Archive for November, 2011

بی بی سی کی طرف سے پاکستانی فوج کے خلا ف زہریلے پروپیگنڈہ کے پیش ںظر پاکستان میں کیبل ٹی وی آپریٹرزنے بی بی سی کی نشریات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی بی سی کی طرف سے پاکستانی فوج کے خلا ف زہریلے پروپیگنڈہ  کے پیش ںظر پاکستان میں کیبل ٹی وی آپریٹرزنے بی بی سی کی نشریات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور میں منعقدہ پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے عالمی الیکٹرونک میڈیا کو خبردار کیا کہ وہ پاکستان اور اس کی فوج کے متعلق منفی تشہیر بند کرے اور پاکستان کے میڈیا ٹرائل کا سلسلہ بند کیا جائے۔مغربی میڈیا پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کررہا ہے جس میں بی بی سی پیش پیش ہے۔

Advertisements

ایک عرب سائٹ نے شام اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے خلاف قطر کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطرنے علاقہ میں امریکہ اور صہیونیوں کےمفادات کی حفاظت کے لئے خطرناک بازی شروع کردی ہے۔ نہرین نیٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے خلاف قطر کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطرنے علاقہ میں امریکہ اور صہیونیوں کےمفادات کی حفاظت کے لئے خطرناک بازی شروع کردی ہے۔ سائٹ کے مطابق عراق کے ایک سیاسی تجزیہ نگآر ازہر الخفاجی معتقد ہیں کہ قطر کے وزیر خارجہ حمد بن جاسم علاقہ میں امریکی ، یورپی اور صہیونی منصوبوں کے مجری ہیں ۔نہرین نیٹ کے مطابق قطر کے ڈکٹیٹر حکمران مصر کے ڈکٹیٹر حسنی مبارک اور تیونس کے بن علی کے بعد اسرائیلی حکومت کو زوال سے بچانے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں  کیونکہ حسنی مبارک کے زوال کے بعد اسرائیل کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور اب امیرقطر نے حسنی مبارک کا کردار ادا کرنے اور اسرائیل کو بچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ شام کے خلاف قطر کے اقدامات اسی سلسلے کی کڑی ہیں کیونکہ شام اسرائیل کا سخت مخالف ملک ہے۔الخفاجی کا کہنا ہے کہ حمد بن جاسم جھوٹا اور کذاب شخص ہے وہ صہیونیوں کا حامی ہے ذرائع کے مطابق امیر قطر نے یہودی بستی تعمیر کرنے کے لئےبڑی مقدار میں اسرائیل کو امداد فراہم کی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ قطر کے کئی خطرناک اور شوم منصوبے لیبیا اور تیونس میں فاش ہوچکے ہیں اور قطر کے امیر اور وزیر اعظم کے صہیونی ہونے کے بارے میں کسی مسلمان کواب  کوئي شک و شبہ نہیں ہے۔

ذرائع ابلاغ نے قطر کے امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی ایسی ویڈیو فلم جاری کی ہےجس میں قطر کے امیر نے مقبوضہ فلسطین میں ایک یہودی بستی تعمیرکرنے کے لئے اسرائیل کو مدد فراہم کی اور اسرائيل کا خفیہ دورہ کیاہے۔العالم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بعض عرب ذرائع ابلاغ نے قطر کے امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی ایسی ویڈیو فلم جاری کی ہے جس میں قطر کے امیر نے مقبوضہ فلسطین میں  ایک یہودی بستی تعمیرکرنے کے لئے اسرائیل کو مدد فراہم کی اور اسرائيل کا خفیہ دورہ کیاہے، ویڈيو فلم میں قطر کے امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی مقبوضہ   فلسطین میں یہودی بستی کی تعمیر کا مشاہدہ کررہے ہیں جس کی تعمیر کے لئے قطر کے امیر نے مالی مدد فراہم کی ہے الجزیرہ ٹی وی کے ایک نامہ نگار بھی اس خفیہ سفر میں قطر کے امیر کے ہمراہ ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الجزیرہ ٹی وی چینل کو قطر کے امیر اور اسرائیل کے گہرے روابط کا بخوبی پتہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ قطر کے امیر نے الجزیرہ سمیت اپنے تمام وسائل کو امریکہ اور اسرائیل کی علاقہ میں بالا دستی قائم رکھنےکے لئے مامور کررکھا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کےسربراہ علاءالدین بروجردی نے کہا ہے کہ برطانیہ نے ہمیشہ ایران مخالف پالیسیاں اپنائي ہیں لہذا ایران سے برطانوی سفیر کو نکال دیا جائے۔ علاءالدین بروجردی نے آج پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس میں برطانیہ کے ساتھ تعلقات کی سطح میں کمی لانے کا بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب سے پہلے اور انقلاب کے بعد برطانیہ کا رویہ نہایت مجرمانہ رہا ہے۔ بروجردی نے ملت ایران کے خلاف مختلف زمانوں میں برطانیہ کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا برطانیہ ملت ایران کے خلاف تمام سازشوں میں شامل ہے۔ ادھرایرانی پارلیمنٹ نے ایک بیان جاری کرکے ایران کے سنٹرل بینک کے خلاف برطانیہ کی پابندیوں کی مذمت کی ہے۔ اس بیان میں جو آج پارلیمنٹ میں پڑھا گيا، آیا ہے کہ برطانیہ نے یہ پابندیاں لگا کر ملت ایران اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی دیرینہ دشمنی کا اظہار کیا ہے۔

تہران کے طلبہ نے آج اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں برطانوی حکومت کی مخاصمانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے لیے تہران میں برطانوی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا۔اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں طلباء مظاہرین نے برطانوی سفارتخانہ پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے برطانوی پرچم کو برطانوی سفارتخانہ سے اتار دیا ہے اطلاعات کے مطابق تہران کے ہزاروں طلبہ نے آج برطانوی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کر کے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی پابندیوں اور مہم جوئی کی حمایت میں برطانیہ کی پالیسیوں کی مذمت کی۔ مظاہرین نے گزشتہ سال انتیس نومبر کو صیہونی حکومت کے ایجنٹوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ایران کے ایٹمی سائنس دان مجید شہریاری کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور انہوں نے برطانیہ کے ساتھ تعلقات کی سطح کم کرنے کے سلسلے میں ایرانی پارلیمنٹ مجلس شورای اسلامی کے اقدام کی حمایت کا اعلان کیا۔ ۔رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں احتجاجی مظاہرین نے برطانوی سفارتخانہ پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے برطانوی پرچم کو برطانوی سفارتخانہ سے اتار دیا ہے طلباء مظاہرین نے ملکہ برطانیہ کے فوٹو کو بھی چکنا چور کردیا ہے مظاہرین سفارتخآنہ میں داخل ہوگئے ہیں احتجاجی طلباء نے برطانوی سفارتخانہ کی کئی خفیہ اسناد کو بھی ضبط کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق برطانوی سفارتخانہ کے جاسوس اہلکار سفارتخانہ چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں

نیٹو حملے پر غور کیلئے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں اراکین نے تمام فیصلوں کا اختیار وزیراعظم کو دیدیا، شہید ہونیوالے فوجی افسران، جوانوں کیلئے فاتحہ خوانی، لواحقین کیساتھ ہمدردی کا اظہار، ملک میں جمہوری حکومت قائم ہے، ملک کی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان کر دیا۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس گورنر ہاؤس لاہور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کی، اجلاس کے شرکاء کو وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے نیٹو حملے کے بعد دفاعی کمیٹی کے بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں کئے گئے فیصلوں اور نیٹو حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ شرکاء نے کمیٹی کے تمام فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں ملک کی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، اجلاس کے شرکاء نے نیٹو کے حملے کو پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر تمام فیصلوں کا اختیار وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو دیدیا۔ اجلاس کے دوران وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے نیٹو حملے کے بعد امریکہ سمیت دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کابینہ کو بتایا کہ ہم نے تمام ممالک کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے فیصلوں اور نیٹو حملے کے بعد سیاسی جماعتوں اور عوامی ردعمل کے حوالے سے آگاہ کر دیا ہے، چین اور او آئی سی نے پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید کی ہے اور نیٹو کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔  اجلاس کے دوران متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی کو پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آئندہ کسی نے جارحیت کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ملک میں منتخب جمہوری حکومت قائم ہے اور کسی بھی صورت ملک کی آزادی اور خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی بہت مشکل فیصلے کئے ہیں اور آئندہ بھی ملک کے تحفظ کیلئے مشکل سے مشکل فیصلے کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا، امریکہ سمیت تمام ممالک سے تعلقات اور دوستی صرف برابری کی بنیاد پر ہو گی۔ اجلاس میں میمو سکینڈل کے حوالے سے بھی غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائیگا جس میں مہمند ایجنسی میں نیٹو کے حملے اور میمو سکینڈل کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائیگا۔ اجلاس میں 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جبکہ وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے ملک میں توانائی بحران اور موسم سرما کے دوران گیس کی قلت کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی۔ کابینہ اجلاس کے موقع پر شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہی  گورنر ہاؤس اور شہر کے بڑے ہوٹلوں کے اردگرد سکیورٹی اہلکار تعینات رہے جبکہ پولیس کی موبائل سکواڈ بھی سڑکوں پر گشت کرتی رہی۔ دیگر ذرائع کے مطابق گورنر ہاوس لاہور میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نیٹو حملے کے بعد دفاعی کمیٹی کے قومی سلامتی کے فیصلوں کی توثیق کی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ نیٹو کی سپلائی بند کرنے اور امریکہ سے شمسی ائیر بیس 15دنوں میں خالی کرانے کے فیصلوں پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان نے نیٹو فورسز کے حملے پر احتجاج کے طور پر پانچ دسمبر کو جرمنی میں ہونے والی بون کانفرنس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس بہیمانہ اقدام کی مذمت کرنے پر زور دیا ہے۔ کابینہ نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معمول کا ایجنڈا معطل کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ نیٹو حملے کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث پاکستان بون کانفرنس میں شریک نہیں ہو گا۔ البتہ وفاقی کابینہ نے افغانستان کے استحکام اور جاری مفاہمتی امن عمل کی حمایت جاری رکھنے کے عزم اور حمایت کا اعادہ کیا۔ کابینہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ بین الاقوامی برادری بون کانفرنس میں افغانستان میں امن کے قیام اور ترقی کے عمل کو تیز کرنے کا اعادہ کرے گی۔   کابینہ نے پاکستانی سپاہیوں پر نیٹو اور ایساف کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی سالمیت پر حملہ قرار دیا۔ اجلاس میں نیٹو حملے کے مسئلے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے دفاعی کمیٹی کے فیصلوں پر کابینہ کو اعتماد میں لیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی خودمختار ی اور علاقائی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی توقعات کے مطابق ملکی سرحدوں کا تحفظ کریں گے، چاہے اس کے لئے جتنی بھی قیمت ادا کرنا پڑی۔   کابینہ نے پاکستان کے امریکہ، نیٹو اور ایساف سے تعاون پر نظرثانی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خاتمے، علاقائی استحکام اور امن کے لیے کوششوں، مثبت کردار اور قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں قرار دیا گیا کہ پاکستانی فوجی اہلکاری پر نیٹو کے بلااشتعال حملے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شراکت داری کی روح کے خلاف ہیں۔  وزیراعظم نے پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو نیٹو حملے کا معاملہ سپرد کرنے پر اعتماد میں لیا۔ کمیٹی کی سفارشات پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ نے نیٹو حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین القوامی قوانین کے خلاف اور علاقائی امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں بین الاقوامی برادری کو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کرنے کو ضروری قرار دیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کابینہ کو اپنے دوسرے ممالک سے سفارتی رابطوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو حملے عالمی اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، پاکستان مہمند ایجنسی اور ایبٹ آبا د جیسے حملے برداشت نہیں کرے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ زندگی ہر کسی کو عزیز ہے لیکن غیرت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔ کابینہ نے قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اجلاس میں سلالہ چیک پوسٹ پر شہید ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار ہمدردی بھی کیا گیا۔

دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو میں سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ شمسی ائیر بیس سے متعلق تمام معاملات زبانی طے ہوئے تھے، اس لئے شمسی ائیر بیس کو خالی کرایا جا سکتا ہے۔سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ شمسی ائیر بیس کے حوالے سے پاکستان کا امریکہ سے کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہے۔ دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو میں سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ شمسی ائیر بیس سے متعلق تمام معاملات زبانی طے ہوئے تھے، اس لئے شمسی ائیر بیس کو خالی کرایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں نائن الیون سانحہ کے بعد پاکستان اگر امریکہ کو ائیر بیس نہ دیتا تو بھارت تمام اڈے دینے کو تیار تھا۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جارج لٹل نے واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حملے کی تحقیقات کیلئے ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے، جس کی سربراہی امریکی سنٹرل کمانڈ کرے گی۔ جارج لٹل کے مطابق تحقیقات کی درخواست ایساف کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کی ہے۔وائٹ ہاؤس نے نیٹو حملے کو سنجیدہ معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سنٹرل کمانڈ تحقیقات کرے گی جبکہ امریکی محکمہ دفاع نے دعوی کیا ہے کہ شمسی ایئربیس پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں۔ پینٹاگون کے مطابق لیون پنیٹا نے پاکستانی حکام سے رابطہ نہیں کیا جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر دفاع پاکستانی ہم منصب سے رابطہ کر چکے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جارج لٹل نے واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حملے کی تحقیقات کیلئے ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے، جس کی سربراہی امریکی سنٹرل کمانڈ کرے گی۔ جارج لٹل کے مطابق تحقیقات کی درخواست ایساف کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کی ابتدائی تحقیقات کی رپورٹ آج مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کی جا سکتی ہیں، لیکن ابھی تک اس پر گفتگو نہیں ہوئی۔ جارج لٹل نے کہا کہ شمسی ایئربیس خالی کرنے کے مطالبہ سے آگاہ ہیں، تاہم اس وقت وہاں کوئی امریکی فوجی موجود نہیں۔ امریکی افواج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈمپسی اور جنرل ایلن نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ فون پر گفتگو کی ہے، تاہم امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کسی پاکستانی کے ساتھ رابطہ نہیں کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایساف اور سینٹ کام حملے کی الگ الگ تحقیقات کریں گے۔ بون کانفرنس میں شرکت پر پاکستان کی نظرثانی کو سمجھ سکتے ہیں، تاہم کانفرنس میں شرکت اسلام آباد کے مفاد میں ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما حملے میں پاکستانی فوجیوں کی شہادت کو بڑا سانحہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ دیگر ذرائع کے مطابق ترجمان وائٹ ہاؤس نے پاکستانی چوکی پر نیٹو حملے میں پاکستانیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نیٹو کی جانب سے حملے کے حوالے سے جاری کئے جانیوالے بیان میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل کمانڈ نیٹو حملے کی تحقیقات کریگی۔ ترجمان وائٹ ہاؤس جے کارنی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے نیٹو حملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور نیٹو حملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کیساتھ تعلقات میں مشکلات آتی رہتی ہیں، تاہم سینئر اہلکار پاکستانی حکام سے رابطے میں رہتے ہیں اور اس معاملے میں بھی مسلسل پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ امریکی ایلچی بن کر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اس نے پاکستانی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ امریکی فوج سے شمسی ایئر بیس خالی کرانے کے فیصلے کو واپس لے لے ، لیکن پاکستانی صدر نے امارات کے وزیر خارجہ کی اس درخواست کو رد کردیا ہے خلیجی عرب ممالک علاقہ میں امریکی بالادستی قائم رکھنے کے حامی ہیں ۔متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ امریکی ایلچی بن کر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اس نے پاکستانی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ امریکی فوج سے شمسی ایئر بیس خالی کرانے کے فیصلے کو واپس لے لے ، لیکن پاکستانی صدر نے امارات کے وزیر خارجہ کی اس درخواست کو رد کردیا ہے خلیجی عرب ممالک علاقہ میں امریکی بالادستی قائم رکھنے کے حامی ہیں ۔ذرائع کے مطابق پاکستان کے صدرآصف علی زرداری سے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے شمسی ایئر بیس خالی نہ کرانے کی در خواست کی ،تاہم ذرائع کے مطابق پاکستان کے صدرزرداری نے شمسی ایئربیس خالی نہ کرانے کی درخواست منظور نہیں کی۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے ڈیڈ لائن میں توسیع کی بھی درخواست کی جس کے جواب میں صدرزرداری نے کہاایئربیس خالی کرانے کافیصلہ دفاعی کمیٹی نے کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق  سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین  میں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں اورخلیجی عرب ممالک  عرب عوام کے قدرتی وسائل کو مغربی ممالک کے ہاتھوں تباہ کررہے ہیں اور وہ علاقہ میں امریکی اور اسرائیلی بالا دستی کے لئے سرگرم عمل ہیں یہی وجہ ہے کہ علاقائی عوام امریکہ نواز عرب حکمرانوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں مصر تیونس اور لیبیا میں عوام کو وقتی طور پر کامیابی ملی ہے لیکن یمن ، بحرین اور سعودی عرب میں عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور وہ دن دور نہیں ہے جب علاقہ سے امریکی آلہ کار حکمرانوں کا خاتمہ ہوجائےگا۔ واضح رہے کہ مہمند ایجنسی میں امریکہ اور نیٹو کے حملے میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے نیٹو کی سپلائی لائن بند کردی اور امریکہ سے کہا ہے کہ وہ  بلوچستان میں شمسی ایئر بیس کو فوری طور پر خالی کردے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر ان چیف نے پاکستان پر نیٹو کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ جنرل محمد علی جعفری نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی کے نام پیغام میں نیٹو کے حملوں میں اٹھائیس پاکستانی فوجیوں کے جاں بحق ہونے پر تعزیت پیش کرتے ہوئے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ یہ ہولناک جرم بین الاقوامی قوانین کو نطر انداز کرتےہوئے ڈھایا گيا ہے اور اس سے ایک بار پھر امن اور قوموں کے حقوق کے احترام کا دعوے کرنے والوں کا جھوٹ ثابت ہوگيا ہے۔ اس پیغام میں جنرل جعفری نے کہا ہے کہ پاکستانی فوجیوں کے قتل عام سے امریکہ اور نیٹو کی بہیمانہ طبیعت ساری دنیا کے سامنے کھل کر آگئي ہے جس کے سہارے وہ اپنے ناجائز مفادات حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بہیمانہ جرم کے ذمہ داروں کو جلد از جلد سزا دئے جانے اور علاقے سے جارحین کے انخلا کی ضرورت پر تاکید کی اور کہا کہ اس طرح اس ہولناک جرم سے متاثر ہونے والوں کے رنج الم میں کچھ کمی آسکتی ہے۔ یاد رہے نیٹو نے گذشتہ سنیچر کو پاکستان کی مہمند ایجنسی پر حملہ کیا تھا جسمیں اٹھائيس فوجی جاں بحق اور کئي افراد زخمی ہوئے تھے۔

تہران میں تعینات پاکستان کے سفیر خالد عزیز نے اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے تعلقات کی سطح بڑھانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔  ارنا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سفیر خالد عزیز نے کل ایران پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ کے چیئرمین علی اکبر آقائي سے ملاقات میں کہا کہ اسلام آباد کو توقع ہے کہ تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی سطح بڑھے گی۔ خالد عزیز نے پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کے لۓ ایران کی جانب سے بھیجی جانے والی انسان دوستی پر مبنی امداد کی قدر دانی کرتے ہوۓ مزید کہا کہ ایران پاکستان کے متاثرہ افراد کو مدد دینے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے ۔ علی اکبر آقائی نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ تہران اور اسلام آباد کا باہمی تعاون خطے میں سلامتی اور استحکام کا باعث ہے۔

پاکستان نے مہمند ایجنسی پر نیٹو فورسز کے حملے کے خلاف احتجاجاً بون کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان نے مہمند ایجنسی پر نیٹو فورسز کے حملے کے خلاف احتجاجاً بون کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ذرائع کے مطابق 26نومبر کو مہمند ایجنسی کی سرحدی چوکیوں پر نیٹو ہیلی کاپٹروں کے حملوں میں24فوجی جوانوں کی ہلاکت کا معاملہ آج  پاکستانی کابینہ کے اجلاس میں بھرپور طریقے سے رکھا گیا۔ کابینہ نے اس سے قبل اس معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز دی جسے وزیراعظم نے منظور کر لیا۔ ذرائع کے مطابق اجلا س میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ زندگی ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے، عزت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں اور عزت کے ساتھ مرنا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان افغان امن منصوبے سے متعلق جرمنی کے شہر بون میں منعقعد ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹیلی گراف کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں شامی صدر نے کہا کہ شام اس خطے کا مرکز ہے اور یہ فالٹ لائن ہے، اگر آپ زمین کے ساتھ کھیلیں گے تو زلزلے کا موجب بنیں گے۔ شام میں کوئی بھی مسئلہ پورے خطے میں آگ بھڑکا سکتا ہے۔  شام کے صدر بشارالاسد نے انتباہ کیا ہے کہ شام یمن، مصر یا تیونس نہیں، مغرب نے مداخلت کی تو پورا خطہ لرز اٹھے گا، ہر چیز جل کر راکھ ہو جائیگی۔ دمشق میں برطانوی اخبار ٹیلیگراف کو دئیے گئے انٹرویو میں شام کے صدر بشارالاسد نے تسلیم کیا کہ شروع میں سکیورٹی فورسز سے چند غلطیاں ہوئی۔ لیکن اب صرف دہشتگردوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مغرب نے شام کیخلاف ایکشن لیا تو پورا مشرق وسطٰی جل اٹھے گا۔ بشارالاسد نے کہا کہ شام کی تاریخ مختلف ہے۔ ثقافت نرالی ہے اور سیاست الگ تھلگ ہے۔ مغربی مداخلت کے نتیجے میں خطے کی صورتحال یکسر تبدیل ہو جائیگی، ہر چیز جل کر راکھ ہو جائیگی۔ دیگر ذرائع کے مطابق شام کے صدر بشارالاسد نے مغربی طاقتوں کو تنبیہ کی ہے کہ اگر انہوں نے شام کے خلاف کارروائی کی تو اس سے ایسا زلزلہ آئے گا جس سے پورے خطے میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ بین الاقوامی طاقتوں کی مداخلت نے شام کو “ایک اور افغانستان” بنانے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار سنڈے ٹیلی گراف کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں شامی صدر نے کہا “شام اس خطے کا مرکز ہے اور یہ فالٹ لائن ہے، اگر آپ زمین کے ساتھ کھیلیں گے تو زلزلے کا موجب بنیں گے۔ شام میں کوئی بھی مسئلہ پورے خطے میں آگ بھڑکا سکتا ہے۔ اگر شام کو تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے تو اس کا مطلب پورا خطہ تقسیم کرنا ہے۔ صدر اسد نے کہا کہ کیا آپ ایک اور افغانستان یا کئی اور افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں؟ شامی صدر نے تسلیم کیا کہ مارچ میں حکومت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے کئی غلطیاں کیں، البتہ اب انہوں نے زور دیا کہ صرف دہشتگردوں کو ہی ہدف بنایا جا رہا ہے۔

روسی بحری کمانڈ نے شام کے ساحل کی طرف اپنے جنگی بحری بیڑے کو روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔اخبار ایزوسٹیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روسی اور مغربی حکام کے درمیان شام کے معاملے میں اختلافات شدید ہوگئے ہیں۔ روسی بحری کمانڈ نے شام کے ساحل کی طرف اپنے جنگی بحری بیڑے کو روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق روس اپنا طیارہ بردار بحری بیڑہ ”ایڈمرل خزتوف“ جس کے ساتھ پٹرول کشتیاں، آبدوز شکن بحری بیڑے اور دوسرے بحری جہاز ہوں گے روسی بحریہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ شام کے ساحل تارطوس پر قائم اپنے اڈے کیلئے فلوٹیلا روانہ کر رہے ہیں۔ اس اڈے پر 600 روسی کام کر رہے ہیں ۔ روسی بحریہ کے ترجمان کے مطابق آئندہ چار ماہ میں روسی بحری بیڑہ شام کے ساحل پر پہنچ جائےگا روسی ترجمان کے مطابق ان جنگی بحری بیڑے کا شام کے اندرونی معمالات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایک ترک نامہ نگار نے فاش کیا ہے کہ ترکی کے شہر انقرہ میں شام کے خلاف ترکی، قطر، اسرائيل اور فرانس کے اعلی حکام کا اجلاس ہوا ہے جس میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کے طریقوں پر غور کیا گيا ہے رپورٹ کے مطابق ترکی کے ایک خـبری ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ 23 نومبر کو ترکی کے شہر انقرہ میں ترکی کے وزير اعظم رجب طیب اردوغان اور قطر کے وزیر اعظم حمد بن جاسم کی ملاقات ہوئی اور اس ملاقات میں اسرائیل کے ایک اعلی اہلکار اور فرانسیسی صدر کے اعلی مشیر بھی شامل ہوگئے جس کے بعد یہ ملاقات چار فریقی ملاقات میں تبدیل ہوگئی۔ اس ملاقات میں ترکی ، قطر، فرانس اور اسرائیل نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ چند روز قبل ہونے والے اس خفیہ اجلاس کا راز ایک ترک نامہ نگار نے فاش کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان امریکی اور اسرائیلی خطوط پر چل پڑے ہیں، ذرائع کے مطابق قطر کے وزیر اعظم نے ترکی کے وزیر اعظم سے ملاقات سے قبل سعودی عرب کے بادشاہ ملک عبداللہ سے ملاقات کی جس میں ملک عبداللہ نے کہا ہے کہ شام میں بشار اسد کی حکومت کا خاتمہ بہت ضروری ہے کیونکہ وہ اب خلیجی ممالک کے لئے خطرہ بن گئی ہے ادھر قطر نے شام کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ شام میں امریکہ، اسرائيل اورترکی سمیت خلیجی ممالک  عدم استحکام پیدا کرکے بشار اسد کی حکومت کو خۃم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ بشار اسد کی واحد عرب حکومت ہے جو اسرائیل کی مخالف ہے۔  ذرائع کے مطابق خلیجی عرب ممالک  کے حکمرانوں  نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر خطرناک کھیل شروع کیا جس میں ان کی شکست حتمی ہے بعض ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک کے عرب حکمراں امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ ہیں جو اس علاقہ میں امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے خلاف امریکہ ، اسرائيل ، قطر اور سعودی عرب کی شیطنت کے ساتھ ترکی کی شیطنت کا سلسلہ بھی جاری ہے ترکی کے وزیر خارجہ نے شام میں امن علاقہ قائم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی شام میں فوجی کارروائی کے خلاف ہے لیکن ہر قسم کے کردار کو ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ واضح رہے کہ ترکی امریکہ ، اسرائيل اور قطر و سعودی عرب کے ساتھ ملکر شام کے خلاف گھناؤنی سازش میں ملوث ہوگیا ہے لیکن شام کے عوام نے شامی حکومت کی بھر پور حمایت کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے دشمن کی تمام سازشوں کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

حزب اللہ لبنان نے اپنے ایک بیان میں شام کے خلاف عرب لیگ کے امریکہ و اسرائیل کے ہمراہ معاندانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرب لیگ علاقہ میں امریکی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان نے اپنے ایک بیان میں شام کے خلاف عرب لیگ کے امریکہ و اسرائیل کے ہمراہ معاندانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرب لیگ علاقہ میں امریکی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حزب اللہ نے بیان میں عرب لیگ کے اقدام کو شرم آور قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ عرب لیگ اب امریکی اور اسرائیلی تنظیم بن گئی ہے جوعرب عوام کے وقار اور بنیادی آئین کے خلاف عمل کررہی ہے۔

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے عرب لیگ کے غیر انسانی اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئےکہا ہے کہ عرب لیگ نے شام میں مغربی ممالک کی مداخلت کے لئے گرین سگنل دیدیا ہے۔عرب ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے عرب لیگ کے اقدامات کو غیر انسانی قراردیتے ہوئےکہا ہے کہ عرب لیگ نے شام میں مغربی ممالک کی  مداخلت کے لئے گرین سگنل دیدیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ولید معلم نے عرب لیگ کو ایک مکتوب میں شام کے خلاف اس تنظیم کے اقدامات کو مداخلت پسندانہ قرار دیا۔ شام کے وزیر خارجہ نے خط میں کہا ہے کہ عرب لیگ نے شام میں فوجی مداخلت کے لئے مغربی ملکوں کو گرین سگنل دے دیا ہے اور شام کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں بھیج کر شام میں مغربی ملکوں کی فوجی مداخلت کی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے شام سے متعلق عرب لیگ کی متضاد اور دوہری پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عرب لیگ ایک طرف تو شام کے اقتدار اعلیٰ کے احترام کی ضرورت اور بیرونی ملکوں کی عدم مداخلت کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف وہ شام میں مغربی ملکوں کی مداخلت کی راہ ہموار کر رہی ہے انھوں نے کہا کہ عرب لیگ عملی طور پر شام میں دہشت گردوں کی پشتپناہی کررہی ہے۔ معلم نے کہا کہ شام کے عوام عرب لیگ کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہیں کیونکہ شامی عوام اپنے وقار کا سودا نہیں کریں گے انھوں نے کہا کہ شامی حکومت کے لئے یہ بات باعث فخر ہے کہ وہ ہمیشہ امریکہ اور اسرائیل کی مخالف رہی ہے اور فلسطین اور لبنان کے مجاہدین کی حمایت کرتی رہی ہے جبکہ عرب لیگ نے ہمیشہ اسلامی مجاہدین اور مزاحمت کاروں کی پشت میں خنجر گھونپا ہے انھوں نے کہا کہ عرب لیگ شام کو کوئي گزند نہیں پہنچا سکتی۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ نے امریکہ و اسرائيل کی تاسی کرتے ہوئے شام کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔  الجزيرہ ےک حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ نے امریکہ و اسرائيل کی تاسی کرتے ہوئے شام کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائ‏ کے مطابق پابندیاں لگوانے میں سعودی عرب اور قطر پیش پیش تھے۔ قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ حماد بن جیسم ال تانی نے قاہرہ میں ایک نیوز کانفرس میں شام پر عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کی تفصیل بتائی۔
شام کے مرکزی بینک سے تمام قسم کی لین دین کی ممانعت ہو گی۔
شام میں منصوبوں پر عرب ممالک کی فنڈنگ پر پابندی ہو گی۔
شام کے اعلٰی حکام کی دوسرے عرب ممالک میں آمدورفت پر پابندی ہوگی۔
صدر بشارالاسد کی حکومت سے متعلقہ تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ شام سے عرب لیگ کے دیگر رکن ممالک میں کمرشل پروازوں پر پابندی عائد کی گئی ہے تاہم اس پابندی کو نافذ کرنے کی تاریخ کا فیصلہ آئندہ ہفتے کے اندر اندر کیا جائے گا۔شام کے ہمسایہ ممالک اور عرب لیگ کے رکن عراق اور لبنان نے شام پر پابندیوں کے حوالے سے ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ہے۔عراق کا کہنا ہے کہ شام کی اقتصادی ناکہ بندی سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔عراق شام کا دوسرا بڑا تجارتی شریک ہے اور شام کی برآمدت میں تیرہ اعشاریہ تین فیصد حصہ عراق کا ہے۔شام نے اقتصادی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے امریکہ اور اسرائيل کی کوششوں کا حصہ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ عرب لیگ شام پر امریکی حملے کی راہیں ہموار کررہی ہے۔ ادھر شام میں آج شامی عوام نے عرب لیگ کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بشار اسد کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا ہے

گارڈین کونسل نے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی اس قرارداد کی منظوری دے دی ہے جس میں برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو کم کرنے کو منظور کیا گیا تھا اس قرارداد کے مطابق تہران میں برطانوی سفیر کو دو ہفتوں کے اندر اخراج کردیا جائےگا۔ رپورٹ کے مطابق گارڈین کونسل کے ترجمان کد خدائی نے کہا ہے کہ گارڈین کونسل نے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی اس قرارداد کی منظوری دے دی ہے جس میں برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو کم کرنے کو منظور کیا گیا تھا اس قرارداد کے مطابق تہران میں برطانوی سفیر کو دو ہفتوں کے اندر ایران سے نکال دیا جائے گا یہ فیصلہ برطانیہ کی ایران کے خلاف معاندانہ پالیسیوں کے جواب میں لیا گیا ہے۔ برطانیہ نے  ایرانی پارلیمنٹ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پیش آنے والے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ مغربی ممالک دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام بحال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ایٹاٹارس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روس کے  وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پیش آنے والے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ مغربی ممالک دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام بحال کرنے کے لیے کوشاں انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک میں اقتدار کی تبدیلی کروانے اور ان ممالک کے عوام پر اپنی مرضی ٹھونسنے کی کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ مغرب اپنے خودغرضانہ مقاصد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے اپنی معیشت کو فروغ کو دیا جانا چاہیے جبکہ مغرب دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے اور تاریخ کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اس طرح اپنے اقتصاد کو بحال کرنے کی کوشش میں ہے

انٹیلیجنس کے وزیر نے کہا ہے کہ گرفتار شدہ 12 جاسوس مختلف شعبوں میں جاسوسی میں مصروف و مشغول تھے۔ رپورٹ کے مطابق انٹیلیجنس کے وزیر حجۃ الاسلام حیدر مصلحی نے کہا ہے کہ گرفتار شدہ 12 جاسوس مختلف شعبوں میں جاسوسی کے عمل میں مصروف و مشغول تھے۔ انھوں نے کہا کہ سامراجی طاقتیں علاقائي عوام کی تحریک بیداری کو دبانے کے لئے سرتوڑ کوشش کررہی ہیں جبکہ یہ تحریک دبنے والی نہیں کیونکہ یہ تحریک عوامی اور اسلامی تحریک ہے مصلحی نے کہا کہ سامراجی طاقتیں اسلامی جمہوریہ ایران کو دیگر قوموں کے لئے نمونہ عمل بننے سے روکنے کی کوشش میں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سامراجی طاقتوں نے گذشتہ چند مہینوں میں ایران کے خلاف جھوٹے اور سنگین الزامات عائد کرنے کی کوشش کی ہے۔ مصلحی نے کہا کہ گرفتار شدہ 12 جاسوس مختلف شعبوں میں جاسوسی میں مشغول تھے۔

عراق میں حکومت نے کربلا معلی میں محرم کے دوران سکیورٹی برقرار رکھنے کے لئے چودہ ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے۔ کربلا پولیس کے ایک اعلی عہدیدار بریگيڈیر علاء الغانمی نے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ طیاروں سے بھی حالات پر نظر رکھی جائے گي اور طیارے خاص طور سے صحرائي علاقوں پر نظر رکھیں گے۔در ایں اثنا عراق کی پارلیمنٹ میں سکیورٹی اور دفاع کے کمیشن کے رکن حاکم الزاملی نے کہا کہ تکفیری دہشتگرد ایک بار پھر کاظمین کے مقدس روضوں میں بم دھماکہ کرنے کی مذموم سازش کر رہے ہیں اور اس طرح مذہبی فتنے پھیلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عراقی حکومت سے کہا کہ شہر کاظمیں اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کردے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ بغداد کے شمال میں واقع التاجی علاقے میں ایک کار بم دھماکے میں گيارہ پولیس اہلکاروں سمیت بیس افراد مارے گئے ہیں۔ یہ بم دھماکہ تاجی جیل کے پاس ہوا۔ اس واقعے میں چھبیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ قابل ذکرہے عراقی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ، عراق میں باقی رہنے کے لئے دہشت گردوں کواکسا کر دہشتگردی کروا رہا ہے۔ان حلقوں کا کہنا ہے کہ عراق میں جاری دہشت گردی میں امریکہ کے ساتھ ساتھ بعض عرب ممالک بھی ملوث ہیں جو دہشت گردوں کی مالی اور فوجی مدد کر رہے ہیں۔

ہالینڈ کے شہر ہیگ میں کیمیاوی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے سلسلے میں ہونے والےسولہویں اجلاس کے دوران ایرانی عوام کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال اور ان کے تباہ کن اثرات پر مشتمل نمائشگاہ برپا کی جائےگی۔ ہالینڈ کے شہر ہیگ میں کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے کنونشن کا اجلاس شروع ہو چکا ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس پانچ روزہ اجلاس میں کیمیاوی ہتھیاروں کی نابودی پربحث کی جائے گي۔رپورٹ کے مطابق  اسلامی جمہوریہ ایران کی شہید فاؤنڈیشن کے نائب سربراہ محسن انصاری نے کہا ہے کہ ہالینڈ کے شہر ہیگ میں کیمیاوی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے سلسلے میں ہونے والےسولہویں اجلاس کے دوران ایرانی عوام کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال اور ان کے تباہ کن اثرات پر مشتمل نمائشگاہ برپا کی جائےگی۔ انھوں نے کہا کہ کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال سے زخمی ہونے  والے ایرانی جانباز بھی اس نمائشگاہ میں حصہ لیں گے اس  نمائشگاہ میں پوسٹر، فوٹو، کتاب اورویڈیو فلم دکھائی جائے گی جس میں امریکہ کی سرپرستی میں ایران کے خلاف استعمال ہونے والے کیمیاوی ہتھیاروں کو دکھایاجائے گا۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ 6 برسوں سے ایرانی جانباز اس اجلاس میں مسلسل شرکت کررہے ہیں اور ایران کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ واضح رہے کہ ہالینڈ کے شہر ہیگ میں کیمیاوی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر مبنی اجلاس آج سے پانچ دن تک جاری رہےگا۔ کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے کی رو سے کیمیاوی ہتھیار بنانا، ان کو اپ گریڈ کرنا، انہیں رکھنا اور ان کا استعمال ممنوع ہے۔ اس قانون کے باوجود روس اور امریکہ کے پاس کیمیاوی ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور وہ کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے کنونشن کی پابندی نہیں کرتے ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئي نے منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششوں کو سراہا ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق حامد کرزئي نے کل کابل میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ مصطفی محمد نجار سے ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کو سراہتے ہوۓ افغانستان میں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کی روک تھام کی کوششوں میں اضافے کی ضرورت پر بھی تاکید کی۔ کرزئي نےاس بات پر تاکید کرتے ہوۓ کہ منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ خطے کے لۓ تشویش کا باعث بن چکی ہے تاجیکستان اور روس سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی منشیات سے مقابلے کی مہم میں شامل ہو جائيں۔ واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ مصطفی محمد نجار منشیات کی پیداوار اور اس کی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق بلاۓ جانے والے ایران ، افغانستان اور پاکستان کے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لۓ اتوار کی رات کو کابل پہنچے۔ مصطفی محمد نجار نے اس اجلاس میں افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے فوجیوں کی موجودگی کو افغانستان میں جاری بدامنی کا سب سے بڑا سبب قرار دیا اور کہا کہ دس سال پہلے کی نسبت اب افغانستان میں منشیات کی پیداوار میں چالیس گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ مصطفی محمد نجار نے افغانستان میں غاصب امریکیوں کی موجودگي کو افغانستان میں تشدد اور منشیات کی پیداوار میں اضافے کا سبب قرار دیا ہے۔ ارناکی رپورٹ کے مطابق مصطفی محمد نجار نے گزشتہ شب کابل میں افغانستان کے وزیر خارجہ زلمی رسول کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کہا کہ افغانستان میں امریکی موجودگي سے نہ صرف بدامنی میں کوئي کمی نہیں ہوئي ہے بلکہ یہ منشیات کی پیداوار میں اضافے کا سبب بنی ہے۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے افغانستان میں بیرونی افواج کی موجودگي کی مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی افواج کی موجودگي علاقے میں بدامنی کا سبب ہے۔ اس ملاقات میں افغانستان کے وزیر خارجہ زلمی رسول نے افغان مہاجرین کو پناہ دینے کے لئے ایران کی قدردانی کی اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ تین عشروں کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی پذیرائي بھی۔اس سے قبل ایرانی وزیر داخلہ مصطفی محمد نجار نے کابل میں انسداد منشیات کے بارے میں ہونے والے ایران ، افغانستان اور پاکستان کے سہ فریقی اجلاس میں کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے سرحدوں کی نگرانی ، سیکورٹی فورسز کی تربیت اور پولیس تعاون میں اضافہ ہونا چاہئے۔اس اجلاس میں ، جو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی اتوار کو کابل میں شروع ہوا ، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور مشترکہ سرحدوں پر نگرانی اور سلامتی کے اقدامات کو بہتر بنانے کے سلسلے میں ایران ، پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ تعاون کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا گيا۔واضح ر ہے کہ افغانستان میں بیرونی افواج کی آمد کے بعد سے منشیات کی پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس پر ایران سمیت افغانستان کے ہمسایہ ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی مخالفت کرنےمیں سب سے آگے ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق نئي دہلی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے نے پایونیر اخبار میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے تعلق سے چھپنے والے ایک مضمون کے جواب میں کہا ہے کہ رہبرانقلاب اسلامی کے فتوے کے مطابق ایٹم بم بنانا حرام اور ممنوع ہے۔ نئي دہلی میں ایران کے سفارتخانے کے بیان میں آیا ہے کہ کسی چیز کا حرام قراردیا جانا سب سے بڑی پابندی ہے یہاں تک کہ مسلمان اسے قومی اور عالمی قوانین سے بھی برتر سمجھتے ہیں۔ اس بیان میں آيا ہے کہ اب تک ایسی کوئي رپورٹ سامنے نہیں آئي ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ ایران کا ایٹمی پروگرام قانوں سے منحرف ہوا ہے۔ اس بیان میں کہا گيا ہے کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں این پی ٹی معاہدے کے مطابق جاری ہیں اور آئي اے ای اے ان پر مکمل طرح سے نگرانی کر رہی ہے۔

شیعہ علماء کونسل صوبہ پنجاب کے رہنماؤں مولانا عظمت علی‘ چوہدری فدا حسین گھلوی‘ سید ثناء الحق ترمذی‘ ایم ایچ بخاری‘ اظہار نقوی علامہ قاضی غلام مرتضی‘ علامہ سید مشتاق حسین ہمدانی‘ مولانا عارف حسین واحدی‘ سردار کاظم علی خان حیدری‘ سید اصغر بخاری‘ حاجی سید غلام رضا شاہ‘مہر قیصر عباس دادوآنہ‘ فضل عباس جنجوعہ اور دیگر نے حکومت سندھ کی جانب سے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے سندھ میں داخلے پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے پر شدید احتجاج کیا ہے اور اس غیر عادلانہ اور غیر منصفانہ اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے امن و امان خراب کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیاہے اپنے احتجاجی بیان میں شیعہ علماء کونسل پنجاب کے رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان کا ہر امن پسند اور قانون پسند شہری آگاہ ہے کہ علامہ ساجد نقوی ملک میں اتحاد بین المسلمین کی علامت اور اتحاد و اخوت کے پرچارک ہیں وہ پاکستان کے امن کے لیے خطرہ نہیں بلکہ امن کے قیام کے لیے بہت جاندار سہارا ہیں لیکن حکمران طبقہ اور خفیہ ادارے اپنی روایتی روش کو جاری رکھتے ہوئے پرانی فہرستوں پر عمل کرکے اپنے نااہل ہونے کا ثبوت فراہم کررہی ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اس سال بھی حکومت سندھ کی طرف سے جاری ہونے والی فہرست میں جہاں علامہ ساجد نقوی کا نام شامل ہے وہاں ایسے متعدد علماء و ذاکرین کے نام بھی شامل ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں یا معذور وبیمار و مسافر ہیں۔ حکومت سندھ کی طرف سے جاری ہونے والی فہرست جہاں مضحکہ خیز ہے وہاں حکومتیفعالیت اور خفیہ اداروں کی کارکردگی کو بے نقاب کررہی ہے۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روایتی اور غافلانہ طریقہ کار کو ترک کرتے ہوئے ایسی فہرستوں میں صرف دہشت گردوں‘ شرپسندوں اور فرقہ واریت پھیلانے والے افراد کو شامل کریں اور علامہ ساجد نقوی اور ان کے پرامن ساتھیوں اور ملت جعفریہ کے امن پسند و اسلام دوست لوگوں کا نام فوری طور پر خارج کریں تاکہ پاکستان میں امن وامان اور رواداری کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور حکومتی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام کوئٹہ کی سرزمین پر منعقد ہونے والی عظمت شہداء کانفرنس میں پیش کردہ تمام مطالبات تسلیم کر لیے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے چیف سیکرٹری بلوچستان ،آئی جی بلوچستان، کمشنر کوئٹہ اور ڈی ّئی جی کوئٹہ پر مشتمل ایک اعلی سطحی وفد نے کانفرنس کے بانی اشرف زیدی اور دیگر شیعہ اکابرین سے مذاکرات کیے اور تمام مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی تاہم شیعہ کانفرنس کےسربراہ اشرف زیدی نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان پریس کانفرنس کے ذریعے میڈیا میں کریں ، دریں اثنا مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری علامہ امین شہیدی نے بتایا کہ عظمت شہداء کانفرنس کوئٹہ مین پیش کردہ مطالبات کے حوالے سے وفاقی سطح پر بھی بات چیت ہوئی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ نے ان مطالبات کو جائز قراد دیا ہے ، یاد رہے کہ کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مذہبی دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان کی روک تھام کی جائے، کوئٹہ شہر میں امن و امان قائم کرنے اور عوام اور تاجروں کے تحفظ کیلئے پولیس کو مکمل اختیارات دیے جائیں، دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث مجرموں کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے، جن، جن علاقوں میں دہشتگردی کی کارروائیاں ہوچکی ہیں وہاں پر فوج کی طرف سے بلاامتیاز ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے، نام بدل بدل کر کام کرنے والی مذہبی تنظیموں کیخلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے، دہشتگردانہ کارروائیاں قبول کرنے والی مذہبی تنظیموں کی قیادت اور عہدیداروں کے خلاف کڑی اور سخت کارروائی کو عمل میں لایا جائے، یوم القدس 3 ستمبر دوہزار دس کے المناک واقعہ میں شرکائے ریلی، علمائے کرام اور زخمی نوجوانوں کے خلاف درج کیے گئے بے بنیاد مقدمات کو فی الفور ختم کیا جائے اور واقعہ کے پس پردہ عوامل کو بے نقاب کرکے منطرعام پر لایا جائے اور ان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے۔اور اعلان کیا گیا تھا کہمطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں بیس نومبر کے بعد مجلس وحدت مسلمین محرم الحرام کے دوران حکومت کے ساتھ تعاون کے حوالے بسے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی

میڈیا سے گفتگو میں وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ ریلی کا اجازت نامہ نہیں تھا اور اس سلسلے میں ہم نے تحقیقات کیلئے آئی جی سندھ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ٹیم میں آئی جی سندھ کے علاوہ دو سینئر پولیس افسران اور 2 علماء شامل ہونگے۔سندھ کے وزیر داخلہ منظور حسین وسان نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاون کے احکامات دیدیئے ہیں، کالعدم تنظیم کی ریلی بغیر اجازت نکلی تھی، نمائش چورنگی پر فائرنگ کے واقعہ میں 2 افراد کی ہلاکت اور ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی جبکہ پولیس نے ایک مدرسہ پر کارروائی کرتے ہوئے 4 مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا ہے، واقعہ میں جاں بحق ہونے والے دونوں اسکاوٹس کی نماز جناز ہ ادا کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو نمائش چورنگی کے دورے اور بعد ازاں نجی ٹی وی کے صحافی احسان کوہاٹی کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں منظور وسان نے کہا کہ اہلسنت والجماعت نے بغیر اجازت ریلی نکالی تھی اور وہ گزشتہ 12 برس سے یکم محرم الحرام کو ریلی نکالتے ہیں۔ نمائش چورنگی فائرنگ کے واقعے کے بعد 50 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کا انتظار ہے، ان کی مدعیت میں حراست میں لئے گئے افراد پر انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے جائیں گے، کراچی میں 12 محرم الحرام تک اسلحہ ساتھ لے کر چلنے کے اجازت نامے منسوخ کر دیئے گئے ہیں، خلاف ورزی پر کارروائی ہو گی جبکہ نمائش چورنگی کے واقعات کی تفتیش کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی تحویل میں لے لی ہیں۔ صوبائی وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ کراچی میں امن کیخلاف کام کرنے والی تنظیوں کیخلاف کریک ڈاون کا اعلان کرتا ہوں۔ 10 محرم تک ہر دن اہم ہے، پولیس اور رینجرز کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ ایک سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی سکیورٹی بڑھانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ صدر زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر کو بھی سکیورٹی خطرات ہیں۔ انھوں نے اس موقع پر اسکاوٹس کے جاں بحق ہونے والوں کیلئے فی کس پانچ 5 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان بھی کیا اور ان کے خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اسپتال کے باہر میڈیا سے بات چیت میں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ صحافی احسان کوہاٹی کی بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں اور اس کی ہمت کو داد دیتا ہوں، حکومت صحافیوں کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور ہم احسان کوہاٹی کے علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ ان کی مالی مدد بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریلی کا اجازت نامہ نہیں تھا اور اس سلسلے میں ہم نے تحقیقات کیلئے آئی جی سندھ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ٹیم میں آئی جی سندھ کے علاوہ دو سینئر پولیس افسران اور 2 علماء شامل ہونگے اور ریلی کے حوالے سے اگر پولیس یا امن و امان کی بحالی کے ادارے کا کوئی افسر ملوث ہوا تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات کی تمام سازشوں کو مل جل کر ناکام بنایا ہے اور اب بھی ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں اتوار کو ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جان بحق ہونے والے 2 اسکاوٹس سید اظہر حسین اور سید زین العابدین کی نماز جنازہ انچولی امام بارگاہ میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ کے بعد شرکاء نے شارع پاکستان پر دھرنا دیا، اظہر حسین کی تدفین وادی حسین قبرستان میں کر دی گئی جبکہ سید زین العابدین کی میت پیر کی صبح ان کے آبائی گاوں چکوال روانہ کی گئی۔ دوسری جانب آئی جی سندھ نے کراچی میں 2 افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کیلئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔ ایڈیشنل آئی جی غلام شبیر شیخ نے بتایا کہ واقعہ کے بعد مظاہرین کی نشاندہی پر 50 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لیے گئے افراد میں فائرنگ کے ملزم بھی شامل ہیں۔ آئی جی سندھ نے گرفتار ملزموں سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نمائش چورنگی پر نصب کیمروں کی مدد سے اصل حقائق جاننے کی کوشش کی جائے گی۔ سانحہ کے بعد کراچی میں تمام مساجد اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ نمائش چورنگی واقعہ کے بعد پولیس نے رات بھر شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب پولیس نے ناگن چورنگی کے قریب واقع مدرسے میں چھاپہ مار کر راشد ولد عبدالغفور ندیم اور سعود ولد عبدالغفور ندیم سمیت 4 افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے مدرسے کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لیا اور مدرسے کے گیٹ پر لگے تالے توڑ دیئے اور تلاشی شروع کر دی

سانحہ نمائش چورنگی میں کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجہ میں شہید ہونے والے دو شیعہ اسکاؤٹس زین العابدین اور محمد اظہرعلی کے قتل کا مقدمہ نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف درج کرکے مقدمہ کو خراب کرنے کی سازش تیار کر لی گئی ہے۔پولیس نے سانحہ نمائش چورنگی میں کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجہ میں شہید ہونے والے دو شیعہ اسکاؤٹس کے قتل کا مقدمہ نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف پولیس کی مدعیت میں درج کر لیا ہے تا کہ ناصبی وہابی دہشت گردوں کو کاروائی اور سزا سے بچایا جا سکے ۔پولیس کی مدعیت میں مقدمہ سولجر بازار تھانے میں درج کیا گیا ہے ۔جس کے سبب ملت جعفریہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جبکہ دوسری جانب سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل ہونے والے شواہد کے باوجود بھی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے پولیس نے اپنے متعصبانہ سازشی عمل کو آشکار کر دیا ہے۔جبکہ دوسری جانب اسکاؤٹس کی شہادت کے بعد ہونے والے مظاہرے اور پر امن احتجاج کی ایف آئی آر جو کہ بریگیڈ تھانہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایک سو پچاس نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی ہے وہ ملت جعفریہ کے خلاف حکومتی سازش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔  شیعہ عمائدین ،رہبران اور علمائے کرام کو چاہئیے کہ اس حکومتی سازش کے خلاف آواز بلند کریں تا کہ شہداء کے خون کے اصل قاتلوں کو گرفتار کیا جا سکے اور حکومت کی سازش کو جو اس نے کالعدم دہشتگرد جماعت سپاہ صحابہ کی ایماء پر تیار کی ہے اسے ناکام بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ پولیس نے شہر بھر میں چھاپہ مار کر کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ او ر لشکر جھنوگی کے پچاس سے زائد دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ منطور وسان نے امن وامان کی صورتحال کے عنوان سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ شہر بھر میں اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی ہو گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام محسن انسانیت ہیں،آپ علیہ السلام نے میدان کربلامیں لازوال قربانی دے کردین اسلام کونصرت اورانسانیت کوجلابخشی، ایک خالق،ایک کتاب ہدایت اورخاتم النبین ص کے پیروکاروں کوہرگز ہرگزیہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کسی کلمہ گو کوکافرکہہ کرنفرتوں کوابھاریں،ان خیالات کااظہارانہوں نے محرم الحرام کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں کیا، انہوں نے کہاکہ ایام محرم الحرام ہرسال مسلمانان عالم کواس بڑے سانحہ کی یاددلاتاہے جب نواسہ رسول ص حضرت امام حسین علیہ السلام نے اللہ اوراپنے ناناکے دین کی حفاظت کیلئے کربلامیں اپناسب کچھ لٹاکرتاریخ اسلام میں صبرواستقامت اوربرداشت کی وہ بہترین مثال پیش کی جو رہتی دنیاتک دین حق کی سربلندی کیلئے جاں نثاروں کودرس کاکام دیتی رہے گی،محرم الحرام کاشماراسلامی کیلنڈرکے ان چارحرمت والے مہینوں میں ہوتا ہے جن میں جنگ وجدل کی ممانعت کی گئی ہے۔  وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہاکہ کچھ عرصہ سے قوم کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بھاری قیمت اداکرنا پڑرہی ہے اوربدقسمتی سے کچھ ہمارے اپنے ہی لوگ پاکستان کے خلاف سازشوں میں دشمنوں کاآلہ کاربنے ہوئے ہیں جوملک میں بدامنی پیداکرنے اورملک وقوم کوکمزور کرنے کے درپے ہیں،یہ عناصراپنے مذموم مقاصدکیلئے مذہب کی بنیادپر ہمہ وقت قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی سازشوں میں مصروف رہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے مابین فقہی اورفکری اختلافات آج نہیں بلکہ چودہ سوسالوں سے چلے آ رہے ہیں جو ہرگز دین کیلئے نقصان دہ نہیں ہیں لہذا فکری اختلافات کو فکر کی حدتک رکھاجائے اوراسے مسلمانوں کے درمیان نفرتوں کاباعث نہیں بننے دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ نواسہ رسول ص حضرت امام حسین علیہ السلام صرف ایک فرقے کے نہیں بلکہ سب کے ہیں، ایام محرم الحرام میں غم شبیرع کی یادصرف پاکستان میں نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں منائی جاتی ہے،سانحہ کربلامحض ایک واقعہ نہیں اس میں انسان کیلئے بہت سے دروس ہیں،وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے ماہ محرم الحرام کے موقع پراپنے سب ہم وطنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ امام عالی مقام ع کی قربانیوں کومدنظر رکھتے ہوئے ان ایام کواس طرح منائیں کہ نبی کریم ص اورآل نبی علیہ السلام سے محبت کامظہرہو،آپ ص سے محبت کے اظہار کاصحیح طریقہ یہ ہے کہ نبی کریم ص کی تعلیمات سے روشنی حاصل کرتے ہوئے وحدت ملی کے اسباب فراہم کئے جائیں. انہوں نے کہاکہ امن و امان سب کی ضرورت ہے لہذااس اہم مہینہ کے دوران امن وامان کویقینی بنانے کیلئے فرقہ ورانہ ہم آہنگی کوبرقرار رکھاجائے، یہ بحیثیت مسلمان ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے، اس ذمہ داری کونبھانے کیلئے علمائے کرام سمیت عام شہریوں سے اپیل کرتاہوں کہ وہ دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنانے اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

امامیہ جرگہ پشاور کے مرکزی سیکرٹری جنرل سردار سجاد حسین زاہد سے انکی رہائش گاہ پر ملاقات میں اتحاد بین المسلمین کیلئے امامیہ جرگہ کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ وزیراعظم کے مشیر اور قومی امن کمیٹی کے چیئرمین علامہ سید ایاز ظہیر ہاشمی کی قیادت میں علماء کرام کے ایک وفد نے گزشتہ روز امامیہ جرگہ پشاور کے مرکزی سیکرٹری جنرل سردار سجاد حسین زاہد سے انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی، اس موقع پر مختلف قومی امور خصوصاً محرم کے انتظامات اور علاقائی امن کے قیام پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔  علامہ ہاشمی نے اس موقع پر اتحاد بین المسلمین کیلئے امامیہ جرگہ کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ قومی امن کمیٹی کے صوبائی چیئرمین کامران خان، عالمی متحدہ علماء و مشائخ کونسل کے چیئرمین علامہ محمد شعیب اور مسلم لیگ ق علماء ونگ کے چیئرمین علامہ سید سجاد بادشاہ بھی وفد میں شریک تھے، جبکہ محرم کمیٹی کے سیکرٹری اخونزادہ مظفر علی، عابد حسن قزلباش، سید محمد علی شاہ کاظمی، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صدر ثاقب بنگش اور حسن جان نے امامیہ جرگہ کی طرف سے وفد کا استقبال کیا، وفد نے اس سے پہلے امام بارگاہ اخون آباد، حسین آباد، ماسٹر غلام حیدر اور امام بارگاہ ملک رحمان محلہ مروی ھا کا دورہ کیا ار متولیوں کے ساتھ ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے اور علاقائی امن کیلئے انکی خدمات کو مثالی اور قابل قدر قرار دیا۔

پریس کانفرنس میں مرکزی صدر آئی ایس او نے کراچی میں ہونے والی دہشتگردی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں نمائش چورنگی پر پیش آنے والے واقعہ سے حکومتی اعلانات کا پول کھل گیا ہے کہ انہوں نے محرم الحرام میں سکیورٹی کے اقدامات نہیں کئے۔حکومت عزاداری امام حسین ع میں رکاوٹ نہ ڈالے ورنہ اس کے نتائج بہت خطرناک ہونگے، کراچی میں نمائش چورنگی پر پیش آنے والے واقعہ سے حکومتی اعلانات کا پول کھل گیا ہے کہ انہوں نے محرم الحرام میں سکیورٹی کے اقدامات نہیں کئے۔ ان خیالات کا اظہار امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر نے کراچی ڈویژن کے دفتر میں مرکزی سینئر نائب صدر علی رضا اور صدر کراچی ڈویژن منہال رضوی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی سے لے کر پاراچنار تک محرم کے آنے والے ایام میں سکیورٹی کے اقدامات کو سخت کرے۔  رحمان شاہ نے کراچی میں ہونے والی دہشتگردی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یکم محرم الحرام کو ہی حکومت کی نااہلی ثابت ہو گئی ہے، ہم حکومت کو وارننگ دیتے ہیں کہ اگر حکومت نے فی الفور کوئی اقدامات نہ کیے تو کراچی کے لوگوں کو بچانے کے لیے اور دہشتگردی کو روکنے کے لیے پاکستان بھر میں لوگ مظلوموں کی حمایت کے لیے سڑکوں پر آ جائیں گے۔ انہوں نے شہید ہونے والے دونوں اسکاؤٹس کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسکاؤٹس ہمارے لئے مشعل راہ ہیں کیونکہ ان لوگوں نے راہ امام حسین ع پہ چلتے ہوئے شہادت کو گلے لگایا اور یزیدیوں کو یہ پیغام دیا کہ ان کی سازشوں سے ذکر حسین ع نہ کبھی کم ہوا ہے اور نہ ہو گا۔  مرکزی صدر آئی ایس او نے اعلان کیا کہ محرم الحرام کو حسین ع شناسی کے عنوان سے منائیں گے، اس حوالے سے پاکستان بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں مجالس عزا منعقد کی جائیں گی اور جلوس نکالے جائیں گے، جبکہ ہمیشہ کی طرح اس سال بھی 9 اور 10 محرم کو ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں دوران مرکزی جلوس باجماعت نماز ظہرین کا اہتمام کیا جائے گا، کراچی میں دوران مرکزی جلوس 9 محرم کو ایم اے جناح روڈ پر اور 10 محرم کو تبت سینٹر کے سامنے باجماعت نماز ظہرین کا اہتمام کیا جائے گا۔

ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر سٹی کورٹ میں پولیس پر حملہ کر کے پولیس کانسٹیبل لونگ خان کو قتل کرکے اپنے گرفتار ساتھیوں کو جو کہ 2009ء عاشورہ بم دھماکے میں جیل میں بند تھے، چھڑوا لیا تھا۔کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے کارروائی کرتے ہوئے محرم الحرام میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرنے والے جنداللہ نامی دہشتگرد تنظیم کے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس غلام شبیر شیخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر میل کے ذریعے اندرون پنجاب اور وزیرستان سے امیر کے حکم پر کراچی پہنچنے والے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جو اور محرم الحرام میں دہشتگردی کا منصوبہ بنانے رہے تھے۔ گرفتار ملزمان میں سید کامران عرف وقار عرف بلال، سلار محمد عرف خالد عرف دانش، امجد خان عرف کارگل عرف شاہ جی، فرحان خان عرف حسین اور محمد منیر عرف عظیم کو گرفتار کیا ہے۔  ملزمان سے سینٹرل جیل کے نقشے اور ایک ہٹ لسٹ بھی ملی ہے۔ ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر سٹی کورٹ میں پولیس پر حملہ کر کے پولیس کانسٹیبل لونگ خان کو قتل کرکے اپنے گرفتار ساتھیوں شکیب فاروقی، مرتضیٰ عنایت، وزیر محمد، مراد شاہ کو جو کہ 2009ء عاشورہ بم دھماکے میں جیل میں بند تھے، انھیں چھڑوا لیا تھا، جبکہ مراد شاہ اس مقابلے میں مار گیا تھا۔ اُنہی ملزمان نے جناح اسپتال میں 2010ء چہلم والے روز، موٹر سائیکل اور کمپیوٹر میں بم نصب کیا تھا، جس کے پھٹنے سے 16 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہوئے۔ انہی ملزمان نے آغا خان اسپتال کی کیش لے جانے والی وین پر فائرنگ کر کے 80 لاکھ روپے لوٹے تھے، ملزمان کور کمانڈر کراچی پر حملے سمیت گلستان جوہر تھانے پر حملہ،اوربینک ڈکیتیوں میں بھی ملوث تھے۔  گرفتار دہشتگردوں نے انکشاف کیا ہے کہ فصیح الرحمان نے ہی سیمنٹ بلاک نما بم بنانے کا طریقہ بھی ایجاد کیا، جس کو انھوں نے 8،9،10 محرم الحرام 2009ء میں استعمال کیا۔ اس وقت اس دہشتگرد تنظیم سے وابستہ دہشتگرد جو کہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، ان میں حمزہ جوفی عرف حاجی ممتازِ القاعدہ، غلام مصطفی عرف انصار بھائی، عارف عرف حیدر شجاع عرف رضا بھائی۔ امیر کراچی، ابوبکر عرف ارسلان، اسرافیل عرف جاوید، عجب خان عرف ذاکر شامل ہیں۔ جنداللہ نامی دہشتگرد تنظیم کے تاحال عدم گرفتار دہشتگردوں کے نام بھی بتائے گئے ہیں، جن میں فصیح الرحمان عرف حماد عرف عدنان۔ امیر کراچی، محمود عرف طلحہ عرف عمر، نائب امیر، ثاقب عرف شہاب، رشید خان پٹھان، کوڈ نام، شکیب فاروقی عرف فیضان، مرتضیٰ عنایت عرف شکیل، دلاور، بابا، وزیر محمد عرف شاکر اور اسحاق گل شامل ہیں۔ دیگر ذرائع کے مطابق کراچی پولیس نے جنداللہ کے پانچ دہشتگردوں کو گرفتار کر کے اسلحہ اور ہٹ لسٹ بھی برامد کر لی، ایڈیشنل آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ محرم میں دہشتگردی کا خدشہ ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام شبیر شیخ نے بتایا کہ جنداللہ کے گرفتار دہشتگردوں میں کامران، سالار محمد، امجد، فرحان خان اور منیر شامل ہیں۔ ان ملزموں نے سٹی کورٹ میں پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر کے چار دہشتگردوں شکیل فاروقی، مرتضٰی، وزیر اور مراد کو چھڑایا۔ 2009ء میں جناح اسپتال میں بم نصب کئے، جس میں 16 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ اسپتال کی کیش وین سے بھی 80 لاکھ روپے لوٹے۔

کراچی کے علاقے نمائش چورنگی پر گذشتہ دنوں یکم محرم الحرام کو دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو شیعہ اسکاؤٹس کی شہادت کے بعد پولیس اور رینجرز کی عزادران امام حسین علیہ السلام پر شدید فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے شیعہ بزرگ نیر زیدی شہید ہو گئے ہیں۔یکم محرم الحرام کو نمائش چورنگی پر کالعدم گروہوں کے دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں دو شیعہ اسکاؤٹس کی شہادت کے بعد پولیس اور رینجرز کی جانب سے احتجاج کرنے والے عزادارا ن سید الشہداء امام حسین علیہ السلام پر اندھا دھند فائرنگ اور شیلنگ سے زخمی ہونے والے چار شیعہ افراد میں سے نیر زیدی شہید ہو گئے ہیں۔ عینی شاہدین کے بقول یکم محرم الحرام کے روز نمائش چورنگی پر دو شیعہ اسکاؤٹس کی شہادت کے بعد پولیس اور رینجرز کی اندھا دھند فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجہ میں شیعہ بزرگ نیر زیدی کا دم گھٹ گیا تھا جو گذشتہ دو روز سے زیر علاج تھے تاہم انھوں نے منگل کے جام شہادت نوش کیا۔ واضح رہے کہ شہید نیر زیدی کا تعلق پاک حیدری اسکاؤٹس گروپ سے تھا۔ شہید کا جسد خاکی شاہ نجف امام بارگاہ مارٹن روڈمنتقل کردی گئی ہے۔

پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسو سی ایشن کے چیف کمشنر،فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس آغا رفیق احمد خان نے صوبائی اسکاؤٹ کمشنر سندھ پروفیسرانوار احمد زئی اورڈسٹرکٹ اسکاؤٹ کمشنر کراچی حسن فیروز کی سفارش پر یکم محرم کو فائرنگ کے واقعہ میں شہید ہونے والے پاک حیدری اسکاؤٹس کے اسکاؤٹ لیڈر اظہرعلی اور بوتراب اسکاؤٹس کے روور اسکاؤٹ زین علی کو اسکاؤٹنگ میں بہادری کا اعزاز” گیلنٹری ایوارڈ “دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ ایوارڈ چیف اسکاؤٹ و صدرپاکستان کی جانب سے جاری کیا جائے گا، دریں اثناء پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے سابق چیف کمشنر جنرل (ر) سید پرویز شاہد،کراچی اوپن ڈسٹرکٹ کے صدر محمد صدیق شیخ ،خیبر پختونخواہ بوائے اسکاؤٹس ایسو سی ایشن کے ڈپٹی صوبائی سیکرٹری امتیاز خان، بلوچستان بوائے اسکاؤٹس ایسو سی ایشن،آزاد کشمیربوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن، پی آئی اے بوائے اسکاؤٹس ایسو سی ایشن کے علاوہ ضلعی اسکاؤٹس ایسوسی ایشنز ،بے نظیرآباد،لاڑکانہ، جیکب آباد، خیرپور اور حیدرآباد نے پاک حیدری اسکاؤٹس کے اسکاؤٹ لیڈر اظہرعلی اور بوتراب اسکاؤٹس کے روور اسکاؤٹ زین علی کی شہادت پر دکھ وافسوس کا اظہارکرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ شہید اسکاؤٹس کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ دریں اثناء آل پرائیویٹ اسکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین سیدخالد شاہ اور دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم شہید ہونیوالے دو اسکاؤٹس کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کامطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے پاک فوج پرنیٹوکی جانب سے ہونیوالے حملے کی شدید مذمت کی۔

وزیرداخلہ سندھ مجالس عزاء کے دوران ناقص سیکورٹی انتظامات کا نوٹس لیں۔جعفریہ الائنس نے کہا ہے کہ سانحہ نمائش چورنگی کے باجود بھی نشتر پارک اور شہر بھر میں منعقد ہونے والی مجالس عزاء میں سیکورٹی برائے نام ہے ،حکومت کالعدم دہشت گرد گروہوں کی سر پرستی کرنے والے ریاستی عناصر کے خلاف کاروائی کرے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی روشنی میں سانحہ نمائش چورنگی میں ملوث کالعدم گروہ کے دہشت گردوں کو سرعام پھانسی دی جائے۔ان خیالات کا اظہار جعفریہ الائنس پاکستان کے مرکزی رہنماؤں سلمان مجتبیٰ علامہ باقر زیدی اورمولانا حسین مسعودی نے جعفریہ الائنس پاکستان کے ہنگامی اجلاس میں سانحہ نمائش چورنگی کے بعد نشتر پارک اور شہر کے مضافاتی علاقوں میں سیکورٹی کے ناقص اور بد ترین انتظامات پر پولیس اور رینجرز کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔جعفریہ الائنس پاکستان کے رہنماؤں کاکہنا تھا کہ نشتر پارک کی مرکزی مجلس عزاء پر دہشت گردوں کے حملہ اور اس کے نتیجہ میں اسکاؤٹس کی شہادت کے باوجود نشتر پارک کی مجلس عزاء کی سیکورٹی کے لئے صرف 10پولیس اہلکار تعینات ہونا انتہائی حیرت انگیز فعل ہے جبکہ نشتر پارک کے اطراف اسکاؤٹس ،ملی تنظیمیں اور گروہ اپنی مدد آپ کے تحت سیکورٹی انتظامات کئے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اگر ایسی صورتحال میں کوئی سانحہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور رینجرز حکام پر عائد ہو گی ، پولیس اور رینجرز حکام یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکار مجالس عزاء کے حفاظتی انتظامات کے لئے لگائے گئے ہیں لیکن افسوس ناک بات ہے کہ وہ ہزاروں اہلکار کہیں بھی نظر نہیں آ رہے۔ان کاکہنا تھا کہ یکم محرم کے روز ہونیوالے دہشتگردانہ واقعات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کالعدم دہشت گرد گروہوں کے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہ کیا جانا ان اداروں کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 

جعفریہ الائنس پاکستان کے مرکزی رہنماکا کہناتھاکہ حکومت سندھ کوبارہامطلع کئے جانے کے باوجود بھی کالعدم دہشتگرد گروہوں سپاہ صحابہ اورلشکرجھنگوی کے خلاف کاروائی نہ کرناحیرت انگیز بات ہے. پولیس اور رینجرز فلیگ مارچ کے بجائے سکیورٹی کے عملی اقدامات کرے، دو شیعہ نوجوانوں کی کالعدم دہشتگرد سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہادت حکومت سندھ کے منہ پر طمانچہ ہے، کالعدم دہشتگرد گروہ کی سرپرستی کرنے والے ریاستی عناصر کو بے نقاب کر کے دہشتگردوں کے ساتھ سر عام پھانسی دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ،سابق سینیٹر علامہ عباس کمیلی اور دیگر نے نمائش چورنگی پر کالعدم دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی کھلے عام دہشتگردی کی شدید مذمت کیا.رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ واقعہ میں ملوث دہشت گردوں اوران کی کالعدم جماعت پرسخت پابندی عائدکی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوس ناک واقعات رونما نہ ہو سکیں، انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ ملت جعفریہ کے صبر کے پیمانہ کو نہ آزمایا جائے اور کالعدم دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کی جائے، بصورت دیگر احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نمائش چورنگی پر رونما ہونے والے خونی واقعہ میں ملوث کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کو فی الفور اور سرعام پھانسی دی جائے، جو ملک بھر میں امریکی ایماء پر دہشت گردی کا کھیل کھیل کر ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان دہشتگردوں کے آقاؤں نے پاک افواج پر حملہ کر کے درجنوں فوجی جوانوں کو شہید کر دیا ہے جبکہ ان زرخرید دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں امریکا،اسرائیل، برطانیہ اور بھارت کی ایماء پر یکم محرم کے روز دہشتگردی کا گھناؤنا کھیل کھیل کر ملک میں انارکی پھیلانے اورعدم استحکام کاشکارکرنے کی ناپاک سازش کوعملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے، جسے ملت جعفریہ کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔جعفریہ الائنس پاکستان کے مرکزی رہنماؤں کاکہناتھاکہ حکومت سندھ کوبارہامطلع کئے جانے کے باوجودبھی کالعدم دہشتگردگروہوں سپاہ صحابہ اورلشکرجھنگوی کے خلاف کاروائی نہ کرناحیرت انگیز بات ہے،ان کاکہناتھاکہ کالعدم دہشتگردگروہ سپاہ صحابہ پرباقاعدہ پابندی عائدکی جائے نہ کہ جلسے جلوسوں کی اجازت دی جائے، انہوں نے کہاکہ یکم محرم الحرام کے دن ہی کالعدم دہشتگرد تنظیم کے دہشتگروں نے سرعام فائرنگ کرتے ہوئے جس طرح دو معصوم شیعہ نوجوانوں کو شہید کردیا،جو حکومت سندھ اور سکیورٹی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

رپورٹ کے مطابق آج نشترپارک کی مجلس میں کراچی کے مومنین نے بھر پور تعداد میں شرکت کی.مجلس سے خطاب کرتے ہوے  علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا که عزاداری سید الشہدا کو کسی بھی  حال میں روکنے نہیں دینگے چاہیے اس میں ہماری جان ہی کیوں نہ چلی جائے ،شیعه علماء کونسل که مرکزی رهنما علامه سید شهنشاه نقوی نه کها که ملّت جعفریہ کے نمائندوں کی حکومتی ارکان سے ملاقات میں تمام مطالبات منظور کر لیے گے ہیں،اس وقت نشتر پارک لبیک یا حسین کے نعروں سے گونج اٹھا،انہوں نے مزیدکہا که میں پولیس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ،محرم کے حساس مہینہ میں آج پولیس چھٹیوں پر ہے،علامه شهنشاه حسین نقوی نے مزیدکہا کے ملّت کو چاہیے کے وه اپنے مرکز سے مربوط رہیں . رپورٹ کے مطابق آج نشترپارک کی مجلس میں علامہ جفر سبحانی، علامہ علی محمد نقوی ، علامہ مرزا یوسف حسین نے شرکت کی .

قذافی کے انٹیلجنس افسراحمدرمضان نے کہاہے کہ امام موسی صدرکے قاتل دارالحکومت طرابلس میں ہیں۔ذرائع کے مطابق قذافی کے انٹیلجنس افسر احمد رمضان نے کل (بدھ 9نومبر 2011 کو) لبنان کے نیوز چینل “الآن” کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امام موسی صدر کی شہادت کے حوالے نئے انکشافات کئے ہیں۔  احمدرمضان نے 1978 میں امام موسی صدر کی شہادت کے سلسلے میں نئے انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ قذافی نے امام موسی صدرکے ساتھ دو گھنٹے طویل ملاقات کے بعداپنے گماشتوں اورحکومت کے دو سینئر اہلکاروں کوحکم دیاکہ “انہیں [امام موسی صدر اور ان کے ساتھیوں] کو لے جاؤ” اور وہ لوگ انہیں لے گئے اورکچھ دن بعدمیں قذافی کے پرسنل سیکریٹری سے سناکہ ان تین افرادکو قتل کردیاگیاہے۔ احمدرمضان نے قذافی سے امام موسی صدراور ان کے دوساتھیوں کے قتل کاحکم لینے والے افرادکے نام بھی بتائے اورکہاکہ یہ دوافراداس وقت دارالحکومت طرابلس میں ہیں۔ معدوم ڈکٹیٹر قذافی کے انٹیلجنس افسر نے کہا:میری یہ بات وزارت خارجہ اور وزارت انصاف نیز قذافی سے وابستہ انسانی حقوق سوسائٹی میں موجود دستاویزات سے قابل اثبات ہے اور یہ جو قذافی حکومت نے کہا تھا کہ امام موسی صدر اور ان کے ساتھی لیبیا سے نکل گئے ہیں یہ ایک جھوٹا دعوی تھا جس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہ تھا بلکہ حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔  قابل ذکر ہے کہ امام موسی صدر 1978 میں قذافی کی سرکاری دعوت پر لیبیا کے دورے پر گئے تھے جہاں سے وہ کبھی نہیں لوٹے۔ اس کے بعد ان کی شہادت یا قید اور اغوا کے بارے میں بے شمار دعوے سامنے آئے اور حال ہی میں ایک دعوے میں کہا گیا تھا کہ امام موسی صدر کو قذافی نے خود گولی مار کر شہید کردیا تھا لیکن لیبیا کی عبوری حکومت کے سرکاری اعلان سے ہی اس بارے میں یقین سے کچھ کہا جاسکے گا۔  لیبیا کی حکومت کے سابق رہنماعبدالسلام جلودنے سابق ڈکٹیٹر قذافی کے ہاتھوں امام موسی صدر کی شہادت کاامکان ظاہرکیا ہے۔
العالم کی رپورٹ کے مطابق  عبدالسلام جلودجوامام موسی صدرکواغوا کئے جانے کے وقت لیبیاکی دوسرے نمبرکی شخصیت تھے،کہاکہ امام موسی صدرمعمرقذافی کے حکم سے شہیدکئے گئے۔جلود نےمزید کہاکہ اس مسئلے کےسلسلےمیں شدیدخبری بائیکاٹ تھااورقذافی امام موسی صدرکے بارے میں کوئي خبر منظرعام پر نہيں آنے دیتا تھا اور کرنل قذافی کا کوئی ساتھی بھی اپنی جان کے خطرے کی وجہ سے کوئي بات نہيں کرتا تھا۔
جلود نےمزید نےکہاکہ میں نےبرسوں پہلے سناکہ ایک پولیس افسر، جس نے امام موسی صدر کا روپ دھار لیا تھا،ان کے لاپتہ ہونے کے بعدان کے پاسپورٹ پراٹلی گیااور جب اس کی حقیقت سامنے آگئی تو قذافی نے اس کے اغوا ہونے کے خوف سے اس کی حفاظت کے سخت انتظامات کر دیے ۔  اس سےپہلے قذافی کی حکومت سے الگ ہونے والے ایک عہدیدار عبدالرحمان شلقم نے بھی امام موسی صدر کی شہادت کی خبر دی ہے۔  ان تمام ترمایوس کن خبروں شیعان علی اور امام موسی صدرکے اہل خانه کوامیدہے کہ  ایک طاقت ہے جویوسف کویعقوب سے ملاسکتی ہے وہی طاقت امام موسی صدر کے پرستاروں کے پرامید دلوں کی شادمانی کے اسباب فراہم کرےگی۔  کیاامام موسی صدرکے پرستاروں کایه خواب شرمنده تعبیر ہوسکے گا؟ ایران اورلبنان ٹیموں کی تلاش جاری ہے

امریکی مبصرین نے اعتراف کیا ہے کہ آیت اللہ العظمی سیدعلی سیستانی نے اپنے مؤثر کردار کے ذریعے امریکیوں کوعراق سے انخلاء پر مجبور کیا۔انھوں نے لکھا ہے کہ آیت اللہ سیستانی کے اصرار اور تاکید کی وجہ سے امریکیوں کو عراق سے نکلنا پڑا تا کہ عراقی اپنے ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں۔ امریکی تجزیہ نگار ٹونی کارون (Tony Karon) نے روزنامہ دی نیشنل (The National) کے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی نے اس بات پر بہت تاکید کی کہ امریکیوں کو عراق سے جانا چاہئے.عراقی اپنامستقبل اپنے ہاتھ میں لیں .اپنی جمہوریت خودچلائیں چاہئے اور امریکیوں کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ انھوں نے لکھا ہے: عراق کے پہلے فوجی امریکی حکمران “پال بریمر” (Paul Brimer) نے چند سال پہلے تجویز پیش کی تھی کہ امریکہ چندعراقی شخصیات کو چن کر عراق کی حکومت سونپ دے۔ بریمر نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ عراق کا آئین لکھ لے! لیکن آیت اللہ سیستانی نے امریکی حکام کے ساتھ ملاقات سے انکار کردیا کیونکہ انہیں اس بات کی فکر تھی کہ کہیں یہ ملاقات امریکیوں کو عراق پر قبضے کا جواز ہی فراہم نہ کردے چنانچہ انھوں نے نجف میں ایک فتوی جاری کیا اور اس میں بریمر کے منصوبے کی مخالفت کردی اور حکومت کے مسئلے کو بنیادی طور پر قابل حل قرار دیا اور اصرار کیا کہ عراقی خود ہی حکومت کی ترکیب و تشکیل کے لئے افراد کا انتخاب کریں اور ایسی حکومت تشکیل دیں جس کو نیا آئیں لکھنے کی ذمہ داری سنبھالنی تھی۔ کارون لکھتے ہيں: مطلق العنان بریمر کی خواہش تھی کہ عوام اور سیاستدان آیت اللہ سیستانی کے موقف کی مخالفت کردیں لیکن سنہ 2003 کے آخر میں لاکھوں عراقیوں نے ان کی حمایت میں جلسوں جلوسوں کا انعقاد کرکے واضح کردیا کہ حتی بریمر کے چنے ہوئے افراد کو بھی انتخابات کے انعقاد کے عوامی مطالبے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے چنانچہ بریمر نے پسپائی اختیار کی۔ اس امریکی تجزیہ نگار نے کہا: پال بریمر کے منصوبے کا مفہوم یہ تھا کہ عراقی عوام جمہوریت کے لئے آمادگی نہيں رکھتے لیکن آیت اللہ سیستانی نے یہ بات امریکیوں کو لوٹا دی اور یہ سوال اٹھایا کہ “کیا امریکہ جمہوری انتخابات کے نتائج قبول کرنے کی آمادگی رکھتا ہے؟ انھوں نے اپنے مضمون میں مزید لکھا: بش نے سنہ 2008 میں عراق کے ساتھ ميثاق سلامتی منعقد کرنے کے لئے اپنی کوششوں کا آغاز کیا۔ وہ عراقیوں سے مطالبہ کررہے تھے کہ عراق میں پچاس امریکی فوجی اڈوں کے قیام کی حمایت کریں لیکن 31 دسمبر 2011 کی تاریخ امریکیوں کے مکمل انخلاء کی تاریخ قرار پائی اور عراق میں دائمی فوجی اڈوں کے قیام کی مخالفت کی گئی اور عراقیوں نے عراق میں اس تاریخ کے بعد کسی بھی قسم کی بیرونی فوج کے قیام کی مخالفت کردی

پاکستان کے شہر کوئٹہ میں دہشتگردوں نے ایک بار پھر عوام میں دہشت پھیلانے کی کاروائياں کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کوئٹہ یونیورسٹی کے ایک لکچرر محمد دانش علی آج دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہوگئے۔ شہید محمد دانش علی کوئٹہ یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے لکچرر تھے۔ قابل ذکر ہے مجلس وحدت مسلمین، بلوچستان شیعہ کانفرنس، اور مجالس تحفظ عزاداری نے محمد دانش کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے محرم کے دوران بدامنی پھیلانے کے لئے یہ سازش کی ہے۔ اس سے قبل دہشت گردوں نے پہلی محرم کو کراچی میں بھی دو شہریوں کو شہید کر دیا تھا۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ کراچی میں اسپیشل انوسٹی گيشن یونٹ نے کاروائي کرکے محرم الحرام کے دوران دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والے جنداللہ نامی دہشت گرد گروہ کے پانچ کارکنوں کوگرفتار کرلیا ہے۔ یہ بات کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس نے پریس کانفرنس میں بتائي۔ پولیس کے مطابق ملزمان سے سنٹرل جیل کے نقشے اور ایک ہٹ لسٹ بھی برآمد ہوئی ہے۔

واشنگٹن: پاکستانی چوکیوں پر حملے کے بعد نیٹو سپلائی لائن کٹ گئی۔ پاکستان کی طرف سے مزید ممکنہ اقدامات پر امریکی دفاعی حکام سخت پریشان ہیں جبکہ امریکہ نے نیٹو حملے کی تحقیقات کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی حکام جلد ایک اعلی عہدیدار کو تحقیقات کی ذمہ داریاں سونپیں گے۔ وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونیوالی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شدید  ردعمل اورنیٹو فورسزکی سپلائی لائن کی بندش پر امریکی حکام خاصے پریشان ہوگئے ہیں اورحکومتی ایوانوں میں اس حوالے سے غوروفکر شروع ہوگیا ہے۔ امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کی سپلائی لائن کی بندش ایک سنگین مسئلہ ہے اور آنیوالے دنوں میں اس کی شدت میں اور بھی اضافہ ہونیکا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان سے نیٹو سپلائی بند ہونے پر پینٹاگون افغانستان میں موجود افواج کو رسد کی فراہمی کیلئے وسط ایشیائی ریاستوں کے روٹ استعمال کریگا۔ زیادہ تر سپلائی وہیں سے کی جائے گی۔ امریکی دفاعی حکام کیمطابق اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوگا اگر پاکستان نے فضائی پابندی لگاتے ہوئے امریکا اور اتحادی ممالک کو ائیرکوریڈور کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ امریکی دفاعی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد فورسز کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑیگا۔ دوسری جانب پینٹاگون حکام نے مسئلے سے نمٹنے کیلئے ممکنہ اقدامات پر سوچ و بچار بھی شروع کر دی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے پاکستان کو ملنے والی امداد روک کر پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ دریں اثناء امریکا نے پاکستان میں نیٹو کے فضائی حملے کی تحقیقات کا فیصلہ کر لیا، تحقیقات کیلئے جلد اعلیٰ افسر تعینات کیا جائے گا۔ امریکی اخبار کے مطابق پاکستان کی جانب سے نیٹو کی سپلائی لائن بند کئے جانے اور شمسی ایئر بیس خالی کرنے کے اعلان کے بعد امریکا نے نیٹو کے فضائی حملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی اخبار نے دفاعی حکام کے ذرائع سے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل جیمز میٹیس  تحقیقاتی افسر تعینات کر سکتے ہیں۔ تحقیقات کا مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملے کے احکامات کس نے اور کیوں صادر کئے۔

اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں نیٹو حملوں میں پاک فوج کے افسران سمیت بہتر فوجی جوان شہید ہوچکے ہیں۔ نیٹو حملے کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ پاکستان کے سرحدی علاقے میں نیٹو کے حالیہ حملے میں پاکستان کے چوبیس فوجی جوان شہید ہوئے جس پر پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں نیٹو افواج پاکستانی سرحدوں پر سات سے آٹھ حملے کرچکی ہیں جس میں فوج کے افسران سمیت بہتر فوجی جوان شہید اور ڈھائی سو زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ تعزیت اور افسوس سے کام نہیں چلے گا کیونکہ ایسی کاروائیاں ماضی میں بھی ہوچکی ہیں۔ قیادت فیصلہ کرئے گی کہ اس معاملے پر ہمارا مزید ردعمل کیا ہوگا۔ واضح رہے کہ نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے جمعہ اور ہفتے کی درمیابی شب مہمند ایجنسی میں پاکستان کی دو سرحدی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس میں دو فوجی افسران سمیت چوبیس سکیورٹی اہلکار شہید اور تیرہ زخمی ہوگئے تھے۔

چین نے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو افواج کے سرحد پار حملے میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر اسے شددید دکھ اور تشویش ہے۔ پیر کو وزارت خارجہ کے ترجمان ہونگ لی نے ایک بیان میں اس حملے کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیئے اور اس واقعہ کی مفصل تحقیقات کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے نمٹنے میں احتیاط برتی جائے۔ پاکستان نے نیٹو کے حملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس پیش رفت سے افغانستان میں جاری جنگ کو سمٹنے کی امریکہ کی کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ نیٹو نے اس حملے کو ایک غیر ارادی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے نیٹو کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ اتحادی افواج نے سرحد پار سے ان پر ہونے والی فائرنگ کے جواب میں یہ کارروائی کی تھی۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ چین نیٹو حملے کو پاکستان کی سالمیت پر حملہ تصور کرتا ہے اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔

واشنگٹن: امریکی فوج کے سابق جنرل بیری مکے فری نے کہا ہے کہ نیٹو حملے پر پاکستان سے معافی مانگی جائے۔ سپلائی بند رہی تو افغانستان آپریشن براہ راست متاثر ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی جنرل بیری مکے فری نے کہا کہ نیٹو فضائی حدود کی خلاف ورزی کی غلطی تسلیم کرے اور اس واقعہ پر پاکستان سے معافی مانگے۔ افغان آپریشن کی کامیابی کیلئے پاکستان کا تعاون لازمی ہے۔ پاکستان نے نیٹو کی سپلائی مستقل طور پر بند رکھی تو نوے روز میں نیٹو کا سامان ختم ہوجائے گا۔ جس سے افغان آپریشن جاری رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔ سپلائی کے بغیر ڈیڑھ لاکھ نیٹو فوجیوں کا گزارہ مشکل ہوجائے گا۔ جنرل بیری نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو منانے کیلئے اگر اسے معاوضہ بھی ادا کرنا پڑے تو دینا چاہئے مگر پاکستان سے نیٹو کی سپلائی ہر صورت بحال ہونی چاہئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایک اہم اتحادی ہے اگر امریکی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اس اہم اتحادی کو ناراض کر کے افغان جنگ میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہوگی۔

لندن: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پاکستان کی سرحدوں پر امریکن اور نیٹو فورسز کے بلااشتعال حملے اور حملے میں پاکستانی سیکوریٹی فورسز کے اہلکاروں کے شہید و زخمی ہونے کے واقعہ کی  مذمت کرتے ہوئے قوم سے اپیل کی کہ سیکوریٹی فورسز پر بلااشتعال حملے کے خلاف یوم یکجہتی و استحکام پاکستان منایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار الطاف حسین نے  وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان سے گفتگو میں کیا۔ رابطہ کمیٹی کے ارکان نے متفقہ طور پر مہمند ایجنسی میں امریکن اور نیٹو فورسز کی جانب سے پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں پر حملے کو قومی سلامتی و خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس عمل کے خلاف قومی یکجہتی کے مظاہرے کا فیصلہ کیا۔ الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایم کیو ایم کے تمام کارکنان وعوام پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں پر حملے کے خلاف  پیر کو اپنے اپنے گھروں، دفاتر اور دیگر مقامات سے پارٹی پرچم اتار لیں اور پاکستان کی سلامتی و خود مختاری، قومی غیرت و حمیت اور عزت و وقار کی خاطر ہر جگہ صرف پاکستانی پرچم لہرا کر قومی یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کریں۔ الطاف حسین نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور پوری قوم سے اپیل کی کہ وہ بھی یوم یکجہتی و استحکام پاکستان منائیں۔ اپنی اپنی جماعتوں کے پرچم اتار کر اپنے گھروں، دکانوں، دفاتر، محلوں اور بازاروں میں صرف پاکستانی پرچم لہرا کر پوری دنیا پر واضح کر دیں کہ سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے سیاسی و نظریاتی اختلافات کے باوجود پاکستان کی سلامتی و بقاء اور عزت و وقار کیلئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ امریکہ پاکستان کوعراق،افغانستان یا لیبیا یا دیگر ممالک کی طرح نہ سمجھے۔ پاکستانی قوم، وطن عزیز کی سلامتی و خود مختاری پر حملے کو ہرگز قبول نہیں کرے گی اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کر کے ثابت کر دے گی کہ پاکستانی قوم وطن عزیز کی سلامتی، عزت و وقار اور خود داری کیلئے مسلح افواج اور قومی سلامتی کے دیگر اداروں کے شانہ بشانہ ہے اور دامے، درمے قدمے سخنے ان کا عملی ساتھ دے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے الطاف حسین کے جذبات و احساسات کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی وبقاء، خود مختاری اور قومی وقار کیلئے آپ کے جذبات قابل تعریف ہیں جس پر میں آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ الطاف حسین نے جواب میں کہا کہ پاکستان کی حفاظت کیلئے مسلح افواج تنہا نہیں بلکہ پوری قوم ان کے شانہ بشانہ ہے اور قومی سلامتی کیلئے وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ الطاف حسین نے کہا کہ میں اور میری جماعت کے ایک ایک کارکن کی خدمات اور جدوجہد قومی سلامتی وبقاء اور یکجہتی کیلئے حاضر ہے۔ ہم پاکستان کی بقاء و سلامتی کو اپنے پارٹی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ قومی سلامتی کی خاطر ایم کیو ایم دس مرتبہ قربان ہوجائے اور پاکستان قائم رہے تو ہم اسے اپنی جدوجہد اور قربانی کا ثمر سمجھیں گے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے سینئر مشیر اشرف غنی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان فوجی تنازعہ کی طرف جاسکتے ہیں۔  امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں اشرف غنی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں شدت پسندی پھیلا رہا ہے اور اس میں مدد فراہم کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ہمسائیہ ملک نے غالباً ستمبر میں برہان الدین ربانی پر خود کش حملہ کرنے والے شخص کی مددکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے بات کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو اس میں سے ایک چیزکا انتخاب کرنا ہوگا کہ آیا وہ افغانستان کے ساتھ تنازعہ کو تیسری نسل تک لے جانا چاہتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برہان الدین ربانی کے قتل نے قوم کو بیرونی مداخلت کیخلاف یکجا کردیا ہے اور ہم نے اپنی تاریخ سے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہم کسی بھی بیرونی مداخلت کرنے والے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔

واشنگٹن: ایک اعلیٰ امریکی سینیٹر نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اس کو دی جانے والی امداد کا انحصار امریکہ سے تعاون پر ہے۔ پاکستان یہ مت بھولے کہ امداد اسی صورت ملے گی جب وہ ہمارے سا تھ تعاون کرے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ری پبلکن سینیٹر جان کیل نے امریکی ٹی وی فاکس نیوز کے سنڈے ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بہت زیادہ سفارتکاری کو واقع ہونا ہے۔ ہفتہ کو ہونیوالے فضائی حملوں سے دونوں مشکل اتحادیوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید سرد مہری آگئی ہے۔ اسلام آباد پاکستان کے ہمسایہ ملک میں امریکہ کے فوجی آپریشن میں تاحال اہم شراکت دار ہے۔ امریکہ جس کا خشکی میں گرے افغانستان میں جہاں ایک لاکھ تیس ہزار غیر ملکی افواج کی ترسیل کیلئے پاکستان پر انحصار ہے۔ اس اتحاد کو بچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں نااہلیت وکرپشن اور پاکستان کے کچھ حصوں میں پیچیدگیوں  سے سفارتی دلدل سے نکلنے میں درپیش مشکلات کے باعث خطے میں امن کے قیام کیلئے کوشاں امریکی فوجی درمیان میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

لندن: برطانوی اخبار گارڈین نے افغانستان میں موجود مغربی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی فوجیوں چوکیوں پر ہفتے کی صبح کیا جانے والا حملہ نیٹو نے اپنے دفاع میں کیا تھا۔ برطانوی اخبار نے کابل میں موجود مغربی حکام کے حوالے سے مزید کہا کہ افغانستان کے پہاڑی صوبے کنٹر میں امریکی و اتحادی فوج جو کہ گشت پر موجود تھی اس پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس کے جواب میں کارروائی کی گئی۔ مغربی اہلکار کے مطابق حملہ نیٹو کی زمینی فوج کی کال پر کیا گیا تھا جس میں بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا۔ اخبار نے مغربی حکام کے حوالے سے مزید کہا کہ کارروائی میں ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں نے بھی حصہ لیا۔