Archive for 18/11/2011

اردن کے دارالحکومت عمان میں نماز جمعہ کے بعد ایک ہزار سے زائد افراد نے سیاسی اصلاحات اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ کیا۔ حکومت مخالف اسلامی جماعتوں کی کال پر ہونے والے اس مظاہرے میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد اور نوجوانوں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین منتخب حکومت، بدعنوانی کے خاتمے اور منصفانہ انتخابی نظام کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

Advertisements

امریکہ میں آسکر اورٹیگا ہیرنانڈیز نامی 21 سالہ شخص پر صدر باراک اوباما کو قتل کرنے کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔ اس نے مبینہ طور پر صدر اوباما کو شیطان اور مسیح مخالف قرار دیا تھا۔ واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آسکر اورٹیگا کو ریاست پنسلوانیا کی پولیس نے بدھ کے روز سے حراست میں لے رکھا ہے۔ دنیا میں محفوظ ترین سمجھی جانی والی امریکی صدر کی واشنگٹن میں قائم رہائش گاہ کے باہر فائرنگ کے واقعے کے بعد اس کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کا یہ واقعہ جمعے کو پیش آیا تھا۔ امریکی صدر اور ان کے اہل خانہ اس موقع پر وائٹ ہاؤس میں موجود نہیں تھے اور اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ امریکی سیکرٹ سروس کے ایک اہلکار ایڈون ڈونوان کے بقول آسکر کو انڈیانا کے قریب پنسلوانیا کے ایک ہوٹل سے حراست میں لیا گیا تھا۔ شاہراہ دستور  Constitution Avenue پر واقع وائٹ ہاؤس سے چند میٹر کے فاصلے پر فائرنگ کے اس واقعے کے کچھ دیر بعدہی پولیس کو جائے واردات کے پاس ایک مشکوک گاڑی ملی تھی۔ بعد میں کھوج لگانے پر پتہ چلا یہ گاڑی آسکر اورٹیگا کے نام پر درج ہے۔آسکر کے خلاف درج کرائی گئی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پولیس کو ایک نیم خودکار رائفل ملی، جس کے اوپر دوربین نصب تھی اور ساتھ ہی نو خالی شیل بھی ملے ہیں۔ آسکر کے خلاف گواہی دینے والے دو افراد میں سے ایک کا کہنا ہے کہ آسکر نے امریکی صدر کو ’شیطان‘ اور ’مسیح مخالف‘ قرار دیا تھا۔ دوسرے شخص کے بقول آسکر نے کہا تھا کہ، ’ اوباما کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے‘‘ گواہ کے مطابق آسکر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وفاقی حکومت اس کے خلاف سازش تیار کر رہی ہے۔چارج شیٹ کے مطابق وفاقی امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے اہلکاروں کو وائٹ ہاؤس کے جنوبی حصے اور دوسری منزل میں گولیوں کے واضح نشانات ملے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا جنوبی حصہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ گراؤنڈ فلور پر دفاتر موجود ہیں اور یہاں وائٹ ہاؤس میں زیر استعمال برتن وغیرہ نمائش کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ مرکزی فلور میں متعددکمرے ہیں، جن کی کھڑکیاں جنوب کی طرف کھلتی ہیں۔ ان میں صدارتی پریس کانفرنس والا کمرہ اور کھانے کا کمرہ بھی شامل ہیں۔ ٹاپ فلور کو صدر کی نجی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہاں کی تمام کھڑکیاں بھی جنوب کی طرف کھلتی ہیں۔آسکر اورٹیگا پر پیٹزبرگ کی وفاقی عدالت میں یہ الزام لگائے گئے، جہاں کے جج نے اسے پولیس کی تحویل میں رکھنے کا حکم سنایا۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں آسکر کو عمر قید ہوسکتی ہے۔

جمعہ کو عراق میں تشدد کے مختلف واقعات میں آٹھ افراد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے۔ بغداد سے تقریبا 60 کلومیٹر دور فلوجہ شہر کے نواحی ضلع سقلاویہ میں ایک پولیس اہلکار کے مکان پر بم حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ بغداد کے مغرب میں 20 کلومیٹر دور ابو غُریب میں تین مساجد کے قریب بم دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو پولیس اہلکار اور ایک فوجی بھی شامل ہیں۔

لیبیا میں سابق باغیوں نے نئی عبوری حکومت میں کردار کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ سابق کمانڈر عبد الکریم بالحاج نے جمعرات کو بتایا کہ حکمران قومی عبوری کونسل کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت سویلین سابق باغیوں کو نئی کابینہ میں جگہ دی جائے گی۔ قومی عبوری کونسل نے کہا ہے کہ عبوری وزیر اعظم عبدالرحیم الکیب کی زیر قیادت ایک نئی حکومت کا اعلان اتوار کو متوقع ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ نئی حکومت ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہو گی تاہم ان پر لیبیا کے مختلف قبائل اور مسلح دھڑوں کی جانب سے حکومت میں شامل ہونے کے لیے سخت دباؤ ہے۔

مصر میں پچاس ہزار سے زائد افراد نے جمعے کو قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں جمع ہو کر فوجی حکومت سے اقتدار کو منتخب عوامی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ نماز جمعہ سے قبل جمع ہونے والے مظاہرین میں سے بیشتر مذہبی جماعتوں کے افراد تھے۔ بعض افراد نے مظاہرین میں کتابچے بھی تقسیم کیے، جس میں آئینی تجویز کو واپس لینے اور اپریل 2012ء سے قبل صدارتی انتخابات کرانے کے مطالبات درج تھے۔

امریکی فوج نے ایک ایسا قانونی فریم ورک تیار کر لیا ہے، جس سے سائبر حملوں کی صورت میں ضرورت پڑنے پر عسکری جواب بھی دیا جا سکے گا۔ امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ رابرٹ کہلر نے بتایا ہے کہ امریکی افواج نے ممکنہ سائبر حملوں کی صورت میں اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے کہلر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، ’میرے خیال میں اس حوالے سے کسی کارروائی کے لیے ہمیں کسی نئی اتھارٹی کی ضرورت نہیں ہے‘۔ایئر فورس کے جنرل رابرٹ کہلر کہتے ہیں کہ اگرچہ اس حوالے سے بنیادی فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے تاہم فوجی ماہرین ابھی سائبر جنگ کے حوالے سے جزئیات طے کرنے کے عمل میں ہیں۔ اسٹریٹیجک کمانڈ خلا اور سائبر اسپیس میں امریکی آپریشنز کی ذمہ دار اتھارٹی ہے۔ مئی 2010ء میں اسی ادارے کا ایک ذیلی ادارہ یو ایس سائبر کمانڈ  بنایا گیا تھا۔ یہ نیا ذیلی ادارہ سائبر حملوں کی صورت میں سفارتی، معلوماتی، فوجی اور اقتصادی حوالوں سے اپنا ردعمل ظاہر کرے گا۔ امریکی فوج کے بقول مستقبل میں سائبر جنگ دشمنوں کی ایک اہم حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ امریکی محکمہء دفاع نے ایک تازہ رپورٹ میں کھلے الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ سائبر حملوں کی صورت میں کی جانے والی عسکری کارروائی کے لیے امریکی فوج اپنے اہداف کا تعین کرنے میں مزید بہتری پیدا کر رہی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ میں کمپیوٹرز پر حملوں کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان سائبر حملوں کے نتیجے میں امریکی کمپنیوں کو ایک ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ کئی واقعات میں ہیکرز نے امریکی فوج اور محکمہء خزانہ کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ امریکی عسکری حکام ان خدشات کا اظہار کر چکے ہیں کہ مستقبل میں ہیکرز صرف معلومات چوری ہی نہیں کریں گے بلکہ وہ اس سے امریکی دفاع، اقتصادیات اور شہری زندگی کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ آج کے جدید دور میں کمپوٹر ہر شعبے کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ اور نیٹ ورکنگ کی وجہ سے ہیکرز کے لیے خفیہ معلومات تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ امریکہ کی طرف سے پہلی مرتبہ ایک واضح سائبر پالیسی سامنے آنے کے باوجود یہ سوالات ابھی تک جواب کے متلاشی ہیں کہ اگر عسکری کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے تو امریکی فوج سائبر حملہ آوروں کا تعین کیسے کرے گی۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سابق سربراہ پال کونڈون نے کہا ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں، کرکٹ کھیلنے والے تمام اہم ملک بڑے میچوں کی فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔آئی آئی سی کے انسداد بدعنوانی یونٹ کے بانی سربراہ نے ’لندن ایوننگ اسٹینڈرڈ‘ کے ساتھ انٹرویو میں کہا: ’’1990ءکی دہائی کے آخر میں ٹیسٹ اور ورلڈ کپ میچز باقاعدگی سے فکس کیے جاتے رہے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ متعدد ٹیمیں فکسنگ میں ملوث رہی ہیں اور یقینی طور پر برصغیر سے باہر کی زیادہ ٹیمیں ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں۔ کونڈون نے کہا ہر انٹرنیشنل ٹیم، کسی نہ کسی مرحلے پر اس طرح کے کام کرتی رہی ہے۔
رواں ماہ برطانیہ کی ایک عدالت نے تین پاکستانی کرکٹرز کو سزائے قید کا فیصلہ سنایا تھا۔ ان کھلاڑیوں پر انگلینڈ کے ساتھ گزشتہ برس کھیلے گئے ایک ٹیسٹ میچ میں دانستہ نوبالز کرانے کا الزام تھا۔ان کھلاڑیوں میں شامل پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ کو ڈھائی سال قید جبکہ بولر محمد آصف کو ایک سال اور محمد عامر کو چھ ماہ کی قید سنائی گئی۔ کونڈون نے کہا: ’’ 1990ء کی دہائی کے آخر میں کھیلنے والے کرکٹروں کی پوری نسل یہ ضرور جانتی ہو گی کہ کیا چل رہا ہے، لیکن اس نے (اسے روکنے کے لیے) کچھ نہیں کیا۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کی جڑ ایشیا میں نہیں ہے بلکہ انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا: ’’اگر آپ ٹیم اے ہیں اور سنڈے لیگ میں بہتر پوزیشن رکھتے ہیں۔ میں ٹیم بی کا کپتان ہوں اور سنڈے لیگ میں میری ٹیم کی جگہ کا کوئی امکان نہیں تو میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سودا کر سکتا ہوں کہ آپ کی ٹیم سنڈے لیگ میں زیادہ سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرے۔‘‘انہوں نے دورِ حاضر کے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ کھیل میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کھلاڑیوں کی جانب سے ایسے بہت کم معاملات کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔کونڈون لندن میٹروپولیٹن پولیس فورس کے سابق سربراہ ہیں۔ انہوں نے 2000ء میں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی یونٹ کی تشکیل میں مدد دی اور ایک دہائی تک اس یونٹ کے سربراہ بھی رہے۔

 

يورپی يونين نے افغانستان ميں خواتين کی صورتحال کے بارے ميں ايک دستاويزی فلم تيار کرائی تھی۔ اس ميں دو افغان عورتوں کو دکھايا گيا تھا۔يورپی يونين کی افغان خواتين پر زيادتيوں کے بارے ميں بنائی جانے والی اس فلم ميں جو دو عورتيں دکھائی گئی ہيں، ان ميں سے ايک  نے يہ بيان کيا کہ وہ عصمت دری کا نشانہ بنائے جانے کے بعد 12 سال قيد کی سزا بھگت رہی ہے۔ دوسری عورت کی کہانی يہ ہے کہ وہ ايک زيادتی کرنے والے شوہر سے فرار ہونے کی وجہ سے جيل ميں بند ہے۔In-justice: The story of Afghan Women in Jail کے عنوان سے يہ فلم يورپی يونين کے ايماء پر بنائی گئی تھی ليکن اب يونين نے يہ فيصلہ کيا ہے کہ اس فلم کو ریليز نہيں کيا جائے گا۔ يورپی يونين کا کہنا ہے کہ اگر يہ فلم ريليز کی گئی تو فلم ميں دکھائی جانے والی عورتيں خطرے کی زد ميں آ جائيں گی۔ ليکن ناقدين کا کہنا ہے کہ اس فيصلے کی سياسی وجوہات ہيں۔ انہوں نے يورپی يونين پر الزام لگايا ہے کہ اُسے يہ انديشہ ہے کہ اس فلم کی ريليز سے افغان حکومت سے اُس کے تعلقات خراب ہو جائيں گے۔ فلم ميں دکھائی جانے والی دو عورتوں ميں سے ايک کی عمر 19 سال ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اُس کے کزن نے اس کی عصمت دری کی، جس سے وہ حاملہ بھی ہو گئی۔ وہ شادی شدہ نہيں تھی اور اسے ازدواجی رشتے سے باہر جنسی عمل ميں ملوث ہونے کی وجہ سے 12 سال قيد کی سزا دی گئی ہے۔ افغانستان ميں ازدواجی رشتوں سے باہر جنسی عمل قابل سزا ہے۔اس سے جنسی زيادتی کرنے والا کزن رشوت دے کر جيل سے باہر آ گيا ہے اور جج نے اس سے کہا کہ وہ اُس صورت ميں جيل سے رہا ہو سکتی ہے جب وہ اُس کی عصمت دری کرنے والے کزن سے شادی پر رضامند ہو جائے۔ ليکن اُس نے ايسا کرنے سے انکار کر ديا۔ اُس نے جيل ميں ايک بچی کو جنم ديا ہے اور اس کا خيال ہے کہ اُسے جيل ہی ميں اپنی بچی کو پالنا ہو گا۔ افغانستان ميں جيلوں ميں بند خواتين کی صورتحال کا جائزہ لينے والے ہيومن رائٹس واچ کے ايک کارکن  نے کہا کہ جيلوں ميں اس قسم کی بہت سی عورتيں سزائيں بھگت رہی ہيں۔ فلم ميں دوسری عورت کی عمر 26 سالکی بتائی گئی ہے اور اُس کی کہانی يہ ہے کہ اُس کا شوہر باقاعدگی سے اُسے مارا پيٹا کرتا تھا، جس سے گھبراکر وہ فرار ہو گئی۔ وہ ايک نوجوان کے ساتھ فرار ہوئی تھی، جس کے بارے ميں اُس کا کہنا ہے کہ اُس سے کبھی بھی اس کا کوئی جنسی تعلق نہيں رہا۔ اس کے باوجود اسے ناجائز جنسی تعلق کے جرم پر چھ سال قيد کی سزا دے دی گئی۔ اس کا ساتھی نوجوان بھی ايک مردوں کی جيل ميں قيد ہے۔

تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ میں کئی دہائیوں کا بدترین سیلاب بتدریج ختم ہو جائے گا مگر اس کے مختلف کمپنیوں اور صارفین پر پڑنے والے منفی اثرات دیر تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ تھائی لینڈ بہت سی کمپنیوں کا پیداواری مرکز ہے اور اکتوبر کے بعد آنے والے سیلاب میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ بہت سی کمپنیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں کمپیوٹر  ساز کمپنی ڈیل، ہارڈ ڈسک ڈرائیو بنانے والی توشیبا اور ویسٹرن ڈیجیٹل کے علاوہ گاڑیوں کی صنعت کے بڑے نام ٹویوٹا اور فورڈ بھی شامل ہیں۔مارچ میں جاپان میں آنے والے زلزلے اور اب تھائی لینڈ میں سیلاب کے بعد یہ سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں کہ کمپنیاں اپنے بنیادی پرزوں کی سپلائی کے نیٹ ورکس سے کتنی اچھی طرح آگاہ ہیں اور آیا ان خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔ٹوکیو کے ایم ایم ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تجزیہ کار ماساکی ناکامورا نے کہا، ’’کمپنیوں کے پاس اس حوالے سے محدود انتخاب ہےکیونکہ اضافی سامان رکھنے سے تجارتی منافع پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور اس سے خطرے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘ خاص طور پر جاپان میں متعارف کرائے جانے والے ’عین وقت پر فراہمی‘ کے تصور کے تحت اہم پرزوں اور خام مال کو صرف ضرورت پڑنے پر ہی فراہم کیا جاتا ہے اور اسے اس طرح کے حادثوں سے نقصان پہنچتا ہے۔ڈائی اچی لائف ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ایک سینئر ماہر اقتصادیات تورو نشی ہاما نے کہا کہ اس تصور کو تبدیل نہیں کیا جائے گا مگر اب کمپنیاں دیگر مقامات پر پیداواری مراکز قائم کر کے اس خطرے میں مزید کمی لائیں گی۔تھائی فیکٹریاں ہارڈ ڈرائیوز کی 40 فیصد سپلائی فراہم کرتی ہیں۔ فیکٹریوں کے سیلاب سے متاثر ہونے کے بعد نئی ہارڈ ڈرائیوز کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔اکتوبر کے اواخر میں 400 سے زائد جاپانی کمپنیوں نے تھائی لینڈ میں سیلاب کے بعد اپنا کام بند کر دیا تھا۔ تھائی لینڈ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری جاپان نے کر رکھی ہے۔ جاپانی کمپنیاں ٹیکسوں کی کم شرح، ارزاں افرادی قوت اور معیاری سہولیات کی وجہ سے تھائی لینڈ میں اپنی پیداوار کرتی ہیں۔تھائی لینڈ کے سیلاب سے متاثر ہونے کے بعد جاپانی کمپنیاں آئندہ برس انڈونیشیا، ویت نام اور بھارت میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ستمبر میں ٹویوٹا کمپنی نے کہا تھا کہ جاپان میں مارچ کے زلزلے کے بعد اس کی گاڑیوں کی پیداوار کا عمل دوبارہ معمول کی سطح پر آ گیا ہے تاہم تھائی لینڈ میں سیلاب کے باعث اسے اپنے تین اسمبلی پلانٹ بند کرنا پڑے، جو نومبر کے اواخر تک ہی کھل سکتے ہیں۔ ٹویوٹا اور ہونڈا نے نقصان کا تخمینہ لگانے کے دوران اپنی سالانہ آمدنی کی پیش گوئی پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔گاڑیاں تیار کرنے والی دیگر جاپانی کمپنیوں یعنی نسان اور متسوبشی اور برقی آلات کے معروف ناموں پائیونیئر، سونی، کینن اور نائیکون کی پیداواری سہولیات کو بھی تھائی لینڈ کے سیلاب سے نقصان پہنچا ہے۔اگرچہ بعض فیکٹریوں میں محدود پیمانے پر پیداوار کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس آفت کے اثرات جاپان کے زلزلے اور سونامی سے کہیں زیادہ دوررس ہو سکتے ہیں۔

شاتم رسول سلمان رشدی لعین نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ  سماجی رابطوں کی معروف ویب سائٹ فیس بک سے اپنے نام کے استعمال کے حوالے سے جاری تنازعے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس سے پہلے فیس بک نے سلمان رشدی لعین کے پروفائل کو غیر فعال کرنے کی کوشیش کی تھی کیونکہ ادارے کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ “مڈ نائٹس چلڈرن” کے حقیقی مصنف ہے۔ سن1981 میں ہندوستان کی تقسیم کے پس منظر میں لکھی جانے والی اس کتاب کوعالمی سطح پر نمایاں پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ سلمان رشدی لعین فیس بک پر اپنا نام “احمد رشدی” استعمال کرتا تھا اور “سلمان” کا لفظ اس میں شامل نہیں تھا، اسی بناء پر فیس بک کی جانب سے درست نام استعمال کرنے کی پالیسی کی وجہ سے ان کا اکاونٹ غیر فعال کر دیا گیا۔ جب مصنف نے اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے فیس بک کو اپنے پاسپورٹ کی کاپی بھیجی تو سماجی رابطے کے معروف ادارے نے اس لعین کا اکاونٹ “احمد رشدی” کے نام کے علاوہ کسی بھی دوسرے نام سے فعال کرنے سے انکار کر دیا۔ شاتم رسول سلمان رشدی لعین اپنے موقف پر ڈٹا رہا اور اس بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اس کے پاسپورٹ میں بھی” احمد” کا لفظ” سلمان” سے پہلے آتا ہے اور اسی بناء پر ان کے فیس بک کے اکاونٹ کو فعال کیا جائے۔ شاتم رسول سلمان رشدی لعین الاولین و آخرین  کے مطابق بلا آخر فیس بک نے ان کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا اکاونٹ دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ اس حوالے سے مصنف نے اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا کہ  دنیا انہیں “سلمان” یعنی شاتم رسول کا نام سے ہی جانتی ہے۔شاتم رسول سلمان رشدی لعین سماجی رابطوں کی معروف ویب سائٹ فیس بک کے مقابلے میں اپنی کامیابی پر بے حد مسرور ہے اور ان کا کہنا تھا کہ اب وہ اپنی شخصیت کو بہتر محسوس کر رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ عمر کے اس حصے میں جبکہ شیعہ مسلمان مجھے واجب القتل سمجھتے ہیں اس لیے اب میری شناخت کے مسئلے میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے۔

یورپ میں کئی ایسے جرثوموں کی گرفت مضبوط پڑتی دکھائی دے رہی ہے جن پر انتہائی طاقتور اینٹی بائیوٹکس ادویات بھی اثر نہیں کر پا رہیں۔ زیادہ متاثرہ یورپی ممالک میں جرثومے کی ایک قسم میں دوا سے مدافعت کی شرح پچاس فیصد کی خطرناک حد تک نوٹ کی گئی ہے۔ مختلف قسم کی ادویات کے مقابلے میں مدافعت رکھنے والے جرثوموں ’بیکٹیریا‘ کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ ان جرثوموں کو ’سپر بگز‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یورپیئن سینٹر فار ڈزیز پریوینشن اینڈ کنٹرولECDC نے اپنی تازہ رپورٹ میں اس طرز کے جرثوموں پر قابو پانے کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔اس ادارے کے ڈائریکٹر مارک سپرینگر نے لندن میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس طرز کی بیکٹیریا کے خلاف ماہرین طب کو ’اعلان جنگ‘ کر دینا چاہیے۔ ’’ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو انفیکشن کے بہت سارے معاملات سامنے آئیں گے اور نتیجے میں ایسے بہت سے مریض ہمارے درمیان موجود ہوں گے، جن کی حالت بہت خراب ہوچکی ہوگی اور ہمارے پاس ان کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس بھی موجود نہیں ہوگی۔‘‘  ان کے بقول یورپ میں کلیبسیلا Klebsiella نمونیا نامی بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹکس سے مدافعت کی شرح میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران دو فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ بعض ممالک میں اس بیکٹیریا میں دوا کے خلاف مزاحمت پچاس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ کلیبسیلا  نامی بیکٹیریا نمونیا، پیشاب کے نظام اور نظام خون میں انفیکشن کا عمومی سبب ہے۔ اس بیکٹیریا کی سپر بگز نسل دنیا کی طاقتور ترین اینٹی بائیوٹکس دوا کارباپینیمس carbapenems کے خلاف بھی مدافعت رکھتی ہے۔ ECDC کے مطابق متعدد یورپی ممالک سے ملنے والی رپورٹوں میں انکشاف ہوا ہے کہ وہاں 15 تا 50 فیصد کلیبسیلا بیکٹیریا کارباپینیمس نامی طاقتور ترین اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت ظاہر کر رہا ہے۔ماہرین کے بقول اس کی ایک بڑی وجہ اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال بھی ہے، جس کے سبب جسم کا مدافعاتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور یوں بیکٹیریا پر اس کا اثر نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں ایسے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو بھی ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے جو بلاناغہ مریضوں کو اینٹی بائیوٹکس تجویز کرتے ہیں۔

امریکہ میں ہیلتھ انشورنس سے محروم مریضوں کو ان کی طبی حالت سے قطع نظر ہیلتھ انشورنس رکھنے والے مریضوں کے مقابلے میں ہسپتالوں سے بظاہر جلد فارغ کر دینے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ میں گزشتہ برس ایسے افراد کی تعداد 50 ملین کے قریب تھی جن کے پاس بیماری کی صورت میں علاج کے لیے کوئی ہیلتھ انشورنس نہیں تھی۔ یہ تعداد سن 2009 کے مقابلے میں زیادہ تھی۔  امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کے شہر چارلسٹن میں یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا کے محققین کے مطابق ان کی ریسرچ یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئی مریض اپنی بیماری کے علاج کے لیے کسی ہسپتال میں کتنا عرصہ قیام کرے گا، اس بات میں مالیاتی عوامل بھی مکنہ طور پر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے ایسے آٹھ لاکھ 50 ہزار کے قریب بالغ مریضوں کے طبی ریکارڈ کا مطالعہ کیا جو سن 2003 اور 2007 کے درمیان مختلف امریکی ہسپتالوں میں زیر علاج رہے تھے۔ اس مطالعے کے دوران ماہرین کو پتہ یہ چلا کہ وہ مریض جن کے پاس بیماری کی صورت میں علاج کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے بیمے کی سہولت نہیں تھی، ان میں سے ہر ایک اوسطاﹰ صرف 2.8 روز تک کسی نہ کسی ہسپتال میں زیر علاج رہا۔ ان میں سے زیادہ تر مریض دمے اور ذیا بیطس جیسی بیماریوں کا شکار تھے۔ اس کے برعکس وہ مریض، جن کے پاس کوئی نہ کوئی ہیلتھ انشورنس تھی اور جن کے میڈیکل کے بلوں کی ادائیگی کے بارے میں ہسپتالوں کی انتظامیہ کو کوئی پریشانی نہیں ہو سکتی تھی، ان میں سے ہر ایک اوسطاﹰ 2.9 روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہا۔ اس تحقیق کے فیملی میڈیسن نامی جریدے میں شائع ہونے والے نتائج کے مطابق جن مریضوں کا اس عرصے کے دوران ہسپتال میں قیام فی کس بنیادوں پر اوسطاﹰ سب سے زیادہ رہا، وہ ایسے غریب شہری تھے، جن کے علاج کے لیے اخراجات ایک حکومتی پروگرام Medicaid کے تحت ادا کیے گئے تھے۔ ایسے مریضوں کے مختلف ہسپتالوں میں قیام کی فی کس اوسط 3.2 دن رہی تھی۔ اس جائزے کی سربراہی کرنے والے Arch Mainous نامی ماہر کے مطابق اگر کوئی یہ پوچھے کہ اعداد و شمار کے اس فرق سے کوئی فرق پڑتا ہے، تو ان کا جواب ہاں میں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس کے حوالے سے مختلف طرح کے پس منظر کے حامل ان مریضوں کے اپنے علاج کے لیے ہسپتال میں قیام کے عرصے میں یہ فرق تھوڑا سہی لیکن بہت معنی خیز ہے۔ Mainous کے بقول امریکہ میں ہیلتھ انشورنس کی سہولت سے محروم مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی روشنی میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مریضوں کے پاس کسی ہیلتھ انشورنس کا ہونا یا نہ ہونا ان کے لیے علاج کی سہولتوں پر کس طر‌ح کے ممکنہ اثرات کا سبب بنتا ہے۔

پاکستان میں ہیکرز کا مطالبہ تھا کہ ملک میں غیر اخلاق یا عریاں ویب سائٹس پر پابندی عائد کی جائے۔ اطلاعات کے مطابق ڈیڑھ لاکھ ویب سائٹس پر مرحلہ وار پابندی لگائی جا رہی ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ پرغیر اخلاقی مواد سے بھر پور ویب سائٹس تک رسائی دینے پر عوامی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے گزشتہ چند سالوں سے احتجاج کیا جا رہا تھا۔ گزشتہ برس گوگل کی جانب سے دنیا میں سب سے زیادہ پورن ویب سائٹس سرچ کرنے والے صارفین کی تعداد کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی گئی۔ اس رپورٹ میں پاکستان سر فہرست نظر آیا، جس کے بعد کہیں اپیلوں اور کہیں دھمکیوں کے زور پر ان ویب سائٹس تک رسائی بند کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔ اسی سلسلے میں پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ ہیک کی گئی اور بعد میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن  اتھارٹی’ پی ٹی اے‘ کی ویب سائٹ ہیک کرتے ہوئے اس پر عریاں مواد تک رسائی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ چند روز بعد ہی پی ٹی اے کی جانب سے کئی ہزار عریاں ویب سائٹس تک رسائی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سائٹس پر مرحلہ وار پابندی لگائی جا رہی ہے۔ نوجوانوں نے پی ٹی اے کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔ انٹرنیٹ سروس پروائڈرز کے مطابق ان سائٹس پر براہ راست پابندی پی ٹی اے کی جانب سے عائد کی گئی ہی۔ رابطہ کرنے پر پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ پابندیاں عائد کرنے کا حکم وزارت آئی ٹی کی جانب سے دیا گیا ہے، جس کے بارے میں وہ تفصیلات فراہم کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آئی ٹی منسٹری کے ایک اعلیٰ حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرکاری سطح پر سے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ صارفین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی نتظیمConsumers rights commision of pakistan سے وابسطہ احمد علی کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کو پابندی عائد کرنے سے پہلے مختلف پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے تھا۔ پی ٹی اے کی جانب سے صرف ویب سائٹس ہی نہیں بلکہ حالیہ گردش کرنے والی خبروں کے مطابق ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجے جانے والے تمام پیغامات کو بھی سینسر کیا جائے گا۔ اس کے لیے پی ٹی اے کی جانب سے ایسا  نظام تشکیل دیا جا رہا ہے، جس کے مطابق پندرہ سو سے زائد قابل اعتراض الفاظ فلٹر کر دیے جائیں گے۔ ان میں ایک ہزار انگریزی جبکہ پانچ سو پچاس الفاظ اردو کے ہیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے ان الفاظ پر مشتمل ایک فہرست تشکیل دی جا چکی ہے، جو موبائل  آپریٹرز کو جاری کی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کا کوئی سرکاری اعلامیہ تو سامنے نہیں آیا ہے تاہم وزیر امور نوجوانان فیصل سبزواری کے ٹویٹر پر لکھے گئے ایک پیغام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان خبروں میں صداقت ضرور ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی اے کی جاری کردہ فہرست ان کی نظر سے گزر چکی ہے۔ ان الفاظ کو وہ خزانہ مغلظات قرار دیتے ہیں۔