں پائیونیئر، سونی، کینن اور نائیکون کی پیداواری سہولیات کو بھی تھائی لینڈ کے سیلاب سے نقصان پہنچا ہے۔اگرچہ بعض فیکٹریوں میں محدود پیمانے پر پیداوار کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس آفت کے اثرات جاپان کے زلزلے اور سونامی سے کہیں زیادہ دوررس ہو سکتے ہیں۔

Comments are closed.